Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

1,963 Hadith48 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ أَبِي الْفَضْلِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ عَمِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 1799

1799 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: نا دَاوُدُ بْنُ عَمْرٍو الضَّبِّيِّ قثنا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ قَالَ: قَالَ كُرَيْبٌ أَبُو رِشْدِينَ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، إِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «لَيُجِلُّ الْعَبَّاسَ إِجْلَالَ الْوَلَدِ وَالِدًا أَوْ عَمًّا» .

کریب مولی ابن عباس رحمۃ اللہ عیہ سے رسول اللہ ﷺ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کی اس طرح عزت کرتے تھے جس طرح کوئی بیٹا والد کی یا چچا کا احترام کرتا ہے ۔ (3)

مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، ← دَاوُدُ بْنُ عَمْرٍو الضَّبِّيِّ قثنا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The virtues of Abu al-Fadl al-Abbas ibn Abd al-Muttalib, the uncle of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 1799

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ أَبِي الْفَضْلِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ عَمِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 1800

1800 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو هِشَامٍ قثنا يَحْيَى بْنُ يَمَانٍ قَالَ: نا الْعَبَّاسُ بْنُ عَوْسَجَةَ، عَنْ عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْعَبَّاسُ وَصِيِّي وَوَارِثِي» .

عطاء خراسانی رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : عباس میرا وصی اور وارث ہے ۔ (4)

عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ ← الْعَبَّاسُ بْنُ عَوْسَجَةَ، ← أَبُو هِشَامٍ قثنا يَحْيَى بْنُ يَمَانٍ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The virtues of Abu al-Fadl al-Abbas ibn Abd al-Muttalib, the uncle of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 1800

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ أَبِي الْفَضْلِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ عَمِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 1801

1801 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ: قثنا أَبُو هِشَامٍ الرِّفَاعِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ قثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ قَالَ: أنا أَبِي قَالَ: سَمِعْتُ الْأَعْمَشَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: قُلْتُ لِعُمَرَ أَمَا تَذْكُرُ حِينَ شَكَوْتَ الْعَبَّاسَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَكَ: «أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ عَمَّ الرَّجُلِ، صِنْوُ أَبِيهِ» .

سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو کہا : کیا آپ کو یاد ہے جب آپ نے سیدنا عباس کی نبی کریم ﷺ کو شکایت لگائی تھی تو نبی کریم ﷺ نے آپ کو فرمایا تھا : کیا تو نہیں جانتا کہ چچا باپ کی جگہ پر ہوتا ہے ۔ (1)

قُلْتُ لِعُمَرَ أَمَا تَذْكُرُ حِينَ شَكَوْتَ الْعَبَّاسَ إِلَى النَّبِيِّ ← عَلِيٍّ، ← أَبِي الْبَخْتَرِيِّ ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← الْاَعْمَشِ ← أَبِي

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The virtues of Abu al-Fadl al-Abbas ibn Abd al-Muttalib, the uncle of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 1801

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ أَبِي الْفَضْلِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ عَمِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 1802

1802 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو هِشَامٍ قثنا ابْنُ فُضَيْلٍ قَالَ: أنا زَكَرِيَّا، عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ، أَنَّ كَعْبًا الْحَبْرَ أَخَذَ بِيَدِ الْعَبَّاسِ فَقَالَ: «اخْتَبِئْهَا لِلشَّفَاعَةِ عِنْدَكَ» قَالَ: وَهَلْ لِي شَفَاعَةٌ؟ قَالَ: نَعَمْ «لَيْسَ أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ بَيْتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا كَانَتْ لَهُ شَفَاعَةٌ» .

عطیہ عوفی سے روایت ہےکہ کعب الاجبار نے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ ا اور کہا : اپنی شفاعت کو چھپا دینا تو سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نےکہا کیا میں شفاعت کر سکتاہوں ؟ کعب نے کہا : ہاں نبی کریم ﷺ کے اہل بیت میں سے آپ کے علاوہ کسی ایک کو شفاعت کا حق حاصل نہیں ہے ۔ (2)

