Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

1,963 Hadith48 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1871

1871 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا هُشَيْمٌ قَالَ: أنا أَبُو بِشْرٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَأْذَنُ لِأَهْلِ بَدْرٍ وَيَأْذَنُ لِي مَعَهُمْ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: تَأْذَنُ لِهَذَا الْفَتَى مَعَنَا وَمَنْ أَبْنَائِنَا مَنْ هُوَ مِثْلُهُ؟ فَقَالَ عُمَرُ: إِنَّهُ مِمَّنْ قَدْ عَلِمْتُمْ، قَالَ: فَأَذِنَ لَهُمْ ذَاتَ يَوْمٍ، وَأَذِنَ لِي مَعَهُمْ، فَسَأَلَهُمْ عَنْ هَذِهِ السُّورَةِ {إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ} [النصر: 1] فَقَالُوا: أَمَرَ اللَّهَ نَبِيَّهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا فَتْحَ عَلَيْهِ أَنْ يَسْتَغْفِرَهُ وَأَنْ يَتُوبَ إِلَيْهِ. فَقَالَ لِي: مَا تَقُولُ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ؟ قَالَ: قُلْتُ: لَيْسَ كَذَلِكَ، " وَلَكِنَّهُ أَخْبَرَ نَبِيَّهُ بِحُضُورِ أَجَلِهِ، فَقَالَ: {إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ} [النصر: 1] فَتْحُ مَكَّةَ، {وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللَّهِ أَفْوَاجًا} [النصر: 2] ، أَيْ فَذَلِكَ عَلَامَةُ مَوْتِكَ {فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَاسْتَغْفِرْهُ إِنَّهُ كَانَ تَوَّابًا} [النصر: 3] "، فَقَالَ لَهُمْ: كَيْفَ تَلُومُونِي عَلَى مَا تَرَوْنَ؟ .

سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اپنی مجلس میں اہل بدر کے ساتھ مجھے بھی بلاتے تھے ، جس سے بعض صحابہ کرام نے کہا : امیر المومنین !آپ اس بچے کو ہمارے ساتھ شریک کرتے ہیں اس جتنے تو ہمارے بچے بھی ہیں توسیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ان کو تو آپ خؤب جان چکے ہیں پس ایک دن مجھے ان کے ساتھ بلایا اور صحابہ کرام سے سوال کیا : اس سورت نصر کا کیا مطلب ہے ؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بولے اللہ نے نبی کریم ﷺ کو فتح کے بدلے توبہ و استغفار کا حکم دیا ہے پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مجھ (سیدنا عبداللہ بن عباس ) سےپوچھا ابن عباس اس کے بارے میں تم کیا کہتے ہو ؟ میں نے کہا میں نے کہا ایسے نہیں ہے بلکہ اس سے مراد اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول اللہ ﷺ کو وقت مقررہ کی خبر دی ہے ۔ چنانچہ فرمایا : اذا جا ء نصر اللہ والفتح سے مراد مکہ ، ورایت الناس ید خلون فی دین اللہ افواجا سے مراد آپ کی علامت وفات ہے نیز فرمایا فسبح بحمد ربک و استغفر انہ کان توابا (آپ ﷺ اپنے پروردگار کی تعریف کے ساتھ تسبیح کریں اور اس سے مغفرت مانگیں بے شک وہ معاف کرنے والا ہے ) چنانچہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے صحابہ کرام سے فرمایا اب اس حقیقت کو اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ کر تم مجھے کیسے ملامت کر سکتے ہو ۔؟(1)

عُمَرَ، ← بَعْضُهُمْ: تَأْذَنُ لِهَذَا الْفَتَى مَعَنَا وَمَنْ أَبْنَائِنَا مَنْ هُوَ مِثْلُهُ؟ ← كان عمر بن الخطاب يأذن لأهل بدر, ويأذن لي معهم, ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← أَبُو بِشْرِ: ← أَبِي، قثنا هُشَيْمٌ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with him · Hadith 1871

