Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

1,963 Hadith48 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 731

731 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، نَا أَبُو مُعَاوِيَةَ قَالَ: حَدَّثَنِي الْأَعْمَشُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سِنَانٍ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ حِينَ اسْتُخْلِفَ عُثْمَانُ: مَا أَلَوْنَا عَنْ أَعْلَاهَا ذِي فُوقٍ.

عبداللہ بن سنان ؒ سے روایت ہے کہ جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ منصب خلافت پر فائز ہوئے تو سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ہم نے صاحب فضیلت کے انتخاب میں کوئی کوتاہی نہیں کی ۔ (2)

أَعْلَاهَا ذِي فُوقٍ. ← عَبْدُ اللهِ حِين اُسْتُخْلِفَ عُثْمَان مَا أَلَوْنَا ← عَبْدِ اللهِ بْن سِنَانٍ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ

Hadith 731

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 732

732 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: نَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ، وَهُوَ الرَّازِيُّ، قَالَ: نا جَرِيرٌ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي الْمُغِيرَةِ الْخُزَاعِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «يَطْلُعُ عَلَيْكُمْ مِنْ هَذَا الْفَجِّ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ» ، فَطَلَعَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ.

سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اب تم پر اس راستے سے ایک جنتی آدمی نمودار ہوگا توسیدنا عثمان رضی اللہ عنہ وہاں سے نمودار ہوئے ۔(3)

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← جَعْفَرِ بْنِ أَبِي الْمُغِيرَةِ الْخُزَاعِيِّ، ← أَشْعَثَ بْنِ إِسْحَاقَ، ← جَرِيرٌ ← مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ، وَهُوَ الرَّازِيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Hadith 732

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 733

733 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، نا أَبِي قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مَالِكٍ الْأَشْجَعِيُّ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ مُحَمَّدِ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ قَالَ: بَلَغَ عَلِيًّا أَنَّ عَائِشَةَ تَلْعَنُ قَتَلَةَ عُثْمَانَ فِي الْمِرْبَدِ، قَالَ: فَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى بَلَغَ بِهِمَا وَجْهَهُ فَقَالَ: وَأَنَا أَلْعَنُ قَتَلَةَ عُثْمَانَ، لَعَنَهُمُ اللَّهُ فِي السَّهْلِ وَالْجَبَلِ، قَالَ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا

محمد بن حنفیہ ؒ سے روایت ہے کہ میرے باپ سیدنا علی کو یہ خبر ملی کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے " مربد" میں قاتلین عثمان رضی اللہ عنہ پر لعنت بھیجی ہے تو انہوں نے اپنے ہاتھ اٹھائے یہاں تک کہ انہیں اپنے چہرے کے برابر لے آئے اور کہا : میں بھی قاتلین عثمان رضی اللہ عنہ پر لعنت بھیجتا ہوں ۔ اللہ تعالیٰ بھی قاتلین عثمان پر میدان اور پہاڑ میں ( جہاں کہیں بھی ہیں ) لعنت بھیجے دو یا تین مرتبہ انہوں نے یہ بات کہی۔(4)

مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا ← أَلْعَنُ قَتَلَةَ عُثْمَانَ، لَعَنَهُمُ اللَّهُ فِي السَّهْلِ وَالْجَبَلِ، ← فَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى بَلَغَ بِهِمَا وَجْهَهُ ← بَلَغَ عَلِيًّا أَنَّ عَائِشَةَ تَلْعَنُ قَتَلَةَ عُثْمَانَ فِي الْمِرْبَدِ، ← مُحَمَّدِ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ ← سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، ← أَبُو مَالِکٍ الْأَشْجَعِيُّ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ

Hadith 733

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 734

734 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا هُشَيْمٌ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ قَالَ: قَالُوا: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، أَخْبِرِينَا عَنْ عُثْمَانَ، قَالَ: فَاسْتَجْلَسَتِ النَّاسَ، فَحَمِدَتِ اللَّهَ وَأَثْنَتْ عَلَيْهِ، فَقَالَتْ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّا نَقَمْنَا عَلَى عُثْمَانَ ثَلَاثًا: إِمْرَةَ الْفَتَى، وَالْحِمَى، وَضَرْبَهُ السَّوْطَ، ثُمَّ تَرَكْتُمُوهُ حَتَّى إِذَا مُصْتُمُوهُ مَوْصَ الثَّوْبِ عَدَوْتُمْ عَلَيْهِ الْفِقَرَ الثَّلَاثَ: حُرْمَةَ دَمِهِ الْحَرَامِ، وَحُرْمَةَ الْبَلَدِ الْحَرَامِ، لَعُثْمَانُ كَانَ أَتْقَاهُمْ لِلرَّبِّ، وَأَحْصَنَهُمْ لِلْفَرْجِ، وَأَوْصَلَهُمْ لِلرَّحِمِ

