فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1871
1871 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا هُشَيْمٌ قَالَ: أنا أَبُو بِشْرٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَأْذَنُ لِأَهْلِ بَدْرٍ وَيَأْذَنُ لِي مَعَهُمْ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: تَأْذَنُ لِهَذَا الْفَتَى مَعَنَا وَمَنْ أَبْنَائِنَا مَنْ هُوَ مِثْلُهُ؟ فَقَالَ عُمَرُ: إِنَّهُ مِمَّنْ قَدْ عَلِمْتُمْ، قَالَ: فَأَذِنَ لَهُمْ ذَاتَ يَوْمٍ، وَأَذِنَ لِي مَعَهُمْ، فَسَأَلَهُمْ عَنْ هَذِهِ السُّورَةِ {إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ} [النصر: 1] فَقَالُوا: أَمَرَ اللَّهَ نَبِيَّهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا فَتْحَ عَلَيْهِ أَنْ يَسْتَغْفِرَهُ وَأَنْ يَتُوبَ إِلَيْهِ. فَقَالَ لِي: مَا تَقُولُ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ؟ قَالَ: قُلْتُ: لَيْسَ كَذَلِكَ، " وَلَكِنَّهُ أَخْبَرَ نَبِيَّهُ بِحُضُورِ أَجَلِهِ، فَقَالَ: {إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ} [النصر: 1] فَتْحُ مَكَّةَ، {وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللَّهِ أَفْوَاجًا} [النصر: 2] ، أَيْ فَذَلِكَ عَلَامَةُ مَوْتِكَ {فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَاسْتَغْفِرْهُ إِنَّهُ كَانَ تَوَّابًا} [النصر: 3] "، فَقَالَ لَهُمْ: كَيْفَ تَلُومُونِي عَلَى مَا تَرَوْنَ؟ .
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اپنی مجلس میں اہل بدر کے ساتھ مجھے بھی بلاتے تھے ، جس سے بعض صحابہ کرام نے کہا : امیر المومنین !آپ اس بچے کو ہمارے ساتھ شریک کرتے ہیں اس جتنے تو ہمارے بچے بھی ہیں توسیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ان کو تو آپ خؤب جان چکے ہیں پس ایک دن مجھے ان کے ساتھ بلایا اور صحابہ کرام سے سوال کیا : اس سورت نصر کا کیا مطلب ہے ؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بولے اللہ نے نبی کریم ﷺ کو فتح کے بدلے توبہ و استغفار کا حکم دیا ہے پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مجھ (سیدنا عبداللہ بن عباس ) سےپوچھا ابن عباس اس کے بارے میں تم کیا کہتے ہو ؟ میں نے کہا میں نے کہا ایسے نہیں ہے بلکہ اس سے مراد اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول اللہ ﷺ کو وقت مقررہ کی خبر دی ہے ۔ چنانچہ فرمایا : اذا جا ء نصر اللہ والفتح سے مراد مکہ ، ورایت الناس ید خلون فی دین اللہ افواجا سے مراد آپ کی علامت وفات ہے نیز فرمایا فسبح بحمد ربک و استغفر انہ کان توابا (آپ ﷺ اپنے پروردگار کی تعریف کے ساتھ تسبیح کریں اور اس سے مغفرت مانگیں بے شک وہ معاف کرنے والا ہے ) چنانچہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے صحابہ کرام سے فرمایا اب اس حقیقت کو اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ کر تم مجھے کیسے ملامت کر سکتے ہو ۔؟(1)
عُمَرَ، ← بَعْضُهُمْ: تَأْذَنُ لِهَذَا الْفَتَى مَعَنَا وَمَنْ أَبْنَائِنَا مَنْ هُوَ مِثْلُهُ؟ ← كان عمر بن الخطاب يأذن لأهل بدر, ويأذن لي معهم, ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← أَبُو بِشْرِ: ← أَبِي، قثنا هُشَيْمٌ ← عَبْدُ اللَّهِ
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with him · Hadith 1871
