فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 791
791 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا بِشْرُ بْنُ شُعَيْبٍ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ أَخْبَرَهُ، أَنَّ الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ، وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْأَسْوَدِ بْنِ عَبْدِ يَغُوثَ، قَالَا لَهُ: مَا يَمْنَعُكَ أَنْ تُكَلِّمَ خَالَكَ يُكَلِّمُ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ عُثْمَانَ فِي الْوَلِيدِ بْنِ عُقْبَةَ، وَقَدْ أَكْثَرَ النَّاسُ فِيمَا فَعَلَ؟ قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ: فَاعْتَرَضْتُ لِأَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عُثْمَانَ حِينَ خَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ فَقُلْتُ لَهُ: إِنَّ لِي إِلَيْكَ حَاجَةً، هِيَ نَصِيحَةٌ، قَالَ: قَالَ: يَا أَيُّهَا الْمَرْءُ، إِنِّي أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ، قَالَ: فَانْصَرَفْتُ، فَلَمَّا قَضَيْتُ الصَّلَاةَ جَلَسْتُ إِلَى الْمِسْوَرِ وَابْنِ عَبْدِ يَغُوثَ، فَحَدَّثْتُهُمَا بِالَّذِي قُلْتُ لِأَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ وَقَالَ لِي، فَقَالَا: قَدْ قَضَيْتَ الَّذِي عَلَيْكَ، فَبَيْنَا أَنَا جَالِسٌ مَعَهُمَا جَاءَنِي رَسُولُ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عُثْمَانَ، فَقَالَا لِي: قَدِ ابْتَلَاكَ اللَّهُ، فَانْطَلَقْتُ حَتَّى دَخَلْتُ عَلَى عُثْمَانَ، فَقَالَ: مَا نَصِيحَتُكَ الَّتِي ذَكَرْتَ لِي آنِفًا؟ قَالَ: فَتَشَهَّدْتُ ثُمَّ قُلْتُ لَهُ: إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ بَعَثَ مُحَمَّدًا بِالْحَقِّ، وَأَنْزَلَ عَلَيْهِ الْكِتَابَ، فَكُنْتَ مِمَّنِ اسْتَجَابَ لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ وَآمَنَ، فَهَاجَرْتَ الْهِجْرَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ، وَنِلْتَ صِهْرَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرَأَيْتَ هَدْيَهُ، وَقَدْ أَكْثَرَ النَّاسُ فِي شَأْنِ الْوَلِيدِ، فَحَقٌّ عَلَيْكَ أَنْ تُقِيمَ عَلَيْهِ الْحَدَّ، قَالَ: فَقَالَ لِي: ابْنَ أُخْتِي، أَدْرَكْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: فَقُلْتُ: لَا، وَلَكِنْ خَلُصَ إِلَيَّ مِنْ عِلْمِهِ وَالْيَقِينِ مَا يَخْلُصُ إِلَى الْعَذْرَاءِ فِي سِتْرِهَا، قَالَ: فَتَشَهَّدَ ثُمَّ قَالَ: أَمَّا بَعْدُ، فَإِنَّ اللَّهَ بَعَثَ مُحَمَّدًا بِالْحَقِّ، فَكُنْتُ مِمَّنِ اسْتَجَابَ لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ، وَآمَنَ بِمَا بُعِثَ بِهِ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ هَاجَرْتُ الْهِجْرَتَيْنِ كَمَا قُلْتَ، وَنِلْتُ صِهْرَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَبَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَوَاللَّهِ مَا عَصَيْتُهُ وَلَا غَشَشْتُهُ حَتَّى تَوَفَّاهُ اللَّهُ، ثُمَّ اسْتُخْلِفَ بَعْدَهُ أَبُو بَكْرٍ فَبَايَعْنَاهُ، فَوَاللَّهِ مَا عَصَيْتُهُ وَلَا غَشَشْتُهُ حَتَّى تَوَفَّاهُ اللَّهُ، ثُمَّ اسْتُخْلِفَ عُمَرُ، فَوَاللَّهِ مَا عَصَيْتُهُ وَلَا غَشَشْتُهُ حَتَّى تَوَفَّاهُ اللَّهُ، ثُمَّ اسْتَخْلَفَنِي اللَّهُ، أَفَلَيْسَ لِي عَلَيْكُمْ مِثْلُ الَّذِي كَانَ لَهُمْ عَلَيَّ؟ قَالَ: فَقُلْتُ: بَلَى، قَالَ: فَمَا هَذِهِ الْأَحَادِيثُ الَّتِي تَبْلُغُنِي عَنْكُمْ؟ فَأَمَّا مَا ذَكَرْتَ مِنْ شَأْنِ الْوَلِيدِ فَسَنَأْخُذُ فِيهِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِالْحَقِّ، قَالَ: فَجَلَدَ الْوَلِيدَ أَرْبَعِينَ سَوْطًا، وَأَمَرَ عَلِيًّا بِجِلْدِهِ، فَكَانَ هُوَ يَجْلِدُهُ.