نَعَمْ «لَيْسَ أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ بَيْتِ النَّبِيِّ إِلَّا كَانَتْ لَهُ شَفَاعَةٌ» ← وَهَلْ لِي شَفَاعَةٌ؟ ← عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ، أَنَّ كَعْبًا الْحَبْرَ أَخَذَ بِيَدِ الْعَبَّاسِ فَقَالَ: «اخْتَبِئْهَا لِلشَّفَاعَةِ عِنْدَكَ» ← زَکَرِیَّا، ← أَبُو هِشَامٍ قثنا ابْنُ فُضَيْلٍ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The virtues of Abu al-Fadl al-Abbas ibn Abd al-Muttalib, the uncle of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 1802

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ أَبِي الْفَضْلِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ عَمِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 1803

1803 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ: قثنا أَبُو هَاشِمٍ زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ قثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى قثنا إِسْمَاعِيلُ، يَعْنِي: ابْنَ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ، عَنِ الْعَبَّاسِ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ قُرَيْشًا جُلُوسٌ فَتَذَاكَرُوا أَنْسَابَهُمْ فَجَعَلُوا مَثَلَكَ مَثَلَ نَخْلَةٍ فِي كَبْوَةٍ مِنَ الْأَرْضِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «إِنَّ اللَّهَ يَوْمَ خَلَقَ الْخَلْقَ، جَعَلَنِي فِي خَيْرِ الْفِرْقَتَيْنِ خَيْرًا، ثُمَّ جَعَلَ الْقَبَائِلَ، جَعَلَنِي فِي خَيْرِ قَبِيلَةٍ يَعْنِي خَيْرًا، ثُمَّ جَعَلَ الْبُيُوتَ، فَجَعَلَنِي فِي خَيْرِ بُيُوتِهِمْ، فَأَنَا خَيْرُهُمْ نَفْسًا، وَخَيْرُهُمْ بَيْتًا» .

سیدنا عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نےعرض کیا یا رسول اللہﷺ قریشی اپنی مخلوق میں اپنے نسب کا تذکرہ کر رہے تھے انہوں نے آپ کی مثال اس کھجور کے درخت کی دی جو زمین پر گر پڑا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : یقینا اللہ تعالیٰ نے مجھے اس دن سے بہتر ین نسب سے جوڑا ہے کہ جب مخلوق کو پیدا کیا اور جب قبائل کو پیدا کیا تب بھی بہترین قبیلے سے جوڑا پھر گھروں کو بنایا تو مجھے بہترین گھر میں پیدا کیا اب میں ( محمد ﷺ ) ذات اور گھر کے اعتبار سے سب سے بہتر ہوں ۔ (3)

قُلْتُ ← الْعَبَّاسُ: ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ، ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ،

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The virtues of Abu al-Fadl al-Abbas ibn Abd al-Muttalib, the uncle of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 1803

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ أَبِي الْفَضْلِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ عَمِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 1804

1804 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: أنا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي خَلْفٍ، نا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ التَّيْمِيُّ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سُهَيْلٍ نَافِعُ بْنُ مَالِكٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ سَعْدٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ يُجَهِّزِ بَعْثًا، فَطَلَعَ الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَذَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ عَمُّ نَبِيِّكُمْ أَجْوَدُ قُرَيْشًا كَفًّا وَأَوْصَلُهُمْ» .

سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ لشکر کو ( کہیں ) بھیجنے کے لیے نکلے تو اتنے میں سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نمودار ہوئے ، نبی کریم ﷺ نے فرمایا : یہ تمہارے نبی کریم کے چچا عباس بن عبدالمطلب ہیں جو کہ ہاتھ کے لحاظ سے قریش میں زیادہ سختی اور زیادہ صلہ رحمی کرنے والےہیں ۔ (4)

سَعْدٍ، ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← أَبُو سُهَيْلٍ نَافِعُ بْنُ مَالِكٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ التَّيْمِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي خَلْفٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The virtues of Abu al-Fadl al-Abbas ibn Abd al-Muttalib, the uncle of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 1804

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ أَبِي الْفَضْلِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ عَمِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 1805

1805 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّازُ قثنا شَبَابَةُ، عَنْ وَرْقَاءَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: بَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ عَلَى الصَّدَقَةِ، فَمَنَعَ ابْنُ جَمِيلٍ، وَخَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ، وَالْعَبَّاسُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «مَا يَنْقِمُ ابْنُ جَمِيلٍ إِلَّا أَنْ كَانَ فَقِيرًا فَأَغْنَاهُ اللَّهُ، وَأَمَّا خَالِدٌ فَإِنَّكُمْ تَظْلِمُونَ خَالِدًا، قَدِ احْتَبَسَ أَدْرَاعَهُ وَأَعْتَادَهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَأَمَّا الْعَبَّاسُ عَمُّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَهِيَ عَلَيَّ وَمِثْلُهَا» ، ثُمَّ قَالَ: «أَمَا شَعَرْتَ أَنَّ عَمَّ الرَّجُلِ صِنْوُ الْأَبِ أَوْ صِنْوُ أَبِيهِ؟» .

