Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

1,963 Hadith48 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 755

755 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ قثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ قثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قثنا أَبُو أُمَامَةَ بْنُ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ قَالَ: إِنِّي لَمَعَ عُثْمَانَ فِي الدَّارِ وَهُوَ مَحْصُورٌ، فَكُنَّا نَدْخُلُ مَدْخَلًا إِذَا دَخَلْنَاهُ سَمِعْنَا كَلَامَ مَنْ عَلَى الْبَلَاطِ، فَدَخَلَ يَوْمًا ذَاكَ الْمَدْخَلَ فَخَرَجَ إِلَيْنَا مُتَغَيِّرَ اللَّوْنِ قَالَ: وَبِمَ يَقْتُلُونِي؟ وَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَا يَحِلُّ دَمُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ إِلَّا مِنْ إِحْدَى ثَلَاثٍ: رَجُلٌ كَفَرَ بَعْدَ إِسْلَامِهِ، أَوْ زَنَا بَعْدَ إِحْصَانِهِ، أَوْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ "، فَوَاللَّهِ مَا زَنَيْتُ فِي جَاهِلِيَّةٍ وَلَا إِسْلَامٍ قَطُّ، وَلَا أَحْبَبْتُ أَنَّ لِيَ الدُّنْيَا بِدِينِي بَدَلًا مُنْذُ هَدَانِي لَهُ، وَلَا قَتَلْتُ نَفْسًا، فَبِمَ يَقْتُلُونِي؟

سّد نا ابوامامہ بن سہل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں سّدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے گھر میں ان کے ساتھ محصور تھا ،ہم ایسی جگہ جاتے ، جہاں سے ہمیں لوگوں کی باتیں سنائی دیتی تھیں ایک دن سّد نا عثمان رضی اللہ عنہ بھی کسی ضرورت سے وہاں تشریف لے آئے جبکہ غم و گھبراہٹ سے ان کا چہرہ متغیر تھا اور فرمانے لگے : یہ مجھے قتل کرنے کی سازش کر رہے ہیں ۔ ہم نے کہا : امیر المومنین ! اللہ تعالیٰ آ پ کو کاف ہے ۔ پھر فرمایا : یہ مجھے کیوں قتل کرنا چاہتے ہیں ، حالانکہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ کسی مسلمان کا خ ون تین میں سے کسی ایک صورت میں ہی رَ وا ہے : 1۔جو ایمان لانے کے بعد کفر اختیار کرے ۔ 2۔ اگر کوئی شادی شدہ ہونے کے بعد زنا کرے ۔ 3۔کوئی کسی کو ناحق قتل کرے ۔ چنانچہ اللہ کی قسم ! نہ میں نے زنانہ جاہلیت میں زنا کیا اور نہ ہی کبھی اسلام میں ، جب سے اللہ تعالیٰ نے مجھے ہدایت سے نوازا ، میں نے کبھی آ ج تک اپنے دین کو تبدیل کرنے کی خواہش نہیں کی ، کوئی نا حق خون نہیں بہایاتو پھر یہ لوگ مجھ کیوں قتل کرنا چاہتے ہیں ۔ (1)

عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The virtue of Othman bin Affan, may God be pleased with him · Hadith 755

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 756

756 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا عَفَّانُ قثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنِ الْمُسَيَّبِ، يَعْنِي: ابْنَ رَافِعٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ حُمْرَانَ قَالَ: كَانَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ يَغْتَسِلُ كُلَّ يَوْمٍ مَرَّةً مُنْذُ أَسْلَمَ.

حمران رحمتہ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ اسلام لانے کے بعد روزانہ ایک مرتبہ غسل کرنا سّد نا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کا معمول تھا ۔(2)

كَانَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ يَغْتَسِلُ كُلَّ يَوْمٍ مَرَّةً مُنْذُ أَسْلَمَ. ← حُمْرَانَ ← مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، ← الْمُسَيَّبِ، يَعْنِي: ابْنَ رَافِعٍ، ← عَاصِمٍ، ← أَبِي، قثنا عَفَّانُ قثنا أَبُو عَوَانَةَ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The virtue of Othman bin Affan, may God be pleased with him · Hadith 756

Hassan

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 757

757 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو مَرْوَانَ الْعُثْمَانِيُّ قثنا أَبِي، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لِكُلِّ نَبِيٍّ رَفِيقٌ فِي الْجَنَّةِ، وَرَفِيقِي فِيهَا عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ» .

سّد نا ابو ہر یرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ہر نبی کا جنت میں ایک رفیق ہو گا اور میرا رفیق عثمان بن عفان ہے ۔ (3)

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْأَعْرَجِ ← أَبِيهِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ ← أَبُو مَرْوَانَ الْعُثْمَانِيُّ قثنا أَبِي، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The virtue of Othman bin Affan, may God be pleased with him · Hadith 757

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 758

758 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قثنا شُعْبَةُ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الشَّرِيدِ قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيًّا يَخْطُبُ فَقَالَ: إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَنَا وَعُثْمَانُ كَمَا قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: {وَنَزَعْنَا مَا فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍّ إِخْوَانًا عَلَى سُرُرٍ مُتَقَابِلِينَ} [الحجر: 47] .

عبدالرحمن شرید رحمتہ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ میں نے سنا کہ سّد ناعلی رضی اللہ عنہ برسِر خطبہ ارشاد فرما رہے تھے :میں امید کرتا ہوں کہ میں اور عثمان ( روز قیامت جنت میں ) ایسے ہوں گے کہ جس طرح اللہ عزوجل نے فرمایا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ترجمہ : اور ہم وہ ساری کدورت باہر کھینچ لیں گے جو ( دنیا میں )ان کے سینوں میں ( مغالطہ کے باعث ایک دوسرے سے ) تھی ، وہ ( جنت میں ) بھائی بھائی بن کر آمنے سامنے تختوں پر بیٹھے ہوں گے ۔ (1)

وَعُثْمَانُ كَمَا ← إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ ← عَلِيًّا يَخْطُبُ ← عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الشَّرِيدِ ← حَبِيبِ بْنِ الزُّبَيْرِ، ← أبي قثنا محمد بن جعفر قثنا شعبة ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The virtue of Othman bin Affan, may God be pleased with him · Hadith 758

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 759

759 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثَنَا عَفَّانُ، قثنا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنُ سَلَمَةَ، قثنا عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ سَارَ مِنَ الْمَدِينَةِ إِلَى الْكُوفَةِ ثَمَانِيًا حِينَ اسْتُخْلِفَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: أَمَّا بَعْدُ، فَإِنَّ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ مَاتَ، فَلَمْ يُرَ يَوْمٌ أَكْثَرُ نَشِيجًا مِنْ يَوْمَئِذٍ، وَإِنَّا اجْتَمَعْنَا أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ نَأْلُ عَنْ خَيْرِنَا ذِي فُوقٍ، فَبَايَعْنَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ عُثْمَانَ، فَبَايِعُوهُ

ابووائل رحمتہ اللہ علیہ سے روایت ہےکہ سّدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے خلیفہ بننے کے بعد سّدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ سے کوفہ چلے گئے وہاں جا کر انہوں نے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی پھر خ طبہ ارشاد فرماا :امیر المومنین سّدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ وفات پا گئے اس دن سے بڑھ کر ہمارے لیے کوئی غم کا دن نہیں تھا ان کے بعد ہم اصحاب محمد ﷺکے ہاتھ پر بیعت کر لی ہے پس تم بھی بیعت کرو ۔ (2)

