Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

1,963 Hadith48 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 791

791 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا بِشْرُ بْنُ شُعَيْبٍ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ أَخْبَرَهُ، أَنَّ الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ، وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْأَسْوَدِ بْنِ عَبْدِ يَغُوثَ، قَالَا لَهُ: مَا يَمْنَعُكَ أَنْ تُكَلِّمَ خَالَكَ يُكَلِّمُ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ عُثْمَانَ فِي الْوَلِيدِ بْنِ عُقْبَةَ، وَقَدْ أَكْثَرَ النَّاسُ فِيمَا فَعَلَ؟ قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ: فَاعْتَرَضْتُ لِأَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عُثْمَانَ حِينَ خَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ فَقُلْتُ لَهُ: إِنَّ لِي إِلَيْكَ حَاجَةً، هِيَ نَصِيحَةٌ، قَالَ: قَالَ: يَا أَيُّهَا الْمَرْءُ، إِنِّي أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ، قَالَ: فَانْصَرَفْتُ، فَلَمَّا قَضَيْتُ الصَّلَاةَ جَلَسْتُ إِلَى الْمِسْوَرِ وَابْنِ عَبْدِ يَغُوثَ، فَحَدَّثْتُهُمَا بِالَّذِي قُلْتُ لِأَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ وَقَالَ لِي، فَقَالَا: قَدْ قَضَيْتَ الَّذِي عَلَيْكَ، فَبَيْنَا أَنَا جَالِسٌ مَعَهُمَا جَاءَنِي رَسُولُ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عُثْمَانَ، فَقَالَا لِي: قَدِ ابْتَلَاكَ اللَّهُ، فَانْطَلَقْتُ حَتَّى دَخَلْتُ عَلَى عُثْمَانَ، فَقَالَ: مَا نَصِيحَتُكَ الَّتِي ذَكَرْتَ لِي آنِفًا؟ قَالَ: فَتَشَهَّدْتُ ثُمَّ قُلْتُ لَهُ: إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ بَعَثَ مُحَمَّدًا بِالْحَقِّ، وَأَنْزَلَ عَلَيْهِ الْكِتَابَ، فَكُنْتَ مِمَّنِ اسْتَجَابَ لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ وَآمَنَ، فَهَاجَرْتَ الْهِجْرَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ، وَنِلْتَ صِهْرَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرَأَيْتَ هَدْيَهُ، وَقَدْ أَكْثَرَ النَّاسُ فِي شَأْنِ الْوَلِيدِ، فَحَقٌّ عَلَيْكَ أَنْ تُقِيمَ عَلَيْهِ الْحَدَّ، قَالَ: فَقَالَ لِي: ابْنَ أُخْتِي، أَدْرَكْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: فَقُلْتُ: لَا، وَلَكِنْ خَلُصَ إِلَيَّ مِنْ عِلْمِهِ وَالْيَقِينِ مَا يَخْلُصُ إِلَى الْعَذْرَاءِ فِي سِتْرِهَا، قَالَ: فَتَشَهَّدَ ثُمَّ قَالَ: أَمَّا بَعْدُ، فَإِنَّ اللَّهَ بَعَثَ مُحَمَّدًا بِالْحَقِّ، فَكُنْتُ مِمَّنِ اسْتَجَابَ لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ، وَآمَنَ بِمَا بُعِثَ بِهِ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ هَاجَرْتُ الْهِجْرَتَيْنِ كَمَا قُلْتَ، وَنِلْتُ صِهْرَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَبَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَوَاللَّهِ مَا عَصَيْتُهُ وَلَا غَشَشْتُهُ حَتَّى تَوَفَّاهُ اللَّهُ، ثُمَّ اسْتُخْلِفَ بَعْدَهُ أَبُو بَكْرٍ فَبَايَعْنَاهُ، فَوَاللَّهِ مَا عَصَيْتُهُ وَلَا غَشَشْتُهُ حَتَّى تَوَفَّاهُ اللَّهُ، ثُمَّ اسْتُخْلِفَ عُمَرُ، فَوَاللَّهِ مَا عَصَيْتُهُ وَلَا غَشَشْتُهُ حَتَّى تَوَفَّاهُ اللَّهُ، ثُمَّ اسْتَخْلَفَنِي اللَّهُ، أَفَلَيْسَ لِي عَلَيْكُمْ مِثْلُ الَّذِي كَانَ لَهُمْ عَلَيَّ؟ قَالَ: فَقُلْتُ: بَلَى، قَالَ: فَمَا هَذِهِ الْأَحَادِيثُ الَّتِي تَبْلُغُنِي عَنْكُمْ؟ فَأَمَّا مَا ذَكَرْتَ مِنْ شَأْنِ الْوَلِيدِ فَسَنَأْخُذُ فِيهِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِالْحَقِّ، قَالَ: فَجَلَدَ الْوَلِيدَ أَرْبَعِينَ سَوْطًا، وَأَمَرَ عَلِيًّا بِجِلْدِهِ، فَكَانَ هُوَ يَجْلِدُهُ.

