Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

1,963 Hadith48 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 743

743 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ قثنا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ قَالَ: كَتَبَ عُثْمَانُ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ يَعْزِمُ عَلَيْهِ أَنْ لَا يَضَعَ كِتَابَهُ مِنْ يَدِهِ حَتَّى يَشْخَصَ إِلَيْهِ، قَالَ: فَأَتَى بِالْكِتَابِ فَجَعَلَ يَذْهَبُ وَيَجِيءُ وَالْكِتَابُ فِي يَدِهِ، لَا يَقْرَؤُهُ، فَقَالَتْ لَهُ أُمُّهُ: أَيْنَ تَذْهَبُ وَالْكِتَابُ فِي يَدِكَ؟ افْتَحِ الْكِتَابَ فَاقْرَأْهُ، فَقَالَ: يَا بِنْتَ الْكَافِرِينَ، أَتُرِيدِينَ أَنْ أَبِيتَ عَاصِيًا لِأَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ، أَوْ أَشْخَصَ مِنْ لَيْلَتِي.

ابن سیرین ؒ سے روایت ہے کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو پیغام لکھ کر بھیجا اور قسم دلوائی کہ یہ خط اپنے ہاتھ سے نیچے نہ رکھنا جب تک مجھے اس کا جواب نہیں لوٹا دیتے راوی کہتے ہیں: جب خط آیا تو وہ خط اُٹھا کر ادھر ادھر جانے لگے حالانکہ خط انکے ہاتھ میں تھا اور اس نے پڑھا انکی ماں نے کہا ہاتھ میں خط اٹھائے کہاں جا رہے ہو ؟ اسے کھول کر پڑھو تو انہوں نے کہا اے کافروں کی بیٹی کیا میں امیر المومنین کی نافرمانی میں رات بسر کروں یا پھر میں آج رات یہاں سے کوچ کر جاؤں گا۔ (1)

ابْنِ سِيرِينَ، ← أَشْعَثَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ قثنا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Hadith 743

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 744

744 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ قَالَ: أنا حُسَيْنٌ الْجُعْفِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ مُهَاجِرٍ التَّيْمِيِّ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: لَا تَسُبُّوا عُثْمَانَ، فَإِنَّا كُنَّا نَعُدُّهُ مِنْ خِيَارِنَا.

مہاجر تیمی ؒ سے روایت ہے کہ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو سب و شتم مت کرو، کیونکہ ہم انہیں اپنے بہتر ین لوگوں میں شمار کیا کرتے تھے ۔ (2)

لَا تَسُبُّوا عُثْمَانَ، فَإِنَّا كُنَّا نَعُدُّهُ مِنْ خِيَارِنَا. ← ابْنِ عُمَرَ ← مُهَاجِرٍ التَّيْمِيِّ، ← مِسْعَرٍ، ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← حُسَيْنٌ الْجُعْفِيُّ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ← عَبْدُ اللَّهِ

Hadith 744

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 745

745 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، نا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْمَاجِشُونُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ: لَوْ هَلَكَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ فِي بَعْضِ الزَّمَانِ لَهَلَكَ عِلْمُ الْفَرَائِضِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، وَلَقَدْ جَاءَ عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ وَمَا يَعْلَمُهَا غَيْرُهُمَا.

ابن شہاب زہری ؒ نے فرمایا : اگر سیدنا عثمان بن عفان اور سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ جلد دار فانی سے کوچ کر جاتے تو وارثت کا علم قیامت تک نا پیدا ہو جاتا پھر لوگوں پر ایک زمانہ آئے گا جس میں اس علم کو ان دونوں کے علاوہ کوئی جاننے والا نہ ہو گا۔ (3)

ابْنِ شِهَابٍ، ← یُوْسُفُ بْنُ یَعْقُوْبَ الْمَاجِشُوْنُ، ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ

Hadith 745

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 746

746 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ: قثنا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ إِدْرِيسَ، قَالَ لَيْثٌ: حَدَّثَنَاهُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْمَلِيحِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: لَوِ اجْتَمَعَ النَّاسُ عَلَى قَتْلِ عُثْمَانَ، لَرُمُوا بِالْحِجَارَةِ كَمَا رُمِيَ قَوْمُ لُوطٍ

سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اگر بالفرض لوگ قتل عثمان (رضی اللہ عنہ) پر متفق ہو جاتے تو ان پر قوم لوط کی مانند آسمان سے پتھروں کی بارش برستی ۔ (4)

