Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

1,963 Hadith48 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 767

767 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ قثنا أَبِي، سَمِعْتُ يَعْلَى بْنَ حَكِيمٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: اسْتَشَارَنِي عُثْمَانُ وَهُوَ مَحْصُورٌ فَقَالَ: مَا تَرَى فِيمَا يَقُولُ الْمُغِيرَةُ بْنُ الْأَخْنَسِ؟ قُلْتُ: مَا يَقُولُ؟ قَالَ: يَقُولُ: إِنَّ هَؤُلَاءِ الْقَوْمَ إِنَّمَا يُرِيدُونَ أَنْ تَخْلَعَ هَذَا الْأَمْرَ، وَتُخَلِّي بَيْنَهُمْ وَبَيْنَهُ، فَقُلْتُ: أَرَأَيْتَ إِنْ فَعَلْتَ أَمُخَلَّفٌ أَنْتَ فِي الدُّنْيَا؟ قَالَ: لَا، قُلْتُ: أَفَرَأَيْتَ إِنْ لَمْ تَفْعَلْ هَلْ يَزِيدُونَ عَلَى أَنْ يَقْتُلُوكَ؟ قَالَ: لَا، قُلْتُ: أَفَيَمْلِكُونَ الْجَنَّةَ وَالنَّارَ؟ قَالَ: لَا، قُلْتُ: فَإِنِّي لَا أَرَى أَنْ تُسِنَّ هَذِهِ السُّنَّةَ فِي الْإِسْلَامِ، كُلَّمَا اسْتَخَطُوا أَمِيرًا خَلَعُوهُ، وَلَا أَنْ تَخْلَعَ قَمِيصًا أَلْبَسَكَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ.

سیّد نا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب سیّد نا عثمان رضی اللہ عنہ کو دولت کدہ میں محصور کردیا گیا تو انہوں نے مجھ سے مشورہ طلب کرتے ہوئے فرمایا :مغیر بن اخنس کی بات کے بارے میں آپ کا کیا مشورہ ہے ؟ میں نے کہا:وہ کیا کہتا ہے ؟سیّدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا : وہ کہتا ہے یہ لوگ مطالبہ کرتے ہیں کہ آپ اس خلاف سے دستبردار ہوجائیں ، ان لوگوں اور خلافت کے درمیان سے ہٹ جائیں ، میں نے کہا :خلافت سے دستبردار ہو جائیں گے تو کیا دنیا میں ہمیشہ زندہ رہیں گے ۔ انہوں نے فرمایا : نہیں ۔میں نے کہا :اگر آپ ایسا نہیں کرو گے تو کیا یہ لوگ آپ کو قتل سے بڑھ کر نقصان پہنچا سکتے ہیں ۔ ؟انہوں نے کہا:نہیں ً میں نے کہا : کیا یہ لوگ جنت اور جہنم کے مالک ہیں ؟انہوں نے کہا : نہیں ! میں نے کہا : پھر میں نہیں چاہتا کہ آپ اسلام میں یہ طریقہ اختیار ریں کہ آیندہ جب بھی کوئی خلیفہ لوگوں کو اچھا نہ لگے تو وہ اس سے دستبرداری کا مطالبہ کریں گے اور نہ ہی آپ یہ قمیض اتار نا وجو اللہ تعالیی نے آ پ کو پہنائی ہے ۔(1)

الْمُغِيرَةُ بْنُ الْأَخْنَسِ؟ قُلْتُ: مَا ← مَا تَرَى فِيمَا ← اسْتَشَارَنِي عُثْمَانُ وَهُوَ مَحْصُورٌ ← ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← يَعْلَى بْنَ حَكِيمٍ ← أَبِي، قثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ قثنا أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The virtue of Othman bin Affan, may God be pleased with him · Hadith 767

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 768

768 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قثنا أَيُّوبُ، عَنْ نَافِعٍ قَالَ: دَخَلُوا عَلَى عُثْمَانَ مِنْ بَابٍ، فَسَدَّدَ الْحَرْبَةَ لِرَجُلٍ مِنْهُمْ، فَوَلَّى وَقَالَ: اللَّهَ اللَّهَ يَا عُثْمَانُ، فَقَالَ عُثْمَانُ: اللَّهَ اللَّهَ يَا عُثْمَانُ، اللَّهَ اللَّهَ يَا عُثْمَانُ، ثُمَّ كَفَّ حَتَّى قُتِلَ.

نافع رحمتہ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ جب قاتلین دروازہ سے سیّدنا عثمان رضی اللہ عنہ پر داخل ہوئے تو ایک شخص ان کی طرف اپنے نیزے کو سیدھا کر کے کہنے لگا : اے عثمان ! اللہ سے ڈر و ۔ تو سیدّنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا :اے عثمان ! اللہ سے ڈرو ، اے عثمان ! اللہ سے ڈرو ، پھر آ پ رضی اللہ عنہ رُک گئے یہاں تک کے آپ رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا گیا ۔ (2)

اللَّهَ اللَّهَ يَا عُثْمَانُ. ← دَخَلُوا عَلَى عُثْمَانَ مِنْ بَابٍ، فَسَدَّدَ الْحَرْبَةَ لِرَجُلٍ مِنْهُمْ، فَوَلَّى ← نَافِعٍ ← أَبِي، قثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قثنا أَيُّوبُ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The virtue of Othman bin Affan, may God be pleased with him · Hadith 768

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 769

769 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا وَكِيعٌ قثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ قَالَ: لَا تَقْتُلُوا عُثْمَانَ، فَإِنَّكُمْ إِنْ فَعَلْتُمْ لَمْ تُصَلُّوا جَمِيعًا أَبَدًا.