مسور بن مخرمہ اور عبدالرحمن اسود بن عبدیغوث نے سیّد نا عبیداللہ بن عدی رضی اللہ عنہ سے کہا کہ آپ اپنے ماموں سے کیوں نہیں کہتے کہ وہ ولیدبن عقبہ کے بارے میں امیرالمومنین سے بات کرےکیونکہ لوگوں نے ان کے بارے میں بڑی بڑی باتیں کی ہیں ، عبیداللہ نے کہا : میں امیرالمومنین سے ملا ، جب وہ نماز کے لیے باہر آ رہے تھے ، میں نے کہا : مجھے آپ سے کچھ کام ہے جو کہ ایک خیر خواہی ہے ، انہوں نے کہا : اے شخص ! میں تجھ سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتا ہوں ۔ پس میں وہاں سے چلا گیا ، جب نماز ہو گئی ، مین مسوربن مخرمہ اور ابن عبدیغوث کے پاس بیٹھا ، وہ کارگزاری سنائی تو ان دونوں نے کہا : آپ نے اپنی ذمہ داری پوری کر دی ہے ، اسی حالت میں ان دونوں کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا کہ امیرالمومنین سیّد نا عثمان رضی اللہ عنہ کا قاصد آ گیا تو ان دونوں نے کہا : لگتا ہے اللہ تعالیٰ نے تجھے آزمائش میں ڈال دیا ہے ، میں سیّدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس آیا ، انہوں نے کہا : وہ کونسی خیر خواہی کی بات تھی جو تم مجھ سے کرنا چاہتے تھے ، میں نے خطبہ پڑھا اور کہا : یقیناً سیّد نا محمد کریم ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے رسول بنا کر بھیجا تھااور کتاب بھی نازل کی اور آپ ان لوگوں میں سے تھے جو اللہ اور رسول ﷺ کی اطلاعت گزار ہیں پس آپ ایمان لائے ، دوہجرتیں کیں، نبی کریم ﷺ سے سسرالی رشتہ بھی قائم ہوا ، میں نے آپ کا طریقہ بھی دیکھا ہے ، یقینا ً ولید کے بارے میں لوگ طرح طرح کی باتیں کرتے ہیں اور اب آپ پر لازم ہے کہ ولید پر حد قائم کریں انہوں نے مجھے سے کہا : میرے بھانجے ً کیا تمہیں زیارت رسول ﷺ کا شرف حاصل ہے ؟ میں نے کہا: نہیں ! لیکن آپ ﷺ کا علم اور حق پوری طرح ہم تک پہنچ چکا ہے ، جس طرح کسی کنواری تک پردہ کے پیچھے پہنچتا ہے ۔ یہ سن کر سیّد نا عثمان رضی اللہ عنہ نے خطبہ پڑھا اور کہا : اللہ تعالیٰ نے سیّد نا محمد ﷺ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا اور ان پر قرآن نازل کیا تو میں ان پر ایمان لایا ، دوہجرتیں بھی کی ، نبی کریم ﷺ سے سسرالی رشتہ بھی قائم کیا اور ان سے بیعت بھی کی ۔ اللہ کی قسم! میں نے کس قسم کا نافرمانی نہیں کی اور نہ ہی دھوکہ دیا ، یہاں تک کہ نبی کریم ﷺ وفات پا گئے ، آپ کے بعد سیّد نا ابوبکر رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے ،، اللہ کی قسم! نافرمانی کی اور نہ دھوکہ دیہاں تک کہ وہ بھی وفات پا گئے اور ان کے بعد اللہ تعالیٰ نے مجھے خلافت سونپ دی ، کیا مجھے تم لوگوں پر اس قدر بھی حق نہیں ہے جو حق ان کا مجھ پر تھا ، میں نے کہا : جی ہاں ! انہوں نے کہا : پھر میں تم لوگوں سے کیوں طرح طرح کی باتیں سنوں ۔ رہا ولید کا معاملہ اس کا بھی میں حق فیصلہ کرونگا ۔ پس ان کو 40 کوڑے لگادیئے ، ان پر حد لگانے پر سیّد نا علی رضی اللہ عنہ کو مامور کیا ، انہوں نے ان کو 40کوڑے بطور حد لگائے ۔ (1)
عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← أَبِي ← أَبِي، قثنا بِشْرُ بْنُ شُعَيْبٍ ← عَبْدُ اللَّهِ
Hadith 791