لَوِ اجْتَمَعَ النَّاسُ عَلَى قَتْلِ عُثْمَانَ، لَرُمُوا بِالْحِجَارَةِ كَمَا رُمِيَ قَوْمُ لُوطٍ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِيهِ ← يَزِيدَ بْنِ الْمَلِيحِ، ← لَيْثٌ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، ← عَبْدُ اللَّهِ: قثنا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ،

Hadith 746

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 747

747 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، وَوَكِيعٌ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ، قَالَ يَحْيَى فِي حَدِيثِهِ قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مَيْسَرَةَ، عَنِ النَّزَّالِ قَالَ: لَمَّا اسْتُخْلِفَ عُثْمَانُ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: أَمَّرْنَا خَيْرَ مَنْ بَقِيَ، وَلَمْ نَأْلُ.

نزال سے روایت ہے کہ جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو خلافت ملی تو سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے لگے ۔ ہم نے باقی ماندہ افراد سے بہترین شخص کو امیر بنانے میں کوتاہی نہیں کی ۔ (5)

عَبْدُ اللَّهِ: أَمَّرْنَا خَيْرَ مَنْ بَقِيَ، وَلَمْ نَأْلُ. ← لَمَّا اسْتُخْلِفَ عُثْمَانُ ← النَّزَّالِ ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ، ← يَحْيَى فِي حَدِيثِهِ: ← عَبْد الْمَلِكِ؛ ← مِسْعَرٍ، ← أَبِي، قثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، وَوَكِيعٌ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Hadith 747

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 748

748 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ قثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، يَعْنِي شَيْبَانَ، عَنْ أَبِي الْيَعْفُورِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدٍ الْمَدَنِيِّ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ عُمَرَ قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ فَوَضَعَ ثَوْبَهُ بَيْنَ فَخِذَيْهِ، فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ يَسْتَأْذِنُ، فَأَذِنَ لَهُ وَرَسُولُ اللَّهِ عَلَى هَيْئَتِهِ، ثُمَّ جَاءَ عُمَرُ يَسْتَأْذِنُ، فَأَذِنَ لَهُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى هَيْئَتِهِ، وَجَاءَ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ فَأَذِنَ لَهُمْ، وَجَاءَ عَلِيٌّ يَسْتَأْذِنُ فَأَذِنَ لَهُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى هَيْئَتِهِ، ثُمَّ جَاءَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ فَاسْتَأْذَنَ، فَتَجَلَّلَ ثَوْبَهُ ثُمَّ أَذِنَ لَهُ، فَتَحَدَّثُوا سَاعَةً ثُمَّ خَرَجُوا. فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، دَخَلَ عَلَيْكَ أَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، وَعَلِيٌّ، وَنَاسٌ مِنْ أَصْحَابِكَ، وَأَنْتَ فِي هَيْئَتِكَ لَمْ تَحَرَّكْ، فَلَمَّا دَخَلَ عُثْمَانُ تَجَلَّلْتَ ثَوْبَكَ؟ قَالَ: «أَلَا أَسْتَحْيِي مِمَّنْ تَسْتَحْيِي مِنْهُ الْمَلَائِكَةُ؟» .

ام المومنین سیدہ حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ اپنی ران مبارک میں کپڑا سمٹے ہوے میرے ہاں تشریف فرما تھے ، انتے میں سید نا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اجازت طلب کی تو اآپ ﷺ نے ان کو اجازت دی مگر بھی رسول اللہ ﷺ اپنی اسی حالت میں ہے پھر سید ناعمر رضی اللہ عنہ نے اجازت طلب کی تو آ پ ﷺ نے ان کو اجازت دی مگر تب بھی رسول اللہ ﷺاسی حالت میں رہے ، پھر آپ کےصحابہ کرام میں سے کچھ لوگ آئے ، انہیں اجازت ملی اور سید نا علی رضی اللہ عنہ نے اجازت طلب کی تو آپ ﷺ نے ان کو اجازت دی مگر تب بھی رسلو اللہ ﷺ اپنی اسی حالت میں رہے لیکن جب سید نا عثمان رضی اللہ عنہ نے اجازت طلب کی تو پہلے خود کو کپڑے سے ڈھانپا پھر ان کو اجازت دی پھر وہ تھوڑی دیر تک باتیں کرنے کے بعد چلے گئے تو میں نے پوچھا :یا رسول اللہ ﷺ سید نا ابوبکر ، سید نا عمر ، سید نا علی رضی اللہ عنہ اور آ پ کے کچھ صحابہ کرام جب آ ئے تو آپ ﷺ اپنی حالت پر ہی رہے مگر جب سید نا عثمان رضی اللہ عنہ آ ئے تو آپ ﷺ نے کپڑے سے اپنے جسم کو ڈ ھانپ لیا تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا : کیا میں اس شخص سے حیانہ کروں ؟جس سے فرشتے حیا کرتے ہیں ۔ (1)