أَبِي، قثَنَا عَفَّانُ، قثنا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنُ سَلَمَةَ، قثنا عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The virtue of Othman bin Affan, may God be pleased with him · Hadith 759

Hassan

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 760

760 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ أنا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتِ: اسْتَأْذَنَ أَبُو بَكْرٍ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مَعَهُ فِي مِرْطٍ وَاحِدٍ، ثُمَّ خَرَجَ، وَآخَرُ، قَالَتْ: فَأَذِنَ لَهُ فَقَضَى حَاجَتَهُ، وَهُوَ مَعِي فِي الْمِرْطِ، ثُمَّ خَرَجَ، ثُمَّ اسْتَأْذَنَ عَلَيْهِمْ عُمَرُ فَأَذِنَ لَهُ فَقَضَى إِلَيْهِ حَاجَتَهُ، عَلَى تِلْكَ الْحَالِ، ثُمَّ خَرَجَ، ثُمَّ اسْتَأْذَنَ عَلَيْهِ عُثْمَانُ، فَأَصْلَحَ عَلَيْهِ ثِيَابَهُ وَجَلَسَ، فَقَضَى إِلَيْهِ حَاجَتَهُ، ثُمَّ خَرَجَ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: فَقُلْتُ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اسْتَأْذَنَ عَلَيْكَ أَبُو بَكْرٍ، فَقَضَى إِلَيْكَ حَاجَتَهُ عَلَى حَالِكَ تِلْكَ، ثُمَّ اسْتَأْذَنَ عَلَيْكَ عُمَرُ فَقَضَى حَاجَتَهُ عَلَى حَالِكَ، ثُمَّ اسْتَأْذَنَ عُثْمَانُ عَلَيْكَ فَكَأَنَّكَ احْتَفَظْتَ، فَقَالَ: «إِنَّ عُثْمَانَ رَجُلٌ حَيِيُّ، وَإِنِّي لَوْ أَذِنْتُ لَهُ عَلَى تِلْكَ الْحَالِ خَشِيتُ أَلَّا يَقْضِي إِلَيَّ حَاجَتَهُ» . قَالَ الزُّهْرِيُّ: وَلَيْسَ كَمَا يَقُولُ الْكَذَّابُونَ: أَلَا أَسْتَحْيِي مِنْ رَجُلٍ تَسْتَحْيِي مِنْهُ الْمَلَائِكَةُ؟

ام المومنین سید ہ عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ سےسّدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اندر آ نے کے لیے اجازت طلب کی ، میں اس وقت آ پ کے ساتھ ایک ہی لحاف میں تھی تو آ پ ﷺ نے ان کو جازت دی مگر رسول اللہ ﷺ اسی طرح رہے وہ اپنا مقصد پورا کر کے چلے گئے پھر سّدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اجازت طلب کی تو آ پ رضی اللہ عنہ نے ان کو اجازت دی مگر تب بھی رسول اللہ ﷺ اپنی اسی ح الت میں رہے وہ بھی اپنا مقصد پورا کر کے چلے گئے ، لیکن جب سّدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اجازت طلب کی تو اپنے کپڑے درست کرتے ہوئے بیٹھ گئے پھر انہیں اجازت دی ، وہ تھوڑی دیر تک باتیں کرنے کے بعد چلے گئے ، میں نے پوچھا : رسول اللہ ﷺ ! جب سّد نا ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے انہوں نے اپنی حاجت پوری کی ، آپ ﷺ اپنی حالت پر رہے ، پھر سیّد نا عمر رضی اللہ عنہ آئے ، انہوں نے اپنی حاجت پوری کی ، آ پ ﷺ اپنی حالت پر رہے ، مگر جب سّد نا عثما ن رضی اللہ عنہ آ ئے آپ ﷺ نے اپنے آ پ کو سمیٹ لیا تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: عثمان بہت باحیا آدمی ہے ، مجھے خدشہ تھا کہ اگر میں اپنی اسی حالت میں رہتا تو عثمان اپنے مقصد کو پورا نہ کر پاتا ( یعنی شرم کی وجہ سے وہ اپنی بات کی صحیح طرح وضاحت نہ کر پاتے ) امام زہری رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں : یہ اس طرح نہیں ہے جیسے جھوٹے ( راوی)بیان کرتے ہیں ۔آپ ﷺ نے فرمایا :کیا میں اس شخص سے حیانہ کروں ؟ جس سے فرشتے بھی حیا کرتے ہیں ۔(1)

عَائِشَةَ ← يَحْيَى بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← أَبِي، قثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The virtue of Othman bin Affan, may God be pleased with him · Hadith 760

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 761

761 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ الشِّخِّيرِ قَالَ: لَقِيتُ عَلِيًّا بِهَذَا الْحَزِيزِ فَقَالَ: أَحُبُّ عُثْمَانَ مَنَعَكَ أَنْ تَأْتِيَنَا، مَرَّتَيْنِ، فَلَمَّا تَنَفَّسَ عَنْ أَصْحَابِهِ قَالَ: إِنْ تُحِبَّهُ فَإِنَّهُ كَانَ خَيْرَنَا وَأَوْصَلَنَا.

مطرف شخیر رحمتہ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ میری ملاقات صحرا میں سّد نا علی رضی اللہ عنہ سے ہوئی تو سّد نا علی رضی اللہ عنہ نے مجھے سے فرمایا :کیا عثمان رضی اللہ عنہ کی محبت آپ کو ہمار ے ساتھ دوہری ملاقات سے روکتی ہے ؟جب وہ اپنے ساتھیوں سے الگ ہونے لگے تو فرمایا :اگر تم عثمان رضی اللہ عنہ سے محبت کرتے ہو ( تو اس میں حرج والی کوئی بات نہیں کیونکہ وہ لائق محبت ہیں ) بے شک وہ ہم سے سے بہتر اور سب سے بڑھ کر صلہ رحمی کرنے وال تھے ۔ (2)

إِنْ تُحِبَّهُ فَإِنَّهُ كَانَ خَيْرَنَا وَأَوْصَلَنَا. ← أَصْحَابَهُ. ← أَحُبُّ عُثْمَانَ مَنَعَكَ أَنْ تَأْتِيَنَا، مَرَّتَيْنِ، فَلَمَّا تَنَفَّسَ ← لَقِيتُ عَلِيًّا بِهَذَا الْحَزِيزِ ← مُطَرِّفِ بْنِ الشِّخِّيرِ ← رَجُلٌ: ← أَبِي، قثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The virtue of Othman bin Affan, may God be pleased with him · Hadith 761

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 762

762 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا رَوْحٌ قثنا سَعِيدٌ، عَنِ الْخَلِيلِ ابْنِ أَخِي مُطَرِّفٍ، عَنْ مُطَرِّفٍ قَالَ: لَقِيتُ عَلِيًّا بِهَذَا الْحَزِيزِ، أَيْ بِهَذِهِ الصَّحْرَاءِ - بَعْدَ الْجَمَلِ، وَهُوَ فِي مَوْكِبِهِ، فَأَسْرَعَ بِدَابَّتِهِ، قَالَ: فَقُلْتُ: أَنَا كُنْتُ أَحَقَّ أَنْ أُسْرِعَ إِلَيْكَ، فَقَالَ: أَحُبُّ عُثْمَانَ مَنَعَكَ أَنْ تَأْتِيَنَا؟ فَجَعَلْتُ أَعْتَذِرُ إِلَيْهِ، فَقَالَ: أَحُبُّ عُثْمَانَ مَنَعَكَ أَنْ تَأْتِيَنَا؟ فَلَمَّا عَلِمَ أَنَّ أَصْحَابَهُ لَا يَسْمَعُونَ مَقَالَتَهُ قَالَ: وَاللَّهِ لَئِنْ أَحْبَبْتَهُ إِنْ كَانَ لَخَيْرَنَا وَأَفْضَلَنَا.