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو زکوۃ وصول کرنے پر مامور کیا تو ابن جمیل (منافق) ، سیدنا خالد بن ولید اور آپ ﷺ کے چچا سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے زکوۃ دینے سے انکار کیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ابن جمیل زکوۃ دینا اس لیے نا پسند کرتا ہے کہ وہ غریب تھا ، اللہ نے اس کو مالدار کر دیا ، ( یعنی اللہ کاشکر یہ ادا نہیں کرتا) اور خالد کے ساتھ تم زکوۃ کا مطالبہ کر کے طلم کرتے ہو کیونکہ انہوں نے اپنی زرہ اور گھوڑوں کو اللہ کے نام وقف کر دیا ہے ۔ ( یعنی ان کے گھوڑوں پر زکوۃ نہیں ہے ) اور عباس کی زکوۃ مجھ پر ہے اتنے اضافہ کے ساتھ بھی پھر فرمایا: کیا تو نہیں جانتا کہ چچا باپ کی جگہ پر ہوتا ہے ۔ (1)

خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ، وَالْعَبَّاسُ، ← بَعَثَ النَّبِيُّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ عَلَی الصَّدَقَةِ فَمَنَعَ ابْنُ جَمِيلٍ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْأَعْرَجِ ← أَبِي الزِّنَادِ، ← وَرْقَاءُ ← الْحَسَنُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّازُ قثنا شَبَابَةُ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The virtues of Abu al-Fadl al-Abbas ibn Abd al-Muttalib, the uncle of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 1805

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ أَبِي الْفَضْلِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ عَمِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 1806

1806 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ الْبَصْرِيُّ قَالَ: حَدَّثَنِي مَسْلَمَةُ بْنُ الصَّلْتِ الشَّيْبَانِيُّ قَالَ: حَدَّثَنِي صَدَقَةُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ الْهُنَائِيُّ قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ خَالَتِي عُتْبَةَ بِنْتِ سَمْعَانَ الْعَدَوِيَّةِ قَالَ: فَخَرَجَ زَيْدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ حَسَنٍ قَالَ: فَاسْتَرْجَعَتْ، قُلْتُ: لِمَ؟ قَالَتْ: حَدَّثَتْنِي أُمُّ حَبِيبَةَ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ سُئِلَ فَقَالَ: «الْعَبَّاسُ صِنْوُ أَبِي» .

صدقہ بن ابو سہل ہنائی رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ میں اپنی خالہ عتبہ بنت سمعان عدویہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا اسی دوران زید بن علی بن حسن رحمۃ اللہ علیہ وہاں سے تشریف لے گئے تو میری خالہ نے ( انا للہ و انا الیہ راجعون) پڑھا ۔ میں نے کہا : ایسا کیوں ؟کہنے لگیں : مجھے نبی کریم ﷺ کی زوجہ محترمہ سید ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا ہےکہ رسول اللہ سے ( سیدنا عبا رضی اللہ عنہ کے بارے میں ) پوچھا گیا تو فرمایا : عباس میرے باپ کی جگہ پر ہیں ۔ (2)

حَدَّثَتْنِي أُمُّ حَبِيبَةَ زَوْجُ النَّبِيِّ أَنَّهُ سُئِلَ فَقَالَ: «الْعَبَّاسُ صِنْوُ أَبِي» ← فَاسْتَرْجَعَتْ، قُلْتُ: لِمَ؟ ← فَخَرَجَ زَيْدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ حَسَنٍ ← كُنْتُ عِنْدَ خَالَتِي عُتْبَةَ بِنْتِ سَمْعَانَ الْعَدَوِيَّةِ ← صَدَقَةُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ الْهُنَائِيُّ ← مسلمة بن الصلت الشيباني ← مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ الْبَصْرِيُّ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The virtues of Abu al-Fadl al-Abbas ibn Abd al-Muttalib, the uncle of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 1806