حَفْصَةَ بِنْتِ عُمَرَ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدٍ الْمَدَنِيِّ، ← أَبِي الْيَعْفُورِ، ← أَبِي، قثنا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ قثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، يَعْنِي شَيْبَانَ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Hadith 748

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 749

749 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، نَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ قثنا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو خَالِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَدَنِيِّ قَالَ: حَدَّثَتْنِي حَفْصَةُ بِنْتُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ قَدْ وَضَعَ ثَوْبًا بَيْنَ فَخِذَيْهِ، فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ فَاسْتَأْذَنَ، فَأَذِنَ لَهُ، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى هَيْئَتِهِ، ثُمَّ عُمَرُ بِمِثْلِ هَذِهِ الْقِصَّةِ، فَذَكَرَ مِثْلَ مَعْنَى حَدِيثِ شَيْبَانَ أَبِي مُعَاوِيَةَ.

ام المومنین سیدہ حفصہ عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ اپنی ران مبار ک سے کپڑا سمیٹے تشریف فرما تھے ، انتےمیں سید نا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اجازت طلب کی تو آپ ﷺ نے ان کو اجازت دی مگر رسول اللہ ﷺ اسی طرح سے رہے پھر سید نا عمر رضی اللہ عنہ نے اجازت طلب کی پھر آ گے وہی (گرشتہ حدیث والا ) قص ہ بیان کیا (2)

عبد الله بن أبي سعيد المدني ← أَبُو خَالِدٍ؛ ← روح بن عبادة قثنا ابن جريج ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ

Hadith 749

Hassan

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 750

750 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا حَجَّاجٌ قثنا لَيْثٌ قَالَ: حَدَّثَنِي عَقِيلٌ، يَعْنِي: ابْنَ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَتْ تَقُولُ: يَا لَيْتَنِي كُنْتُ نَسْيًا مَنْسِيًّا، فَأَمَّا الَّذِي كَانَ مِنْ شَأْنِ عُثْمَانَ فَوَاللَّهِ مَا أَحْبَبْتُ أَنْ يُنْتَهَكَ مِنْ عُثْمَانَ أَمْرٌ قَطُّ إِلَّا انْتُهِكَ مِنِّي مِثْلُهُ، حَتَّى لَوْ أَحْبَبْتُ قَتْلَهُ قُتِلْتُ، يَا عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَدِيٍّ، لَا يَغُرَّنَّكَ أَحَدٌ بَعْدَ الَّذِي تَعْلَمُ، فَوَاللَّهِ مَا احْتَقَرْتُ أَعْمَالَ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى نَجَمَ النَّفَرُ الَّذِينَ طَعَنُوا فِي عُثْمَانَ فَقَالُوا قَوْلًا لَا يَحْسُنُ مِثْلُهُ، وَقَرَءُوا قِرَاءَةً لَا يَحْسُنُ مِثْلُهَا، وَصَلَّوْا صَلَاةً لَا يُصَلَّى مِثْلُهَا، فَلَمَّا تَدَبَّرْتُ الصَّنِيعَ إِذَنْ وَاللَّهِ مَا تَقَارَبُوا أَعْمَالَ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِذَا أَعْجَبَكَ حُسْنُ قَوْلِ امْرِئٍ فَقُلِ: {اعْمَلُوا فَسَيَرَى اللَّهُ عَمَلَكُمْ وَرَسُولُهُ وَالْمُؤْمِنُونَ} [التوبة: 105] ، وَلَا يَسْتَخِفَّنَّكَ أَحَدٌ.

