Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

1,963 Hadith48 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 803

803 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَقَالَ فِي آخِرِهِ: «وَأَصْدَقُهَا حَيَاءً عُثْمَانُ» .

سید نا انس بن مالک رضی اللہ علیہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ رضی اللہ علیہ نے فرمایا ،اس کے آخر میں ان الفاط کو ذکر کیا : سب سے سچا حیا کرنے والا عثما ن ہے ۔(4)۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← أَبِي قِلَابَةَ، ← خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ← سُفْيَانَ، ← أَبِي، قثنا وَكِيعٌ ← عَبْدُ اللَّهِ

Hadith 803

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 804

804 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا يَحْيَى هُوَ ابْنُ سَعِيدٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ قال: نا قَيْسٌ هُوَ ابْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي سَهْلَةَ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ادْعُوا لِي بَعْضَ أَصْحَابِي» ، قُلْتُ: أَبُو بَكْرٍ؟ قَالَ: «لَا» ، قُلْتُ: عُمَرُ؟ قَالَ: «لَا» ، قُلْتُ: ابْنُ عَمِّكَ عَلِيٌّ؟ قَالَ: «لَا» ، قَالَتْ: قُلْتُ: عُثْمَانُ؟ قَالَ: «نَعَمْ» ، فَلَمَّا جَاءَ قَالَ: «تَنَحَّيْ» ، فَجَعَلَ يُسَارُّهُ وَلَوْنُ عُثْمَانَ يَتَغَيَّرُ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ الدَّارِ وَحُصِرَ قُلْنَا: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، أَلَا تُقَاتِلُ؟ قَالَ: لَا، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَهِدَ إِلَيَّ عَهْدًا، وَإِنِّي صَابِرٌ نَفْسِي عَلَيْهِ

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :میرے فلاں صحا بی کو بلاؤ میں نے عرض کیا :سید نا ابو بکر رضی اللہ عنہاکو؟تو فرمایا :پس جب سید نا عثمان رضی اللہ عنہا آئے تو آپ کے چچا زاد سید نا علی رضی اللہ عنہا کو؟فرمایا :نہیں !میں نے کہا :سید نا عثمان کو ؟تو فرمایا : ہاں ! پس جب سید نا عثمان رضی اللہ عنہا آئے تو ان سے تنہائی میں بات کی تو سید نا عثمان رضی اللہ عنہ کا رنگ بدل گیا ، جب ان کی محصور یت کا دن آیا تو ہم نے کہا : امیر المومنین !ان سے جنگ کیو ں نہیں کرتے ؟انہوں نے فرمایا نہیں !مجھ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وعدہ لیا تھا کہ میں صبر کا مظاہرہ کروں گا ۔(1)

عَائِشَةَ ← أبي سهلة ← قَيْسٌ هُوَ ابْنُ أَبِي حَازِمٍ، ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ ← أَبِي، قثنا يَحْيَى هُوَ ابْنُ سَعِيدٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Hadith 804

