فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1955
1955 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قثنا مَعْمَرٌ قَالَ: قَدِمَ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ الرَّصَافَةَ عَلَى هِشَامٍ وَنَحْنُ بِهَا قَالَ مَعْمَرٌ فَدَخَلْنَا عَلَيْهِ فَإِذَا رَجُلٌ آدَمٌ جَمِيلٌ، عَلَيْهِ جُبَّةُ خَزٍّ دَكْنَاءُ وَسَّاجٌ مِنْ هَذِهِ السِّيجَانِ فَدَخَلْنَا عَلَى رَجُلٍ حَزِينٍ قَالَ: فَمَا اسْتَطَعْنَا أَنْ يُحَدِّثَنَا بِشَيْءٍ قَالَ: فَحَدَّثَنَا رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَزِيرَةِ مِنْ أَصْحَابِنَا يُقَالُ لَهُ: دَاوُدُ قَالَ: دَخَلَ سَعْدُ بْنُ مَالِكٍ عَلَى مُعَاوِيَةَ فَقَالَ: «السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا الْمَلِكُ» فَقَالَ مُعَاوِيَةُ: «أَوَغَيْرَ ذَلِكَ؟ أَنْتُمُ الْمُؤْمِنُونَ وَأَنَا أَمِيرُكُمْ» فَقَالَ سَعْدٌ: «نَعَمْ، إِنْ كُنَّا أَمَّرْنَاكَ» ، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ: «لَا يَبْلُغْنِي أَنَّ أَحَدًا زَعَمَ أَنَّ سَعْدًا لَيْسَ مِنْ قُرَيْشٍ إِلَّا فَعَلْتُ بِهِ وَفَعَلْتُ» ، فَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ: «سُبْحَانَ اللَّهِ لَعَمْرِي إِنَّ سَعْدًا لَفِي السِطَةِ مِنْ قُرَيْشٍ ثَابِتٌ نَسَبُهُ» .
معمر رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ سیدنا محمد بن علی بن عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہم ہشام بادشاہ کےپاس رصافہ نامی جگہ پر آئے ،پس ہم وہاں تھے معمر رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں : ہم ان کے پاس آئے تو اچانک ایک گندمی رنگ کے خوبصورت شخص کو جبہ پہنے ہوئے دیکھا تھا ، پھر ہم ایک غمزدہ شخص کےپاس آئے جو کچھ کہہ نہیں سکتا تھا ، اہل جزیرہ میں سے ایک شخص نے ہمیں بتایا جس کا نام داؤد تھا کہ سعد بن مالک رحمۃ اللہ علیہ نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو اے بادشاہ ! کہہ کر سلا م کیا تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا : کیا اس کے علاوہ کوئی دوسرے الفاظ نہیں ہیں ؟ تم مومنین ہو اور میں تمہارا امیر ہوں ، سعد رحمۃ اللہ علیہ نےکہا : ہم نے آپ کو امیر بنایا ہے ، پھر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا : کوئی شخص یہ نہ کہے کہ سعد کا تعلق قریش سے نہیں ہے ، ورنہ میں اسے سزا دوں گا محمد بن علی رحمۃ اللہ علیہ کہنے لگے : سبحان اللہ ! سعد تو قرشی اور ثابت النسب ہے ۔ (1)
أَبِي، قثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قثنا مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ اللَّهِ
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with him · Hadith 1955