عروۃ بن زبیر رحمتہ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کی زوجہ محترمہ سید ہ عائشہ رضی اللہ عنہ فرماتی تھیں : کاش !میں صفحہ ہستی سے بھولی بسری ہو جاتی ۔ سّد نا عثما ن رضی اللہ عنہ کے ساتھ جو ہوا ، اللہ کی قسم ! مجھے سّد نا عثمان رضی اللہ عنہ کی توہین کرنا ہرگز پسند نہیں تھا کیونکہ ان کی توہین میری توہین تھی ، میں اُ ن کی جگہ قتل ہونا بھی پسند کرتی ۔ اے عبیداللہ بن عدی !اس حقیت کے انکشاف کے بد تجھے کوئی دھوکہ میں مت ڈالے ، اللہ کی قسم ! میں نے اصحاب محمد ﷺ کے اعمال کی کبھی حقیر نہیں سمجھا یہاں تک کہ وہ گروہ پیدا ہوا جنہوں نے سّد نا عثمان ﷺ کے متعلق زبان درازی کی ، انہوں نے سّد نا عثمان رضی اللہ عنہ کی شان میں نامنا اصحاب محمد ﷺ کے اعمال سے ( افضل تو کجا ) کوئی بھی مقابلہ نہیں کر سکتا اگر تمہیں کسی کی باتیں تعجب میں ڈالیں تو ان آیات کی تلاوت کر لینا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور تجھے کوئی بھی شخص ہلکانہ کرے ۔(1)

عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← عقيل يعني ابن خالد ← أَبِي، قثنا حَجَّاجٌ قثنا لَيْثٌ ← عَبْدُ اللَّهِ

Hadith 750

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 751

751 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: نَا أَبُو قَطَنٍ قثنا يُونُسُ، يَعْنِي: ابْنَ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ: أَشْرَفَ عُثْمَانُ مِنَ الْقَصْرِ وَهُوَ مَحْصُورٌ فَقَالَ: أَنْشُدُ بِاللَّهِ مَنْ شَهِدَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حِرَاءٍ إِذِ اهْتَزَّ الْجَبَلُ فَرَكَلَهُ بِقَدَمِهِ ثُمَّ قَالَ: «اسْكُنْ حِرَاءُ، لَيْسَ عَلَيْكَ إِلَّا نَبِيُّ، أَوْ صِدِّيقٌ، أَوْ شَهِيدٌ» ، وَأَنَا مَعَهُ؟ فَانْتَشَدَ لَهُ رِجَالٌ، فَقَالَ: أَنْشُدُ بِاللَّهِ مَنْ شَهِدَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ بَيْعَةِ الرِّضْوَانِ إِذْ بَعَثَنِي إِلَى الْمُشْرِكِينَ إِلَى أَهْلِ مَكَّةَ قَالَ: «هَذِهِ يَدِي وَيَدُ عُثْمَانَ» ، فَبَايَعَ لِي؟ فَانْتَشَدَ لَهُ رِجَالٌ، قَالَ: أَنْشُدُ بِاللَّهِ مَنْ شَهِدَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ يُوَسِّعْ لَنَا هَذَا الْبَيْتَ فِي الْمَسْجِدِ؟» ؟ فَانْتَشَدَ لَهُ رِجَالٌ، قَالَ: وَأَنْشُدُ بِاللَّهِ مَنْ شَهِدَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ جَيْشِ الْعُسْرَةِ قَالَ: «مَنْ يُنْفِقُ الْيَوْمَ نَفَقَةً مُتَقَبَّلَةً؟» ، فَجَهَّزْتُ نِصْفَ الْجَيْشِ مِنْ مَالِي؟ قَالَ: فَانْتَشَدَ لَهُ رِجَالٌ، قَالَ: وَأَنْشُدُ بِاللَّهِ مَنْ شَهِدَ رُومَةَ يُبَاعُ مَاؤُهَا ابْنَ السَّبِيلِ، فَابْتَعْتُهَا مِنْ مَالِي فَأَبَحْتُهَا ابْنَ السَّبِيلِ؟ قَالَ: فَانْتَشَدَ لَهُ رِجَالٌ.

