فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 743
743 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ قثنا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ قَالَ: كَتَبَ عُثْمَانُ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ يَعْزِمُ عَلَيْهِ أَنْ لَا يَضَعَ كِتَابَهُ مِنْ يَدِهِ حَتَّى يَشْخَصَ إِلَيْهِ، قَالَ: فَأَتَى بِالْكِتَابِ فَجَعَلَ يَذْهَبُ وَيَجِيءُ وَالْكِتَابُ فِي يَدِهِ، لَا يَقْرَؤُهُ، فَقَالَتْ لَهُ أُمُّهُ: أَيْنَ تَذْهَبُ وَالْكِتَابُ فِي يَدِكَ؟ افْتَحِ الْكِتَابَ فَاقْرَأْهُ، فَقَالَ: يَا بِنْتَ الْكَافِرِينَ، أَتُرِيدِينَ أَنْ أَبِيتَ عَاصِيًا لِأَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ، أَوْ أَشْخَصَ مِنْ لَيْلَتِي.
ابن سیرین ؒ سے روایت ہے کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو پیغام لکھ کر بھیجا اور قسم دلوائی کہ یہ خط اپنے ہاتھ سے نیچے نہ رکھنا جب تک مجھے اس کا جواب نہیں لوٹا دیتے راوی کہتے ہیں: جب خط آیا تو وہ خط اُٹھا کر ادھر ادھر جانے لگے حالانکہ خط انکے ہاتھ میں تھا اور اس نے پڑھا انکی ماں نے کہا ہاتھ میں خط اٹھائے کہاں جا رہے ہو ؟ اسے کھول کر پڑھو تو انہوں نے کہا اے کافروں کی بیٹی کیا میں امیر المومنین کی نافرمانی میں رات بسر کروں یا پھر میں آج رات یہاں سے کوچ کر جاؤں گا۔ (1)
ابْنِ سِيرِينَ، ← أَشْعَثَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ قثنا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ
Hadith 743