مطرف بن شخیر رحمتہ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ جنگ جمل کے بعد صحرا میں میری ملاقت سّدنا علی رضی اللہ عنہ سے ہوئی ،اس وقت وہ اپنے قافلے کے ساتھ تھے ( مجھے دیکھ کر ) وہ جلدی سے انی سواری کے ساتھ میرے پاس آئے ، میں نے عرض کیا : میرا زیادہ حق بنتا تھا کہ میں آپ کی طرف جلدی کرتا تو انہوں نے فرمایا : سّدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی محبت آپ کو ہمارے پاس آنے سے روکتی ہے ؟ میں نے بطور عذر کچھ کہنا چاہا تو(میرے بولنے سے پہلے ) دوبارہ انہوں نے فرمایا : کیا سّدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی محبت آپ کو ہمارے پاس آنے نہیں دیتی ؟جب وہ جان گئے کہ ان کے ساتھی ان کی بات نہیں سن رہے تو انہوں نے فرمایا :اگر تُو اٌن سے محبت کرتا ہے ( تو کرتا رَہ کیونکہ ) سٗدنا عثمان ہم میں سب سے بہتر اور زیادہ صلہ رحمی کرنے والے تھے ۔ (3)

مُطَرِّفٍ ← الْخَلِيلِ ابْنِ أَخِي مُطَرِّفٍ، ← أَبِي، قثنا رَوْحٌ قثنا سَعِيدٌ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The virtue of Othman bin Affan, may God be pleased with him · Hadith 762

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 763

763 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، نَا رَوْحٌ قثنا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ لَبِسَ يَوْمَئِذٍ الدِّرْعَ مَرَّتَيْنِ، يَعْنِي يَوْمَ الدَّارِ.

نافع سے روایت ہے کہ ( جب سّدنا عثمان رضی اللہ عنہ محصور تھے ) سّد نا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے شہادت عثمان رضی اللہ عنہ کے دن دو مرتبہ زرہ پہنی تھی ۔ (4)

نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ لَبِسَ يَوْمَئِذٍ الدِّرْعَ مَرَّتَيْنِ، يَعْنِي يَوْمَ الدَّارِ. ← رَوْحٌ قثنا ابْنُ عَوْنٍ، ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The virtue of Othman bin Affan, may God be pleased with him · Hadith 763

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 764

764 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ: قثنا بَشَّارُ بْنُ مُوسَى قثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ قثنا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ قَالَ: كَانُوا لَا يَفْقِدُونَ الْخَيْلَ الْبُلْقَ فِي الْمَغَازِي حَتَّى قُتِلَ عُثْمَانُ، فَلَمَّا قُتِلَ فُقِدَتْ فَلَمْ يُرَ مِنْهَا شَيْءٌ، قَالَ: كَانُوا يَرَوْنَهَا الْمَلَائِكَةَ، قَالَ: وَكَانُوا لَا يَخْتَلِفُونَ فِي الْأَهِلَّةِ حَتَّى قُتِلَ عُثْمَانُ، فَلَمَّا قُتِلَ عُثْمَانُ لُبِسَتْ عَلَيْهِمْ، قَالَ: وَكَانَتِ الصَّدَقَةُ تُدْفَعُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَنْ أَمَرَ بِهِ، وَإِلَى أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ وَمَنْ أَمَرَ بِهِ، وَإِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ وَمَنْ أَمَرَ بِهِ، فَلَمَّا قُتِلَ عُثْمَانُ اخْتَلَفُوا فَرَأَى قَوْمٌ يَقْسِمُونَهَا بِرَأْيِهِمْ، وَرَأَى قَوْمٌ يَرْفَعُونَهَا إِلَى السُّلْطَانِ، قَالَ ابْنُ عَوْنٍ: وَسَمِعْتُ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيَّ يَقُولُ: لَمَّا نَزَلَتْ {ثُمَّ إِنَّكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عِنْدَ رَبِّكُمْ تَخْتَصِمُونَ} [الزمر: 31] قَالَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا خُصُومَتُنَا هَذِهِ؟ وَإِنَّمَا نَحْنُ إِخْوَانٌ، فَلَمَّا قُتِلَ عُثْمَانُ قَالُوا: هَذِهِ هَذِهِ.

محمد بن سیرین رحمتہ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ میدان جنگ میں سّدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت سے پہلے سفید نشانات والے گھوڑوں کا کبھی فقدان نہ تھا مگر جب وہ شہید ہوئے تو یہ ( گھوڑے میدانوں سے ) منفقود ہو گئے، پس ان میں سے کوئی دکھائی نہیں دیتا تھا حالانکہ لوگ ان کو فرشتے سمجھتے تھے ۔ اسی طرح سّد نا عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت سے پہلے لوگوں میں کبھی روایت ہلال کے متلعق نقطہ نظر مختلف نہیں ہوا ۔ لیکن سّدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعدپریہ ( چاند وغیرہ ) معاملہ مشتبہ ہو گیا ، لوگ زکوۃ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں پیش کرتے یا جن کو آپ والی مقرر کرتے ، اسی طرح سّد نا ابوبکر اور سّد نا عمر رضی اللہ عنہ کو دیتے یا جنہیں دوہ والی بناتے ، لیکن سّد نا عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد ادائے زکوٰۃ کے طریقہ کار میں نقطہ نظر مختلف ہو گیا ۔ یعض اپنی مرض ی کے مطابق خود بانٹنا چاہتے تھے ، بعض کا خیال تھا کہ معاملہ خلیفہ وقت کے سپرد ہونا چاہئے ۔ عون راوی کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ کہا کرتے تھے :جب یہ آیت نازل ہوئی ۔۔۔۔۔۔۔صحابہ کرام نے فرمایا :ہماری کون سی خصومت مراد لی گئی ہے ۔ بلکہ ہم تو سب بھائی بھائی ہیں لیکن جب سّد نا عثمان رضی اللہ عنہ شہید ہوئے تو لوگوں نے اس آیت سے طرح طرح کا مطلب بیان کیا ۔ (1)

مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ← عَبْدُ اللَّهِ: قثنا بَشَّارُ بْنُ مُوسَى قثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ قثنا ابْنُ عَوْنٍ،

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The virtue of Othman bin Affan, may God be pleased with him · Hadith 764