سّدنا ابوسلمہ بن عبدالرحمن رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب سّد نا عثمان رضی اللہ عنہ کو کاشنہ اقدس میں محصور کر دیا گیا تو پھر ایک دن چھت کے اوپر سے مجھے مخاطب کر کے فرمایا میں ان لوگوں سے اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں جو حروالے دن رسول اللہ ﷺ کے ساتھ موجود تھے ( جب نبی کریم ﷺ اس پر چڑھے تھے ) تو پہاڑے ہلنا شروع کر دیا تھا تو آ پ ﷺ نے اپنا قدم مبارک اس پر مار کر فرمایا تھا : اے حرا! تھہرا جا تجھ پر نبی ، صدیق اور شہید کے علاوہ اور کوئی نہیں اور میں اس وقت آ پ ﷺ کے ساتھ تھا ۔ تو اس پر ان آدمیوں نے قسم اٹھائی ( کہ ہاں واقعی ایسا ہوا) پھر فرمایا : میں ان لوگوں سے اللہ تعالیٰ کی قسم دلا کر پوچھتا ہوں جو بیعت رضوان کے موقع پر رسول اللہ ﷺ کے ساتھ موجود تھے کہ جب نبی کریم ﷺ نے مجھے مشرکین مکہ کی طرف روانہ کیا تو فرمایا تھا یہ میرا ہاتھ ہے ( اور اپنے دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر رکھ کر فرمایا تھا ) یہ عثمان رضی اللہ عنہ کا ہاتھ ہےاور میرے حصے کی بیعت کی تھی ۔ تو اس پر ان آ دمیوں نے قسم اٹھائی ( کہ ہاں واقعی ایسا ہوا ) پھر فرمایا : میں ان لوگوں سے اللہ تعالیٰ کی قسم دلا کر پوچھتا ہوں کہ جب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا : مارے لیے اس گھر مسجد نبوی کو کون وسیع کرے گا ( تو میں نے آ پ ﷺ کی خواہش کو پورا کیا تھا ) تو اس پر ان آ دمیوں نے قسم اٹھائی ( کہ ہاں واقعی ایسا ہوا ) پھر فرمایا : میں ان لوگوں سے اللہ تعالیٰ کی قسم دلا کر پوچھتا ہوں کہ ( جب غزوہ تبوک کی تیاری کا موقع تھا ) آپ ﷺ نے فرمایا تھا : کون آج قبول شدہ مال کو خرچ کرے گا تو میں نے آدھے لشکر کی تیاری اپنے مال سے کی تھی تو اس پر ان آدمیوں نے قسم اٹھائی ( کہ ہاں واقعی ایسا ہوا ) پھر فرمایا : میں ان لوگوں سے اللہ تعالیٰ کی قسم دلا کر پوچھتا ہوں کہ جب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا : ( مسلمانوں کے لیے ) کون بئر رومہ خرید کر فی سبیل اللہ وقف کر ے گا تو میں نے اپنے مال سے خرید کر اسے فی سبیل اللہ وقف کیا تھا ۔ تو اس پر ان آ دمیوں نے قسم اٹھائی ( کہ ہاں واقعی ایسا ہوا )(1)

أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← أَبِيهِ ← أَبُو قَطَنٍ قثنا يُونُسُ، يَعْنِي: ابْنَ أَبِي إِسْحَاقَ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Hadith 751

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 752

752 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، نَا إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ الرَّازِيُّ قَالَ: سَمِعْتُ مُغِيرَةَ بْنَ مُسْلِمٍ أَبَا سَلَمَةَ يَذْكُرُ، عَنْ مَطَرٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ عُثْمَانَ أَشْرَفَ عَلَى أَصْحَابِهِ وَهُوَ مَحْصُورٌ فَقَالَ: عَلَامَ تَقْتُلُونِي؟ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَا يَحِلُّ دَمُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ إِلَّا بِإِحْدَى ثَلَاثٍ: رَجُلٌ زَنَى بَعْدَ إِحْصَانِهِ فَعَلَيْهِ الرَّجْمُ، أَوْ قَتَلَ عَمْدًا فَعَلَيْهِ الْقَوَدُ، أَوِ ارْتَدَّ بَعْدَ إِسْلَامِهِ فَعَلَيْهِ الْقَتْلُ "، فَوَاللَّهِ مَا زَنَيْتُ فِي جَاهِلِيَّةٍ وَلَا إِسْلَامٍ، وَلَا قَتَلْتُ أَحَدًا فَأُقِيدَ نَفْسِي مِنْهُ، وَلَا ارْتَدَدْتُ مُنْذُ أَسْلَمْتُ، إِنِّي أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ.