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1872

1872 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ قثنا شَرِيكٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ قَالَ: " كُنْتُ إِذَا رَأَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، قُلْتُ: أَجْمَلُ النَّاسِ، وَإِذَا تَكَلَّمُ، قُلْتُ: أَفْصَحُ النَّاسِ، وَإِذَا أَفْتَى، قُلْتُ: أَقْضِي النَّاسِ، وَإِذَا ذَكَرَ أَهْلَ فَارِسٍ، قُلْتُ: أَعْلَمُ النَّاسِ ". نَحْوَ ذَا قَالَ شَرِيكٌ

اعمش رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کو دیکھ کر کہتا : یہ لوگوں میں سب سے زیادہ خوبصورت ہیں جب باتیں کرتے تو میں کہتا ان سے زیادہ کویئ فضاحت والا نہیں ، جب فیصلہ کرتے تو میں کہتا: ان سے زیادہ کوئی اچھا فیصلہ کرنے والا نہیں اور جب اہل فارس کا تذکرہ کرتے تو میں کہتا : ان سے بڑا عالم کوئی نہیں ہے ۔ (2)

الْاَعْمَشِ ← أَبِي، قثنا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ قثنا شَرِيكٌ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with him · Hadith 1872

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1873

1873 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، نا مَعْمَرٌ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ، لَمَّا دَفَنَ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ حَثَا عَلَيْهِ التُّرَابَ، ثُمَّ قَالَ: «هَكَذَا يُدْفَنُ الْعِلْمُ» قَالَ عَلِيٌّ فَحَدَّثْتُ بِهِ عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ، فَقَالَ: وَابْنُ عَبَّاسٍ وَاللَّهِ قَدْ دُفِنَ بِهِ عِلْمٌ كَثِيرٌ

علی بن زید بن جدعان سے روایت ہے کہ جب سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کو دفن کیا ، قبر پر مٹی ڈالی تو فرمایا : اس طرح علم کو دفنا یا جاتا ہے ۔ علی بن زید بن جدعان کہتے ہیں کہ اسی طرح مجھے علی بن حسین رحمۃ اللہ علیہ نے بیان کیا کہ یقنا اللہ کی قسم ! سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے ساتھ بہت زیادہ علم کو دفنا یا گیا (3)

عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ، ← مَعْمَرٌ، ← أَبِي، قثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with him · Hadith 1873

Hassan

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1874

1874 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: سَمِعْتُ مَعْمَرًا يَقُولُ: كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَقُولُ لِأَخٍ لَهُ مِنَ الْأَنْصَارِ " اذْهَبْ بِنَا إِلَى أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ فَلَعَلَّهُ أَنْ يُحْتَاجَ إِلَيْنَا، فَقَالَ: وَكَانَ إِذَا صَلَّى أَجْلِسَ غِلْمَانَهُ خَلْفَهُ، فَإِذَا مَرَّ بِآيَةٍ لَمْ يَسْمَعْ فِيهَا شَيْئًا، رَدَّدَهَا فَكَتَبُوهَا فَإِذَا خَرَجَ سَأَلَ عَنْهَا ".

معمر رحمۃ اللہ عیہ سے روایت ہےکہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اپنے ایک انصاری بھائی سے کہہ رہے تھے : ہمارے ساتھ صحابہ کرام کے پاس چلیں ، شاید ان کو ہماری ضرورت ہو اور سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ جب نماز پڑھتے تو اپنے بچوں کو اس بیٹھاتے ، بار بار آیات پڑھاتے ، لکھواتے اور جب باہر نکلتے تو ان سے ان آیات کے بارے سوال کرتے ۔(1)

کَانَ ابْنُ عَبَّاسِ ← مَعْمَرًا، ← أَبِي، قثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with him · Hadith 1874

