Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

1,963 Hadith48 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1847

1847 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا بَكْرُ بْنُ عِيسَى الرَّاسِبِيُّ قثنا أَبُو عَوَانَةَ قثنا أَبُو جَمْرَةَ قَالَ: «رَأَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، قَمِيصَهُ مُقَلَّصًا فَوْقَ الْكَعْبِ، وَالْكُمُّ يَبْلُغُ أُصُولَ الْأَصَابِعِ، يُغَطِّي ظَهْرَ الْكَفِّ» .

ابو حمزہ رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ میں نے سیدنا عبدبن عباس رضی اللہ عنہ کو دیکھا ان کی قمیص ایڑیوں تک نہیں پہنچی تھی آستین اور بازرو والا کپڑا انگلیوں کے پوروں تک تھا جس سے ہاتھ کا اوپر والا حصہ پوشیدہ تھا ۔(1)

أَبِي، قثنا بَكْرُ بْنُ عِيسَى الرَّاسِبِيُّ قثنا أَبُو عَوَانَةَ قثنا أَبُو جَمْرَةَ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with him · Hadith 1847

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1848

1848 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ الزُّبَيْرِيِّ قثنا سُفْيَانُ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ طَاوُسٍ قَالَ: «وَلَا رَأَيْتُ رَجُلًا أَعْلَمَ مِنَ ابْنِ عَبَّاسٍ» .

امام طاؤس رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا : میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے بڑا عالم نہیں دیکھا ۔ (2)

«وَلَا رَأَيْتُ رَجُلًا أَعْلَمَ مِنَ ابْنِ عَبَّاسٍ» ← طَاوْسٍ ← لَيْثٌ، ← أَبِي، قثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ الزُّبَيْرِيِّ قثنا سُفْيَانُ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with him · Hadith 1848

Hassan

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1849

1849 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قثنا كَثِيرُ بْنُ زَيْدٍ، عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: قَرَأَ ابْنُ الزُّبَيْرِ آيَةً فَوَقَفَ عِنْدَهَا أَسْهَرَتْهُ حَتَّى أَصْبَحَ، فَلَمَّا أَصْبَحَ قَالَ: مَنْ حَبْرُ هَذِهِ الْأُمَّةِ؟ قَالَ: قُلْتُ: ابْنُ عَبَّاسٍ، فَبَعَثَنِي إِلَيْهِ فَدَعَوْتُهُ، فَقَالَ لَهُ: إِنِّي قَرَأْتُ آيَةً كُنْتُ لَا أَقِفُ عِنْدَهَا، وَإِنِّي وَقَفْتُ اللَّيْلَ عِنْدَهَا فَأَسْهَرَتْنِي، حَتَّى أَصْبَحْتُ {وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ} [يوسف: 106] فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ " لَا تُسْهِرُكَ فَإِنَّا لَمْ نُعْنَ بِهَا، إِنَّمَا عُنِيَ بِهَا أَهْلُ الْكِتَابِ، {وَلَئِنْ سَأَلْتَهُمْ مَنْ خَلَقَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ لَيَقُولَنَّ اللَّهُ} ، وَهُوَ {الَّذِي بِيَدِهِ مَلَكُوتُ كُلِّ شَيْءٍ} [يس: 83] ، {وَهُوَ يُجِيرُ وَلَا يُجَارُ عَلَيْهِ} [المؤمنون: 88] سَيَقُولُونَ اللَّهُ فَهُمْ يُؤْمِنُونَ هَهُنَا وَهُمْ يُشْرِكُونَ بِاللَّهِ "