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 805

805 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا أَبُو قَطَنٍ، قثنا يُونُسُ يَعْنِي ابْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ: أَشْرَفَ عُثْمَانُ وَهُوَ مَحْصُورٌ، فَقَالَ: أَنْشُدُ بِاللَّهِ مَنْ شَهِدَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حِرَاءَ إِذِ اهْتَزَّ الْجَبَلُ فَرَكَلَهُ بِقَدَمِهِ ثُمَّ قَالَ: «اسْكُنْ حِرَاءُ، لَيْسَ عَلَيْكَ إِلَّا نَبِيُّ، أَوْ صِدِّيقٌ، أَوْ شَهِيدٌ» ، وَأَنَا مَعَهُ؟ فَانْتَشَدَ لَهُ رِجَالٌ، وَقَالَ: أَنْشُدُ بِاللَّهِ مَنْ شَهِدَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ بَيْعَةِ الرِّضْوَانِ إِذْ بَعَثَنِي إِلَى الْمُشْرِكِينَ إِلَى أَهْلِ مَكَّةَ قَالَ: «هَذِهِ يَدِي، وَهَذِهِ يَدُ عُثْمَانَ» ، فَبَايَعَ لِي؟ فَانْتَشَدَ لَهُ رِجَالٌ، قَالَ: أَنْشُدُ بِاللَّهِ مَنْ شَهِدَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ يُوَسِّعْ لَنَا بِهَذَا الْبَيْتِ فِي الْمَسْجِدِ بِبَيْتٍ لَهُ فِي الْجَنَّةِ؟» ، فَابْتَعْتُهُ مِنْ مَالِي فَوَسَّعْتُ بِهِ الْمَسْجِدَ؟ فَانْتَشَدَ لَهُ رِجَالٌ، قَالَ: وَأَنْشِدُ بِاللَّهِ مَنْ شَهِدَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ جَيْشِ الْعُسْرَةِ قَالَ: «مَنْ يُنْفِقِ الْيَوْمَ نَفَقَةً مُتَقَبَّلَةً؟» فَجَهَّزْتُ نِصْفَ الْجَيْشِ مِنْ مَالِي؟ قَالَ: فَانْتَشَدَ لَهُ رِجَالٌ، وَأَنْشُدُ بِاللَّهِ مَنْ شَهِدَ رُومَةَ يُبَاعُ مَاؤُهَا ابْنَ السَّبِيلِ، فَابْتَعْتُهَا مِنْ مَالِي فَأَبَحْتُهَا ابْنَ السَّبِيلِ؟ قَالَ: فَانْتَشَدَ لَهُ رِجَالٌ

سیدنا ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہا کو قاشانہ اقدس میں محصو ر کیا گیا تو وہ ایک دن گھر کی چھت پر چڑھے اور لوگوسے خطاب فرمایا :میں ان لوگوں سے اللہ کی قسم لاد کر پوچھتا ہو جو حرا والے دن رسول اللہ صلی علیہ وسلم کے ساتھ موجود (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حرا پہاڑ پر تھے)تو پہاڑ نے ہلنا شروع کیا تھا تو آپ اللہ صلی علیہ وسلم نے اپنا قدم مبارک اس پر مارکر فرمایا تھا :الے حرا !ٹھہر جا تجھ پر نبی ،صدیق اور شہید کے علاوہ اور کوئی نہیں اور میں اس وقت آپ اللہ صلی علیہ وسلم کے ساتھ تھا ۔تو اس پر ان آدمیوں نے قسم اُٹھائی (کہ ہاں واقعی ایسا ہو ا)پھر فرمایا :ان لوگوں سے اللہ کی قسم دلاکر پوچھتا ہوں جو بیعت رضوان کے موقع پر رسول اللہ اللہ صلی علیہ وسلم کے ساتھ موجو د تھے کہ جب نبی کریم اللہ صلی علیہ وسلم نے مجھے مشرکین مکہ کی طرف روانہ کیا تو فرمایا تھا یہ میرا ہاتھ ہے (اور اپنے ایک ہاتھ کودوسرے ہاتھ پر رکھ کر فرمایا تھا )یہ عثمان کا ہاتھ ہے اور میرے حصے کی بیعت کی تھی ۔تو اس پر ان آدمیوں نے قسم اٹھائی (کہ ہاں واقعی ایسا ہوا )پھر فرمایا میں ان لوگوں سے اللہ کی قسم دلاکرپوچھتا ہوں کہ جب رسول اللہ صلی علیہ وسلم نے فرمایا تھا ہمارے لئے اس گھر کو خرید کر جنت میں گھر کے بدلے مسجد کو کون ودسیع کرے گا ؟پس میں نے اسے اپنے مال سے خرید کر مسجد کی توسیع کی ،اس پر ان آدمیوں نے قسم اٹھا ئی (ہاں واقع ہی ایسا ہوا )پھر فرمایا :میں ان لوگوں سے اللہ کی قسم دلاکر پوچھتا ہوں کہ (جب غزوہ تبوک کی تیاری کا موقع تھا )آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا :کون آج مقبول مال خرچ کرگا تو میں نے آدھے لشکر کی تیاری اپنے مال سے کی تھی ۔تو اس پر ان آدمیوں نے قسم اٹھائی (کہ ہاں وقعی ایساہوا)پھر فرمایا :میں ان لوگوں سے اللہ کی قسم دلاکرپوچھتاہوں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا (مسلمانوں کے لئے ) بئر رومہ کوکون خرید کر فی سبیل اللہ وقف کرے گا تو میں نے اپنے مال سے خرید کر اسے فی سبیل اللہ وقف کیا تھا ۔تواس پر ان آدمیوں نے قسم اٹھائی (کہ ہا ں واقعی ایسا ہوا)(1)