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1875

1875 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: وَجَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي بِخَطِّ يَدِهِ، نا مُحَمَّدُ بْنُ النُّوشَجَانِ قثنا بَشِيرٌ أَبُو تَوْبَةَ قَالَ نا خُصَيْفٌ قَالَ: كَانَ عَطَاءٌ إِذَا حَدَّثَنَا عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «قثنا الْبَحْرُ»

خصیف رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ امام عطاء ابی رباح رحمۃ اللہ علیہ جب بھی سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے کوئی روایت بیان کرتے تو کہتے کہ مجھے (علم کے ) سمندر نے یوں بیان کیا ۔(2)

«قثنا الْبَحْرُ» ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← كَانَ عَطَاءٌ إِذَا ← خُصَيْفٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ النُّوشَجَانِ قثنا بَشِيرٌ أَبُو تَوْبَةَ ← وَجَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي بِخَطِّ يَدِهِ: ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with him · Hadith 1875

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1876

1876 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا هُشَيْمٌ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ قَالَ: «شَهِدْتُ وَفَاةَ ابْنِ عَبَّاسٍ بِالطَّائِفِ فَوَلِيَهُ مُحَمَّدُ ابْنُ الْحَنَفِيَّةِ» .

ابو حمزہ رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی وفات پر طائف میں حاضر ہوا تو ان کے ساتھ پرست محمد بن حنفیہ رحمۃ اللہ علیہ تھے (یعنی ان کی تجہیز تکفین کا انتظام انہی کے زیر نگرانی ہو رہا تھا ۔)(3)

«شَهِدْتُ وَفَاةَ ابْنِ عَبَّاسٍ بِالطَّائِفِ فَوَلِيَهُ مُحَمَّدُ ابْنُ الْحَنَفِيَّةِ» ← أَبِي جَمْرَةَ ← أَبِي، قثنا هُشَيْمٌ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with him · Hadith 1876

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1877

1877 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا جَرِيرٌ، عَنْ مُغِيرَةَ قَالَ: قِيلَ لِابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّى أَصَبْتَ هَذَا الْعِلْمَ؟ قَالَ: «لِسَانًا سَئُولًا، وَقَلْبًا عَقُولًا» .

مغیرہ رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا اس قدر علم آپ کو کیسے حاصل ہوا؟ تو سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا بار بار پوچھنے والی زبان اور عقلمندر دل سے ۔ (4)

«لِسَانًا سَئُولًا، وَقَلْبًا عَقُولًا» ← قِيلَ لِابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّى أَصَبْتَ هَذَا الْعِلْمَ؟ ← مُغِيرَةَ، ← أَبِي، قثنا جَرِيرٌ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with him · Hadith 1877

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1878

1878 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، «إِنَّ عُمَرَ كَانَ يُدْنِيهِ فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ إِنَّ لَنَا أَبْنَاءً مِثْلَهُ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ أَنَّهُ مِنْ حَيْثُ تَعْلَمُ» .

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ان سے مشورہ طلب کیا کرتے تھے تو سیدنا عبد الرحمن نبن عوف نے کہا : امیر المومنین اس نوجوان جتنے تو ہمارے بچے بھی ہیں تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا ا : ان کو تو آپ خوب جان چکے ہیں ۔(5)

لَهُ عُمَرُ أَنَّهُ مِنْ حَيْثُ تَعْلَمُ» ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ إِنَّ لَنَا أَبْنَاءً مِثْلَهُ، ← ابْنِ عَبَّاسٍ، «إِنَّ عُمَرَ كَانَ يُدْنِيهِ ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← أَبِي بِشْرٍ، ← شُعْبَةُ، ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with him · Hadith 1878