مطلب بن عبد اللہ رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے نما ز تہجد میں ایک پڑھی اس کو بار بار پڑھتے رہے یہاں تک کہ صبح ہوگئی۔ انہوں نے کہا اس امت کا بڑا عالم کون ہے ؟ میں نے کہا سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ علیہ ہیں ۔ پھر انہوں نے مجھے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ علیہ کو بلانے بھیجا (جب ابن عباس آئے ) تو سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ علیہ نے ان سے پوچھا میں نے آج رات ایک آیت کو پڑھا ہے میں اس سے آگے نہیں بڑھ سکا مجھے اس آیت نے بے چین کر دیا ہے یہا ں تک کہ صبح ہو گئی ہے ( یعنی اس آیت کو بار بار پڑھتا رہا ہوں ) (وما یومن اکثرھم باللہ الا وھم مشرکون) سورۃ یوسف : 106: ترجمہ ( ان میں سے اکثر لوگ باوجود ایمان لانے کے بھی مشرک ہی ہیں ) سیدنا عبداللہ بن عباس نے فرمایا : آپ بے چین نہ ہوں اس آیت سے ہم (مسلمان ) مراد نہیں ہیں بلکہ اہل کتاب مراد ہیں جیسا کہ اللہ فرماتے ہیں (ولئن سالتھم من خلق السماوات والا رض لیقولن اللہ ) (سورۃ لقمان :25) (ترجمہ ) اگر ان سے پوچھو زمین اور آسمان کا خالق کون ہے ؟ کہیں گے اللہ ہے ( بیدہ ملکوت کل شی ء وھو یجیر والا یجار علیہ) (سورۃ المومنون 88) اللہ کے ہاتھ ہر چیز کا اختیار ہے وہ پناہ دیتا ہے اور اسکے مقابلے میں کوئی پناہ دینے والا نہیں ہے (سیقولون اللہ ) (سورۃ المومنون 89) ترجمہ (یہ کہیں گے اللہ ہے ) پس اہل کتب یہاں اللہ پر ایمان لاتے ہیں اور حالانکہ شرک بھی کرتے ہیں۔(3)

الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← أَبِي، قثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قثنا كَثِيرُ بْنُ زَيْدٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with him · Hadith 1849

Hassan

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1850

1850 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ قثنا ابْنُ أَبِي حُسَيْنٍ قَالَ: أَبْصَرَ ابْنَ عَبَّاسٍ رَجُلٌ وَهُوَ دَاخِلٌ الْمَسْجِدَ قَالَ: مَنْ هَذَا؟ قَالُوا: هَذَا ابْنُ عَبَّاسٍ ابْنُ عَمِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: اللَّهُ أَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَاتِهِ

ابن ابو حسین رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہےکہ ایک شخص نے سیدنا عبدا للہ بن عباس رضی اللہ عنہ کو مسجد داخل ہوتے ہوئے دیکھا تو پوچھا یہ کون ہیں ؟ لوگوں نے کہا یہ رسول اللہ ﷺ کے چچا زاد بھائی سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ ہیں ، اس نے یہ آیت تلاوت کی (اللہ اعلم حیث یجعل رسالاتۃ) (سورۃ الانعام 124) ( اللہ ہی بہتر جانتا ہےکہ رسالت کا مستحق کون ہے )(1)

اللَّهُ أَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَاتِهِ ← هَذَا ابْنُ عَبَّاسٍ ابْنُ عَمِّ رَسُولِ اللَّهِ ← «مَنْ هَذَا؟» ← أَبْصَرَ ابْنَ عَبَّاسٍ رَجُلٌ وَهُوَ دَاخِلٌ الْمَسْجِدَ ← أَبِي، قثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ قثنا ابْنُ أَبِي حُسَيْنٍ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with him · Hadith 1850

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1851

1851 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، نا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، نا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ سَيْفٍ قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ: مَنِ اسْتَعْمَلَ عَلَى الْمَوْسِمِ؟ قَالُوا: ابْنُ عَبَّاسٍ قَالَتْ: «هُوَ أَعْلَمُ بِالسُّنَّةِ» .

سیف رحمۃ اللہ علیہ سےر وایت ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا : حج کا امیر کون ہے ؟ لوگوں نے کہا : سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ وہ کہنے لگیں وہ سنت کے سب سے بڑے عالم ہیں ۔(2)

«هُوَ أَعْلَمُ بِالسُّنَّةِ» ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَائِشَةُ مَنِ اسْتُعْمِلَ عَلَى الْمَوْسِمِ؟ ← سَيْفٌ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with him · Hadith 1851

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1852

1852 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا حَسَنُ بْنُ مُوسَى قثنا أَبُو هِلَالٍ قثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، أَوْ عُتْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ قَالَ: «مَا رَأَيْتُ مَجْلِسًا أَجْمَعَ لِكُلِّ خَيْرٍ مِنْ مَجْلِسِ ابْنِ عَبَّاسٍ لِحَلَالٍ وَحَرَامٍ، وَتَفْسِيرِ الْقُرْآنِ وَالْعَرَبِيَّةِ، وَأَنْسَابِ النَّاسِ وَالطَّعَامِ» .

عمرو بن دینار رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ میں نے نہیں دیکھا کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی مجلس علمی سے بڑھ کر کسی کی مجلس میں ہر قسم کی نیکی مثلا حلال وحرام ، تفیسر قرآن ، عربی لغت ، لوگوں کا حسب و نسب اور کھانے پینے سب سے زیادہ جمع ہوں۔ (یعنی ان کی مجلس میں ہر قسم کاعلم سب سے بڑھ کر تھا اور انکی مجلس میں ہر قسم کے مسئلے پر گفتگو ہوتی تھی )(3)

عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← أَبِي، قثنا حَسَنُ بْنُ مُوسَى قثنا أَبُو هِلَالٍ قثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، أَوْ عُتْبَةُ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with him · Hadith 1852

Hassan

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1853

1853 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا أَبُو كَامِلٍ، وَعَفَّانُ، قَالَا: نا حَمَّادٌ، يَعْنِي: ابْنَ سَلَمَةَ قَالَ: أنا عَمَّارُ بْنُ أَبِي عَمَّارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كُنْتُ مَعَ أَبِي عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَهُ رَجُلٌ يُنَاجِيهِ قَالَ عَفَّانُ وَهُوَ كَالْمُعْرِضِ عَنِ الْعَبَّاسِ، فَخَرَجْنَا مِنْ عِنْدَهُ فَقَالَ: أَلَمْ تَرَ إِلَى ابْنِ عَمِّكَ كَالْمُعْرِضِ عَنِّي؟ فَقُلْتُ: إِنَّهُ كَانَ عِنْدَهُ رَجُلٌ يُنَاجِيهِ، قَالَ عَفَّانُ: قَالَ: أَوَ كَانَ عِنْدَهُ أَحَدٌ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: فَرَجَعَ إِلَيْهِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ كَانَ عِنْدَكَ أَحَدٌ؟ فَإِنَّ عَبْدَ اللَّهِ أَخْبَرَنِي أَنَّ عِنْدَكَ رَجُلًا تُنَاجِيهِ قَالَ: «هَلْ رَأَيْتُهُ يَا عَبْدَ اللَّهِ؟» قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: «ذَاكَ جِبْرِيلُ، فَهُوَ الَّذِي شَغَلَنِي عَنْكَ» قَالَ عَفَّانُ: إِنَّهُ كَانَ عِنْدَكَ رَجُلٌ يُنَاجِيكَ.

سیدنا عبداللہ بن عباس سے روایت ہے کہ میں اپنے باپ کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کے پاس تھا آپ ﷺ کسی آدمی سے سرگوشی فرما رہے تھے عفان رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں : گویا کہ آپ ﷺ نے سیدنا عباس سے منہ موڑا پس ہم آپ ﷺ کے پاس سے نکلے انہوں ( میرے باپ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ ) نے کہا تم اپنے چچا کے بیٹے کودیکھتے نہیں ؟ انہوں نے مجھ (سیدنا عباس رضی اللہ عنہ ) سے اعراض کیا ہے ۔ میں نےکہا : آپ ﷺ کے پاس ایک شخص تھا ، اس سے آپ ﷺ سرگوشی فرما رہے تھے عفان راوی کہتے ہیں : سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : کیا آپ کےپاس کوئی تھا ؟ میں نے کہا جی ہاں سیدنا عباس پھر نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ پس بے شک مجھے عبدا للہ بن عباس نے بتایا کہ آپ ﷺ کے پاس کوئی آدمی تھا جس سے آپ ﷺ سرگوشی فرما رہے تھے آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : اے عبداللہ ! تم نے اسکو دیکھا تھا ؟ میں نے عرض کیا :جی ہاں ! فرمایا: وہ جبرائیل تھے انہوں نے مجھے تم سے غافل رکھا ۔ عفان رحمۃ اللہ علیہ نےکہا بے شک آپ ﷺ کےپاس ایک شخص تھا جو آپ ﷺ سے سرگوشی کررہا تھا۔۔(1)

أَلَمْ تَرَ إِلَى ابْنِ عَمِّكَ كَالْمُعْرِضِ عَنِّي فَقُلْتُ ← الْعَبَّاسِ فَخَرَجْنَا مِنْ عِنْدِهِ ← عَفَّانُ وَهُوَ كَالْمُعْرِضِ ← كُنْتُ مَعَ أَبِي عِنْدَ النَّبِيِّ وَعِنْدَهُ رَجُلٌ يُنَاجِيهِ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ ← حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ← أَبِي، قثنا أَبُو كَامِلٍ، وَعَفَّانُ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with him · Hadith 1853

Hassan

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1854

1854 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ زَكَرِيَّا، عَنْ عَامِرٍ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: قَدْ رَأَيْتُ عِنْدَهُ رَجُلًا، فَقَالَ الْعَبَّاسُ: يَزْعُمُ ابْنُ عَمِّكَ أَنَّهُ رَأَى عِنْدَكَ رَجُلًا قَالَ: كَذَا وَكَذَا، قَالَ: " نَعَمْ، قَالَ: ذَاكَ جِبْرِيلُ ".