أَشْرَفَ عُثْمَانُ وَهُوَ مَحْصُورٌ ← أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← أَبِيهِ ← أَبِي، قثنا أَبُو قَطَنٍ، قثنا يُونُسُ يَعْنِي ابْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Hadith 805

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 806

806 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، وَعَفَّانُ، قَالَا: نا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ قثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ قَالَ: كُنَّا مَعَ عُثْمَانَ وَهُوَ مَحْصُورٌ فِي الدَّارِ، فَدَخَلَ مَدْخَلًا إِذَا دَخَلَهُ سَمِعَ كَلَامَهُ مَنْ عَلَى الْبَلَاطِ، قَالَ: فَدَخَلَ ذَلِكَ الْمَدْخَلَ وَخَرَجَ إِلَيْنَا فَقَالَ: إِنَّهُمْ يَتَوَعَّدُونِي بِالْقَتْلِ آنِفًا، قَالَ: قُلْنَا يَكْفِيكَهُمُ اللَّهُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَ: وَبِمَ يَقْتُلُونِي؟ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَا يَحِلُّ دَمُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ إِلَّا بِإِحْدَى ثَلَاثٍ: رَجُلٌ كَفَرَ بَعْدَ إِسْلَامِهِ، أَوْ زَنَى بَعْدَ إِحْصَانِهِ، أَوْ قَتَلَ نَفْسًا فَيُقْتَلُ بِهَا "، فَوَاللَّهِ مَا أَحْبَبْتُ أَنَّ لِي بِدِينِي بَدَلًا مُنْذُ هَدَانِي اللَّهُ، وَلَا زَنَيْتُ فِي جَاهِلِيَّةٍ وَلَا فِي إِسْلَامٍ قَطُّ، وَلَا قَتَلْتُ نَفْسًا، فَبِمَ يَقْتُلُونِي؟

سیدنا ابو اُمامہ بن سہل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں سید نا عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا جب وہ محصور تھے ہم ایسی جگہ جاتے تھے وہاں سے ہم تک باہر کے لوگوں کی باتیں سنائی دیتی تھیں ،ایک دن سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کسی کام سے وہاں آئے اور ہماری طرف نمودار ہوئے ،فرمانے لگے :وہ لوگ اب مجھے قتل کرنے کی سازش کررہے ہیں ہم نے کہا :امیر المومنین !اللہ تعالیٰ آپ کا محافظ ہے ۔انہوں نے فرمایا :یہ لوگ مجھے کیوں قتل کرنا چاہتے ہیں حلانکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ،آپ فرمارہے تھے کہ مسلمان کا خون بہانا درج ذیل تین آدمیوں کے علاوہ حرام ہے:1۔ جو ایمان لانے کے بعد کفر اختیار کرے ۔2۔اگر کوئی شادی شدہ ہونے کے باوجود بدکاری کرے ۔3۔اگر کوئی کسی کو ناحق قتل کرے۔پس اللہ کی قسم !نہ میں نے زمانہ جاہلیت میں زنا کیا ہے اور نہ ہی کبھی اسلام میں ،جب سے اللہ نے مجھے ہدا ہت دی ہے ،اس دن سے کبھی میں نےاپنے دین کو تبدیل کرنے کی خواہش نہیں کی اور نہ میں نےکسی نفس کو (ناحق) قتل کیا ہے تو پھر یہ لوگ کیوں قتل کرنا چاہتے ہیں(2)