موسیٰ بن طلحہ ؒ سے روایت ہے کہ سیدنا عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : اے لوگوں ! سنو ہم وہ بات بیان کرتے ہیں جس کے لیے تم یہاں جمع ہوئے ہو کہ بے شک تم نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ پر تین طرح کے اعترضات کیے ہیں ۔ 1۔ انہوں نے نوجوانوں کو خلافت میں حصہ دار بنایاہے ۔ 2۔غمامہ نامی جگہ کے متعلق ۔ 3۔ ان کے لاٹھی اور کوڑے مارنے کے متعلق ۔ یہاں تک کہ تم نے ان کو ایسے نچوڑا جس طرح کپڑوں سے صابن کو نچوڑا جاتا ہے پھر تم لوگ حد سے گز ر گئے اور تین حرمتوں کا بھی خیال نہیں رکھا اس شہر کی حرمت ، خلافت اور حرمت والے مہینے کا حرمت ۔ حالانکہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ پاکدامن اور صلہ رحمی کرنے والے ہیں۔(1)

يَا أَيُّهَا النَّاسُ ← فَاسْتَجْلَسَتِ النَّاسَ، فَحَمِدَتِ اللَّهَ وَأَثْنَتْ عَلَيْهِ، ← عُثْمَانَ، ← يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، أَخْبِرِينَا ← مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← أَبِي، قثنا هُشَيْمٌ ← عَبْدُ اللَّهِ

Hadith 734

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 735

735 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا هُشَيْمٌ، عَنْ يُونُسَ، يَعْنِي: ابْنَ عُبَيْدٍ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ جُنْدُبٍ قَالَ: أَتَيْتُ بَابَ حُذَيْفَةَ فَاسْتَأْذَنْتُ ثَلَاثًا، فَلَمْ يُؤْذَنْ لِي، فَذَكَرَ هُشَيْمٌ قِصَّةً فِيهَا قَالَ: ذَهَبُوا لِيَقْتُلُوهُ، قُلْتُ: فَأَيْنَ هُوَ؟ قَالَ: فِي الْجَنَّةِ، قُلْتُ: فَأَيْنَ قَتَلَتُهُ؟ قَالَ: فِي النَّارِ، يَعْنِي قَتَلَةَ عُثْمَانَ.

سیدنا جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہےکہ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہا کے دروازے پر آیا تو مجھے تین دفعہ اجازت طلب کرنے کے باوجود اجازت نہ ملی تو ہشیم نے مجھے اس بارے میں پوراقصہ بیان کیا کہ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا وہ قتل کرنے کی غرض سے چلے گئے ہیں ۔ میں (سیدنا جندب رضی اللہ عنہ ) نے کہا اب وہ کہاں ہیں ؟ فرمایا جنت میں میں نے پوچھا : مگر ان کے قاتل کہاں ہیں ؟ فرمایا جہنم میں ۔یعنی قاتلین عثمان جہنم میں ہیں ۔ (2)

فِي النَّارِ، يَعْنِي قَتَلَةَ عُثْمَانَ. ← فِي الْجَنَّةِ، قُلْتُ: فَأَيْنَ قَتَلَتُهُ؟ ← ذَهَبُوا لِيَقْتُلُوهُ، قُلْتُ: فَأَيْنَ هُوَ؟ ← أَتَيْتُ بَابَ حُذَيْفَةَ فَاسْتَأْذَنْتُ ثَلَاثًا، فَلَمْ يُؤْذَنْ لِي، فَذَكَرَ هُشَيْمٌ قِصَّةً فِيهَا ← جُنْدُبٍ ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← يُونُسَ يَعْنِي ابْنَ عُبَيْدٍ، ← أَبِي، قثنا هُشَيْمٌ ← عَبْدُ اللَّهِ

Hadith 735

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 736

736 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ: نَا مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ الْأَسَدِيُّ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ حَسَّانَ بْنِ عَطِيَّةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «غَفَرَ اللَّهُ لَكَ يَا عُثْمَانُ مَا قَدَّمْتَ وَمَا أَخَّرْتَ، وَمَا أَسْرَرْتَ وَمَا أَعْلَنْتَ، وَمَا أَخْفَيْتَ وَمَا أَبْدَيْتَ، وَمَا هُوَ كَائِنٌ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ» .