Hassan

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 765

765 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ: قثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ أَبُو عَمْرٍو الْعَنْبَرِيُّ، قثنا الْمُعْتَمِرُ قَالَ: قَالَ أَبِي: نا أَبُو نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ مَوْلَى أَبِي أُسَيْدٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: سَمِعَ عُثْمَانُ أَنَّ وَفْدَ أَهْلِ مِصْرَ قَدْ أَقْبَلُوا، قَالَ: فَاسْتَقْبَلَهُمْ، قَالَ: وَكَانَ فِي قَرْيَةٍ لَهُ خَارِجًا مِنَ الْمَدِينَةِ، أَوْ كَمَا قَالَ، فَلَمَّا سَمِعُوا بِهِ أَقْبَلُوا نَحْوَهُ إِلَى الْمَكَانِ الَّذِي هُوَ فِيهِ، أُرَاهُ قَالَ: وَكَرِهَ أَنْ يَقْدَمُوا عَلَيْهِ الْمَدِينَةَ أَوْ نَحْوًا مِنْ ذَلِكَ، قَالَ: فَأَتَوْهُ فَقَالُوا: ادْعُ لَنَا بِالْمُصْحَفِ، فَدَعَا بِالْمُصْحَفِ، فَقَالُوا لَهُ: افْتَحِ السَّابِعَةَ، قَالَ: وَكَانُوا يُسَمُّونَ سُورَةَ يُونُسَ السَّابِعَةَ، قَالَ: فَقَرَأَهَا حَتَّى أَتَى عَلَى آخِرِ هَذِهِ الْآيَةِ {قُلْ أَرَأَيْتُمْ مَا أَنْزَلَ اللَّهُ لَكُمْ مِنْ رِزْقٍ فَجَعَلْتُمْ مِنْهُ حَرَامًا وَحَلَالًا قُلِ آللَّهُ أَذِنَ لَكُمْ أَمْ عَلَى اللَّهِ تَفْتَرُونَ} [يونس: 59] ، قَالَ: قَالُوا لَهُ: قِفْ، قَالَ: قَالُوا لَهُ: أَرَأَيْتَ مَا حَمَيْتَ مِنَ الْحِمَى، آللَّهُ أَذِنَ لَكَ أَمْ عَلَى اللَّهِ تَفْتَرِي؟ قَالَ: فَقَالَ: أَمْضِهِ، نَزَلَتْ فِي كَذَا وَكَذَا، قَالَ: وَأَمَّا الْحِمَى فَإِنَّ عُمَرَ حَمَى الْحِمَى قَبْلِي لِإِبِلِ الصَّدَقَةِ، فَزِدْتُ فِي الْحِمَى لَمَّا زَادَ مِنْ إِبِلِ الصَّدَقَةِ، أَمْضِهِ، قَالَ: فَجَعَلُوا يَأْخُذُونَهُ بِالْآيَةِ فَيَقُولُ: أَمْضِهِ نَزَلَتْ فِي كَذَا وَكَذَا، قَالَ: وَالَّذِي يَلِي كَلَامَ عُثْمَانَ يَوْمَئِذٍ فِي سِنِّكَ، قَالَ: يَقُولُ أَبُو نَضْرَةَ: يَقُولُ لِي ذَاكَ أَبُو [ص:471] سَعِيدٍ، قَالَ أَبُو نَضْرَةَ: وَأَنَا فِي سِنِّكَ يَوْمَئِذٍ، قَالَ: وَلَمْ يَخْرُجْ وَجْهِي يَوْمَئِذٍ، لَا أَدْرِي لَعَلَّهُ قَدْ قَالَ مَرَّةً أُخْرَى: وَأَنَا يَوْمَئِذٍ ابْنُ ثَلَاثِينَ سَنَةً، قَالَ: وَأَخَذَ عَلَيْهِمْ أَنْ لَا يَشُقُّوا عَصَا الْمُسْلِمِينَ، وَلَا يُفَارِقُوا جَمَاعَةً مَا أَقَامَ لَهُمْ شَرْطَهُمْ، أَوْ كَمَا أَخَذُوا عَلَيْهِ، قَالَ: فَقَالَ لَهُمْ: وَمَا تُرِيدُونَ؟ قَالُوا: نُرِيدُ أَنْ لَا يَأْخُذَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ عَطَاءً، فَإِنَّمَا هَذَا الْمَالُ لِمَنْ قَاتَلَ عَلَيْهِ، وَلِهَذِهِ الشُّيُوخِ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ، قَالَ: فَرَضُوا وَأَقْبَلُوا مَعَهُ إِلَى الْمَدِينَةِ رَاضِينَ، قَالَ: فَقَامَ فَخَطَبَ قَالَ: أَلَا إِنَّ مَنْ كَانَ لَهُ زَرْعٌ فَلْيَلْحَقْ بِزَرْعِهِ، وَمَنْ كَانَ لَهُ ضَرْعٌ فَلْيَلْحَقْ بِهِ، أَلَا إِنَّهُ لَا مَالَ لَكُمْ عِنْدَنَا، إِنَّمَا هَذَا الْمَالُ لِمَنْ قَاتَلَ عَلَيْهِ وَلِهَذِهِ الشُّيُوخِ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَغَضِبَ النَّاسُ وَقَالُوا: مَكْرُ بَنِي أُمَيَّةَ، قَالَ: ثُمَّ رَجَعَ الْوَفْدُ الْمِصْرِيُّونَ رَاضِينَ، فَبَيْنَا هُمْ بِالطَّرِيقِ، إِذَا هُمْ بِرَاكِبٍ يَتَعَرَّضُ لَهُمْ ثُمَّ يُفَارِقُهُمْ ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَيْهِمْ، ثُمَّ يُفَارِقُهُمْ وَيَسُبُّهُمْ، قَالَ: فَقَالُوا لَهُ: مَا لَكَ؟ إِنَّ لَكَ لَأَمْرًا، مَا شَأْنُكَ؟ قَالَ: أَنَا رَسُولُ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ إِلَى عَامِلِهِ بِمِصْرَ، قَالَ: فَفَتَّشُوهُ فَإِذَا هُمْ بِالْكِتَابِ عَلَى لِسَانِ عُثْمَانَ عَلَيْهِ خَاتَمُهُ إِلَى عَامِلِ مِصْرَ أَنْ يَصْلُبَهُمْ، أَوْ يَقْتُلَهُمْ، أَوْ يَقْطَعَ أَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلَهُمْ، قَالَ: فَأَقْبَلُوا حَتَّى قَدِمُوا الْمَدِينَةَ، قَالَ: فَأَتَوْا عَلِيًّا فَقَالُوا: أَلَمْ تَرَ أَنَّهُ كَتَبَ فِينَا بِكَذَا وَكَذَا؟ فَمُرَّ مَعَنَا إِلَيْهِ، قَالَ: لَا وَاللَّهِ لَا أَقُومُ مَعَكُمْ، قَالُوا: فَلِمَ كَتَبْتَ إِلَيْنَا؟ قَالَ: لَا وَاللَّهِ مَا كَتَبْتُ إِلَيْكُمْ كِتَابًا قَطُّ، قَالَ: فَنَظَرَ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ: أَلِهَذَا تُقَاتِلُونَ، أَوْ لِهَذَا تَغْضَبُونَ؟ قَالَ: وَانْطَلَقَ عَلِيٌّ فَخَرَجَ مِنَ الْمَدِينَةِ إِلَى قَرْيَةٍ، وَانْطَلَقُوا حَتَّى دَخَلُوا عَلَى عُثْمَانَ فَقَالُوا: كَتَبْتَ فِينَا بِكَذَا وَكَذَا، فَقَالَ: إِنَّمَا هُمَا اثْنَتَانِ، أَنْ تُقِيمُوا عَلَيَّ رَجُلَيْنِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، أَوْ يَمِينِي بِاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ مَا كَتَبْتُ وَلَا أَمْلَيْتُ وَلَا عَلِمْتُ، قَالَ: وَقَالَ: قَدْ تَعْلَمُونَ أَنَّ الْكِتَابَ يُكْتَبُ عَلَى لِسَانِ الرَّجُلِ، وَقَدْ يُنْقَشُ الْخَاتَمُ عَلَى الْخَاتَمِ. قَالَ: حَصَرُوهُ فِي الْقَصْرِ، قَالَ: فَأَشْرَفَ عَلَيْهِمْ ذَاتَ يَوْمٍ فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ، قَالَ: فَمَا أَسْمَعُ أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ رَدَّ عَلَيْهِ، إِلَّا أَنْ يَرُدَّ رَجُلٌ فِي نَفْسِهِ، قَالَ: فَقَالَ: أَنْشُدُكُمُ اللَّهَ، هَلْ عَلِمْتُمْ أَنِّي اشْتَرَيْتُ رُومَةَ مِنْ مَالِي يُسْتَعْذَبُ بِهَا؟ قَالَ: فَجَعَلْتُ رِشَائِي فِيهَا كَرِشَاءِ رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، قَالَ: قِيلَ: نَعَمْ، قَالَ: فَعَلَامَ [ص:472] تَمْنَعُونِي أَنْ أَشْرَبَ مِنْهَا حَتَّى أُفْطِرَ عَلَى مَاءِ الْبَحْرِ؟ قَالَ: وَأَنْشُدُكُمُ اللَّهَ، هَلْ عَلِمْتُمْ أَنِّي اشْتَرَيْتُ كَذَا وَكَذَا مِنَ الْأَرْضِ فَزِدْتُهُ فِي الْمَسْجِدِ؟ قَالَ: قِيلَ: نَعَمْ، قَالَ: فَهَلْ عَلِمْتُمْ أَنَّ أَحَدًا مِنَ النَّاسِ مُنِعَ أَنْ يُصَلِّيَ فِيهِ قَبْلِي؟ قَالَ: وَأَنْشُدُكُمُ اللَّهَ، هَلْ سَمِعْتُمْ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَذْكُرُ شَيْئًا فِي شَأْنِهِ، وَذَكَرَ أُرَى كِتَابَهُ الْمُفَصَّلَ - قَالَ: فَفَشَا النَّهْي، قَالَ: فَجَعَلَ النَّاسُ يَقُولُونَ: قَالَ: مَهْلًا عَنْ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ، مَهْلًا عَنْ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَ: وَفَشَا النَّهْي، قَالَ: فَقَامَ الْأَشْتَرُ قَالَ: فَلَا أَدْرِي أَيَوْمَئِذٍ أَمْ يَوْمٌ آخَرُ؟ قَالَ: فَلَعَلَّهُ قَدْ مُكِرَ بِي وَبِكُمْ، قَالَ: فَوَطِيَهُ النَّاسُ حَتَّى أَلْقَى كَذَا وَكَذَا، قَالَ: ثُمَّ أَشْرَفَ عَلَيْهِمْ مَرَّةً أُخْرَى، فَوَعَظَهُمْ وَذَكَّرَهُمْ، فَلَمْ تَأْخُذْ فِيهِمُ الْمَوْعِظَةُ، قَالَ: وَكَانَ النَّاسُ تَأْخُذُ فِيهِمُ الْمَوْعِظَةُ أَوَّلَ مَا يَسْمَعُونَهَا، فَإِذَا أُعِيدَتْ عَلَيْهِمْ لَمْ تَأْخُذْ فِيهِمْ، أَوْ كَمَا قَالَ، قَالَ: وَرَأَى فِي الْمَنَامِ كَأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «أَفْطِرْ عِنْدَنَا اللَّيْلَةَ» ، قَالَ: ثُمَّ إِنَّهُ فَتَحَ الْبَابَ وَوَضَعَ الْمُصْحَفَ بَيْنَ يَدَيْهِ قَالَ: فَزَعَمَ الْحَسَنُ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ أَبِي بَكْرٍ دَخَلَ عَلَيْهِ فَأَخَذَ بِلِحْيَتِهِ، فَقَالَ عُثْمَانُ: لَقَدْ أَخَذْتَ مِنِّي مَأْخَذًا، أَوْ قَعَدْتَ مِنِّي مَقْعَدًا، مَا كَانَ أَبُو بَكْرٍ لِيَقْعُدَهُ، أَوْ لِيَأْخُذَهُ، قَالَ: فَخَرَجَ وَتَرَكَهُ، قَالَ: وَقَالَ فِي حَدِيثِ أَبِي سَعِيدٍ: وَدَخَلَ عَلَيْهِ رَجُلٌ، فَقَالَ: بَيْنِي وَبَيْنَكَ كِتَابُ اللَّهِ، قَالَ: فَخَرَجَ وَتَرَكَهُ، قَالَ: فَدَخَلَ عَلَيْهِ آخَرُ، فَقَالَ: بَيْنِي وَبَيْنَكَ كِتَابُ اللَّهِ، قَالَ: وَالْمُصْحَفُ بَيْنَ يَدَيْهِ، قَالَ: فَيَهْوِي إِلَيْهِ بِالسَّيْفِ قَالَ: فَاتَّقَاهُ بِيَدِهِ فَقَطَعَهَا، فَلَا أَدْرِي أَبَانَهَا أَمْ قَطَعَهَا وَلَمْ يُبِنْهَا، فَقَالَ: أَمَا وَاللَّهِ إِنَّهَا لَأَوَّلُ كَفٍّ قَدْ خَطَّتِ الْمُفَصَّلَ، قَالَ: وَدَخَلَ عَلَيْهِ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ: الْمَوْتُ الْأَسْوَدُ، قَالَ: فَخَنَقَهُ، وَخَنَقَهُ، قَالَ: ثُمَّ خَرَجَ قَبْلَ أَنْ يَضْرِبَ السَّيْفَ، فَقَالَ: وَاللَّهِ مَا رَأَيْتُ شَيْئًا قَطُّ هُوَ أَلْيَنُ مِنْ حَلْقِهِ، وَاللَّهِ لَقَدْ خَنَقْتُهُ حَتَّى رَأَيْتُ نَفَسَهُ مِثْلَ نَفَسِ الْجَانِّ يَتَرَدَّدُ فِي جَسَدِهِ، قَالَ: وَفِي غَيْرِ حَدِيثِ أَبِي سَعِيدٍ: فَدَخَلَ عَلَيْهِ التَّجُوبِيُّ فَأَشْعَرَهُ مِشْقَصًا، قَالَ: فَانْتَضَحَ الدَّمُ عَلَى هَذِهِ الْآيَةِ {فَسَيَكْفِيكَهُمُ اللَّهُ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ} [البقرة: 137] ، قَالَ: فَإِنَّهَا فِي [ص:473] الْمُصْحَفِ مَا حُكَّتْ، قَالَ: وَأَخَذَتِ ابْنَةُ الْفُرَافِصَةِ - فِي حَدِيثِ أَبِي سَعِيدٍ - حُلِيَّهَا فَوَضَعَتْهُ فِي حِجْرِهَا وَذَاكَ قَبْلَ أَنْ يُقْتَلَ، قَالَ: فَلَمَّا أُشْعِرَ وَقُتِلَ تَفَاجَّتْ عَلَيْهِ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: قَاتَلَهَا اللَّهُ مَا أَعْظَمَ عَجِيزَتَهَا، قَالَتْ: فَعَرَفْتُ أَنَّ أَعْدَاءَ اللَّهِ لَمْ يُرِيدُوا إِلَّا الدُّنْيَا.