ابو صالح رحمتہ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ سیّد نا عبداللہ بن اسلام رضی اللہ عنہ (قاتلین سیّدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے ) فرمایا : تم لوگ سیّد نا عثمان رضی اللہ عنہ کو مت قتل کرو کیونکہ قتل عثمان کے بعد کبھی تم اکٹھے نماز نہیں پڑھ سکو گے۔ (3)

لَا تَقْتُلُوا عُثْمَانَ، فَإِنَّكُمْ إِنْ فَعَلْتُمْ لَمْ تُصَلُّوا جَمِيعًا أَبَدًا. ← عَبْدِ اللهِ بْنِ سَلاَمٍ ← اَبِیْ صَالِحٍ ← أَبِي، قثنا وَكِيعٌ قثنا الْأَعْمَشُ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The virtue of Othman bin Affan, may God be pleased with him · Hadith 769

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 770

770 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، نا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي عَوْنٍ قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ حَاطِبٍ قَالَ: سَأَلْتُ عَلِيًّا عَنْ عُثْمَانَ، فَقَالَ: «هُوَ مِنَ الَّذِينَ آمَنُوا ثُمَّ اتَّقَوْا ثُمَّ آمَنُوا ثُمَّ اتَّقَوْا» وَلَمْ يَخْتِمِ الْآيَةَ.

محمد بن حاطب رحمتہ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ میں نے سیّدنا علی رضی اللہ عنہ سے سیّد نا عثمان رضی اللہ عنہ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا : وہ ان لوگوں میں سے ہیں جن کا تذکرہ اللہ تعالیٰ نے یوں فرمایا : ۔۔۔۔مکمل آیت نہیں پڑھی ۔(4)

عُثْمَانَ، ← سألت عليا ← مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ ← أَبِي عَوْنٍ، ← شُعْبَةُ، ← أبي قثنا محمد بن جعفر ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The virtue of Othman bin Affan, may God be pleased with him · Hadith 770

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 771

771 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، نا أَبِي، نَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ شُعْبَةَ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو بِشْرٍ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيًّا يَقُولُ يَعْنِي {إِنَّ الَّذِينَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِنَّا الْحُسْنَى} [الأنبياء: 101] : مِنْهُمْ عُثْمَانُ.

محمد بن حاطب رحمتہ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ مین نے سنا ، سیّد نا علی رضی اللہ عنہ فرما رہے تھے : ۔۔۔۔۔سے مراد سیّد نا عثمان رضی اللہ عنہ ہیں ۔ (1)

يَعْنِي {إِنَّ الَّذِينَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِنَّا الْحُسْنَى} [الأنبياء: مِنْهُمْ عُثْمَانُ. ← عَلِيًّا ← مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ ← يوسف بن سعد ← أَبُو بِشْرِ: ← شُعْبَةُ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The virtue of Othman bin Affan, may God be pleased with him · Hadith 771

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 772

772 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، حَدَّثَنِي أَبِي، نا حَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ: قُلْتُ لِعُثْمَانَ يَوْمَ الدَّارِ: قَاتِلْهُمْ، فَوَاللَّهِ لَقَدْ أُحِلَّ لَكَ قِتَالُهُمْ، فَقَالَ لَهُ: وَاللَّهِ لَا أُقَاتِلُهُمْ أَبَدًا، قَالَ: فَدَخَلُوا عَلَيْهِ فَقَتَلُوهُ وَهُوَ صَائِمٌ، ثُمَّ قَالَ: وَقَدْ كَانَ عُثْمَانُ أَمَّرَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ عَلَى الدَّارِ، فَقَالَ عُثْمَانُ: مَنْ كَانَتْ لِي عَلَيْهِ طَاعَةٌ فَلْيُطِعْ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ.

سیّد نا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے سیّد نا عثمان رضی اللہ عنہ سے ان کے یوم الدار کے دن کہا جس دن انہیں شہید کیا گیا کہ اللہ کی قسم ! ان لوگوں کے ساتھ لڑنا آپ کے لیے جائز ہے تو سیّد نا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اللہ کی قسم ! مین کبھی بھی ان سے نہیں لڑوں گا ۔ وہ ( قاتلین ) اندر گھسے اور آپ رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا ، اُ س وقت آپ رضی اللہ عنہ روزے دار تھے ۔ ان دنوں میں سیّدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے سیّد نا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو اپنا نائب بنا کر فرمایا تھا : جو مجھے خلیفہ مانتا ہے وہ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی بات مانے گا ۔ (2)