حسان بن عطیہ ؒ سے روایت ہےکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے عثمان اللہ تعالیٰ نے تیری پہلے کی بعد والی ، پوشیدہ ، اعلانیہ مخفی اور ظاہری قیامت تک ہونے والی تمام خطائیں معاف کر دی ہیں ۔ (3)

حَسَّانُ بْنُ عَطِیَّۃَ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ الْأَسَدِيُّ ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ

Hadith 736

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 737

737 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ قثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، يَعْنِي شَيْبَانَ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ مِنْ مِصْرَ قَدْ حَجَّ الْبَيْتَ، فَرَأَى قَوْمًا جُلُوسًا فَقَالَ: مَنْ هَؤُلَاءِ؟ فَقَالُوا: هَؤُلَاءِ قُرَيْشٌ، قَالَ: فَمَنِ الشَّيْخُ فِيهِمْ؟ قَالُوا: ابْنُ عُمَرَ، فَأَتَى فَقَالَ: يَا ابْنَ عُمَرَ، إِنْ سَأَلْتُكَ عَنْ شَيْءٍ تُحَدِّثْنِي؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: أَنْشُدُكَ بِحُرْمَةِ هَذَا الْبَيْتِ، أَتَعْلَمُ أَنَّ عُثْمَانَ فَرَّ يَوْمَ أُحُدٍ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَتَعْلَمُهُ تَغَيَّبَ عَنْ بَدْرٍ فَلَمْ يَشْهَدْهُ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَتَعْلَمُ أَنَّهُ يَعْنِي تَغَيَّبَ عَنْ بَيْعَةِ الرِّضْوَانِ فَلَمْ يَشْهَدْهَا؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَكَبَّرَ، قَالَ: فَقَالَ لَهُ ابْنُ عُمَرَ: تَعَالَ حَتَّى أُخْبِرَكَ وَأُبَيِّنَ لَكَ مَا سَأَلْتَنِي عَنْهُ: أَمَّا فِرَارُهُ يَوْمَ أُحُدٍ، فَأَنَا أَشْهَدُ أَنَّ اللَّهَ قَدْ عَفَا عَنْهُ وَغَفَرَ لَهُ. وَأَمَّا تَغَيُّبُهُ عَنْ بَدْرٍ، فَإِنَّهُ كَانَتْ تَحْتَهُ ابْنَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَتْ مَرِيضَةً، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ لَكَ أَجْرَ رَجُلٍ شَهِدَ بَدْرًا، وَسَهْمُهُ لَكَ» . وَأَمَّا تَغَيُّبُهُ عَنْ بَيْعَةِ الرِّضْوَانِ، فَإِنَّهُ لَوْ كَانَ أَحَدٌ أَعَزَّ بِبَطْنِ مَكَّةَ مِنْ عُثْمَانَ لَبَعَثَهُ، فَبَعَثَ عُثْمَانَ، وَكَانَتْ بَيْعَةُ الرِّضْوَانِ بَعْدَ مَا ذَهَبَ عُثْمَانُ إِلَى مَكَّةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ الْيُمْنَى: «هَذِهِ يَدُ عُثْمَانَ» ، فَضَرَبَ بِيَدِهِ الْأُخْرَى عَلَيْهَا فَقَالَ: «هَذِهِ لِعُثْمَانَ» ، فَقَالَ لَهُ ابْنُ عُمَرَ: اذْهَبْ بِهَذِهِ الثَّلَاثِ مَعَكَ.