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ أَبِي الْفَضْلِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ عَمِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 1807

1807 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ: قثنا شَيْبَانُ قال: نا حَمَّادٌ، يَعْنِي: ابْنَ سَلَمَةَ قثنا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مِهْرَانَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ لِلْعَبَّاسِ دَارٌ إِلَى جَنْبِ الْمَسْجِدِ وَفِي الْمَسْجِدِ ضِيقٌ فَأَرَادَ عُمَرُ أَنْ يُدْخِلَهَا فِي الْمَسْجِدِ فَأَبَى، فَقَالَ: اجْعَلْ بَيْنِي وَبَيْنَكَ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلَا بَيْنَهُمَا أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ، فَقَضَى لِلْعَبَّاسِ عَلَى عُمَرَ، فَقَالَ عُمَرُ: مَا أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ أَجْرَأَ عَلَيَّ مِنْكَ، فَقَالَ أُبَيٌّ: أَوَ أَنْصَحُ لَكَ مِنِّي؟ قَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، أَمَا بَلَغَكَ حَدِيثُ دَاوُدَ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَمَرَهُ بِبِنَاءِ بَيْتِ الْمَقْدِسِ فَأَدْخَلَ فِيهِ بَيْتَ امْرَأَةٍ بِغَيْرِ إِذْنِهَا، فَلَمَّا بَلَغَ حُجَزَ الرِّجَالَ مَنَعَهُ اللَّهُ بِنَاءَهُ، قَالَ دَاوُدُ: يَا رَبِّ مَنَعْتَنِي بِنَاءَهُ، فَاجْعَلْهُ فِي عَقِبِي، فَقَالَ الْعَبَّاسُ: " أَلَيْسَ قَدْ صَارَتْ لِي وَقَضَى لِي بِهَا؟ قَالَ: فَإِنِّي أُشْهِدُكَ أَنِّي قَدْ جَعَلْتُهَا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ". [ص:940]

سیدنا عبدا للہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مسجد کے ساتھ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کا گھر تھا ، جب مسجد میں جگہ تنگ ہوئی تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ( مسجد کو توسیع کی خاطر) اس گھر کو مسجد میں داخل کرنے کا ارادہ کیا تو انہوں نے (سیدنا عبا س رضی اللہ عنہ) نے (گھر دینے سے انکار ) کیا اور کہا کہ میرے اور آپ ﷺ کے درمیان رسول اللہ ﷺ کا کوئی صحابی فیصلہ کرے گا تو سیدنا ابی کعب رضی اللہ عنہ ان دونوں کے درمیان قاضی بنے ، انہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی جگہ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے حق میں فیصلہ دے دیا ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے فرمایا : آپ ﷺ اصحاب محمد ﷺ میں سب سے بڑھ کر میرے ساتھ جرات مندی کا مظاہرہ کرتے ہو ، سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں آپ رضی اللہ عنہ کی خیر خواہی کرتا ہوں اور اے امیر المومنین ! کیا آپ رضی اللہ عنہ کو سیدنا داؤد علیہ السلام کا واقعہ معلوم نہیں ہے ؟ کہ جب اللہ تعالیٰ نے ان کو بیت المقدس تعمیر کرنے کا حکم دیا تو انہوں نے کسی عورت کا گھر اس سے اجازت لیے بغیر بیت المقدس میں شامل کر دیا تھا تو جب اس کی تعمیر انسان کی کمر کے برابر ہو گئی تو اللہ تعالیٰ نے ان کو روک دیا تو سیدنا دادؤ علیہ السلام نے فرمایا تھا : اے اللہ آپ نے مجھے تعمیر کرنے سے روک دیا ہے تو میں اس کی تعمیر اپنی اولاد پر چھوڑتا ہوں تو پھر سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا یہ گھر میرا نہیں ہے انہوں نے فیصلہ بھی ان کے حق میں کر دیا ، اس کے باوجود کہنے لگے : میں نے اسے اللہ کے راستے میں وقف کر دیا اور آپ میرے لے اس پر گواہ بن جاؤ۔ (1)

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← يوسف بن مهران ← حَمَّادٌ، يَعْنِي: ابْنَ سَلَمَةَ قثنا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ: قثنا شَيْبَانُ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The virtues of Abu al-Fadl al-Abbas ibn Abd al-Muttalib, the uncle of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 1807

