Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

1,963 Hadith48 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 815

815 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ، نا فَرَجُ بْنُ فَضَالَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْوَلِيدِ الزُّبَيْدِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «يَا عَائِشَةُ، لَوْ كَانَ عِنْدَنَا مَنْ يُحَدِّثُنَا» ، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَا أَبْعَثُ إِلَى أَبِي بَكْرٍ؟ فَسَكَتَ، ثُمَّ قَالَ: «لَوْ كَانَ عِنْدَنَا مَنْ يُحَدِّثُنَا» ، فَقُلْتُ: أَلَا أَبْعَثُ إِلَى عُمَرَ؟ فَسَكَتَ، قَالَتْ: ثُمَّ دَعَا وَصِيفًا بَيْنَ يَدَيْهِ فَسَارَّهُ فَذَهَبَ، قَالَتْ: فَإِذَا عُثْمَانُ يَسْتَأْذِنُ فَأَذِنَ لَهُ، فَدَخَلَ فَنَاجَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَوِيلًا ثُمَّ قَالَ: «يَا عُثْمَانُ، إِنَّ اللَّهَ مُقَمِّصُكَ قَمِيصًا، فَإِنْ أَرَادَكَ الْمُنَافِقُونَ عَلَى أَنْ تَخْلَعَهُ فَلَا تَخْلَعْهُ لَهُمْ، وَلَا كَرَامَةَ» يَقُولُهَا لَهُ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا.

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھی آپ صلی اللہ وعلیہ وسلم نے فرمایا :عائشہ!کاش کوئی ہوتا جو ہم سے باتیں کرتا میں نے عرض کیا سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کی طرف کسی کو بھیجوں؟کچھ دیر خاموشی کے بعد فرمایا :کاش کوئی ہوتا جس سے میں باتیں کرتا ،میں نے عرض کیا :سید نا عمر رضی اللہ عنہ کی طرف کسی کو بھیجوں؟آپ خاموش ہوگے سیدنا عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں :کہ میری موجودگی میں ایک غلام کو بلایا ،اس سے کچھ سرگوشی کی ،چنانچہ وہ چلا گیا تو اچانک سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ آگئے ،انہوں نے اجازت طلب کی ،اجازت ملنے کے بعد اندر آئے ،ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم لمبی گفتگو فرماتے رہے ،پھر فرمایا:عثمان!بے شک اللہ تجھے ایک قمیض پہنائے گا ، مگر منافق تجھ سے اتروانے کی کوشش کریں گے مگرتم مت اتارنا۔یہ (قمیض اتارنا )کوئی باعث عزت بات نہ ہو گی اس جملہ کو دوتیں مرتبہ ارشاد فرمایا ۔(2)

قُلْتُ ← كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ فَقَالَ يَا عَائِشَةُ لَوْ كَانَ عِنْدَنَا مَنْ يُحَدِّثُنَا ← عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← مُحَمَّدِ بْنِ الْوَلِيدِ الزُّبَيْدِيِّ، ← فَرَجِ بْنِ فَضَالَةَ، ← أَبِي، قثنا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Hadith 815

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 816

816 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا أَبُو الْمُغِيرَةِ قثنا الْوَلِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ: حَدَّثَنِي رَبِيعَةُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرٍ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: أَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، فَأَقْبَلَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا رَأَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْبَلَتْ إِحْدَانَا عَلَى الْأُخْرَى، فَكَانَ مِنْ آخِرِ كَلَامٍ كَلَّمَهُ أَنْ ضَرَبَ بَيْنَ مَنْكِبَيْهِ وَقَالَ: «يَا عُثْمَانُ، إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ عَسَى أَنْ يُلْبِسَكَ قَمِيصًا، فَإِنْ أَرَادَكَ الْمُنَافِقُونَ عَلَى خَلْعِهِ، فَلَا تَخْلَعْهُ حَتَّى تَلْقَانِي. يَا عُثْمَانُ، إِنَّ اللَّهَ عَسَى أَنْ يُلْبِسَكَ قَمِيصًا، فَإِنْ أَرَادَكَ الْمُنَافِقُونَ عَلَى خَلْعِهِ فَلَا تَخْلَعْهُ حَتَّى تَلْقَانِي» ثَلَاثًا، فَقُلْتُ لَهَا: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، فَأَيْنَ كَانَ هَذَا عَنْكِ؟ قَالَتْ: نَسِيتُهُ وَاللَّهِ فَمَا ذَكَرْتُهُ، قَالَ: فَأَخْبَرْتُهُ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ.