سیّد نا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب لوگون نے سّد نا عثمان رضی اللہ عنہ کو دولت کدہ میں محصور کر دیا گیا تو چھت پر چڑھ کر مجمع کو شرفِِ تخاطب سے نواز تے ہوئے فرمایا : آپ لوگ مجھے کیوں قتل کرنا چاہتے ہو ؟ حالانکہ میں نے سنا ، رسول اللہ ﷺ فرما رہے تھے : تین وجوہ کے علاوہ مسلمان کا خون بہانا جائز نہیں ۔ 1۔ جب شادی شدہ زنا کرے تو اسے رجم کیا جائے گا ۔ 2۔جب تقل کرے تو اس پر قصاص ہے ۔ 3۔جب اسلام لانے کے بعد مرتد ہو جائے تو اسے قتل کیا جائے گا ۔ اللہ تعالیٰ کی قسم ! نہ میں نے زمانہ جاہلیت میں زنا کیا اور نہ ہی حالت اسلام میں ، نہ آج تک میں نے کسی کو قتل کیا اور نہ ہی میں اسلام لانے کے بعد آ ج تک مرتد ہوا ہوں ، تاکہ میں اپنے نفس کو قصاص کے لیے پیش کروں ۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی الہٰ نہیں اور بے شک محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں ۔(2)

رَسُولِ اللَّهِ ← عَلَامَ تَقْتُلُونِي فَإِنِّي ← ابْنِ عُمَرَ أَنَّ عُثْمَانَ أَشْرَفَ عَلَى أَصْحَابِهِ وَهُوَ مَحْصُورٌ ← نَافِعٍ ← مَطَرٍ، ← مُغِيرَةَ بْنَ مُسْلِمٍ أَبَا سَلَمَةَ يَذْكُرُ ← إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ الرَّازِيُّ، ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ

Hadith 752

Hassan

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 753

753 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: أنا أَحْمَدُ بْنُ جَمِيلٍ أَبُو يُوسُفَ قَالَ أنا ابْنُ الْمُبَارَكِ قَالَ أنا يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَا قَتَادَةَ وَرَجُلًا آخَرَ مَعَهُ مِنَ الْأَنْصَارِ دَخَلَا عَلَى عُثْمَانَ وَهُوَ مَحْصُورٌ، فَاسْتَأْذَنَا فِي الْحَجِّ فَأَذِنَ لَهُمَا، ثُمَّ قَالَا: مَعَ مَنْ نَكُونُ إِنْ ظَهَرَ هَؤُلَاءِ الْقَوْمُ؟ قَالَ: عَلَيْكُمْ بِالْجَمَاعَةِ، قَالَا: أَرَأَيْتَ إِنْ أَصَابَكَ هَؤُلَاءِ الْقَوْمُ، وَكَانَتِ الْجَمَاعَةُ فِيهِمْ؟ قَالَ: الْزَمُوا الْجَمَاعَةَ حَيْثُ كَانَتْ، قَالَ: فَخَرَجْنَا مِنْ عِنْدَهُ، فَلَمَّا بَلَغْنَا بَابَ الدَّارِ لَقِينَا الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ دَاخِلًا، فَرَجَعْنَا عَلَى أَثَرِ الْحَسَنِ لِنَنْظُرَ مَا يُرِيدُ، فَلَمَّا دَخَلَ الْحَسَنُ عَلَيْهِ قَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، إِنَّا طَوْعُ يَدِكَ، فَمُرْنِي بِمَا شِئْتَ، فَقَالَ لَهُ عُثْمَانُ: يَا ابْنَ أَخِي، ارْجِعْ فَاجْلِسْ فِي بَيْتِكَ حَتَّى يَأْتِيَ اللَّهُ بِأَمْرِهِ، فَلَا حَاجَةَ لِي فِي هِرَاقَةِ الدِّمَاءِ.