سیّد نا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیّدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو اطلاع ملی کہ ان کے پاس مصر سے ایک وفد یا قافلہ آرہا ہے انہوں نے اس کا استقبال کیا ،راوی کہتے ہیں :وہ اس وقت مدینہ سے باہر ایک قر یبی بستی میں تھے ،یا اس جیسی کوئی اور بات راوی نے کہی ،جب اہل قافلہ نے سنا تو قافلہ اس طرف چل پڑا ،جہاں وہ تھے ،راوی کہتے ہیں :سیّد نا عثمان رضی اللہ عنہ نہیں چاہتے تھے کہ وہ مدینہ میں ان سے ملاقات کریں یا اسی طرح کہ بات کہی ،چنانچہ جب وہ آئے تو ان لوگوں نے سیّدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے مطالبہ کیا :ہمارے پاس قرآن منگوائیے ۔ قرآن لایا گیاتو انہوں نے کہا :ساتویں سورۃ کھولیے اور ساتویں سورۃ کا نام سورۃیو نس تھا ،سیّد نا عثمان رضی اللہ عنہ سورۃ یونس کو پڑ رہے تھے یہا ں تک کہ اس آئت پر پہنچے :۔۔۔۔۔۔۔ ان لوگوں نے کہا : ٹھہر جائیے ۔ ہمیں اس چراگاہ کہ بارے میں بتائیے ،جو آپ نے لیے مخصوص کر رکھی ہے ،کیا یہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے یا آپ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھتے ہو ،یہ سن کر سیّد نا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا :یہ تو مجھ سے پہلےسیّد نا عمر رضی اللہ عنہ نے بھی بنایا تھا لیکن جب صدقات کے اونٹ زیادہ ہوگئے تو میں نے چراگاہ کو مزید کشادہ کر دیا ،مگر وہ اسی آیت کو دہراتے رہے ، ابو نضر کہتے ہیں : سیّد ناابو سعید رضی اللہ عنہ نے مجھے یہ بات کہی تھی کہ جو شخص سیّد نا عثمان رضی اللہ عنہ سے اس دن گفتگو کر رہا تھا ، وہ تیر ی عمر کا تھا، ابونضر اپنے شاگرد سے کہتے ہیں: میں بھی اس وقت تیری عمر کا تھا ، راوی کہتے ہیں : اس وقت میرے چہرے پر ڈاڑھھی نہیں تھی ، مجھے نہیں پتہ کہ شاید انہوں نے کسی دوسری مرتبہ یہ بات کہی ہو ، جب میں تیس سال کا تھا ، چنانچہ سیّد نا عثمان نے ان لوگوں سے وعدہ لیا کہ جب تک میں تمہاری شروط پوری کرونگا تم لوگ مسلمانوں کی جماعت مین تفرقہ نہ ڈالو گے اور نہ ہی ان کی جماعت سے الگ ہو جا وگے ۔؟یا جس طرح اُن لوگوں نے اُ ن سے وعد ہ لیا تھا ، پھران سے پوچھا : آخر تم لوگ کیا چاہتے ہو؟ انہوں نے کہا : اس مال (غنیمت )سے اہل مدینہ کو محروم کیا جائے بلکہ یہ مجاہدین اور سیّدنا محمد ﷺ کے کبار صحابہ کرام میں تقسیم ہو ۔ پھر وہ لوگ سیّد ناعثمان رضی اللہ عنہ کے ہمراہ بحالت رضا مندی مدینہ آگئے ، مدینہ منورہ پہنچ کر سیّد نا عثمان رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر خطبہ دیا اور فرمایا : اے لوگو ! جن کے پاس کھیتیاں ہیں وہ اپنے کھیتوں میں جائے اور صاحب مویشی اپنے مویشیوں کے پاس رہے ۔ آیندہ سےا س مال ( غنیمت ) سے تمہارا کوئی حصہ نہیں ، بلکہ یہ تو صرف مجاہدین اور سیّد نا محمد ﷺ کے کبار صحابہ کرام میں تقسیم ہو گا۔ اس پر لوگ غضینا ک ہو کر کہنے لگے: یہ ضروربنی امیہ کا فریب ہے ، اس کے بعد وہ مصری وفد بخوشی واپس چلا گیا ۔ اچانک وہ راستے میں تھے تو ایک سوار آدمی نے ان کا پیچھا کیا ۔ کبھی ان سے الگ ہوتا پھر ان کی طرف پلٹتا اور پھر ان سےا لگ ہوا اوران کو سب وشتم کرنے لگا ، انہوں نے کہا :تجھے کیا ہوا کیا تیرے پاس کوئی حکم ہے اور اگر ہے تو کیا ؟ تو اس نے کہا : میں امیر المومنین کا والی مصر کی طرف قاصد ہوں۔ جب اس وفد نے اس شخص کی تلاشی لی تو اس سے سیّدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف سے ایک خط برآمد ہوا جس پر سیّدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی مہر بھی ثبت تھی اور اس میں مصر کے والی کویہ لکھا تھا (کہ یہ وفد جب واپس مصر آجائے تو ) ان کو سولی پر چڑھا یا جائے یا انہیں قتل کر دیاجائے یا پھر ان کے ہاتھ اورپاؤں کاٹ دیئے جائیں ۔ ( یہ خط پڑھ کر )وہ وفد واپس مدینہ لوٹا اور سیّد نا علی رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور انہیں کہا : کیا آپ کو پتہ نہیں کہ انہوں نے ہمارے بارے میں ایسی ایسی باتیں لکھی ہیں ، آپ ہمارے ساتھ ان کے پاس چلیں ، سیّدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا :ہرگز نہیں اللہ کی قسم ! میں تمہارے ساتھ نہیں جاؤں گا ، انہوں نے کہا : پھر اس طرح کا خط آپ نے ہمیں کیوں لکھا ہے ؟ سیّدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں اللہ کے نام کی قسم اٹھا تا ہوں میں نے تمہارے بارے میں ایسا کوئی خط نہیں لکھا ، چنانچہ وہ ایک دوسرے کی طرف دیکھ کر کہنے گلے : تم اس ( علی رضی اللہ عنہ)کے لیے لڑ رہے ہوا اور غصہ کا اظہار کر رہے ہو۔ راوی کہتے ہیں : سیّدنا علی رضی اللہ عنہ مدینہ سے باہر ایک بستی کی طرف چلے گئے ، پس وہ وفد سیّد نا عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف گیا اور کہنے لگا :آپ نے اس اس طرح کا خط ہمارے خلاف لکھا ہے ، انہوں نے کہا :اس بات پر تم لوگ مسلمانوں میں سے دو گواہ پیش کرویا پھر میں اللہ کی قسم اٹھا تا ہوں جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے کہ میں نے نہ لکھا ہے ، نہ ہی لکھوایا ہے اور نہ ہی اُ س کا مجھے علم ہے ۔مزید کہا : تم جاتنے ہو کہ خطب انسان کی اپنی زبان میں لکھا جا سکتا ہے اور اُسی جیسی مہر بھی بنائی جا سکتی ہے ۔چنانچہ انہوں نےآ پ رضی اللہ عنہ کو کاشانہ اقدس میں محصور کر دیا ، پس ایک دن انہوں نے مکان کی چھت سے ان کی طرف جھانکا ، السلام علیکم کہا ،کسی آدمی نے ان کو جواب نہیں سنایا مگر دل ہی میں جواب دے دیا تو انہوں نے قسم دلا کر فرمایا: کیا تمہیں پتہ ہے ؟ میٹھے پانی والا بئررومہ میں نے خریدا تھا ، میں بھی اس سےا یک عام آدمی کی طرح پانی لیتا رہا ، کہا گیا : جی ہاں !انہوں نے کہا : آج تم لوگ مجھے اس کے پانی سے کیوں روکتے ہو اور مجھے سمندر کے پانی سے افطار کرنا پڑتا ہے ؟اور میں اللہ کی قسم دلا کر پوچھتا ہوں کہ کیا تم کہ پتہ ہے ؟ کہ میں انتی انتی زمین مسجد کی توسیع کے لیے خرید ی تھی ؟ لوگوں نے کہا : جی ہاں ! انہوں نے مزید کہا : کیا تم جانتے ہو کہ مجھے سے پہلے کسی کو اس مسجد میں نماز پرھنے سے روکا گیا ہو ؟ اور میں تمہیں قسم دلا کر پوچھتا ہوں کہ کیا تم میں سے کسی نے اس کے متعلق بنی کریم ﷺ سے کوئی بات سن رکھی ہے ؟ اسی طرح انہوں نے مفصل سورتیں لکھنے کا تذکرہ کیا اور کہا :مگر اب تو روکا جانا عام ہو گیا ہے پس لوگ کہنے لگے : امیرالمومنین جائیے ! امیر المومنین ٹھہر جائیے !۔ اس پر اشترنے کھڑے ہو کر کہا : مجھے نہیں پتہ کہ صرف آج کے دن یا کسی اور دن ؟ سیْدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا : شاید یہ میرا او ر تمہارے خلاف سازش کی گئی ہو ؟پس لوگوں نے ان کو تسلی دی ، یہاں تک کہ انہوں نے فلا ں فلاں بات کہی ۔ اسی طرح کچھ دنوں بعدانہوں نے دوبارہ جھانکا اور لوگوں کو وعظ کیا مگر ان پر کچھ اثر نہ ہوا ، پس لوگوں پر وعظ سننے کا شروع میں تو کچھ اثر ہوتا مگر بعد میں ان پو کوئی اثر نہ رہتا ، اسی دوران سیّدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو خواب میں بنی کریم ﷺ کی زیارت ہوئی ۔ آپ ﷺ فرمارہے تھے : عثمان آج روزہ ہمارے ہاں افطار کرنا ، اس کے بعد انہوں نے دروازہ بند کر لیا اور قرآن سامنے رکھا ۔ راوی کہتے ہیں : حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ کا گمان ہے کہ محمد بن ابی بکر نے ان کے پاس آ کر ان کو ڈاڑھی پکڑ ی تو سیّدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا : تم نے مجھے ایسی جگہ سے پکڑا ہے کہ سیّدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی اس جگہ سے نہ پکڑتے اور نہ ایسی جگہ بیٹھتے ، یہ سن کر وہ باہر چلا گیا ۔ سیّدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں کہ اس وقت ایک اور شخص آیا تو اس سے سیّد نا عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا : میرے اور تیرے درمیان قرآن فیصلہہ کرے گا ، یہ سن کر وہ بھی باہر چلا گیا پھر ایک اور شخص آیا ، اس سے بھی کہا : میرے اور تیرے درمیان قرآن فیصل کرے گا ، قرآن سامنے تھا ، اس نے سیّد نا عثمان رضی اللہ عنہ پر تلوار کا وار کیا ، انہوں نے ہاتھ سے روکنا چاہا تو وہ کٹ گیا ۔ راوی کہتے ہیں : مجھے پتہ نہیں چل سکا کہ وہ ہاتھ جدا ہوگیا تھا یا صرف کٹا ہی تھا ، انہوں نے کہا : یہ وہ پہلی ہتھیلی ہے جو جوڑ سے کاٹی گئی ۔ پھر ایک اور شخص آیا جسے "کالی موت "کے نام سے پکارا جاتا تھا ، اس نے سیّدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا گلہ دبا یا تو سیّد نا عثمان رضی اللہ عنہ ے جواباً اس کاگلہ دبا یا پھر وہ تلوار کا وار کئے بغیر وہاں سے چلا گیا ۔ اس نے کہا : میں نے سیّد نا عثمان رضی اللہ عنہ کے گلے سے نرم کسی ک گلے کو نہیں پایا ، اللہ کی قسم ! جب میں نے ان کا گلہ دبا یا ، میں نے دیکھا :انہوں نے ایسے سانس لیا جس طرح سانپ سانس لیتا ہے ۔ ( یعنی ان کا گلہ انتا رم تھا ) سّدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ کی روایت کے علاوہ دوسری رویات میں یہ الفاظ بھی ہیں کہ اسی حالت میں "تجوبی " نامی شخص آیا ، اس نے ہتھوڑے سے سیّدنا عثمان رضی اللہ عنہ پر وار کیا ، جس سے ان کے خون کا قطرہ قرآن پاک کی اس آیت کریمہ پر ۔۔۔۔پر گرا ، وہ قطرہ اسی طرح رہا کسی نے نہیں مٹایا ۔سیّد نا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ سیّد نا عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت سے پہلے بنت القرافصہ ( زوجہ سیّد نا عثمان رضی اللہ عنہ جن کا نام نائلہ تھا ) نے اپنے تمام زیورات اپنی گود میں ڈال دیئے لیکن جب ان کو معلوم ہوا کہ سیّدنا عثما ن رضی اللہ عنہ شہید ہو گئے ہیں تو ان کی طرف لپکیں تو کسی ( گستاخ )نے کہا : اللہ اس عورت کو ہلاک کرے اس کے مقصد کتنے بڑے ہیں ۔ یہ بات سن کر بنت قرافصہ نے جان لیا کہ اللہ کے ان دشمنوں کا مقصد صرف حصول دنیا ہے ۔ (1)