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1879

1879 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا أَبُوعَمْرٍو الْجَزَرِيُّ مَرْوَانُ بْنُ شُجَاعٍ قَالَ: حَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ عَجْلَانَ الْجَزَرِيُّ الْأَفْطَسُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ: " مَاتَ ابْنُ عَبَّاسٍ بِالطَّائِفِ فَشَهِدْتُ جَنَازَتَهُ، فَجَاءَ طَائِرٌ لَمْ يُرَ عَلَى خِلْقَتِهِ حَتَّى دَخَلَ فِي نَعْشِهِ، ثُمَّ لَمْ يُرَ خَارِجًا مِنْهُ فَلَمَّا دُفِنَ تُلِيَتْ هَذِهِ الْآيَةُ عَلَى شَفِيرِ الْقَبْرِ، لَا يُرَى مَنْ تَلَاهَا {يَا أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ ارْجِعِي إِلَى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَرْضِيَّةً فَادْخُلِي فِي عِبَادِي وَادْخُلِي جَنَّتِي} [الفجر: 28] ". قَالَ مَرْوَانُ: وَأَمَّا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَلِيٍّ، وَعِيسَى بْنُ عَلِيٍّ، فَقَالَا: هُوَ طَائِرٌ أَبْيَضُ.

سید نا جبیر رحمۃ للہ علیہ سے رایت ہے جب سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فوت ہوئے میں ان کے نماز جنازہ میں موجود تھا ایک پرندہ نمودار ہا جسےپہلے نہیں دیکھا گیا تھا ، یہاں تک وہ ان کے کفن مین داخل ہو گیا ۔ ہم نے اسے نکلتے نہیں دیکھا یہاں تک وہ ان کے کفن میں داخل ہو گیا ، ہم نے اسے نکلتے نہیں دیکھا جب ان کو قبر مین دفنایا گیا تو ان کی قبر کے پاس اس آیت کی تلاوت سنائی دینے لگی مگر ہم نہیں دیکھ سکے کہ پڑھنے والا کون ہے ( یا ایتھا النفس المطمئنۃ ارجعی الی ربک راضیہ مرضیۃ فاذ خلی فی عبادی و ادخلی جنتی) (اے اطمینان والی روح ! اپنے رب کی طرف لوٹ جا تو اس سے راضی وہ تجھ سے خوش پس میرے خاص بندوں میں داخل ہو جا اور میری جنت میں چلی جا ) امام اسماعیل بن علی اور امام عیسٰی بن علی رحمۃ اللہ علیہ دونوں کہتے ہیں کہ وہ پرندہ سفید رنگ کا تھا ۔ (1)

سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← سالم بن عجلان الجزري الأفطس ← أَبِي، قثنا أَبُوعَمْرٍو الْجَزَرِيُّ مَرْوَانُ بْنُ شُجَاعٍ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with him · Hadith 1879

Hassan

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1880

1880 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا مُؤَمَّلٌ قثنا حَمَّادٌ، يَعْنِي: ابْنَ زَيْدٍ، عَنْ رَجُلٍ قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ، وَيُوسُفَ بْنَ مِهْرَانَ يَقُولَانِ: " مَا نَحْصِي كَمْ سَمِعْنَا ابْنَ عَبَّاسٍ يُسْأَلُ عَنِ الشَّيْءِ مِنَ الْقُرْآنِ، فَيَقُولُ: هُوَ كَذَا وَكَذَا، أَمَا سَمِعْتَ الشَّاعِرَ يَقُولُ: كَذَا وَكَذَا ".

سعید بن جبیر اور یوسف بن مہران رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے قرآن کے متعلق کسی چیز کے بارے میں بے شمال مرتبہ سوال کیا گیا تو وہ یکے بعد دیگرے ہر وال کا جواب دیتے رہے ، نیز کیا تم نے شاعر کا یہ قوم نہیں سنا کہہ کرتا تائید پیش کرتے ۔ (2)

کَذَا وَکَذَا؟ ← الشَّاعِرَ ← الشَّيْءِ مِنَ الْقُرْآنِ، فَيَقُولُ: هُوَ كَذَا وَكَذَا، أَمَا ← ابْن عَبَّاس يَسْأَلُ ← سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ، وَيُوسُفَ بْنَ مِهْرَانَ يَقُولَانِ: مَا نَحْصِي كَمْ ← رَجُلٌ: ← أَبِي، قثنا مُؤَمَّلٌ قثنا حَمَّادٌ، يَعْنِي: ابْنَ زَيْدٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with him · Hadith 1880