سّد نا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں اور ایک انصاری سّد نا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس آ ئے جبکہ وہ ایام حج میں اپنے گھر میں محصور تھے ، ہم نے اجازت طلب کی ، آ پﷺ نے ہم دونوں کو اجازت دے دی ، پھر ہم نے عرض کیا : اگریہ لوگ( سّد نا عثمان رضی اللہ عنہ کے خلاف فتنہ کھڑا کرنے والے ) غالب آجائیں تو ہم کن کا ساتھ دیں ؟ سّدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم جماعت کو لازم پکڑو ۔ پھر ہم نے پوچھا : اگریہ غالب آجائیں اور جماعت بھی ان کی ساتھ ہو جائے ؟ تو فرمایا : ہر حال میں جماعت ہی کو لازم پکڑو ۔ واپسی پر جب ہم گھر کے دروازے پر پہنچے تو ہماری ملاقات سّد نا حسن بن علی رضی اللہ عنہ سے ہوئی تو ہم سّد نا حسن رضی اللہ عنہ کو دیکھ کر واپس ان کے پیچھے چلے تاکہ دیکھ سیکں کہ سّد نا حسن رضی اللہ عنہ کیا ارادہ رکھتے ہیں جب سّدنا حسن رضی اللہ عنہ سّد نا عثمان رضی اللہ عنہ کی پاس آ ئے تو کہنے لگے : امیر المومنین !میں آ پ کی دسترس میں ہوں ، مجھ سے مَن چاہی خدمت لیجیے ۔ سّد نا عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا : میرے بھتیجے ! اپنے گھر جا ، یہاں تک کہ اللہ کا کوئی فیصلہ آ جائے ، میں خون خرابا نہیں چاہتا ۔ (1)

أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← الزُّهْرِيِّ، ← يُونُسَ ← ابْنُ الْمُبَارَكِ، ← أحمد بن جميل أبو يوسف ← عَبْدُ اللَّهِ

Hadith 753

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 754

754 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا عَفَّانُ قثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ قَالَ: كُنْتُ مَعَ عُثْمَانَ فِي الدَّارِ وَهُوَ مَحْصُورٌ، قَالَ: وَكُنَّا نَدْخُلُ مَدْخَلًا إِذَا دَخَلْنَاهُ سَمِعْنَا كَلَامَ مَنْ عَلَى الْبَلَاطِ، قَالَ: فَدَخَلَ عُثْمَانُ يَوْمًا لِحَاجَةٍ، فَخَرَجَ إِلَيْنَا مُنْتَقِعًا لَوْنُهُ فَقَالَ: إِنَّهُمْ لَيَتَوَاعَدُونِي بِالْقَتْلِ آنِفًا، قَالَ: قُلْنَا: يَكْفِيَكُمُ اللَّهُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَ: وَبِمَ يَقْتُلُونِي؟ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّهُ لَا يَحِلُّ دَمِ امْرِئٍ مُسْلِمٍ إِلَّا فِي إِحْدَى ثَلَاثٍ: رَجُلٌ كَفَرَ بَعْدَ إِيمَانِهِ، أَوْ زَنَا بَعْدَ إِحْصَانِهِ، أَوْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ "، فَوَاللَّهِ مَا زَنَيْتُ فِي جَاهِلِيَّةٍ وَلَا إِسْلَامٍ قَطُّ، وَلَا تَمَنَّيْتُ أَنَّ لِي بِدِينِي بَدَلًا مُنْذُ هَدَانِي اللَّهُ لَهُ، وَلَا قَتَلْتُ نَفْسًا، فَبِمَ يَقْتُلُونِي؟

سّد نا ابو امامہ بن سہل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں سّدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ اُ ن کے دولت کدہ میں محصور تھا ، ہم دیوار کے پاس ایسی جگہ جاتے جہاں سے ہمیں باہر کے لوگوں کی باتیں سنائی دیتی تھیں ، ایک دن سّد نا عثمان رضی اللہ عنہ بھی کسی ضرورت سے وہاں آ پہنچے جبکہ غم و گھبراہت سے آ پ کا چہرہ متغیر تھا ، فرمانے لگے : وہ اب میرے قتل کی سازش تیار کر رہے ہیں ۔ ہم نے کہا : امیر المومنین ! اللہ تعالیٰ آ پ کو کافی ہے ۔ انہوں نے فرمایا : یہ لوگ میرے قتل کے درپے کیوں ہیں ؟ حالانکہ میں نے سنا ، رسول اللہ ﷺ فرما رہے تھے : کسی مسلمان کے قتل سے پہلے تین میں سے کسی ایک وجہ کا ہونا ضروری ہے : 1۔جوایمان لانے کے بعد کفر اختیار کرے ۔ 2۔اگر کوئی شادی شدہ ہونے کے بعد بدکاری کرے ۔ 3۔اگر کوئی کسی کو ناحق قتل کرے ۔ پس اللہ کی قسم ! میں نے زمانہ جاہلیت میں زنا کیا ہے اور نہ ہی کبھی اسلام میں ، جب سے اللہ تعالیٰ نے مجھے ہدایت دی ہے ، اس دن سے کبھی میں نے اپنے دین کو تبدیل کرنے کی خواہش کی اور نہ میں نے کسی نفس کو ( نا حق )قتل کیا ہے تو پھر یہ لوگ مجھے کیوں قتل کرنا چاہتے ہیں ۔ (1)