رَسُولِ اللَّهِ ← وَبِمَ يَقْتُلُونِي؟ ← قُلْنَا يَكْفِيكَهُمُ اللَّهُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ← إِنَّهُمْ يَتَوَعَّدُونِي بِالْقَتْلِ آنِفًا، ← فَدَخَلَ ذَلِكَ الْمَدْخَلَ وَخَرَجَ إِلَيْنَا ← كَلَامَهُ مَنْ عَلَى الْبَلَاطِ، ← كُنَّا مَعَ عُثْمَانَ وَهُوَ مَحْصُورٌ فِي الدَّارِ، فَدَخَلَ مَدْخَلًا إِذَا دَخَلَهُ ← أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ قثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، ← أَبِي، قثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، وَعَفَّانُ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Hadith 806

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 807

807 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، نَا إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ: سَمِعْتُ مُغِيرَةَ بْنَ مُسْلِمٍ أَبَا سَلَمَةَ يَذْكُرُ، عَنْ مَطَرٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ عُثْمَانَ أَشْرَفَ عَلَى أَصْحَابِهِ وَهُوَ مَحْصُورٌ فَقَالَ: عَلَامَ تَقْتُلُونِي؟ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَا يَحِلُّ دَمُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ إِلَّا بِإِحْدَى ثَلَاثٍ: رَجُلٌ زَنَى بَعْدَ إِحْصَانِهِ فَعَلَيْهِ الرَّجْمُ، أَوْ قَتَلَ عَمْدًا فَعَلَيْهِ الْقَوَدُ، أَوِ ارْتَدَّ بَعْدَ إِسْلَامِهِ فَعَلَيْهِ الْقَتْلُ "، فَوَاللَّهِ مَا زَنَيْتُ فِي جَاهِلِيَّةٍ وَلَا إِسْلَامٍ، وَلَا قَتَلْتُ أَحَدًا فَأُقِيدَ نَفْسِي مِنْهُ، وَلَا ارْتَدَدْتُ مُنْذُ أَسْلَمْتُ، إِنِّي أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ.

سید نا عبداللہ بن عمر سے روایت ہے کہ لوگوں نے سید نا عثمان رضی اللہ عنہ کو دولت کدہ میں محصور کردیاتومکان (کی چھت )پر چڑھے اورلوگوں سے خطاب فرمایا :آپ لوگ کیوں میرے قتل کے در پے ہو ؟حالانکہ میں نے سنا ،رسول اللہ صلی اللہ وعلیہ وسلم فرمارہے تھے :تین وجوہ کے علاوہ مسلمان کا خون بہا ناجائز نہیں ہے :1۔جب شادی شدہ زنا کرے تو اسے رجم کیا جائے گا ۔2۔جب قتل کرے تو اس پر قصاص ہے ۔3۔جب اسلام لانےکے بعد مرتد ہو جائے تو اسے قتل کیا جائے گا ۔اللہ کی قسم !نہ میں نے زمابہ جاہلیت میں زنا کیا اور نہ ہی حالت اسلام میں ،نہ آج تک میں نے کسی کو قتل کیا تاکہ میں اپنے نفس کو قصاص کے لئے پیش کروں اور نہ ہی اسلام لانےکے بعد آج تک مرتد ہواہوں۔میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی الہٰ نہیں اور بے شک سید نا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں۔(1)

رَسُولِ اللَّهِ ← عَلَامَ تَقْتُلُونِي فَإِنِّي ← ابْنِ عُمَرَ أَنَّ عُثْمَانَ أَشْرَفَ عَلَى أَصْحَابِهِ وَهُوَ مَحْصُورٌ ← نَافِعٍ ← مَطَرٍ، ← مُغِيرَةَ بْنَ مُسْلِمٍ أَبَا سَلَمَةَ يَذْكُرُ ← إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ

Hadith 807

Hassan

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 808

808 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ: قثنا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ قثنا أَبِي، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ عُثْمَانُ: إِنْ وَجَدْتُمْ فِي كِتَابِ اللَّهِ أَنْ تَضَعُوا رِجْلَيَّ فِي الْقَيْدِ، فَضَعُوهُمَا.