عُثْمَانَ، ← أَبِي سَعِيدٍ مَوْلَى أَبِي أُسَيْدٍ الأنصاري ← أَبُو نَضْرَةَ، ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ قثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ أَبُو عَمْرٍو الْعَنْبَرِيُّ قثنا الْمُعْتَمِرُ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The virtue of Othman bin Affan, may God be pleased with him · Hadith 765

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 766

766 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، حَدَّثَنِي أَبِي، نَا عَفَّانُ قَالَ: حَدَّثَنِي مُعْتَمِرٌ قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي قثنا أَبُو نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ مَوْلَى الْأَنْصَارِ قَالَ: سَمِعَ عُثْمَانُ أَنَّ وَفْدَ أَهْلِ مِصْرَ قَدْ أَقْبَلُوا، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَقَالَ: حَصَرُوهُ فِي الْقَصْرِ، فَأَشْرَفَ عَلَيْهِمْ ذَاتَ يَوْمٍ، فَقَالَ: أَنْشُدُكُمُ اللَّهَ، هَلْ عَلِمْتُمْ أَنِّي اشْتَرَيْتُ رُومَةَ مِنْ مَالِي لِيُسْتَعْذَبَ مِنْهَا فَجَعَلْتُ رِشَائِي فِيهَا كَرِشَاءِ رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ؟ فَقِيلَ: نَعَمْ، قَالَ: فَعَلَامَ تَمْنَعُونِي أَنْ أَشْرَبَ مِنْهَا حَتَّى أُفْطِرَ عَلَى مَاءِ الْبَحْرِ؟ قَالَ: وَالْمُصْحَفُ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَأَهْوَى إِلَيْهِ بِالسَّيْفِ، فَتَلَقَّاهُ بِيَدِهِ فَقَطَعَهَا، فَلَا أَدْرِي أَبَانَهَا أَوْ قَطَعَهَا فَلَمْ يُبِنْهَا، فَقَالَ: أَمَا وَاللَّهِ إِنَّهَا لَأَوَّلُ كَفٍّ قَدْ خَطَّتِ الْمُفَصَّلَ، وَفِي غَيْرِ حَدِيثِ أَبِي سَعِيدٍ: فَدَخَلَ عَلَيْهِ التَّجُوبِيُّ فَأَشْعَرَهُ مِشْقَصًا فَانْتَضَحَ الدَّمُ عَلَى هَذِهِ الْآيَةِ {فَسَيَكْفِيكَهُمُ اللَّهُ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ} [البقرة: 137] ، فَإِنَّهَا فِي الْمُصْحَفِ مَا حُكَّتْ، وَأَخَذَتِ ابْنَةُ الْفُرَافِصَةِ فِي حَدِيثِ أَبِي سَعِيدٍ حُلِيَّهَا فَوَضَعَتْهُ فِي حِجْرِهَا، وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يُقْتَلَ، فَلَمَّا أُشْعِرَ وَقُتِلَ تَفَاجَّتْ عَلَيْهِ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: قَاتَلَهَا اللَّهُ، مَا أَعْظَمَ عَجِيزَتَهَا، قَالَتْ: فَعَرَفْتُ أَنَّ أَعْدَاءَ اللَّهِ لَمْ يُرِيدُوا إِلَّا الدُّنْيَا.