وَقَدْ كَانَ عُثْمَانُ أَمَّرَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ عَلَى الدَّارِ، ← فَدَخَلُوا عَلَيْهِ فَقَتَلُوهُ وَهُوَ صَائِمٌ، ثُمَّ ← لَهُ: وَاللَّهِ لَا أُقَاتِلُهُمْ أَبَدًا، ← قُلْتُ لِعُثْمَانَ يَوْمَ الدَّارِ: قَاتِلْهُمْ، فَوَاللَّهِ لَقَدْ أُحِلَّ لَكَ قِتَالُهُمْ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، ← أَبِي ← هِشَامٍ ← حَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ أَبُو أُسَامَةَ ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The virtue of Othman bin Affan, may God be pleased with him · Hadith 772

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 773

773 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، أَنَا سَأَلْتُهُ فَحَدَّثَنِي قَالَ: نا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَحِيرٍ الْقَاصِّ، عَنْ هَانِئٍ مَوْلَى عُثْمَانَ قَالَ: كَانَ عُثْمَانُ إِذَا وَقَفَ عَلَى قَبْرٍ بَكَى حَتَّى تَبْتَلَّ لِحْيَتُهُ، فَقِيلَ لَهُ: تَذْكُرُ الْجَنَّةَ وَالنَّارَ وَتَبْكِي مِنْ هَذَا؟ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ الْقَبْرَ أَوَّلُ مَنَازِلِ الْآخِرَةِ، فَإِنْ نَجَا مِنْهُ فَمَا بَعْدَهُ أَيْسَرُ مِنْهُ، وَإِنْ لَمْ يَنْجُ مِنْهُ فَمَا بَعْدَهُ أَشَدُّ مِنْهُ» . قَالَ: وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَاللَّهِ مَا رَأَيْتُ مَنْظَرًا إِلَّا وَالْقَبْرُ أَفْظَعُ مِنْهُ» قَالَ: وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا فَرَغَ مِنْ دَفْنِ الْمَيِّتِ وَقَفَ عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: «اسْتَغْفِرُوا لِأَخِيكُمْ، وَسَلُوا لَهُ بِالتَّثَبُّتِ، فَإِنَّهُ الْآنَ يُسْأَلُ» .

ہانی مولیٰ عثمان سے روایت ہے کہ سیّد نا عثمان رضی اللہ عنہ جب کسی قبر کے پاس کھڑے ہوتے تو وہاں اس قدر روتے کہ آ پ رضی اللہ عنہ کی ڈاڑھی تر ہو جاتی ، آپ رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا : آپ رضی اللہ عنہ جنت و جہنم کا تذکرہ کرتے ہوئے نہیں روتے مگر قبر کا ذکر کرتے ہوئے روپڑتے ہیں ؟انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: بے شک قبر منازل اخرت میں سے پہلی منزل ہے ، اگر اس سے بچ گیا تواس کے بعد جو منازل ہیں وہ آسان ترہیں ، اگر اس سے نجات نہ ہوئی تو اس کے بعد جو منازل ہیں وہ اس سے زیادہ سخت ہیں ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مین نے قبر کے منظر سے ڈراؤ منظر کبھی نہیں دیکھا ۔ بنی کریم ﷺ جب کسی کو دفن کرنے سے فارغ ہوتے تو اس کی قبر پر کھڑ ےہو کر فرماتے :اب تم اپنے اس بھائی کے لیے دعا ئے مغفرت کرو کیونکہ ابھی اس سے سوالت ہونگے پس اس کے لیے ثابت قدمی کی دعا کرو ۔(3)

هَانِئٍ، مَوْلَى عُثْمَانَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَحِيرٍ الْقَاصُّ، ← هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، ← سَأَلْتُهُ ← يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The virtue of Othman bin Affan, may God be pleased with him · Hadith 773