یعقوب رحمۃاللہ علیہ اپنے داد سے روایت کرتے ہیں۔کہ سید نا عثماں رضی اللہ علیہ نے فرمایا : یہ میرے دو پاؤں حاصر ہیں ۔اگر قرآن بیڑاں ڈالنے کی اجازت دیتا ہے تو انھیں بیڑاں ڈال دو(2)

عُثْمَانُ: إِنْ وَجَدْتُمْ فِي كِتَابِ اللَّهِ أَنْ تَضَعُوا رِجْلَيَّ فِي الْقَيْدِ، فَضَعُوهُمَا. ← أَبِيهِ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ قثنا أَبِي، ← عَبْدُ اللَّهِ: قثنا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ،

Hadith 808

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 809

809 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قثنا يُونُسُ بْنُ أَبِي الْيَعْفُورِ الْعَبْدِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مُسْلِمٍ أَبِي سَعِيدٍ مَوْلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ أَعْتَقَ عِشْرِينَ مَمْلُوكًا، وَدَعَا سَرَاوِيلَ فَشَدَّهَا عَلَيْهِ، وَلَمْ يَلْبَسْهَا فِي جَاهِلِيَّةٍ وَلَا إِسْلَامٍ، قَالَ: إِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَارِحَةَ فِي النَّوْمِ، وَرَأَيْتُ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ، وَإِنَّهُمْ قَالُوا لِي: «اصْبِرْ، فَإِنَّكَ تُفْطِرُ عِنْدَنَا الْقَابِلَةَ» ، ثُمَّ دَعَا بِمُصْحَفٍ فَنَشَرَهُ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَقُتِلَ وَهُوَ بَيْنَ يَدَيْهِ.

ابوسعید مولیٰ سید نا عثمان سے روایت ہے کہ سید ناعثمان بن عفان رضی اللہ علیہ نے 20 غلاموں کو آزاد کیا اور ایک شلوار زیب تنکی جو نہ کبھی جاہلیت میں پہنی اور فرمایا :رات کو مجھے خواب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت ہوئی ۔سید نا ابوبکر رضی اللہ علیہ اور سید نا عمر بھی ساتھ تھے اور مجھ سے فرمایا : ضبر کرو افطار ہمارےساتھ کرنا ،پھر قرآن منگواکر کھولااور اسی حالت ہیں شہید کئے گئے ۔(3)

مُسْلِمٍ أَبِي سَعِيدٍ مَوْلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، ← أَبِيهِ ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قثنا يُونُسُ بْنُ أَبِي الْيَعْفُورِ الْعَبْدِيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Hadith 809

Hassan

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 810

810 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ قثنا مَحْبُوبُ بْنُ مُحْرِزٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ فَرُّوخَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: شَهِدْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ دُفِنَ فِي ثِيَابِهِ بِدِمَائِهِ، وَلَمْ يُغَسَّلْ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ.

عبداللہ بن فروخ رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ جب سید نا عثمان رضی اللہ علیہ کو شہید کیا گیا تو ان کو غسل کے بغیر انہی خون آلودہ کپڑوں میں دفنایا گیا ۔(4)

شَهِدْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ دُفِنَ فِي ثِيَابِهِ بِدِمَائِهِ وَلَمْ يُغَسَّلْ ← أَبِيهِ ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ فَرُّوخَ ← سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ قثنا مَحْبُوبُ بْنُ مُحْرِزٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Hadith 810

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 811

811 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ قثنا زُهَيْرُ بْنُ إِسْحَاقَ قثنا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أُمِّ هِلَالٍ بِنْتِ وَكِيعٍ، عَنْ نَائِلَةَ بِنْتِ الْفُرَافِصَةِ امْرَأَةِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ قَالَتْ: نَعَسَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ عُثْمَانُ، فَأَغْفَى، فَاسْتَيْقَظَ فَقَالَ: لَيَقْتُلُنَّنِي الْقَوْمُ، قُلْتُ: كَلَّا، لَمْ تَبْلُغْ ذَلِكَ، إِنَّ رَعِيَّتَكَ اسْتَعْتَبُوكَ، قَالَ: إِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَنَامِي وَأَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ فَقَالُوا: «تُفْطِرُ عِنْدَنَا اللَّيْلَةَ» .

