فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 815
815 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ، نا فَرَجُ بْنُ فَضَالَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْوَلِيدِ الزُّبَيْدِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «يَا عَائِشَةُ، لَوْ كَانَ عِنْدَنَا مَنْ يُحَدِّثُنَا» ، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَا أَبْعَثُ إِلَى أَبِي بَكْرٍ؟ فَسَكَتَ، ثُمَّ قَالَ: «لَوْ كَانَ عِنْدَنَا مَنْ يُحَدِّثُنَا» ، فَقُلْتُ: أَلَا أَبْعَثُ إِلَى عُمَرَ؟ فَسَكَتَ، قَالَتْ: ثُمَّ دَعَا وَصِيفًا بَيْنَ يَدَيْهِ فَسَارَّهُ فَذَهَبَ، قَالَتْ: فَإِذَا عُثْمَانُ يَسْتَأْذِنُ فَأَذِنَ لَهُ، فَدَخَلَ فَنَاجَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَوِيلًا ثُمَّ قَالَ: «يَا عُثْمَانُ، إِنَّ اللَّهَ مُقَمِّصُكَ قَمِيصًا، فَإِنْ أَرَادَكَ الْمُنَافِقُونَ عَلَى أَنْ تَخْلَعَهُ فَلَا تَخْلَعْهُ لَهُمْ، وَلَا كَرَامَةَ» يَقُولُهَا لَهُ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھی آپ صلی اللہ وعلیہ وسلم نے فرمایا :عائشہ!کاش کوئی ہوتا جو ہم سے باتیں کرتا میں نے عرض کیا سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کی طرف کسی کو بھیجوں؟کچھ دیر خاموشی کے بعد فرمایا :کاش کوئی ہوتا جس سے میں باتیں کرتا ،میں نے عرض کیا :سید نا عمر رضی اللہ عنہ کی طرف کسی کو بھیجوں؟آپ خاموش ہوگے سیدنا عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں :کہ میری موجودگی میں ایک غلام کو بلایا ،اس سے کچھ سرگوشی کی ،چنانچہ وہ چلا گیا تو اچانک سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ آگئے ،انہوں نے اجازت طلب کی ،اجازت ملنے کے بعد اندر آئے ،ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم لمبی گفتگو فرماتے رہے ،پھر فرمایا:عثمان!بے شک اللہ تجھے ایک قمیض پہنائے گا ، مگر منافق تجھ سے اتروانے کی کوشش کریں گے مگرتم مت اتارنا۔یہ (قمیض اتارنا )کوئی باعث عزت بات نہ ہو گی اس جملہ کو دوتیں مرتبہ ارشاد فرمایا ۔(2)
قُلْتُ ← كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ فَقَالَ يَا عَائِشَةُ لَوْ كَانَ عِنْدَنَا مَنْ يُحَدِّثُنَا ← عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← مُحَمَّدِ بْنِ الْوَلِيدِ الزُّبَيْدِيِّ، ← فَرَجِ بْنِ فَضَالَةَ، ← أَبِي، قثنا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ، ← عَبْدُ اللَّهِ
Hadith 815