عامر شبعی رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ سیدنا عبدا للہ بن عباس رضی اللہ عنہ ( کو ان کے والد نے آپ ﷺ کےپاس بھیجا کہ دیکھو رسول اللہ ﷺ کے پاس کون ہے ) نے کہا : آپ ﷺ کےپاس ایک آدمی ہے ( جس کومیں نہیں جانتا ) سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ کےپاس آئے اور کہا : آپ کا چچا زاد بھائی یہ خیال کرتا ہے کہ آپ کےپاس اس اس طرح کا ایک آدمی بیٹھا ہوا تھا آپ ﷺ نے فرمایا : جی ہاں وہ جبرائیل تھے ۔ (2)

ذَاكَ جِبْرِيلُ ← نَعَمْ ← کَذَا وَکَذَا؟ ← الْعَبَّاسُ: يَزْعُمُ ابْنُ عَمِّكَ أَنَّهُ رَأَى عِنْدَكَ رَجُلًا ← ابْنُ عَبَّاسٍ: قَدْ رَأَيْتُ عِنْدَهُ رَجُلًا، ← عَامِرٍ، ← زَکَرِیَّا، ← أَبِي، قثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with him · Hadith 1854

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1855

1855 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي حَفْصَةَ قَالَ: حَدَّثَنِي مَنْ شَهِدَ ابْنَ الْحَنَفِيَّةِ يَقُولُ: عِنْدَ قَبْرِ ابْنِ عَبَّاسٍ «هَذَا كَانَ رَبَّانِيَّ هَذِهِ الْأُمَّةِ» .

سالم بن ابو حفصہ رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہےکہ ابن حنفیہ رحمۃ اللہ علیہ نے سیدنا عبدا للہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی قبر پر گواہی دیتے ہوئے کہا یہ اس امت کے عالم ربانی تھے ۔ (3)

عِنْدَ قَبْرِ ابْنِ عَبَّاسٍ «هَذَا كَانَ رَبَّانِيَّ هَذِهِ الْأُمَّةِ» ← مَنْ شَهِدَ ابْنَ الْحَنَفِيَّةِ ← سَالِمُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ، ← سُفْيَانَ، ← أَبِي، قثنا وَكِيعٌ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with him · Hadith 1855

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1856

1856 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ قثنا زُهَيْرٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ: وَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ بَيْنَ كَتِفَيَّ أَوْ عَلَى مَنْكِبِي، فَقَالَ: «اللَّهُمَّ فَقِّهْهُ فِي الدِّينِ، وَعَلِّمْهُ التَّأْوِيلَ» .

سیدنا عبدا للہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے ہاتھ کو میرے دونوں کندھوں کے درمیان (یعنی گردن کی پچھلی جانب ) یا میرے کندھے پررکھا اور یہ دعا فرمائی اے اللہ : اسے دین کی فقاہت (گہری سمجھ ) اور قرآن کی تفسیر کا علم عطا فرما ۔(4)

اللهُمَّ فَقِّهْهُ فِي الدِّينِ، وَعَلِّمْهُ التَّأْوِيلَ ← وَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ يَدَهُ بَيْنَ كَتِفَيَّ أَوْ عَلَى مَنْكِبِي، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ: أَنَّهُ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ← أَبِي، قثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ قثنا زُهَيْرٌ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with him · Hadith 1856

Hassan

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1857

1857 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ قثنا حَاتِمٌ، يَعْنِي: ابْنَ أَبِي صَغِيرَةَ أَبُو يُونُسَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، أَنَّ كُرَيْبًا أَخْبَرَهُ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «فَدَعَا اللَّهَ لِي أَنْ يَزِيدَنِي عِلْمًا وَفَهْمًا» .