رَسُولِ اللَّهِ ← وَبِمَ يَقْتُلُونِي فَإِنِّي ← قُلْنَا: يَكْفِيَكُمُ اللَّهُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، ← إِنَّهُمْ لَيَتَوَاعَدُونِي بِالْقَتْلِ آنِفًا، ← فَدَخَلَ عُثْمَانُ يَوْمًا لِحَاجَةٍ فَخَرَجَ إِلَيْنَا مُنْتَقِعًا لَوْنُهُ ← كَلَامَ مَنْ عَلَى الْبَلَاطِ ← وكنا ندخل مدخلا إذا دخلناه ← كُنْتُ مَعَ عُثْمَانَ فِي الدَّارِ وَهُوَ مَحْصُورٌ ← أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← أَبِي، قثنا عَفَّانُ قثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Hadith 754

Sahih

chevron_left Previous
1234…9
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door2. He was asked about the virtues of Abu, the first-born of al-Siddiq, the mercy and pleasure of God be upon him3. He was asked about the words of Ali ibn Abi Talib and others: The best of this nation after its prophet Abu Bakr and Omar4. His saying, may God’s prayers and peace be upon him: “If I had taken people as a friend, I would not have taken a virgin father as a friend5. He, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Pass a virgin father, let him pray to the people.”6. The remainder of his saying: “Show a first-born father who prays to people.”7. It was not narrated that Abu Bakr was the first to become Muslim8. It was not narrated that a virgin father came to ask permission, so the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Permit him, and give him good tidings of paradise.”9. The Virtue of the Commander of the Believers, Omar Ibn Al-Khattab, may God be pleased with him10. The Islam of Umar ibn Al-Khattab, may God be pleased with him11. And among the virtues of Omar bin Al-Khattab from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik, on the authority of his sheikhs other than Abd Allah bin Ahmed, and from the hadith of Abu Bakr bin Malik.12. The virtue of Othman bin Affan, may God be pleased with him13. And from the merits of Othman, from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik on the authority of his sheikhs except for Abdullah bin Ahmad14. The news of the Prince of the Believers, Ali bin Abi Talib, and his asceticism, may God be pleased with him15. His mother's name and genealogy16. A merit upon me, peace be upon him17. And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah18. The Virtue of Abd al-Rahman ibn Awf, may God be pleased with him19. The Virtue of Az-Zubayr Bin Awwam, may God be pleased with him
20. Fadil Abi Ubaidah Ibn Al Jarrah, may God be pleased with him
21. Fadil Talha Bin Ubaid Allah, may God be pleased with him
22. Fadil Saad bin Abi Waqas, may God be pleased with him
23. Fadil Fatima, the daughter of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him
24. The virtues of good, and the good, may God be pleased with them.
25. The Virtues of Ansar, may God be pleased with them
26. The virtue of Khalid bin Al-Walid, may God have mercy on him
27. Fadil Saad bin Muadh, may God have mercy on him
28. Fadil Haritha Ibn Nu'man, may God be pleased with him
29. Fadil Suhaib, may God be pleased with him
30. The virtues of the Arabs
31. The virtue of Usama bin Zaid, may God be pleased with him
32. Fadil Abdullah bin Masoud, may God be pleased with him
33. Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with them
34. Virtues of Khadija and others
35. Fadil Ammar ibn Yasser, may God be pleased with him
36. Virtues 0 People of Yemen
37. Virtues of the family of the Mother of the Believers, may God be pleased with her, and other things among the people of Yemen
38. The virtues of the Banu Ghafar, and Islam and others
39. Fadil Jaafar ibn Abi Talib, may God be pleased with him
40. Fadil Jarir bin Abdullah, may God be pleased with him
41. Fadil Abdullah Bin Omar, may God be pleased with them
42. The virtues of a people of the Levant
43. The Virtue of the Companions of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him
44. The virtue of Amr ibn al-Aas, may God be pleased with him
45. The Virtues of Mu`awiyah Bin Abi Sufyan, may God be pleased with them
46. The virtues of Abu al-Fadl al-Abbas ibn Abd al-Muttalib, the uncle of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him
47. Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with him