Hassan

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 774

774 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو إِبْرَاهِيمَ التَّرْجُمَانِيُّ قَالَ: حَدَّثَنِي شُعَيْبٌ، يَعْنِي: ابْنَ صَفْوَانَ الثَّقَفِيُّ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ رَجُلٍ حَدَّثَهُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ [ص:477] يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ، أَنَّهُ أَتَى الْحَجَّاجَ لِيَدْخُلَ عَلَيْهِ، فَأَنْكَرَهُ الْبَوَّابُونَ فَرَدُّوهُ، فَلَمْ يَتْرُكُوهُ حَتَّى جَاءَ عَنْبَسَةُ بْنُ سَعِيدٍ فَاسْتَأْذَنَ لَهُ، فَأَمَرَ بِهِ أَنْ يَدْخُلَ عَلَيْهِ، فَسَلَّمَ فَرَدَّ عَلَيْهِ السَّلَامَ ثُمَّ مَشَى فَقَبَّلَ رَأْسَهُ، فَأَمَرَ الْحَجَّاجُ رَجُلَيْنِ مِمَّا يَلِي السَّرِيرَ أَنْ يُوسِعَا لَهُ، فَجَلَسَ فَقَالَ لَهُ الْحَجَّاجُ: لِلَّهِ أَبُوكَ هَلْ تَعْلَمُ حَدِيثًا حَدَّثَهُ أَبُوكَ عَبْدَ الْمَلِكِ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ جَدِّكَ؟ قَالَ: أَيُّ حَدِيثٍ يَرْحَمُكَ اللَّهُ؟ قَالَ: حَدِيثُ عُثْمَانَ إِذْ حَصَرَهُ أَهْلُ مِصْرَ، فَقَالَ: نَعَمْ، قَدْ عَلِمْتُ ذَلِكَ الْحَدِيثَ، فَقَالَ: أَقْبَلَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ فَصَرَخَ النَّاسُ لَهُ، حَتَّى دَخَلَ عَلَى عُثْمَانَ، فَوَجَدَ عُثْمَانَ وَحْدَهُ فِي الدَّارِ، لَيْسَ مَعَهُ أَحَدٌ، قَدْ عَزَمَ عَلَى النَّاسِ أَنْ يَخْرُجُوا عَنْهُ، فَخَرَجُوا، فَسَلَّمَ عَلَيْهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ، فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكَ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ وَرَحْمَةُ اللَّهِ، فَقَالَ لَهُ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ: مَا جَاءَ بِكَ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَلَامٍ؟ قَالَ: جِئْتُ لِأَبِيتَ مَعَكَ حَتَّى يَفْتَحَ اللَّهُ لَكَ أَوْ أُسْتَشْهَدَ مَعَكَ، فَإِنِّي لَا أَرَى هَؤُلَاءِ إِلَّا قَاتِلِيكَ، فَإِنْ يَقْتُلُوكَ فَخَيْرٌ لَكَ وَشَرٌّ لَهُمْ، قَالَ عُثْمَانُ: فَإِنِّي أَعْزِمُ عَلَيْكَ بِمَا لِي عَلَيْكَ مِنَ الْحَقِّ لَمَّا خَرَجْتَ إِلَيْهِمْ، خَيْرٌ يَسُوقُهُ اللَّهُ بِكَ أَوْ شَرٌّ يَدْفَعَهُ اللَّهُ بِكَ، فَسَمِعَ وَأَطَاعَ، فَخَرَجَ إِلَى الْقَوْمِ، فَلَمَّا رَأَوْهُ عَظَّمُوهُ، وَظَنُّوا أَنَّهُ قَدْ جَاءَهُمْ بِبَعْضِ الَّذِي يَسُرُّهُمْ، فَقَامَ خَطِيبًا فَاجْتَمَعُوا إِلَيْهِ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، فَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ بَعَثَ مُحَمَّدًا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَشِيرًا وَنَذِيرًا، يُبَشِّرُ بِالْجَنَّةِ وَيُنْذِرُ بِالنَّارِ، فَأَظْهَرَ اللَّهُ مَنِ اتَّبَعَهُ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَلَوْ [ص:478] كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ، ثُمَّ اخْتَارَ اللَّهُ لَهُ الْمَسَاكِنَ فَجَعَلَ مَسْكَنَهُ الْمَدِينَةَ، فَجَعَلَهَا دَارَ الْهِجْرَةِ وَالْإِيمَانِ، وَجَعَلَ بِهَا قَبْرَهُ، وَقَبْرَ أَزْوَاجِهِ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّ اللَّهَ بَعَثَ مُحَمَّدًا هُدًى وَرَحْمَةً، فَمَنْ يَهْتَدِي مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ فَإِنَّمَا يَهْتَدِي بِهُدَى اللَّهِ، وَمَنْ يَضِلُّ مِنْهُمْ فَإِنَّمَا يَضِلُّ بَعْدَ السُّنَّةِ وَالْحُجَّةِ، فَبَلَّغَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي أُرْسِلَ بِهِ، ثُمَّ قَبَضَهُ اللَّهُ إِلَيْهِ، ثُمَّ إِنَّهُ كَانَ مَنْ قَبْلَكُمْ مِنَ الْأُمَمِ إِذَا قُتِلَ النَّبِيُّ بَيْنَ ظَهْرَانَيْهِمْ كَانَتْ دِيَتُهُ سَبْعِينَ أَلْفَ مُقَاتِلٍ، كُلُّهُمْ يُقْتَلُ بِهِ، وَإِذَا قُتِلَ الْخَلِيفَةُ كَانَتْ دِيَتُهُ خَمْسَةً وَثَلَاثِينَ أَلْفَ مُقَاتِلٍ، كُلُّهُمْ يُقْتَلُ بِهِ، فَلَا تَعْجَلُوا إِلَى هَذَا الشَّيْخِ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ بِقَتْلٍ الْيَوْمَ، فَإِنِّي أُقْسِمُ بِاللَّهِ لَقَدْ حَضَرَ أَجَلُهُ، نَجِدُهُ فِي كِتَابِ اللَّهِ، ثُمَّ أُقْسِمُ لَكُمْ بِاللَّهِ الَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا يَقْتُلُهُ رَجُلٌ إِلَّا لَقِيَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُشَلًّا يَدُهُ مَقْطُوعَةٌ، ثُمَّ اعْلَمُوا أَنَّهُ لَيْسَ لِلْوَالِدِ عَلَى وَلَدِهِ حَقٌّ إِلَّا لِهَذَا الشَّيْخِ عَلَيْكُمْ مِثْلُهُ، وَقَدْ أُقْسِمُ لَكُمْ بِاللَّهِ مَا زَالَتِ الْمَلَائِكَةُ بِهَذِهِ الْمَدِينَةِ مُنْذُ دَخَلَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْيَوْمِ، وَمَا زَالَ سَيْفُ اللَّهِ مَغْمُودًا عَنْكُمْ مُنْذُ دَخَلَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَا تَسُلُّوا سَيْفَ اللَّهِ بَعْدَ إِذْ غُمِدَ عَنْكُمْ وَلَا تَطْرُدُوا جِيرَانَكُمْ مِنَ الْمَلَائِكَةِ، فَلَمَّا قَالَ ذَلِكَ لَهُمْ قَامُوا يَسُبُّونَهُ وَيَقُولُونَ: كَذَبَ الْيَهُودِيُّ، فَقَالَ لَهُمْ عَبْدُ اللَّهِ: كَذَبْتُمْ وَاللَّهِ وَأَثِمْتُمْ، مَا أَنَا بِالْيَهُودِيِّ، إِنِّي لَأَحَدُ الْمُؤْمِنِينَ يَعْلَمُ ذَلِكَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ وَالْمُؤْمِنُونَ، وَلَقَدْ أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِيَّ قُرْآنًا فَقَالَ فِي آيَةٍ مِنَ الْقُرْآنِ: {قُلْ أَرَأَيْتُمْ إِنْ كَانَ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ وَكَفَرْتُمْ بِهِ وَشَهِدَ شَاهِدٌ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ عَلَى مِثْلِهِ فَآمَنَ وَاسْتَكْبَرْتُمْ} [الأحقاف: 10] ، وَأَنْزَلَ فِيَّ آيَةً أُخْرَى {قُلْ كَفَى بِاللَّهِ شَهِيدًا بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ وَمَنْ عِنْدَهُ عِلْمُ الْكِتَابِ} [الرعد: 43] ، فَانْصَرَفُوا مِنْ عِنْدِهِ وَدَخَلُوا عَلَى عُثْمَانَ، فَذَبَحُوهُ كَمَا تُذْبَحُ الْحُمْلَانُ، فَقَامَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ عَلَى بَابِ الْمَسْجِدِ حِينَ فَرَغُوا مِنْهُ، وَقَتَلَتُهُ فِي الْمَسْجِدِ، فَقَالَ: يَا أَهْلَ مِصْرَ، يَا قَتَلَةَ عُثْمَانَ، أَقَتَلْتُمْ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ؟ فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَا يَزَالُ بَعْدَهُ عَهْدٌ مَنْكُوثٌ، وَدَمٌ مَسْفُوحٌ، وَمَالٌ مَقْسُومٌ، أَبَدًا مَا بَقِيتُمْ، وَقَدْ دَخَلَ عَلَيْهِ قَبْلَ أَنْ يُقْتَلَ كَثِيرُ بْنُ الصَّلْتِ الْكِنْدِيُّ لَيْلَةَ قُتِلَ فِيهَا مِنْ [ص:479] آخِرِ النَّهَارِ، فَقَالَ عُثْمَانُ: يَا كَثِيرُ، إِنِّي مَقْتُولٌ غَدًا، فَقَالَ لَهُ كَثِيرٌ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، بَلْ يُعْلِي اللَّهُ كَعْبَكَ، وَيَكْبِتُ عَدُوَّكَ، فَقَالَ لَهُ الثَّانِيَةَ: يَا كَثِيرُ، إِنِّي مَقْتُولٌ غَدًا، فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، بَلْ يُعْلِي اللَّهُ كَعْبَكَ وَيَكْبِتُ عَدُوَّكَ، فَقَالَ لَهُ الثَّالِثَةَ أَيْضًا، فَقَالَ لَهُ كَثِيرٌ، عَمَّنْ تَقُولُ هَذَا يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ؟ فَقَالَ لَهُ عُثْمَانُ: أَتَانِي أَوَّلَ اللَّيْلِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ فَقَالَ: «يَا عُثْمَانُ، إِنَّكَ مَقْتُولٌ غَدًا» ، فَأَنَا وَاللَّهِ يَا كَثِيرُ بْنَ الصَّلْتِ مَقْتُولٌ غَدًا، فَقُتِلَ رَحِمَهُ اللَّهُ.