مسور بن مخرمہ اور عبدالرحمن اسود بن عبدیغوث نے سیّد نا عبیداللہ بن عدی رضی اللہ عنہ سے کہا کہ آپ اپنے ماموں سے کیوں نہیں کہتے کہ وہ ولیدبن عقبہ کے بارے میں امیرالمومنین سے بات کرےکیونکہ لوگوں نے ان کے بارے میں بڑی بڑی باتیں کی ہیں ، عبیداللہ نے کہا : میں امیرالمومنین سے ملا ، جب وہ نماز کے لیے باہر آ رہے تھے ، میں نے کہا : مجھے آپ سے کچھ کام ہے جو کہ ایک خیر خواہی ہے ، انہوں نے کہا : اے شخص ! میں تجھ سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتا ہوں ۔ پس میں وہاں سے چلا گیا ، جب نماز ہو گئی ، مین مسوربن مخرمہ اور ابن عبدیغوث کے پاس بیٹھا ، وہ کارگزاری سنائی تو ان دونوں نے کہا : آپ نے اپنی ذمہ داری پوری کر دی ہے ، اسی حالت میں ان دونوں کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا کہ امیرالمومنین سیّد نا عثمان رضی اللہ عنہ کا قاصد آ گیا تو ان دونوں نے کہا : لگتا ہے اللہ تعالیٰ نے تجھے آزمائش میں ڈال دیا ہے ، میں سیّدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس آیا ، انہوں نے کہا : وہ کونسی خیر خواہی کی بات تھی جو تم مجھ سے کرنا چاہتے تھے ، میں نے خطبہ پڑھا اور کہا : یقیناً سیّد نا محمد کریم ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے رسول بنا کر بھیجا تھااور کتاب بھی نازل کی اور آپ ان لوگوں میں سے تھے جو اللہ اور رسول ﷺ کی اطلاعت گزار ہیں پس آپ ایمان لائے ، دوہجرتیں کیں، نبی کریم ﷺ سے سسرالی رشتہ بھی قائم ہوا ، میں نے آپ کا طریقہ بھی دیکھا ہے ، یقینا ً ولید کے بارے میں لوگ طرح طرح کی باتیں کرتے ہیں اور اب آپ پر لازم ہے کہ ولید پر حد قائم کریں انہوں نے مجھے سے کہا : میرے بھانجے ً کیا تمہیں زیارت رسول ﷺ کا شرف حاصل ہے ؟ میں نے کہا: نہیں ! لیکن آپ ﷺ کا علم اور حق پوری طرح ہم تک پہنچ چکا ہے ، جس طرح کسی کنواری تک پردہ کے پیچھے پہنچتا ہے ۔ یہ سن کر سیّد نا عثمان رضی اللہ عنہ نے خطبہ پڑھا اور کہا : اللہ تعالیٰ نے سیّد نا محمد ﷺ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا اور ان پر قرآن نازل کیا تو میں ان پر ایمان لایا ، دوہجرتیں بھی کی ، نبی کریم ﷺ سے سسرالی رشتہ بھی قائم کیا اور ان سے بیعت بھی کی ۔ اللہ کی قسم! میں نے کس قسم کا نافرمانی نہیں کی اور نہ ہی دھوکہ دیا ، یہاں تک کہ نبی کریم ﷺ وفات پا گئے ، آپ کے بعد سیّد نا ابوبکر رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے ،، اللہ کی قسم! نافرمانی کی اور نہ دھوکہ دیہاں تک کہ وہ بھی وفات پا گئے اور ان کے بعد اللہ تعالیٰ نے مجھے خلافت سونپ دی ، کیا مجھے تم لوگوں پر اس قدر بھی حق نہیں ہے جو حق ان کا مجھ پر تھا ، میں نے کہا : جی ہاں ! انہوں نے کہا : پھر میں تم لوگوں سے کیوں طرح طرح کی باتیں سنوں ۔ رہا ولید کا معاملہ اس کا بھی میں حق فیصلہ کرونگا ۔ پس ان کو 40 کوڑے لگادیئے ، ان پر حد لگانے پر سیّد نا علی رضی اللہ عنہ کو مامور کیا ، انہوں نے ان کو 40کوڑے بطور حد لگائے ۔ (1)

عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← أَبِي ← أَبِي، قثنا بِشْرُ بْنُ شُعَيْبٍ ← عَبْدُ اللَّهِ

Hadith 791

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 792

792 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ قَالَ: أنا فَرَجُ بْنُ فَضَالَةَ، عَنْ مَرْوَانَ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ قَالَ: أَتَيْتُ عُثْمَانَ وَهُوَ مَحْصُورٌ أُسَلِّمُ عَلَيْهِ، فَقَالَ: مَرْحَبًا بِأَخِي، مَرْحَبًا بِأَخِي، مَا يَسُرُّنِي أَنَّكَ وَرَاءَكَ، أَلَا أُحَدِّثُكَ مَا رَأَيْتُ اللَّيْلَةَ فِي الْمَنَامِ؟ قُلْتُ: بَلَى، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذِهِ الْخَوْخَةِ، وَإِذَا خَوْخَةٌ فِي الْبَيْتِ، فَقَالَ: «حَصَرُوكَ؟» قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: «أَعْطَشُوكَ؟» قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: فَأَدْلَى لِي دَلْوًا مِنْ مَاءٍ، فَشَرِبْتُ مِنْهُ حَتَّى رَوِيتُ، فَإِنِّي لَأَجِدُ بَرْدَهُ بَيْنَ كَتِفَيَّ وَبَيْنَ ثَدْيَيَّ، قَالَ: «إِنْ شِئْتَ نُصِرْتَ عَلَيْهِمْ، وَإِنْ شِئْتَ أَفْطَرْتَ عِنْدَنَا» ، فَاخْتَرْتُ أَنْ أُفْطِرَ عِنْدَهُ، قَالَ: فَقُتِلَ فِي ذَلِكَ الْيَوْمِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ.

سیّدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں سیّد ا عثمان رضی اللہ عنہ سے ملنے آیا جب آپ اپنے دولت خانہ میں محصور تھے ، میں نے انہیں سلام کیا تو انہوں نے دومرتبہ کہا : میرے بھائی خوش آمدید ! مجھے آپ میرے پیچھے رہ جانا پسند نہیں ہے مگر مین ایک خواب سنانا چاہتا ہوں جو آج رات میں نے دیکھا ہے ، میں نے کہا : جی ہاں سن ؤ ، کہنے لگے : میں نے اس کھرڑکی سے رسول اللہ ﷺ کی زیارت کی ، دیکھا وہ گھر ہی کی ایک کھڑی تھی ، آپ ﷺ نے فرمایا : تجھے محصور کیا گیا ہے ؟ میں نے عرض کیا : جی ہاں ! پھر فرمایا : انہوں نے تمہیں پیا سا کر دیا ہے ؟ میں نےعرض کیا : جی ہاں ! پھر نبی کریم ﷺ نے مجھے پانی کا ایک ڈول دیا ، میں نے خوب سیر ہو کر پانی پیا ۔ جس کی ٹھنڈک میں اب بھی اپنے دوکندھوں کے درمیان اورہاتھوں میں محسوس کررہا ہوں ۔ پھر مجھے فرمایا : عثمان ! اگر تم چاہو تو ان کے مقابلے میں محصور کر دیئے جاؤ گے ۔ اگر چاہو تو ہمارے پاس افطار کرو ؟ میں نے نبی کریم ﷺ کے ساتھ افطار کرناپسند کیا ۔ راوی کہتے ہیں : اسی دن آپ رضی اللہ عنہ کو شہید کیا گیا ۔ (2)