سیدہ عائشہ رضی اللہ ُعنہا سے روایت ہے کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ ُعلیہ وسلم نے عثمان رضی اللہ ُعنہ کو بلانے کے لیے کسی آ دمی کو بھیجا تو رسول اللہ صلی اللہ ُعلیہ وسلم ان کے سامنے آئے جب ہم نے رسول اللہ صلی اللہ ُعلیہ وسلم کو دیکھا تو بھی آمنے سامنے ہو ئے ،پس نبی کریم صلی اللہ ُعلیہ وسلم نے ان کے کندھوں کے درمیان ہاتھ رکھ کر آ خری بات یہ ارشادفرمائی :عثمان !بےشک اللہ تجھے ایک قمیص پہنائے گا مگر منافق تجھ سے اُتروانے کی کوشش کریں گے مگر تم مت اُتارنا ،یہاں تک کہ تم مجھ سے ملاقات کرلو ،اس بات کو تین مرتبہ ارشاد فرمایا ۔راوی سید نا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہاسے پوچھا :مومنو ں کی ماں! یہ بات آپ کو کس نے بیان کی ؟انہوں نے فرمایا :اللہ کی قسم ! میں بھول گئی مجھے یاد نہیں ہے ۔راوی کہتے ہیں کہ پس میں نے یہ بات سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کو بتائی۔ (1)

عَائِشَةَ ← النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرٍ، ← رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ، ← أَبِي، قثنا أَبُو الْمُغِيرَةِ قثنا الْوَلِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← عَبْدُ اللَّهِ

Hadith 816

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 817

817 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ: قثنا أَبُو عَامِرٍ الْعَدَوِيُّ حَوْثَرَةُ بْنُ أَشْرَسَ قَالَ نا جَعْفَرُ بْنُ كَيْسَانَ أَبُو مَعْرُوفٍ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ أَرْطَاةَ الْعَدَوِيَّةِ قَالَتْ: خَرَجْتُ مَعَ عَائِشَةَ سَنَةَ قُتِلَ عُثْمَانُ إِلَى مَكَّةَ، فَمَرَرْنَا بِالْمَدِينَةِ وَرَأَيْنَا الْمُصْحَفَ الَّذِي قُتِلَ وَهُوَ فِي حِجْرِهِ، فَكَانَتْ أَوَّلُ قَطْرَةٍ قَطَرَتْ مِنْ دَمِهِ عَلَى هَذِهِ الْآيَةِ {فَسَيَكْفِيكَهُمُ اللَّهُ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ} [البقرة: 137] ، قَالَتْ عَمْرَةُ: فَمَا مَاتَ رَجُلٌ مِنْهُمْ سَوِيًّا.

عمر ۃ بنت ارطاۃ رحمتہ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ جب سیّد نا عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید کیا گیا ، میں سیّد نا عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ گھر سے نکلی ۔ مکہ جاتے ہوئے ہم نے اس قرآن کو دیکھا ، جو بہ وقت شہادت سیّدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی گود میں تھا اور جس پر آپ کے خون کا قطرہ ٹپکا تھا ، وہ قطرہ اس آیت پر( فسیکفیکھم اللہ وھو السمع العلیم )گرا تھا ۔ عمر ۃ بنت ارطاۃ رحمتہ اللہ علیہاکہتی ہیں :قاتلین سیّدنا عثمان رضی اللہ عنہ میں سے کوئی بھی شخص اچھی موت نہیں مرا۔(2)

عَمْرَةَ بِنْتِ أَرْطَاةَ الْعَدَوِيَّةِ ← جعفر بن كيسان أبو معروف ← عَبْدُ اللَّهِ: قثنا أَبُو عَامِرٍ الْعَدَوِيُّ حَوْثَرَةُ بْنُ أَشْرَسَ

Hadith 817

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 818

818 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، نا أَبِي، نَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، نا سَعِيدٌ، نا قَتَادَةُ، أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ حَدَّثَهُمْ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَعِدَ أُحُدًا فَتَبِعَهُ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَعُثْمَانُ، فَرَجَفَ بِهِمْ، فَقَالَ لَهُ: «اسْكُنْ نَبِيٌّ وَصِدِّيقٌ وَشَهِيدَانِ» .

سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ احد پہاڑ پر چڑھے ۔ آپ ﷺ کے پیچھے سیّدنا ابوبکر ، سیّدنا عجمر اور سیّد نا عثمان ﷺ بھی چڑھے تو اُحد پہاڑ حرکت میں آگیا ، آپ ﷺ نے فرمایا : اے احد ! رک جا ، تجھ پر نبی ، صدیق اور دو شہید ہیں ۔ (3)

قَتَادَةُ، أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، ← سَعِيدٌ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ

Hadith 818

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 819

819 - نا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ أنا مَعْمَرٌ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، أَنَّهُ رَجَفَ أُحُدٌ وَعَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، وَعُثْمَانُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اسْكُنْ أُحُدُ، مَا عَلَيْكَ إِلَّا نَبِيٌّ وَصِدِّيقٌ وَشَهِيدَانِ» .

سیّدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اُحد لرزنے لگا جبکہ اس پر نبی کریم ﷺ،سیّدنا ابوبکر ، سیّدنا عمر اور سیّدنا عثمان رضی اللہ عنہ چڑھے ہوئے تھے ،فرمایا : اے احد ! رک جا ، تجھ پر نبی ، صدیق اور دوشہید ہیں۔ (4)

سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، أَنَّهُ رَجَفَ أُحُدٌ وَعَلَيْهِ النَّبِيُّ وَأَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، وَعُثْمَانُ، ← أَبِي حَازِمٍ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Hadith 819

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 820

820 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ: قثنا شُجَاعُ بْنُ مَخْلَدٍ، نا يَحْيَى بْنُ يَمَانٍ، عَنْ شَيْخٍ مِنْ بَنِي زُهْرَةَ كَانَ يُجَالِسُ مِسْعَرَ بْنَ كِدَامٍ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لِكُلِّ نَبِيٍّ رَفِيقٌ، وَرَفِيقِي عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ» .

سیّدنا طلحہ بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ہر نبی کاجنت میں ایک رفیق ہوگا اور جنت میں میرا رفیق عثمان ہے ۔(1)

طَلْحَۃَ بْنَ عُبَیْدِ اللہِ ← الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← شَيْخٍ مِنْ بَنِي زُهْرَةَ كَانَ يُجَالِسُ مِسْعَرَ بْنَ كِدَامٍ، ← يَحْيَى بْنُ يَمَانٍ؛ ← عَبْدُ اللَّهِ: قثنا شُجَاعُ بْنُ مَخْلَدٍ،

Hadith 820

Daif

chevron_left Previous
1…6789
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door2. He was asked about the virtues of Abu, the first-born of al-Siddiq, the mercy and pleasure of God be upon him3. He was asked about the words of Ali ibn Abi Talib and others: The best of this nation after its prophet Abu Bakr and Omar4. His saying, may God’s prayers and peace be upon him: “If I had taken people as a friend, I would not have taken a virgin father as a friend5. He, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Pass a virgin father, let him pray to the people.”6. The remainder of his saying: “Show a first-born father who prays to people.”7. It was not narrated that Abu Bakr was the first to become Muslim8. It was not narrated that a virgin father came to ask permission, so the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Permit him, and give him good tidings of paradise.”9. The Virtue of the Commander of the Believers, Omar Ibn Al-Khattab, may God be pleased with him10. The Islam of Umar ibn Al-Khattab, may God be pleased with him11. And among the virtues of Omar bin Al-Khattab from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik, on the authority of his sheikhs other than Abd Allah bin Ahmed, and from the hadith of Abu Bakr bin Malik.12. The virtue of Othman bin Affan, may God be pleased with him13. And from the merits of Othman, from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik on the authority of his sheikhs except for Abdullah bin Ahmad14. The news of the Prince of the Believers, Ali bin Abi Talib, and his asceticism, may God be pleased with him15. His mother's name and genealogy16. A merit upon me, peace be upon him17. And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah18. The Virtue of Abd al-Rahman ibn Awf, may God be pleased with him19. The Virtue of Az-Zubayr Bin Awwam, may God be pleased with him20. Fadil Abi Ubaidah Ibn Al Jarrah, may God be pleased with him21. Fadil Talha Bin Ubaid Allah, may God be pleased with him22. Fadil Saad bin Abi Waqas, may God be pleased with him23. Fadil Fatima, the daughter of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him24. The virtues of good, and the good, may God be pleased with them.25. The Virtues of Ansar, may God be pleased with them26. The virtue of Khalid bin Al-Walid, may God have mercy on him27. Fadil Saad bin Muadh, may God have mercy on him28. Fadil Haritha Ibn Nu'man, may God be pleased with him29. Fadil Suhaib, may God be pleased with him30. The virtues of the Arabs31. The virtue of Usama bin Zaid, may God be pleased with him32. Fadil Abdullah bin Masoud, may God be pleased with him33. Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with them34. Virtues of Khadija and others35. Fadil Ammar ibn Yasser, may God be pleased with him36. Virtues 0 People of Yemen37. Virtues of the family of the Mother of the Believers, may God be pleased with her, and other things among the people of Yemen38. The virtues of the Banu Ghafar, and Islam and others39. Fadil Jaafar ibn Abi Talib, may God be pleased with him40. Fadil Jarir bin Abdullah, may God be pleased with him41. Fadil Abdullah Bin Omar, may God be pleased with them42. The virtues of a people of the Levant43. The Virtue of the Companions of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him44. The virtue of Amr ibn al-Aas, may God be pleased with him45. The Virtues of Mu`awiyah Bin Abi Sufyan, may God be pleased with them46. The virtues of Abu al-Fadl al-Abbas ibn Abd al-Muttalib, the uncle of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him47. Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with him