سید نا ئلہ بنت قرافصہ رضی اللہ علیہ (زوجہ سید نا عثمان رضی اللہ علیہ )سے رویت ہے کہ سید نا عثما ن رضی اللہ علیہ تھوڑا ساسستا لینے کے بعد بیدار ہوئے اور پھر فرمایا :یہ لوگ مجھے قتل کریں گے ،میں نے کہا :ہرگز نہیں !کیا ان کو یہ نہیں پتہ کہ آ پ کے ساتھ لشکر ہے جو آ پ کی مدد کرے گا تو فرمایا :میں نے خواب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ،سیدنا ابوبکر اور سید نا عمر رضی اللہ علیہ کو دیکھا ہے ،وہ سب فرمارہے تھے : آج شام ہمارے ساتھ (روزہ )افطار کرنا ۔(1)

نائلة بنت الفرافصة امرأة عثمان بن عفان ← أُمِّ هِلاَلٍ بِنْتِ وَكِيعٍ ← زياد بن عبد الله ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ قثنا زُهَيْرُ بْنُ إِسْحَاقَ قثنا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Hadith 811

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 812

812 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا هُشَيْمُ بْنُ بَشِيرٍ قَالَ: أنا مُحَمَّدُ بْنُ قَيْسٍ الْأَسَدِيُّ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ قَالَ: سَمِعْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ، وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ وَالْمُؤَذِّنُ يُقِيمُ، وَهُوَ يَسْتَخْبِرُ النَّاسَ يَسْأَلُهُمْ عَنْ أَخْبَارِهِمْ وَأَسْعَارِهِمْ.

موسیٰ بن طلحہ سے روایت ہے کہ میں نے سید نا عثمان رضی اللہ علیہ کو سنا کہ وہ منبر پر بیٹھتے اور مؤذن اذان کہتا اور وہ لوگوں کے حال احوال پوچھتے نیز نرخ کے بارے میں بھی دریافت کرتے (2)

أَخْبَارِهِمْ وَأَسْعَارِهِمْ. ← عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ، وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ وَالْمُؤَذِّنُ يُقِيمُ، وَهُوَ يَسْتَخْبِرُ النَّاسَ يَسْأَلُهُمْ ← مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ قَيْسٍ الْأَسْدِيُّ ← أَبِي، قثنا هُشَيْمُ بْنُ بَشِيرٍ ← عَبْدُ اللَّهِ

Hadith 812

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 813

813 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، نَا عَبْدُ الصَّمَدِ، هُوَ ابْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي فَاطِمَةُ بِنْتُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَتْ: حَدَّثَتْنِي أُمِّي، أَنَّهَا سَأَلَتْ عَائِشَةَ، وَأَرْسَلَهَا عَمُّهَا، فَقَالَ: إِنَّ أَحَدَ بَنِيكِ يُقْرِئُكِ السَّلَامَ وَيَسْأَلُكِ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، فَإِنَّ النَّاسَ قَدْ شَتَمُوهُ، فَقَالَتْ: لَعَنَ اللَّهُ مَنْ لَعَنَهُ، فَوَاللَّهِ لَقَدْ كَانَ قَاعِدًا عِنْدَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمُسْنِدٌ ظَهْرَهُ إِلَيَّ، وَإِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ لَيُوحِي إِلَيْهِ الْقُرْآنَ، إِنَّهُ لَيَقُولُ لَهُ: «اكْتُبْ يَا عُثَيْمُ» ، فَمَا كَانَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِيُنْزِلَهُ تِلْكَ الْمَنْزِلَةَ إِلَّا وَهُوَ كَرِيمٌ عَلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ.