عَبْدِ اللهِ بْنِ سَلاَمٍ ← مَرْوَانُ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ, ← فَرَجِ بْنِ فَضَالَةَ، ← أَبِي، قثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← عَبْدُ اللَّهِ

Hadith 792

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 793

793 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا حَجَّاجٌ قثنا لَيْثٌ قثنا عَقِيلٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْعَاصِ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعُثْمَانَ حَدَّثَاهُ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ اسْتَأْذَنَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُضْطَجِعٌ عَلَى فِرَاشِهِ لَابِسٌ مِرْطَ عَائِشَةَ، فَأَذِنَ لِأَبِي بَكْرٍ وَهُوَ كَذَلِكَ، فَقَضَى إِلَيْهِ حَاجَتَهُ ثُمَّ انْصَرَفَ، ثُمَّ اسْتَأْذَنَ عُمَرُ، فَأَذِنَ لَهُ وَهُوَ عَلَى ذَلِكَ الْحَالِ، فَقَضَى إِلَيْهِ حَاجَتَهُ ثُمَّ انْصَرَفَ، قَالَ عُثْمَانُ: ثُمَّ اسْتَأْذَنْتُ عَلَيْهِ فَجَلَسَ، وَقَالَ لِعَائِشَةَ: «اجْمَعِي عَلَيْكِ ثِيَابَكِ» ، فَقَضَيْتُ إِلَيْهِ حَاجَتِي ثُمَّ انْصَرَفْتُ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ: مَا لِي لَمْ أَرَ فَزِعْتَ لِأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ كَمَا فَزِعْتَ لِعُثْمَانَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ عُثْمَانَ رَجُلٌ حَيِيُّ، وَإِنِّي خَشِيتُ إِنْ أَذِنْتُ لَهُ عَلَى تِلْكَ الْحَالِ أَنْ لَا يَبْلُغَ إِلَيَّ فِي حَاجَتِهِ» . وَقَالَ لَيْثٌ: وَقَالَ جَمَاعَةُ النَّاسِ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِعَائِشَةَ: «أَلَا أَسْتَحْيِي مِمَّنْ تَسْتَحْيِي مِنْهُ الْمَلَائِكَةُ؟» [ص:491]

ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور سیّد نا عثمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دن رسول اللہ /ق سے سیّدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حاضری کی اجازت طلب کی اس وقت آپ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی چادر اوڑھے ہوئے اپنے بستر میں لیٹے ہوئے تھے تو سیّدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو اجازت دی گئی مگر رسول اللہ ﷺ اپنی اسی حالت میں رہے وہ اپنا مقصد پورا کر کے چلے گئے پھر سّد نا عمر رضی اللہ عنہ نے اجازت طلب کی تو آپ ﷺ نے ان کو اجازت دی مگر تب بھی رسول اللہ ﷺ اپنی اسی حالت میں رہے وہ بھی اپنا مقصدپورا کر کے چلے گئے لیکن جب میں نے اجازت طلب کی تو آپ بیٹھ گئے ۔، آپ ﷺ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا : میرے کپ/رے کو مجھ پر درست کر دو ، پس میں بھی اپنا مقصد پورا کر کے چلا گیا ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! کیا ہوا مجھے کہ میں نے آپ کو سیّد نا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیّد نا عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے گھبراتے ہوئے نہیں دیکھا ، جس طرح آپ عثمان رضی اللہ عنہ سے گھبرائے ہیں تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا : بلاشبہ عثمان بہت باحیاآدمی ہے ، مجھے خدشہ تھا کہ اگر میں اپنی اسی حالت میں رہتا تو عثمان اپنے مقصد کو پورا نہ کر پاتا ( یعنی شرم کی وجہ سے وہ اپنی بات کو صحیح طرح وضاحت نہ کر پاتے ۔ )امام لیث رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں : لوگوں کی ایک جماعت نے یہ بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایاتھا : کیا میں اس شخص سے حیانہ کروں ؟جس سےفرشتے بھی حیا کرتے ہیں ۔ (1)

يَحْيَى بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← أَبِي، قثنا حَجَّاجٌ قثنا لَيْثٌ قثنا عَقِيلٌ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Hadith 793

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 794

794 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا يَعْقُوبُ قثنا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْعَاصِ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عُثْمَانَ وَعَائِشَةَ حَدَّثَاهُ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ اسْتَأْذَنَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُضْطَجِعٌ عَلَى فِرَاشِهِ لَابِسٌ مِرْطَ عَائِشَةَ، فَذَكَرَ مِثْلَ حَدِيثِ عَقِيلٍ.