سیدنا عثمان بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہےکہ مصر سے ایک شخص حج کرنے کےلیے آیا تو کچھ لوگوں کو بیٹھے دیکھ کر اس نے کہا یہ کون لوگ ہیں ؟ انہوں نے بتایا کہ قریشی ہیں۔ اس نے کہا ان میں الشیخ (معتبر عالم دین ) کون ہیں ؟ کہا سیدنا عبدا للہ بن عمر رضی اللہ عنہ اس آدمی نے کہا ابن عمر ! اگر میں آپ سے کسی چیز کےبارے میں پوچھوں گاتو آپ بیان فرمائیں گے انہو ں نے فرمایا ہاں ! جی پوچھئے ، بولا میں آپ کو اس گھر کی حرمت کی قسم دلا کر پوچھتا ہوں کیا آپ جانتے ہیں کہ عثمان رضی اللہ عنہ جنگ احد سے فرار ہو گئے تھے ۔ ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہاں بولا : کیا آپ جانتے ہیں کہ عثمان رضی اللہ عنہ جنگ بدر میں بھی شریک نہیں ہوئے ؟ سیدنا عبدا للہ بن عمر نے فرمایا : جی ہاں ! مزید پوچھا کیا آپ جانتے ہیں کہ عثمان (رضی اللہ عنہ) بیعت رضوان سے بھی غائب تھے ۔ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا جی ہاں !اس کے بعد اس نے کہا : اللہ اکبر (یعنی میں سچا ہوں جو عثمان رضی اللہ عنہ کے خلاف ہوں ) ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ادھرآؤ میں تمہیں بتاتا ہوں اور تم پر واضح کرتا ہوں کہ جن چیزوں کے بارے میں تو نے مجھ سے سوال کیا ہے تو فرمایا : رہا ان کا احد میں فرار ہونا تو میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ نے انکو معاف فرما دیا ہے اور بخش دیا ہے ۔ رہا ان کابدر سے غائب ہونا تو اس کی وجہ یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ کی بیٹی انکی اہلیہ تھیں جو بیمار تھیں تو نبی کریم ﷺ نے ان سے فر مایا تھا تم کو غزوہ بدر میں شریک ہونے والے کے برابر اجر دیا جائے گااور اس کے برابر تمہارے لیے مال غنیمت سے حصہ بھی ہے ۔ رہا ان کا حدیبیہ سے غائب رہنا تو اس لیے کہ نبی کریم ﷺ نے انکو مکہ بھیجا تھا اگر اہل مکہ کے نزدیک ان کے علاوہ اور کوئی معزز ہوتا تو سیدنا عثمان کو کبھی بھی مکہ نہ بھیجتے بلکہ رسول اللہ ﷺ نے خود اپنے دائیں ہاتھ مبارک کو بائیں ہاتھ مبارک پر رکھ کر فرمایا تھا یہ ہاتھ عثمان کے لیے ہے پھرسیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے اس آدمی کو فرمایا : اب یہ جوابات اپنے ساتھ لے جانا (یعنی اپنے دلائل کے ساتھ انکا آپریشن بھی اپنے دماغ میں ہمیشہ کے لیے محفوظ رکھنا )۔(1)

عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللهِ ← أَبِي، قثنا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ قثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، يَعْنِي شَيْبَانَ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Hadith 737

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 738

738 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ قثنا ضَمْرَةُ بْنُ رَبِيعَةَ قَالَ نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَوْذَبٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ كَثِيرٍ مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: جَاءَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَلْفِ دِينَارٍ فِي ثَوْبِهِ حِينَ جَهَّزَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَيْشَ الْعُسْرَةِ، قَالَ: فَصَبَّهَا فِي حِجْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَلِّبُهَا وَهُوَ يَقُولُ: «مَا ضَرَّ ابْنَ عَفَّانَ مَا عَمِلَ بَعْدَ الْيَوْمِ» ، يُرَدِّدُ ذَلِكَ مِرَارًا.

سیدنا عبدا لرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جیش العسرۃ کی تیاری کے موقع پر جب نبی کریم ﷺ نے چندے کا اعلان کیا تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اپنے کپڑے میں ایک ہزار دینار لے کر آئے اور نبی کریم ﷺ کی جھولی میں ڈال دیے ۔ آپ ﷺ انہیں اپنے سامنے رکھ کر فرما رہے تھے اگر ابن عفان آج کے بعد کوئی عمل بھی نہ کرے تو کچھ نقصان نہ ہو گا اس بات کو نبی کریم ﷺ بار بار دہراتے رہے ۔ (2)

عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ ← كَثِيرٍ مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ، ← عَبْدُ اللهِ بْنُ الْقَاسِمِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَوْذَبٍ، ← هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ قثنا ضَمْرَةُ بْنُ رَبِيعَةَ ← عَبْدُ اللَّهِ

Hadith 738

Hassan

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 739

739 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، نَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ قَالَ: نا حَمَّادٌ، يَعْنِي: ابْنَ سَلَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْعَرَارُ بْنُ سُوَيْدٍ الْكُوفِيُّ، عَنْ عَمِيرَةَ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: كُنَّا مَعَ عَلِيٍّ عَلَى شَاطِئِ الْفُرَاتِ، فَمَرَّتْ سَفِينَةٌ مَرْفُوعٌ شِرَاعُهَا، فَقَالَ عَلِيٌّ: يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: {وَلَهُ الْجَوَارِ الْمُنْشَآتُ فِي الْبَحْرِ كَالْأَعْلَامِ} [الرحمن: 24] ، وَالَّذِي أَنْشَأَهَا فِي بَحْرٍ مِنْ بِحَارِهِ مَا قَتَلْتُ عُثْمَانَ، وَلَا مَالَأْتُ عَلَى قَتْلِهِ.

عمیر ۃ بن سعد ؒ سے روایت ہے کہ ہم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ دریائے فرات کے کنارے پر تھے تو اتنے میں ایک بادبانی کشی گزری تو سیدنا علی نے فرمایا اللہ عزوجل فرماتے ہیں (ولہ الجوار المنشات فی البحر کالاعلام ) اور اس ذات کی قسم ! جس نے اس کشتی کو اپنے سمندروں میں سے ایک سمندر میں چلایا ہے نہ میں نے سیدنا عثمان کو شہید کیا تھا اور نہ ہی قاتلین کے ساتھ مل کر کوئی سازش کی ۔ (1)

عَلِيٍّ، ← كُنَّا مَعَ عَلِيٍّ عَلَى شَاطِئِ الْفُرَاتِ، فَمَرَّتْ سَفِينَةٌ مَرْفُوعٌ شِرَاعُهَا، ← عَمِيرَةَ بْنِ سَعْدٍ ← الْعَرَارُ بْنُ سُوَيْدٍ الْكُوفِيُّ، ← حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ← بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ، ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ

Hadith 739

Hassan

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 740

740 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قثنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقُرَشِيُّ، وَهُوَ الْكُوفِيُّ، قَالَ نا يَحْيَى بْنُ يَمَانٍ قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ قَالَ: سَمِعْتُ زَمْعَةَ بْنَ صَالِحٍ قَالَ: سَمِعَ طَاوُسٌ رَجُلًا وَهُوَ يَقُولُ لِرَجُلٍ: مَا رَأَيْتُ رَجُلًا قَطُّ شَرًّا مِنْكَ، فَقَالَ لَهُ: أَنْتَ لَمْ تَرَ قَاتِلَ عُثْمَانَ.

زمعہ بن صالح ؒ سے روایت ہے کہ امام طاؤس ؒ نے ایک آدمی سے سنا جو ایک دوسرے آدمی سے کہہ رہا تھا میں نے تم سے زیادہ برا آدمی کبھی نہیں دیکھا تو امام طاؤس ؒ نے فرمایا تم نے پھر قاتلین عثمان کو نہیں دیکھا (یعنی وہ اس سے زیادہ برے ہیں ۔(2)

طَاوُسٌ رَجُلًا وَهُوَ ← زَمْعَةُ بْنُ صَالِحٍ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ← يَحْيَى بْنُ يَمَانٍ؛

Hadith 740

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 741

741 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ قثنا مُسْهِرُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سَلْعٍ قَالَ أنا عِيسَى بْنُ عُمَرَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ مُرَّةَ بْنِ شَرَاحِيلَ قَالَ: لَئِنْ أَكُونُ يَوْمَئِذٍ قُتِلْتُ مَعَ عُثْمَانَ فِي الدَّارِ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ كَذَا كَذَا.