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1881

1881 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى أَبِي، أَبُو يَحْيَى إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ الرَّازِيُّ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سِنَانٍ يَذْكُرُ عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ أَنَّ أَبَا أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيَّ أَتَى مُعَاوِيَةَ فَشَكَى إِلَيْهِ أَنَّ عَلَيْهِ دَيْنًا، فَلَمْ يَرَ مِنْهُ مَا يُحِبُّ، وَرَأَى أَمْرًا كَرِهَهُ، فَقَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ بَعْدِي أَثَرَةً» قَالَ: فَأَيُّ شَيْءٍ أَمَرَكُمْ بِهِ؟ قَالَ: قَالَ: «اصْبِرُوا» قَالَ: فَقَالَ: وَاللَّهِ لَا أَسْأَلُكَ شَيْئًا أَبَدًا، وَقَدِمَ الْبَصْرَةَ فَنَزَلَ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ وَقَرْعَ لَهُ بَيْتَهُ الَّذِي كَانَ فِيهِ، وَقَالَ: لَأَصْنَعَنَّ مَا صَنَعْتُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ: كَمْ عَلَيْكَ مِنَ الدَّيْنِ؟ قَالَ: عِشْرُونَ أَلْفًا، فَأَعْطَاهُ أَرْبَعِينَ أَلْفًا وَعِشْرِينَ مَمْلُوكًا، وَقَالَ: لَكَ مَا فِي الْبَيْتِ كُلُّهُ.

حبیب بن ابی ثابت رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پا س آئے اور بطور شکایت کہا مجھ پر قرض ہے راوی کا بیان ہےکہ آپ رضی اللہ عنہ نے (سیدنا معاویہ) کی طرف سے پسند یدہ سلوک نہ دیکھا بلکہ وہی کا م دیکھا جس کو وہ ناپسند کرتے تھے اور کہا میں (سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ) نے سنا ہے کہ رسول اللہ ﷺ فرما رہے تھے : یقینا تم میرے بعد قرابت داری پاؤ گے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اس وقت آپ ﷺ نے آپ رضی اللہ عنہ کو کیا حکم دیا تھا تو ابو ایوب رضی اللہ عنہ نے فرمایا :آپ ﷺ نے اس وقت ہمیں صبر کا حکم دیا تھا پھر فرمایا : اللہ کی قسم ! میں کبھی آپ سے کسی چیز کا سوال نہیں کروں گا ، یہ کہہ کر وہ بصرہ لوٹ آئے ، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس بطور مہمان ٹھہرے ، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے ان کےلیے اپنا گھر خالی کر دیا اور فرمایا: میں آپ کے ساتھ وہ سلوک کروں گا جوآپ نے (ہجرت کے موقع پر ) رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کیا تھا ، پھر پوچھا : آپ رضی اللہ عنہ پر کتنا قرض ہے ؟ تو انہوں نے فرمایا : بیس ہزار (درہم یا دینار) تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے ان کو چالیس ہزار اور بیس غلام دے کر فرمایا : اس کے علاوہ جو کچھ اس گھر میں ہے ( وہ بھی آپ رضی اللہ عنہ کا ہے )۔(1)

حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ← أَبَا سِنَانٍ يَذْكُرُ ← عَلَى أَبِي، أَبُو يَحْيَى إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ الرَّازِيُّ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with him · Hadith 1881

Hassan

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1882

1882 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا حَسَنُ بْنُ مُوسَى قثنا زُهَيْرٌ أَبُو خَيْثَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَضَعَ يَدَهُ عَلَى كَتِفَيَّ أَوْ مَنْكِبِي، - شَكَّ سَعِيدٌ - ثُمَّ قَالَ: «اللَّهُمَّ فَقِّهْهُ فِي الدِّينِ، وَعَلِّمْهُ التَّأْوِيلَ» .