ام المومنین سیدہ عائشہ اور سیّد نا عثمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ سے سیّد نا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حاضر خدمت ہونے کی اجازت طلب ک ، اس وقت آپ ﷺ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی چادر اوڑھے ہوئے اپنے بسترے میں لیتے ہوئے تھے پھر آگے اسی کی مثل روایت بیان کی ۔(2)

يَحْيَى بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← صَالِحٍ، ← أَبِي، قثنا يَعْقُوبُ قثنا أَبِي، ← عَبْدُ اللَّهِ

Hadith 794

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 795

795 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، قثنا أَبِي، قثنا أَبُو الْمُغِيرَةِ قثنا صَفْوَانُ قَالَ: حَدَّثَنِي شُرَيْحُ بْنُ عُبَيْدٍ وَغَيْرُهُ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَلَامٍ كَانَ يَقُولُ: يَا أَهْلَ الْمَدِينَةِ، لَا تَقْتُلُوا عُثْمَانَ، فَوَاللَّهِ إِنَّ سَيْفَ اللَّهِ مَغْمُودٌ عَنْكُمْ، وَإِنَّ مَلَائِكَةَ اللَّهِ لَيَحْرُسُونَ الْمَدِينَةَ مِنْ كُلِّ نَاحِيَةٍ، مَا مِنْ نِقَابِ الْمَدِينَةِ مِنْ نَقَبٍ إِلَّا وَعَلَيْهِ مَلَكٌ سَالٌّ سَيْفَهُ، فَلَا تَسُلُّوا سَيْفَ اللَّهِ الْمَغْمُودَ عَنْكُمْ، وَلَا تُنَفِّرُوا مَلَائِكَةَ اللَّهِ الَّذِينَ يَحْرُسُونَكُمْ.

شریح بن عبید رحمتہ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ سیّدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ فرمارہے تھے : اہل مدینہ !تم سیّد نا عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید مت کر و، اللہ کی قسم ! اللہ کی تلوار ابھی تمہارے لیے بے بنام نہیں ہوئی ،یقیناً اللہ تعالیٰ کے فرشتے ہر رف سے مدینہ منورجہ کی حفاظت فرما رہے ہیں، مدینہ منورہ کا کوئی بھی راستہ ایسا نہیں ہے کہ جس میں ایک فرشتہ اپنی تلوار کو بے نیام کیے ہوئے کھڑا نہ ہو ، پس تم اللہ کی تلوار کے بے نیام مت کرو اور نہ ہی اس شہر سے فرشتوں کو بھگاؤ جو کہ تمہاری حفاظت کے لیے مامور ہیں ۔ (1)

شُرَيْحُ بْنُ عُبَيْدٍ وَغَيْرُهُ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَلَامٍ كَانَ ← عَبْدُ اللَّهِ، قثنا أَبِي، قثنا أَبُو الْمُغِيرَةِ قثنا صَفْوَانُ

Hadith 795

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 796

796 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ: نَا عَلِيُّ بْنُ سَهْلِ ابْنُ أَخِي عَلِيٍّ الرَّاقِمِ قثنا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ قثنا سِنَانُ بْنُ هَارُونَ الْبُرْجُمِيُّ، عَنْ كُلَيْبِ بْنِ وَائِلٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِتْنَةً، وَمَرَّ رَجُلٌ مُتَقَنِّعٌ، فَقَالَ: «هَذَا يُقْتَلُ يَوْمَئِذٍ مَظْلُومًا» ، فَقُمْتُ إِلَيْهِ، فَإِذَا هُوَ عُثْمَانُ.

سیّد نا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فتنے کا تذکرہ فرمایا تو وہاں سے ایک آدمی گزر رہا تھا ان کو دیکھ کر نبی کریم ﷺ نے فرمایا :یہ شخص اس دن مظلوم قتل کیا جائے گا جب میں اس کی طرف کھڑا ہوا تو وہ سیّد نا عثمان رضی اللہ عنہ تھے ۔ (2)

Hadith 796

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 797

797 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قثنا شُعْبَةُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ يُحَدِّثُهُ أَنَّهُ، سَمِعَ عُثْمَانَ يَقُولُ: هَاتَانِ رِجْلَايَ، فَإِنْ وَجَدْتُمْ فِي كِتَابِ اللَّهِ أَنْ تَضَعُوهُمَا فِي الْقُيُودِ فَضَعُوهُمَا.