مرہ بن شراحیل ؒ نے فرمایا : اگر مجھے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ انکے گھر میں قتل کیا جاتا تو کتنا اچھا ہوتا۔ (3)

مُرَّةَ بْنِ شَرَاحِيلَ ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← عيسى بن عمر ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ قثنا مُسْهِرُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سَلْعٍ ← عَبْدُ اللَّهِ

Hadith 741

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 742

742 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ قثنا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَتْنِي جَدَّتِي، أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ كَانَ لَا يُوقِظُ أَحَدًا مِنْ أَهْلِهِ مِنَ اللَّيْلِ، إِلَّا أَنْ يَجِدَهُ يَقْظَانَ فَيَدْعُوهُ، فَيُنَاوِلَهُ وَضُوءَهُ، وَكَانَ يَصُومُ الدَّهْرَ.

سیدنا زبیر بن عبد اللہ ؒ سے روایت ہے کہ مجھے میری دادی نے بتایا تھا کہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ گھر والوں کو کسی خدمت کی غرض سے نماز تہجد کے لیے نہیں جگاتے تھے ہاں اگر کوئی جاگ رہا ہوتا تو ان سے وضو کے لیے پانی ضرور منگوا لیتے اور ہمیشہ روزے کی حالت میں رہتے ۔ (4)

الزُّبَيْرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ قثنا ابْنُ الْمُبَارَكِ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Hadith 742

Sahih

chevron_left Previous
1234…9
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door2. He was asked about the virtues of Abu, the first-born of al-Siddiq, the mercy and pleasure of God be upon him3. He was asked about the words of Ali ibn Abi Talib and others: The best of this nation after its prophet Abu Bakr and Omar4. His saying, may God’s prayers and peace be upon him: “If I had taken people as a friend, I would not have taken a virgin father as a friend5. He, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Pass a virgin father, let him pray to the people.”6. The remainder of his saying: “Show a first-born father who prays to people.”7. It was not narrated that Abu Bakr was the first to become Muslim8. It was not narrated that a virgin father came to ask permission, so the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Permit him, and give him good tidings of paradise.”9. The Virtue of the Commander of the Believers, Omar Ibn Al-Khattab, may God be pleased with him10. The Islam of Umar ibn Al-Khattab, may God be pleased with him11. And among the virtues of Omar bin Al-Khattab from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik, on the authority of his sheikhs other than Abd Allah bin Ahmed, and from the hadith of Abu Bakr bin Malik.12. The virtue of Othman bin Affan, may God be pleased with him13. And from the merits of Othman, from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik on the authority of his sheikhs except for Abdullah bin Ahmad14. The news of the Prince of the Believers, Ali bin Abi Talib, and his asceticism, may God be pleased with him15. His mother's name and genealogy16. A merit upon me, peace be upon him17. And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah18. The Virtue of Abd al-Rahman ibn Awf, may God be pleased with him19. The Virtue of Az-Zubayr Bin Awwam, may God be pleased with him
20. Fadil Abi Ubaidah Ibn Al Jarrah, may God be pleased with him
21. Fadil Talha Bin Ubaid Allah, may God be pleased with him
22. Fadil Saad bin Abi Waqas, may God be pleased with him
23. Fadil Fatima, the daughter of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him
24. The virtues of good, and the good, may God be pleased with them.
25. The Virtues of Ansar, may God be pleased with them
26. The virtue of Khalid bin Al-Walid, may God have mercy on him
27. Fadil Saad bin Muadh, may God have mercy on him
28. Fadil Haritha Ibn Nu'man, may God be pleased with him
29. Fadil Suhaib, may God be pleased with him
30. The virtues of the Arabs
31. The virtue of Usama bin Zaid, may God be pleased with him
32. Fadil Abdullah bin Masoud, may God be pleased with him
33. Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with them
34. Virtues of Khadija and others
35. Fadil Ammar ibn Yasser, may God be pleased with him
36. Virtues 0 People of Yemen
37. Virtues of the family of the Mother of the Believers, may God be pleased with her, and other things among the people of Yemen
38. The virtues of the Banu Ghafar, and Islam and others
39. Fadil Jaafar ibn Abi Talib, may God be pleased with him
40. Fadil Jarir bin Abdullah, may God be pleased with him
41. Fadil Abdullah Bin Omar, may God be pleased with them
42. The virtues of a people of the Levant
43. The Virtue of the Companions of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him
44. The virtue of Amr ibn al-Aas, may God be pleased with him
45. The Virtues of Mu`awiyah Bin Abi Sufyan, may God be pleased with them
46. The virtues of Abu al-Fadl al-Abbas ibn Abd al-Muttalib, the uncle of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him
47. Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with him