محمد بن یوسف بن عبداللہ بن سلام سے روایت ہے کہ میں حجاج بن یوسف سےملاقات کے لیے گیا لیکن محافظین نے روک لیا اور واپس کر دیا ، اندر نہیں جانے دیا یہاں تک عنبسہ بن سعید نے آکر اجازت طلب کی تو انھٰن اندر جانے کی اجازت دے دی گئی ، انہوں نے داخل ہو کر سلام کیا ، حجاج نے سلام کا جواب دیا اور ان کے سر کو بوسہ دیا ، حجاج نے اپنی کرسی کے قریب دو آدمیوں کو کشادہ ہونے کا حکم دیا پس وہ بیتھ گئے ۔ حجاج نے اُن سے کہا : اللہ کی قسم ! کیا تم نے اپنے باپ امیر المومنین عبدالملک سے کوئی حدیث سنی ہے جو کہ تمہارے دادا عبداللہ بن سلام سے روایت کی گئی ہوتو انھوں نے کہا : اللہ تجھ پر رحم کرے وہ کون سی حدیث ہے ؟ سیّد نا عثمان رضی اللہ عنہ کی حدیث کہ جب اہل مصر نے ان کو کاشانہ اقدس میں محصور کر دیا تھا۔ کہا ہاں ! میں اس حدیث کو جانتا ہوں ، چنانچہ انہوں نے بیان کیا کہ سیّد نا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ آئے تو لوگوں نے اس پر شور مچایا ، یہاں تک وہ سیّد نا عثما ن رضی اللہ عنہ کے پاس چلے گئے ، انہوں نے اس وقت ان کو گھر میں اکیلے پایا ، ان کے ساتھ کوئی نہیں تھا ، البتہ سیّد نا عثمان رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو اصرار کیا تھا کہ وہ باہر نکلیں ، چنانچہ لوگ باہر نکل چکے تھے ، سیّد نا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے ان کو سلام کرتے ہوئے کہا : امیر المومنین ! آپ پر سلامتی اور اللہ کی رحمت ہو ۔ سیّد نا عثمان رضی اللہ عنہ نے جواب دیا اور پوچھا : عبداللہ بن سلام ! کیسے آنا ہوا ؟ جواب دیا :آج کی رات میں آپ کے ساتھ گزارنا چاہتا ہوں یا تو اللہ آپ کو فتح دے گا یا میں بھی آپ کے ساتھ شہید ہو جاؤ ں گا ۔ کیونکہ مجھ کو لگتا ہے یہ لوگ آپ کو قتل ہی کریں گے اگر انہوں نے آپ کو شہید کر دیاتو آ پ کے لیے اچھا اور ان کے لیے برا ہو گا ۔ سیّدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں اصرار کرتے ہوئے کہتا ہوں کہ جو آپ پر میرا حق ہے کہ آ پ باہر جا کر لوگوں سے کچھ کہ دو ، شاہدتمہاری وجہ سے اللہ کچھ بہتری لائے گا یا ان کے شر میں تیری وجہ سے کمی آئے گی ۔ سیّد نا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ فرمانبرداری کرتے ہوئے باہر آگئے جب لوگوں نے ان کو دیکھا تو اُ ن کی بڑی تعظیم کی اور سمجھے کہ شاید کوئی خوش خبری لائے ہیں ۔ پس وہ خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے ، لوگ ان کے پاس جمع ہو گئے البتہ انہوں نےاللہ کی حمد وثنا بیان کرنے کے بعد فرمایا : لوگوً سیّد نا محمد ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا تھا وہ جنت کی خرشخبری اور آگ سے ڈرانے والے تھے، اللہ تعالیٰ نے ان کو اور ان کی پیروی کرنے والے مومنین کو تمام ادیان پر غلبہ عطا فرمایا اگر چہ مشرکین کو یہ بات ناپسند لگے ۔ پھر اللہ نے ان کے لیے مدینہ منورہ کو مسکن منتخب کیا ، مدینہ منورہ کو ان کے لیے دارالہجرۃ اور دارالیمان بنایا ، یہیں ان کی اور ان کی ازواج مطہرات کی قبریں ہیں ۔ پھر ( سیّد نا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے ) فرمایا : اسی طرح اللہ نے سیّد نا محمد ﷺ کو ہادی اور رحمت بنا کر بھیجا تھا پس جس نے ہدایت پائی ،وہ ( ہدایت ) اللہ کی طرف سے ہے اور جو گمراہ ہو گیا یقیناً وہ سنت اور حجت قائم ہونے کے باوجود گمراہ ہوگیا کیونکہ سیّدنا محمد ﷺ نے تبلیغ رسلات مکمل کر دی اور دنیا سے رحلت فرما گئے ہیں ،یقیناً تم سے پہلے اُمتوں کو یہ حکم تھا اگر کوئی بنی کو شہید کر دیتا تواس کی دیت یہ تھی کہ اُس کے بدلے ستر ہزار (70،000)لڑنے والوں کو قتل کیا جائے گا ، اگر نبی کے خلیفہ کو قتل کر ے تو اس کے بدلے پینیتس ہزار(35،000)لڑنے والوں کو قتل کیا جائے گا ، اب تم لوگ اس بزرگ امیر المومنین (سیّد نا عثمان رضی اللہ عنہ ) کو قتل کرنے میں جلدی نہ کرو ، اللہ کی قسم ! ان کا مقررہ وقت قریب ہے ،میں کتاب اللہ میں اس بات کو پاتا ہوں ، پھر میں تمہارے لیے اللہ کی قسم اٹھا تا ہوں جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ،جس شخص ان کو قتل کرے گا تو قیامت کے دن شل شدہ ہاتھوں سے اللہ کو ملے گا اور جان لو اس شخص (سیّدنا عثمان رضی اللہ عنہ )کا تم پر اتنا حق ہے جس طرح کہ کسی باپ کا اپنے بچوں پر ہوتا ہے ۔ اللہ کی قسم ! اس مدینہ میں تمہارے ساتھ آج تک فرشتے بھی ہیں ، جب سے نبی کریم ﷺتشریف لائے ہیں ، اور اللہ کی تلوار نیام ہے ۔جب سے بنی کریم ﷺ تشریف لائے ہیں ، پس تم خدا کی تلوار کو بے نیام کرو حالانکہ وہ نیام میں ہے ، نہ ہی اپنے پڑوسی فرشتوں جو یہاں سےبھگاؤ۔ یہ خطبہ سن کر لوگوں نے شور مچایا ، ان پر سب وشتم کرنے لگے اور کہا: اے یہودی ! تم نے جھوٹ بولا تو سیّد نا عبداللہ بن رضی اللہ عنہ نے فرمایا : بلکہ تم نے جھوٹ بولا اور تم نے گناہ کا ارتکاب کیا ہے ، میں یہودی نہیں ہوں بلکہ میں تو ایک مسلمان ہوں ۔ اللہ تعالیٰ ، اس کے رسول اور مومنین اس بات کو جانتے ہیں ، اللہ نے میرے بارے میں قرآن نازل کیا ۔۔۔۔ایک اور جگہ فرمایا : اس کے بعد وہ تمام لوگ ان کو چھوڑ کر سیّد نا عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف دوڑے اور ان کوذبح ( شہید ) کیا جس طرح کسی بار بردار جانور کو ذبح کیا جاتاسیّد نا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ ان کی شہادت کے بعد مسجد کے دروازے پر کھڑے ہوئے اور لوگ خوف زدہ تھے اور قاتلین عثمان مسجد میں تھے ، انہوں نے فرمای ۔اے اہل مصر ! اور اے قاتلین عثمان ! کیا تم لوگوں نے امیرالمومنین کو قتل کردیا ہے ؟ اللہ کی قسم ! ان کے بعد اب جب تک تم زندہ ہو ، مسلسل عہد شکنی ، خون بہنا عام ہوگا اور مال تقسیم ہو گا ۔ سیّدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت سے ایک رات پہلے ان کے پاس سیّد نا کثیر بن الصلت رضی اللہ عنہ آئے تھے ، ان سے سیّد نا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے کثیر ! مجھے کل شہید کر دیا جائے گا ۔ کثیر نےکہا : اے امیرالمومنین ! اللہ ہر حال میں آپ کو اونچا رکھے گا اور آپ کے دشمنوں کو زلیل کرے گا پھر سیّد نا عثمان رضی اللہ عنہ نے دوسری مرتبہ فرمایا :اے کثیر ! مجھے کل شہید کر دیا جائے گا ۔ کثیر نے کہا : امیرالمومنین ! اللہ ہر حال میں آپ کو اونچا رکھے گا اور آ پ کے دشمنوں کو ذلیل کرے گا ۔ پھر سیّد نا عثمان رضی اللہ عنہ نے تیسری مرتبہ فرمایا : اے کثیر ! مجھے کل شہید کر دیا جائے گا ۔ کثیر نے کہا : اے امیر المومنین ! کس نے آپ کو اس کے بارے میں بتایا ہے ۔پھر فرمایا : گزشتہ رات خواب میں مجھے رسول اللہ ﷺ سیّد نا عمر رضی اللہ عنہ کی زیارت ہوئی تھی ، انہون نے کہا تھا : عثمان ! تمہیں کل شہید کر دیا جائے گا ۔ لہذا کثیر بن صلت ! یقینا ً کل مجھے شہید کر دیا جائےگا ۔ راوی کہتے ہیں : اللہ تعالیٰ ان رحم کرے پس وہ شہید کر دیئے گئے ۔ (1)

مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَلاَمٍ ← رَجُلٌ: ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← شُعَيْبٌ، يَعْنِي: ابْنَ صَفْوَانَ الثَّقَفِيُّ، ← أَبُو إِبْرَاهِيمَ التَّرْجُمَانِيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The virtue of Othman bin Affan, may God be pleased with him · Hadith 774

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 775

775 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ أَبُو مَعْمَرٍ قثنا سُفْيَانُ قَالَ: قَالَ عُثْمَانُ: لَوْ طَهُرَتْ قُلُوبُكُمْ مَا شَبِعَتْ مِنْ كَلَامِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ.

امام سفیان بن عیینہ رحمتہ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ سیّد نا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے لوگو ! اگر تمہارے دل صاف ہوتے تو اللہ کے قرآن سے کبھی سیر نہ ہوتے ۔ (2)

عُثْمَانُ: لَوْ طَهُرَتْ قُلُوبُكُمْ مَا شَبِعَتْ مِنْ كَلَامِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ. ← إِسْمَاعِيلُ أَبُو مَعْمَرٍ قثنا سُفْيَانُ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The virtue of Othman bin Affan, may God be pleased with him · Hadith 775

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 776

776 - قَالَ: وَقَالَ عُثْمَانُ: " مَا أُحِبُّ أَنْ يَأْتِيَ عَلَيَّ يَوْمٌ وَلَا لَيْلَةٌ إِلَّا أَنْظُرُ فِي كَلَامِ اللَّهِ، يَعْنِي الْقِرَاءَةَ فِي الْمُصْحَفِ.