سیّدنا سعد بن ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ سیّد نا عثمان رضی اللہ عنہ لوگوں سے فرمارہے تھے :یہ دونوں میرے پاؤں ہیں ۔ اگر قرآن کے مطابق تم ان کو جکڑ نا چاہتے ہو تو جکڑ لو ۔(3)

هَاتَانِ رِجْلَايَ، فَإِنْ وَجَدْتُمْ فِي كِتَابِ اللَّهِ أَنْ تَضَعُوهُمَا فِي الْقُيُودِ فَضَعُوهُمَا. ← عُثْمَانَ، ← أَبَاهُ يُحَدِّثُهُ أَنَّهُ، ← سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ أَنَّهُ ← أبي قثنا محمد بن جعفر قثنا شعبة ← عَبْدُ اللَّهِ

Hadith 797

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 798

798 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا يَعْقُوبُ قثنا أَبِي، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: سَمِعْتُ عُثْمَانَ لَمَّا حُصِرَ يَقُولُ: إِنْ وَجَدْتُمْ فِي كِتَابِ اللَّهِ أَنْ تَضَعُوا رِجْلَيَّ فِي قُيُودٍ، فَضَعُوهُمَا.

سیّد نا یعقوب رحمتہ اللہ علیہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے سیّد نا عثمان رضی اللہ عنہ کو قید کے دنوں میں یہ کہتے ہوئےسنا : یہ میرے دو پاؤں ہیں اگر بحکم قرآن ان کو جکڑنا چاہتے ہوتو دونوں کو جکڑ لو ۔ (4)

إِنْ وَجَدْتُمْ فِي كِتَابِ اللَّهِ أَنْ تَضَعُوا رِجْلَيَّ فِي قُيُودٍ، فَضَعُوهُمَا. ← عُثْمَانَ لَمَّا حُصِرَ ← جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← أَبِي، قثنا يَعْقُوبُ قثنا أَبِي، ← عَبْدُ اللَّهِ

Hadith 798

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 799

799 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا أَزْهَرُ بْنُ سَعْدٍ السَّمَّانُ قَالَ: أنا ابْنُ عَوْنٍ قَالَ: أنا الْحَسَنُ قَالَ: لَمَّا اشْتَدَّ أَمْرُهُمْ يَوْمَ الدَّارِ، قَالَ: قَالُوا: فَمَنْ فَمَنْ؟ قَالَ: فَبَعَثُوا إِلَى أُمِّ حَبِيبَةَ، فَجَاءُوا بِهَا عَلَى بَغْلَةٍ بَيْضَاءَ وَمِلْحَفَةٍ قَدْ سَتَرَتْ، فَلَمَّا دَنَتْ مِنَ الْبَابِ قَالُوا: مَا هَذَا؟ قَالُوا: أُمُّ حَبِيبَةَ، قَالُوا: وَاللَّهِ لَا تَدْخُلُ، فَرَدُّوهَا.

سیّدنا حسن رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب سیّدنا عثمان رضی اللہ عنہ پر قید کی بندش سخت کی گئی تو پوچھاگیا :یہ کون لوگ ہیں؟چنانچہ اُم المومنین سیدہ اُمّ حبیبہ رضی اللہ عنہاکی طرف لوگ بھیجے گئے تو وہ چادر زیب تن کیسے سفید خچر پر سوار ہو کر تشریف لائیں ، جب دروازے کے قریب پہنچیں تو محاصرین نے پوچھا : یہ کون ہیں ؟تو بتایا گیا : یہ سیدہ اُ مّ حبیب رضی اللہ عنہا ہیں ۔ باغی کہنے لگے : ان کو بھی اندر جانے کی اجازت نہیں ہے چنانچہ انہیں بھی وہاں سے واپس کر دیا گیا ۔ (5)

الْحَسَنِ، ← ابْنِ عَوْنٍ ← أَبِي، قثنا أَزْهَرُ بْنُ سَعْدٍ السَّمَّانُ ← عَبْدُ اللَّهِ

Hadith 799

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 800

800 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ قثنا أَبُو جَعْفَرٍ، يَعْنِي الرَّازِيَّ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنِ الْحَسَنِ قَالَ: رَأَيْتُ عُثْمَانَ قَائِلًا فِي الْمَسْجِدِ فِي مِلْحَفَةٍ لَيْسَ حَوْلَهُ أَحَدٌ، وَهُوَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ.