سیّد نا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیّدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو اطلاع ملی کہ ان کے پاس مصر سے ایک وفد یا قافلہ آرہا ہے ۔ پھر اگے انہوں نے مذکورہ روایت کو بیان کیا ۔ جب انہیں کاشانہ اقدس میں محصور کر دیا گیا ۔ چنانچہ ایک دن انھوں نے چھت سے جھانکتے ہوئے فرمایا : میں اللہ تعالیٰ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں ، کیا تمہیں پتہ ہے کہ میٹھے پانی والا بئررومہ میں نے خریدار تھا ، میں بھی اس سے ایک عام آدمی کی طرح پانی لیتا رہا ۔ لوگوں نے کہا : جی ہاں! آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تو پھر آج تم لوگ مجھے اس کے پانی سے کیوں روکتے ہواور مجبور اً سمندر رکے کھا رے پانی سے افطار کرنا پڑتا ہے ؟ راوی کہتے ہیں : قرآن سامنے تھا ، اس نے سیّد نا عثمان رضی اللہ عنہ پر تلوار کا وار کیا ،جس کا دفاع آپ رضی اللہ عنہ نے ہاتھ سے کیا پس اس نے ہاتھ کاٹ دیا ۔ راوی کہتے ہیں :مجھے پت نہیں چل سکا کہ وہ ہاتھ جدا ہو گیا تھا یا صرف کٹاہی تھا ۔ یہ وہ پہلی ہتھیلی ہے جو جوڑسے کاٹی گئی ہے ۔ سیّد نا ابو سعید رضی اللہ عنہ کی روایت ک علاوہ دوسری روایات میں یہ الفاظ بھی ہیں کہ اسی حالت میں تجوبی نامی شخص آ یا اس نے ہتھوڑے سے سیّد نا عثمان رضی اللہ عنہ پر وار کیا ، جس سے ان کے خون کا قطرہ قرآن پاک کی اس آیت کریمہ پر گرا ، وہ قطرہ اسی طرح رہا کسی نے اس کو نہیں مٹایا ۔ سیّد نا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے کہ سیّد نا عثمان کی شہادت سے پہلے بنت القرافصہ (زوجہ سیّد نا عثمان رضی اللہ عنہ جن کا نام نائلہ تھا ) نے اپنے تمام زیورات اپنی جھولی میں ڈال لیے جب سیّد نا عثمان رضی اللہ عنہ کا خون نکال تو سیّدہ نائلہ رضی اللہ عنہا نے آ پ رضی اللہ عنہ کا سراپنی گود میں رکھ دیا ۔ اسی دوران کسی گستاخ نے کہا : اللہ اس عورت کو ہلاک کرے اس کے مقصد کتنے بڑے ہیں ۔ یہ بات سن کر بنت قرافصہ نے جان لیا کہ اللہ کے اِ ن دشمنوں کا مقصد صرف حصول دنیا تھا ۔ (2)

الْحَدِيثَ. ← عُثْمَانُ أَنَّ وَفْدَ أَهْلِ مِصْرَ قَدْ أَقْبَلُوا، ← أَبِي سَعِيدٍ مَوْلَى الأَنْصَارِ ← أَبِي قثنا أَبُو نَضْرَةَ، ← مُعْتَمِرٌ ← عَفَّانُ، ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The virtue of Othman bin Affan, may God be pleased with him · Hadith 766

Sahih

chevron_left Previous
12345…9
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door2. He was asked about the virtues of Abu, the first-born of al-Siddiq, the mercy and pleasure of God be upon him3. He was asked about the words of Ali ibn Abi Talib and others: The best of this nation after its prophet Abu Bakr and Omar4. His saying, may God’s prayers and peace be upon him: “If I had taken people as a friend, I would not have taken a virgin father as a friend5. He, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Pass a virgin father, let him pray to the people.”6. The remainder of his saying: “Show a first-born father who prays to people.”7. It was not narrated that Abu Bakr was the first to become Muslim8. It was not narrated that a virgin father came to ask permission, so the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Permit him, and give him good tidings of paradise.”9. The Virtue of the Commander of the Believers, Omar Ibn Al-Khattab, may God be pleased with him10. The Islam of Umar ibn Al-Khattab, may God be pleased with him11. And among the virtues of Omar bin Al-Khattab from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik, on the authority of his sheikhs other than Abd Allah bin Ahmed, and from the hadith of Abu Bakr bin Malik.12. The virtue of Othman bin Affan, may God be pleased with him13. And from the merits of Othman, from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik on the authority of his sheikhs except for Abdullah bin Ahmad14. The news of the Prince of the Believers, Ali bin Abi Talib, and his asceticism, may God be pleased with him15. His mother's name and genealogy16. A merit upon me, peace be upon him17. And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah18. The Virtue of Abd al-Rahman ibn Awf, may God be pleased with him19. The Virtue of Az-Zubayr Bin Awwam, may God be pleased with him
20. Fadil Abi Ubaidah Ibn Al Jarrah, may God be pleased with him
21. Fadil Talha Bin Ubaid Allah, may God be pleased with him
22. Fadil Saad bin Abi Waqas, may God be pleased with him
23. Fadil Fatima, the daughter of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him
24. The virtues of good, and the good, may God be pleased with them.
25. The Virtues of Ansar, may God be pleased with them
26. The virtue of Khalid bin Al-Walid, may God have mercy on him
27. Fadil Saad bin Muadh, may God have mercy on him
28. Fadil Haritha Ibn Nu'man, may God be pleased with him
29. Fadil Suhaib, may God be pleased with him
30. The virtues of the Arabs
31. The virtue of Usama bin Zaid, may God be pleased with him
32. Fadil Abdullah bin Masoud, may God be pleased with him
33. Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with them
34. Virtues of Khadija and others
35. Fadil Ammar ibn Yasser, may God be pleased with him
36. Virtues 0 People of Yemen
37. Virtues of the family of the Mother of the Believers, may God be pleased with her, and other things among the people of Yemen
38. The virtues of the Banu Ghafar, and Islam and others
39. Fadil Jaafar ibn Abi Talib, may God be pleased with him
40. Fadil Jarir bin Abdullah, may God be pleased with him
41. Fadil Abdullah Bin Omar, may God be pleased with them
42. The virtues of a people of the Levant
43. The Virtue of the Companions of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him
44. The virtue of Amr ibn al-Aas, may God be pleased with him
45. The Virtues of Mu`awiyah Bin Abi Sufyan, may God be pleased with them
46. The virtues of Abu al-Fadl al-Abbas ibn Abd al-Muttalib, the uncle of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him
47. Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with him