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ! نے اپنےہاتھ کو میرے دونوں کندھوں کے درمیان (یعنی گردن کی پچھلی جانب ) یا میرے کندھے ( یہ شک راوی سعید بن جبیر کا ہے ) پر رکھا اور یہ دعا فرمائی : اے اللہ ! اسے دین کی فقاہت (گہری سمجھ) اور قرآن کی تفیسر کا علم عطا فرمایا ۔ (2)

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ← أَبِي، قثنا حَسَنُ بْنُ مُوسَى قثنا زُهَيْرٌ أَبُو خَيْثَمَةَ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with him · Hadith 1882

Hassan

chevron_left Previous
12345…11
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door2. He was asked about the virtues of Abu, the first-born of al-Siddiq, the mercy and pleasure of God be upon him3. He was asked about the words of Ali ibn Abi Talib and others: The best of this nation after its prophet Abu Bakr and Omar4. His saying, may God’s prayers and peace be upon him: “If I had taken people as a friend, I would not have taken a virgin father as a friend5. He, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Pass a virgin father, let him pray to the people.”6. The remainder of his saying: “Show a first-born father who prays to people.”7. It was not narrated that Abu Bakr was the first to become Muslim8. It was not narrated that a virgin father came to ask permission, so the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Permit him, and give him good tidings of paradise.”9. The Virtue of the Commander of the Believers, Omar Ibn Al-Khattab, may God be pleased with him10. The Islam of Umar ibn Al-Khattab, may God be pleased with him11. And among the virtues of Omar bin Al-Khattab from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik, on the authority of his sheikhs other than Abd Allah bin Ahmed, and from the hadith of Abu Bakr bin Malik.12. The virtue of Othman bin Affan, may God be pleased with him13. And from the merits of Othman, from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik on the authority of his sheikhs except for Abdullah bin Ahmad14. The news of the Prince of the Believers, Ali bin Abi Talib, and his asceticism, may God be pleased with him15. His mother's name and genealogy16. A merit upon me, peace be upon him17. And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah18. The Virtue of Abd al-Rahman ibn Awf, may God be pleased with him19. The Virtue of Az-Zubayr Bin Awwam, may God be pleased with him
20. Fadil Abi Ubaidah Ibn Al Jarrah, may God be pleased with him
21. Fadil Talha Bin Ubaid Allah, may God be pleased with him
22. Fadil Saad bin Abi Waqas, may God be pleased with him
23. Fadil Fatima, the daughter of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him
24. The virtues of good, and the good, may God be pleased with them.
25. The Virtues of Ansar, may God be pleased with them
26. The virtue of Khalid bin Al-Walid, may God have mercy on him
27. Fadil Saad bin Muadh, may God have mercy on him
28. Fadil Haritha Ibn Nu'man, may God be pleased with him
29. Fadil Suhaib, may God be pleased with him
30. The virtues of the Arabs
31. The virtue of Usama bin Zaid, may God be pleased with him
32. Fadil Abdullah bin Masoud, may God be pleased with him
33. Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with them
34. Virtues of Khadija and others
35. Fadil Ammar ibn Yasser, may God be pleased with him
36. Virtues 0 People of Yemen
37. Virtues of the family of the Mother of the Believers, may God be pleased with her, and other things among the people of Yemen
38. The virtues of the Banu Ghafar, and Islam and others
39. Fadil Jaafar ibn Abi Talib, may God be pleased with him
40. Fadil Jarir bin Abdullah, may God be pleased with him
41. Fadil Abdullah Bin Omar, may God be pleased with them
42. The virtues of a people of the Levant
43. The Virtue of the Companions of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him
44. The virtue of Amr ibn al-Aas, may God be pleased with him
45. The Virtues of Mu`awiyah Bin Abi Sufyan, may God be pleased with them
46. The virtues of Abu al-Fadl al-Abbas ibn Abd al-Muttalib, the uncle of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him
47. Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with him