سیّدنا حسن رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے سیّد نا عثمان رضی اللہ عنہ کو امیر المومنین ہونے کے باوجود مسجد میں چادرلپیٹے قیلولہ کرتے ہوئے دیکھا ، ان کے آس پاس کوئی بھی نہیں تھا ۔(1)

الْحَسَنِ، ← يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ ← أَبِي، قثنا إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ قثنا أَبُو جَعْفَرٍ، يَعْنِي الرَّازِيَّ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Hadith 800

Hassan

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 801

801 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي قثنا إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ: نا مُغِيرَةُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ مَطَرٍ الْوَرَّاقِ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: لَمَّا بَلَغَهُ قَتْلُ عُثْمَانَ قَالَ: اللَّهُمَّ إِنَّكَ تَعْلَمُ بَرَاءَتِي مِنْ دَمِ عُثْمَانَ، فَإِنْ كَانَ الَّذِينَ قَتَلُوهُ أَصَابُوا بِقَتْلِهِ فَإِنِّي بَرِيءٌ مِنْهُ، وَإِنْ كَانُوا أَخْطَأُوا بِقَتْلِهِ فَقَدْ تَعْلَمُ بَرَاءَتِي مِنْ دَمِهِ، وَسَتَعْلَمُ الْعَرَبُ لَئِنْ كَانَتْ أَصَابَتْ بِقَتْلِهِ، لَتَحْتَلِبَنَّ بِذَلِكَ لَبَنًا، وَإِنْ كَانَتْ أَخْطَأَتْ بِقَتْلِهِ لَتَحْتَلِبَنَّ بِذَلِكَ دَمًا، فَاحْتَلَبُوا بِذَلِكَ دَمًا، مَا رُفِعَتْ عَنْهُمُ السُّيُوفُ وَلَا الْقَتْلُ.

محمد بن سیرین رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ جب سید نا حذیفہ رضی اللہ علیہ کوکہا شہادت سید نا عثمان رضی اللہ علیہ کی خبر پہنچی تو فرمانے لگے :اے اللہ!تو جانتا ہے میں عثمان کے خون میں شریک نہیں ہوں ۔اگر قاتلین نے ان کو حق بہ جانب قتل کیا ہے تب بھی میں اس سے بیزار ہوں اگر ان کا قتل حق بجانب ہے تو یہ دودھ دھوئیں گے۔(یعنی ان کے قتل سے ان کو فائدہ ہو گا )اگر ناحق قتل کیا ہے تو یہ خون نکالیں گے لیکن ان کوخون ہی نکالنا پڑا ان کے قتل کے بعد ان سے تلوار یں نہیں ہٹائی گئیں نہ ہی قتل و غارت کا سلسلہ رکا(2)

لَمَّا بَلَغَهُ قَتْلُ عُثْمَانَ ← حُذَيْفَةَ ← ابْنِ سِيرِينَ، ← مَطَرٌ الْوَرَّاقُ، ← مُغِيرَةُ بْنُ مُسْلِمٍ ← أَبِي قثنا إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← عَبْدُ اللَّهِ

Hadith 801

Hassan

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 802

802 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ قثنا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ حَارِثَةَ بْنِ مُضَرِّبٍ قَالَ: سَمِعْتُ حَادِيًا يَحْدُو فِي إِمَارَةِ عُمَرَ، أَلَا إِنَّ الْأَمِيرَ بَعْدَهُ عُثْمَانُ، وَسَمِعْتُهُ يَحْدُو فِي إِمْرَةِ عُثْمَانَ، إِنَّ الْأَمِيرَ بَعْدَهُ عَلِيٌّ.