امام سفیان بن عیینہ رحمتہ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ سیّد نا عثمان رضی اللہ عنہ یہ بھی فرماتے تھے : مجھے یہ بات پسند نہیں کہ مجھ پر کوئی دن یا رات کلام اللہ کو دیھے بغیر گزرے یعنی اس کی تلاوت کے بغیر گزرے ۔(3)

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The virtue of Othman bin Affan, may God be pleased with him · Hadith 776

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 777

777 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ عُثْمَانَ قَالَ: مَا مِنْ عَامِلٍ يَعْمَلُ عَمَلًا إِلَّا كَسَاهُ اللَّهُ رِدَاءَ عَمَلِهِ.

ابوقلابہ رحمتہ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ سیّدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا :ہر عمل کرنے والے کو اللہ تعالیٰ ردائے عمل پہنائے گا (یعنی عمل کا بدلہ دے گا ) ۔ (1)

مَا مِنْ عَامِلٍ يَعْمَلُ عَمَلًا إِلَّا كَسَاهُ اللَّهُ رِدَاءَ عَمَلِهِ. ← عُثْمَانَ، ← أَبِي قِلَابَةَ، ← أَيُّوبَ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← أَبِي، قثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The virtue of Othman bin Affan, may God be pleased with him · Hadith 777

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 778

778 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى الطَّبَّاعُ، عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ قَالَ: وَقُتِلَ عُثْمَانُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ لِثَمَانِ عَشْرَةَ مَضَتْ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ سَنَةَ خَمْسٍ وَثَلَاثِينَ، فَكَانَتْ خِلَافَتُهُ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ سَنَةً إِلَّا اثْنَيْ عَشَرَ يَوْمًا.

ابو معشر رحمتہ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ سیّد نا عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت جمعہ کے دن 18 زی الحجہ 35 ہجری میں ہوئی تھی اور ان کی مدت خلافت 12 دن کم 12سال تھی ۔ (2)

أَبِي مَعْشَرٍ، ← أَبِي، قثنا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى الطَّبَّاعُ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The virtue of Othman bin Affan, may God be pleased with him · Hadith 778

Daif

chevron_left Previous
1…456…9
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door2. He was asked about the virtues of Abu, the first-born of al-Siddiq, the mercy and pleasure of God be upon him3. He was asked about the words of Ali ibn Abi Talib and others: The best of this nation after its prophet Abu Bakr and Omar4. His saying, may God’s prayers and peace be upon him: “If I had taken people as a friend, I would not have taken a virgin father as a friend5. He, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Pass a virgin father, let him pray to the people.”6. The remainder of his saying: “Show a first-born father who prays to people.”7. It was not narrated that Abu Bakr was the first to become Muslim8. It was not narrated that a virgin father came to ask permission, so the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Permit him, and give him good tidings of paradise.”9. The Virtue of the Commander of the Believers, Omar Ibn Al-Khattab, may God be pleased with him10. The Islam of Umar ibn Al-Khattab, may God be pleased with him11. And among the virtues of Omar bin Al-Khattab from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik, on the authority of his sheikhs other than Abd Allah bin Ahmed, and from the hadith of Abu Bakr bin Malik.12. The virtue of Othman bin Affan, may God be pleased with him13. And from the merits of Othman, from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik on the authority of his sheikhs except for Abdullah bin Ahmad14. The news of the Prince of the Believers, Ali bin Abi Talib, and his asceticism, may God be pleased with him15. His mother's name and genealogy16. A merit upon me, peace be upon him17. And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah18. The Virtue of Abd al-Rahman ibn Awf, may God be pleased with him19. The Virtue of Az-Zubayr Bin Awwam, may God be pleased with him
20. Fadil Abi Ubaidah Ibn Al Jarrah, may God be pleased with him
21. Fadil Talha Bin Ubaid Allah, may God be pleased with him
22. Fadil Saad bin Abi Waqas, may God be pleased with him
23. Fadil Fatima, the daughter of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him
24. The virtues of good, and the good, may God be pleased with them.
25. The Virtues of Ansar, may God be pleased with them
26. The virtue of Khalid bin Al-Walid, may God have mercy on him
27. Fadil Saad bin Muadh, may God have mercy on him
28. Fadil Haritha Ibn Nu'man, may God be pleased with him
29. Fadil Suhaib, may God be pleased with him
30. The virtues of the Arabs
31. The virtue of Usama bin Zaid, may God be pleased with him
32. Fadil Abdullah bin Masoud, may God be pleased with him
33. Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with them
34. Virtues of Khadija and others
35. Fadil Ammar ibn Yasser, may God be pleased with him
36. Virtues 0 People of Yemen
37. Virtues of the family of the Mother of the Believers, may God be pleased with her, and other things among the people of Yemen
38. The virtues of the Banu Ghafar, and Islam and others
39. Fadil Jaafar ibn Abi Talib, may God be pleased with him
40. Fadil Jarir bin Abdullah, may God be pleased with him
41. Fadil Abdullah Bin Omar, may God be pleased with them
42. The virtues of a people of the Levant
43. The Virtue of the Companions of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him
44. The virtue of Amr ibn al-Aas, may God be pleased with him
45. The Virtues of Mu`awiyah Bin Abi Sufyan, may God be pleased with them
46. The virtues of Abu al-Fadl al-Abbas ibn Abd al-Muttalib, the uncle of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him
47. Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with him