سیدی فاطمہ بنت عبد الرحمنٰ کی والدہ بیان کرتی ہیں کہ میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ علیہ سے پوچھا: انہیں ان کے چچا نے بھیجا تھا ،میں نے عرض کیا : آپ کا ایک بیٹا (امالمومنین ہونے حوالے سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا امت محمدیہ کے ہر فرد کی ماں ہیں)آپ کو سلام عرض کرتا ہے اور آپ سے سیدنا عثمان رضی اللہ علیہ کے بارے میں سوال کرتا ہے کہ لوگ ان پر لعن طعن کرتے ہیں؟سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : اللہ کی لعنت ہو ہر اس شخص پر جو سید ناعثمان رضی اللہ عنہ کو برا کہتا ہے ۔اللہ کی قسم!وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے اور آ پ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ساتھ ٹیک لگا کر تشریف فرماتھے ،سید نا جبریل علیہ سلام قرآن کی وحی لے کر نازل ہوئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے (بہ طور محبت وشفقت ) فرماتے : اے عثیم !لکھو،اللہ نے یہ مقام سید نا عثمان رضی اللہ عنہ کو صرف اس لئے دیا تھا کہ وہ اللہ اور رسول کو پیارےتھے۔(3)

عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ فَإِنَّ النَّاسَ قَدْ شَتَمُوهُ ← إِنَّ أَحَدَ بَنِيكِ يُقْرِئُكِ السَّلَامَ وَيَسْأَلُكِ ← حَدَّثَتْنِي أُمِّي، أَنَّهَا سَأَلَتْ عَائِشَةَ، وَأَرْسَلَهَا عَمُّهَا، ← حَدَّثَتْنِي فَاطِمَةُ بِنْتُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← عبد الصمد هو ابن عبد الوارث ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ

Hadith 813

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 814

814 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، نا يُونُسُ، هُوَ ابْنُ مُحَمَّدٍ، قثنا عُمَرُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْيَشْكُرِيُّ قَالَ: سَمِعْتُ أُمِّي تُحَدِّثُ، أَنَّ أُمَّهَا انْطَلَقَتْ إِلَى الْبَيْتِ حَاجَّةً، وَالْبَيْتُ يَوْمَئِذٍ لَهُ بَابَانِ، قَالَتْ: فَلَمَّا قَضَيْتُ طَوَافِي دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ، قَالَتْ: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، إِنَّ بَعْضَ بَنِيكِ بَعَثَ يُقْرِئُكِ السَّلَامَ، وَإِنَّ النَّاسَ قَدْ أَكْثَرُوا فِي عُثْمَانَ، فَمَا تَقُولِينَ فِيهِ؟ قَالَتْ: لَعَنَ اللَّهُ مَنْ لَعَنَهُ، لَا أَحْسَبُهَا إِلَّا قَالَتْ ثَلَاثَ مِرَارٍ، لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُسْنِدٌ فَخِذَهُ إِلَى عُثْمَانَ، فَإِنِّي لَأَمْسَحُ الْعَرَقَ عَنْ جَبِينِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِنَّ الْوَحْيَ يَنْزِلُ عَلَيْهِ، وَلَقَدْ زَوَّجَهُ ابْنَتَيْهِ، إِحْدَاهُمَا بَعْدَ الْأُخْرَى، وَإِنَّهُ لَيَقُولُ: «اكْتُبْ عُثَيْمُ» ، قَالَتْ: مَا كَانَ اللَّهُ لِيُنْزِلَ عَبْدًا مِنْ نَبِيِّهِ بِتِلْكَ الْمَنْزِلَةِ إِلَّا عَبْدًا عَلَيْهِ كَرِيمًا.

عمر بن ابراہیم یشکری کی والدہ بیان کرتی ہیں کہ میں نے اپنے مقصد کے لئے بیت اللہ کا رُخ کیا ،ان دنوں اس کے دو دروازے تھے ،جب میں نے طواف پورا کیا تو میں سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئی اور ان سے دریافت کیا کہ آپ کا ایک بیٹا (امہات المومنین ہونے کے حوالے سے سیّدعائشہ رضی اللہ عنہا امت محمد یہ کے ہر فرد کی ماں ہیں) آپ کو سلام عرض کرتا ہے اور سیّد ما عثمان رضی اللہ عنہ کے بارہ میں جو لوگ اکثر باتیں کرتے ہیں ،اس کے بارے میں سوال کرتا ہے آپ ان کے بارے میں کیا رائے رکھتی ہیں ؟سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا :لعنت ہو ہر اس شخص پر جو سیّدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو برا کہتا ہے ۔ یقیناً رسول اللہ ضلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے ٹیک لگا ئے تشریف فرماتھے ،قرآن نازل ہو رہا تھا اور نبی کرہم ضلی اللہ علیہ وسلم سیّد نا عثما ن رضی اللہ عنہ سے فرماتے :اے عثیم! لکھو (محبت وشفقت کرتے ہوئے اہل عرب بطور رترخیم کبھی نام کا کچھ حصہ حذف کردیتے ہیں)اللہنے یہ پیغام سیّد نا عثمان رضی اللہ عنہ کو اس لیے دیا تھا کیونکہ وہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو بڑے پیارے تھے ۔(1)