حارثہ بن مغرب رحمۃاللہ علیہ سے روایت ہے کہ میں نے سید نا عمر رضی اللہ علیہ ہو گے زمانہ خلافت میں ایک اونٹوں کے چروا ہے کو سریلی آواز سے ہانکتے ہوئے سنا:سید نا عمر رضی اللہ علیہ کے بعد خلیفہ سید عثمان رضی اللہ علیہ ہوں گے ، بعد میں سید نا عثمان رضی اللہ علیہ کے زمانہ خلافت میں یہ کہتے ہوئے سنا کہ سید نا عثمان رضی اللہ علیہ کے بعد خلیفہ سیدنا علی رضی اللہ علیہ ہوں گے۔(3)

يَحْدُو فِي إِمْرَةِ عُثْمَانَ، إِنَّ الْأَمِيرَ بَعْدَهُ عَلِيٌّ. ← حَادِيًا يَحْدُو فِي إِمَارَةِ عُمَرَ، أَلَا إِنَّ الْأَمِيرَ بَعْدَهُ عُثْمَانُ، ← حَارِثَةَ بْنِ مُضَرِّبٍ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← أَبِي، قثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ قثنا إِسْرَائِيلُ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Hadith 802

Sahih

chevron_left Previous
1…6789
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door2. He was asked about the virtues of Abu, the first-born of al-Siddiq, the mercy and pleasure of God be upon him3. He was asked about the words of Ali ibn Abi Talib and others: The best of this nation after its prophet Abu Bakr and Omar4. His saying, may God’s prayers and peace be upon him: “If I had taken people as a friend, I would not have taken a virgin father as a friend5. He, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Pass a virgin father, let him pray to the people.”6. The remainder of his saying: “Show a first-born father who prays to people.”7. It was not narrated that Abu Bakr was the first to become Muslim8. It was not narrated that a virgin father came to ask permission, so the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Permit him, and give him good tidings of paradise.”9. The Virtue of the Commander of the Believers, Omar Ibn Al-Khattab, may God be pleased with him10. The Islam of Umar ibn Al-Khattab, may God be pleased with him11. And among the virtues of Omar bin Al-Khattab from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik, on the authority of his sheikhs other than Abd Allah bin Ahmed, and from the hadith of Abu Bakr bin Malik.12. The virtue of Othman bin Affan, may God be pleased with him13. And from the merits of Othman, from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik on the authority of his sheikhs except for Abdullah bin Ahmad14. The news of the Prince of the Believers, Ali bin Abi Talib, and his asceticism, may God be pleased with him15. His mother's name and genealogy16. A merit upon me, peace be upon him17. And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah18. The Virtue of Abd al-Rahman ibn Awf, may God be pleased with him19. The Virtue of Az-Zubayr Bin Awwam, may God be pleased with him
20. Fadil Abi Ubaidah Ibn Al Jarrah, may God be pleased with him
21. Fadil Talha Bin Ubaid Allah, may God be pleased with him
22. Fadil Saad bin Abi Waqas, may God be pleased with him
23. Fadil Fatima, the daughter of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him
24. The virtues of good, and the good, may God be pleased with them.
25. The Virtues of Ansar, may God be pleased with them
26. The virtue of Khalid bin Al-Walid, may God have mercy on him
27. Fadil Saad bin Muadh, may God have mercy on him
28. Fadil Haritha Ibn Nu'man, may God be pleased with him
29. Fadil Suhaib, may God be pleased with him
30. The virtues of the Arabs
31. The virtue of Usama bin Zaid, may God be pleased with him
32. Fadil Abdullah bin Masoud, may God be pleased with him
33. Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with them
34. Virtues of Khadija and others
35. Fadil Ammar ibn Yasser, may God be pleased with him
36. Virtues 0 People of Yemen
37. Virtues of the family of the Mother of the Believers, may God be pleased with her, and other things among the people of Yemen
38. The virtues of the Banu Ghafar, and Islam and others
39. Fadil Jaafar ibn Abi Talib, may God be pleased with him
40. Fadil Jarir bin Abdullah, may God be pleased with him
41. Fadil Abdullah Bin Omar, may God be pleased with them
42. The virtues of a people of the Levant
43. The Virtue of the Companions of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him
44. The virtue of Amr ibn al-Aas, may God be pleased with him
45. The Virtues of Mu`awiyah Bin Abi Sufyan, may God be pleased with them
46. The virtues of Abu al-Fadl al-Abbas ibn Abd al-Muttalib, the uncle of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him
47. Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with him