سیدنا عبدا للہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہےکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا تو آپ ﷺ نے میرے لیے دعا فرمائی : اے اللہ ! اس کے علم اور فہم میں اضافہ فرما ۔(5)

عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← أَبِي، قثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ قثنا حَاتِمٌ، يَعْنِي: ابْنَ أَبِي صَغِيرَةَ أَبُو يُونُسَ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with him · Hadith 1857

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1858

1858 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا عَفَّانُ قَالَ: نا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ قثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي بَيْتِ مَيْمُونَةَ فَوَضَعْتُ لَهُ وَضُوءًا مِنَ اللَّيْلِ قَالَ: فَقَالَتْ مَيْمُونَةُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَضَعَ لَكَ هَذَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ، فَقَالَ: «اللَّهُمَّ فَقِّهْهُ فِي الدِّينِ، وَعَلِّمْهُ التَّأْوِيلَ» .

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہ کے گھر میں تھے میں نے رات کو آپ ﷺ کے لیے وضو کا پانی رکھا ، سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہ نے کہا : یا رسول اللہ ﷺ! یہ پانی آپ کے لیے عبداللہ بن عباس نے رکھا ہے تو آپ ﷺ نے دعا فرمائی : اے اللہ ! اسکو فقہ دین اور تفسیر کا علم سیکھا۔ (1)

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ قثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، ← أَبِي، قثنا عَفَّانُ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with him · Hadith 1858

Sahih

chevron_left Previous
1234…11
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door2. He was asked about the virtues of Abu, the first-born of al-Siddiq, the mercy and pleasure of God be upon him3. He was asked about the words of Ali ibn Abi Talib and others: The best of this nation after its prophet Abu Bakr and Omar4. His saying, may God’s prayers and peace be upon him: “If I had taken people as a friend, I would not have taken a virgin father as a friend5. He, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Pass a virgin father, let him pray to the people.”6. The remainder of his saying: “Show a first-born father who prays to people.”7. It was not narrated that Abu Bakr was the first to become Muslim8. It was not narrated that a virgin father came to ask permission, so the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Permit him, and give him good tidings of paradise.”9. The Virtue of the Commander of the Believers, Omar Ibn Al-Khattab, may God be pleased with him10. The Islam of Umar ibn Al-Khattab, may God be pleased with him11. And among the virtues of Omar bin Al-Khattab from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik, on the authority of his sheikhs other than Abd Allah bin Ahmed, and from the hadith of Abu Bakr bin Malik.12. The virtue of Othman bin Affan, may God be pleased with him13. And from the merits of Othman, from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik on the authority of his sheikhs except for Abdullah bin Ahmad14. The news of the Prince of the Believers, Ali bin Abi Talib, and his asceticism, may God be pleased with him15. His mother's name and genealogy16. A merit upon me, peace be upon him17. And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah18. The Virtue of Abd al-Rahman ibn Awf, may God be pleased with him19. The Virtue of Az-Zubayr Bin Awwam, may God be pleased with him
20. Fadil Abi Ubaidah Ibn Al Jarrah, may God be pleased with him
21. Fadil Talha Bin Ubaid Allah, may God be pleased with him
22. Fadil Saad bin Abi Waqas, may God be pleased with him
23. Fadil Fatima, the daughter of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him
24. The virtues of good, and the good, may God be pleased with them.
25. The Virtues of Ansar, may God be pleased with them
26. The virtue of Khalid bin Al-Walid, may God have mercy on him
27. Fadil Saad bin Muadh, may God have mercy on him
28. Fadil Haritha Ibn Nu'man, may God be pleased with him
29. Fadil Suhaib, may God be pleased with him
30. The virtues of the Arabs
31. The virtue of Usama bin Zaid, may God be pleased with him
32. Fadil Abdullah bin Masoud, may God be pleased with him
33. Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with them
34. Virtues of Khadija and others
35. Fadil Ammar ibn Yasser, may God be pleased with him
36. Virtues 0 People of Yemen
37. Virtues of the family of the Mother of the Believers, may God be pleased with her, and other things among the people of Yemen
38. The virtues of the Banu Ghafar, and Islam and others
39. Fadil Jaafar ibn Abi Talib, may God be pleased with him
40. Fadil Jarir bin Abdullah, may God be pleased with him
41. Fadil Abdullah Bin Omar, may God be pleased with them
42. The virtues of a people of the Levant
43. The Virtue of the Companions of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him
44. The virtue of Amr ibn al-Aas, may God be pleased with him
45. The Virtues of Mu`awiyah Bin Abi Sufyan, may God be pleased with them
46. The virtues of Abu al-Fadl al-Abbas ibn Abd al-Muttalib, the uncle of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him
47. Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with him