أُمِّي تُحَدِّثُ ← يُونُسُ، هُوَ ابْنُ مُحَمَّدٍ، قثنا عُمَرُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْيَشْكُرِيُّ ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ

Hadith 814

Daif

chevron_left Previous
1…6789
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door2. He was asked about the virtues of Abu, the first-born of al-Siddiq, the mercy and pleasure of God be upon him3. He was asked about the words of Ali ibn Abi Talib and others: The best of this nation after its prophet Abu Bakr and Omar4. His saying, may God’s prayers and peace be upon him: “If I had taken people as a friend, I would not have taken a virgin father as a friend5. He, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Pass a virgin father, let him pray to the people.”6. The remainder of his saying: “Show a first-born father who prays to people.”7. It was not narrated that Abu Bakr was the first to become Muslim8. It was not narrated that a virgin father came to ask permission, so the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Permit him, and give him good tidings of paradise.”9. The Virtue of the Commander of the Believers, Omar Ibn Al-Khattab, may God be pleased with him10. The Islam of Umar ibn Al-Khattab, may God be pleased with him11. And among the virtues of Omar bin Al-Khattab from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik, on the authority of his sheikhs other than Abd Allah bin Ahmed, and from the hadith of Abu Bakr bin Malik.12. The virtue of Othman bin Affan, may God be pleased with him13. And from the merits of Othman, from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik on the authority of his sheikhs except for Abdullah bin Ahmad14. The news of the Prince of the Believers, Ali bin Abi Talib, and his asceticism, may God be pleased with him15. His mother's name and genealogy16. A merit upon me, peace be upon him17. And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah18. The Virtue of Abd al-Rahman ibn Awf, may God be pleased with him19. The Virtue of Az-Zubayr Bin Awwam, may God be pleased with him20. Fadil Abi Ubaidah Ibn Al Jarrah, may God be pleased with him21. Fadil Talha Bin Ubaid Allah, may God be pleased with him22. Fadil Saad bin Abi Waqas, may God be pleased with him23. Fadil Fatima, the daughter of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him24. The virtues of good, and the good, may God be pleased with them.25. The Virtues of Ansar, may God be pleased with them26. The virtue of Khalid bin Al-Walid, may God have mercy on him27. Fadil Saad bin Muadh, may God have mercy on him28. Fadil Haritha Ibn Nu'man, may God be pleased with him29. Fadil Suhaib, may God be pleased with him30. The virtues of the Arabs31. The virtue of Usama bin Zaid, may God be pleased with him32. Fadil Abdullah bin Masoud, may God be pleased with him33. Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with them34. Virtues of Khadija and others35. Fadil Ammar ibn Yasser, may God be pleased with him36. Virtues 0 People of Yemen37. Virtues of the family of the Mother of the Believers, may God be pleased with her, and other things among the people of Yemen38. The virtues of the Banu Ghafar, and Islam and others39. Fadil Jaafar ibn Abi Talib, may God be pleased with him40. Fadil Jarir bin Abdullah, may God be pleased with him41. Fadil Abdullah Bin Omar, may God be pleased with them42. The virtues of a people of the Levant43. The Virtue of the Companions of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him44. The virtue of Amr ibn al-Aas, may God be pleased with him45. The Virtues of Mu`awiyah Bin Abi Sufyan, may God be pleased with them46. The virtues of Abu al-Fadl al-Abbas ibn Abd al-Muttalib, the uncle of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him47. Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with him