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ أَبِي الْفَضْلِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ عَمِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 1808

1808 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي شَيْبَانُ، نا حَمَّادٌ قَالَ: وَحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، بِنَحْوِهِ

مذکورہ روایت ایک دوسری سند کے ساتھ بھی مروی ہے ۔ (2)

أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، بِنَحْوِهِ ← وَحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ، ← حَمَّادٌ، ← شَيْبَانَ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The virtues of Abu al-Fadl al-Abbas ibn Abd al-Muttalib, the uncle of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 1808

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ أَبِي الْفَضْلِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ عَمِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 1809

1809 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى الْكِسَائِيُّ قثنا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سَبْرَةَ، رَجُلٌ مِنَ النَّخَعِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ، عَنِ الْعَبَّاسِ قَالَ: كُنَّا نَلْقَى النَّفْرَ مِنْ قُرَيْشٍ يَتَحَدَّثُونَ فَيَقْطَعُونَ حَدِيثَهُمْ، فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَتَحَدَّثُونَ فَإِذَا رَأَوَا الرَّجُلَ مِنْ أَهْلِ بَيْتِي، قَطَعُوا حَدِيثَهُمْ؟ أَمَا وَاللَّهِ لَا يَدْخُلُ قَلْبَ رَجُلٍ الْإِيمَانُ حَتَّى يُحِبَّهُمُ لِلَّهِ، وَلِقَرَابَتِهِمْ مِنِّي» .

سیدنا عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم جب قریش کے پاس بیٹھتے وہ باتیں کر رہے ہوتے تھے مگر ہمیں دیکھتے ہی اپنی گفتگو روک دیتے ہیں ہم نے اس کا تذکرہ نبی کریم ﷺ سےکیا تو آپ ﷺ نے فرمایا : ان گفتگو کرنے والے لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ میرے اہل بیت میں کسی بندے کو دیکھ کر اپنی گفتگو روک دیتے ہیں آگاہ رہو اللہ کی قسم ! کسی انسان کے دل میں اس وقت تک ایمان داخل نہیں ہو سکتا جب تک وہ آپ سے اللہ کے لیے اور میری قرابت داری کی وجہ سے محبت نہ کرے۔ (3)

كُنَّا نَلْقَى النَّفْرَ مِنْ قُرَيْشٍ يَتَحَدَّثُونَ فَيَقْطَعُونَ حَدِيثَهُمْ، فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ ← الْعَبَّاسُ: ← مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ، ← أَبِي سَبْرَةَ، رَجُلٌ مِنَ النَّخَعِ، ← الْاَعْمَشِ ← زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى الْكِسَائِيُّ قثنا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The virtues of Abu al-Fadl al-Abbas ibn Abd al-Muttalib, the uncle of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 1809

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ أَبِي الْفَضْلِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ عَمِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 1810

1810 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى بْنِ شَيْبَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكِ السُّلَمِيُّ الْكَعْبِيُّ الْخَزْرَجِيُّ قثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ قَيْسِ بْنِ سَعْدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيُّ الْخَزْرَجِيُّ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ فِي الْقَيْظِ قَالَ: فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ لِبَعْضِ حَاجَتِهِ، أَوْ قَالَ: لِيَتَوَضَّأَ، فَقَامَ إِلَيْهِ الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، فَسَتَرَهُ بِكِسَاءٍ مِنْ صُوفٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ هَذَا؟» قَالَ: عَمُّكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، الْعَبَّاسُ، فَقَالَ: فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ مِنْ خَلَلِ الْكِسَاءِ، وَهُوَ رَافِعٌ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ وَهُوَ يَقُولُ: «اللَّهُمَّ اسْتُرِ الْعَبَّاسَ وَوَلَدَ الْعَبَّاسِ مِنَ النَّارِ» . [ص:941]

سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سردی کے موسم میں کسی سفر پر نکلے، پس رسول اللہ ﷺ کسی ضرورت کے پیش نظر کھڑے ہوئے یا راوی نے کہا : وضو کے لیے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ آپ ﷺ کی طرف کھڑے ہو کر اپنی اون کی چادر سے پردہ کرنے لگے آپ ﷺ نے دریافت کیا یہ کون ہے : میں نےعر ض کیا یا رسول اللہ ﷺ یہ آپ کے چچا عباس ہیں راوی کہتے ہیں : میں چادر کے یبچ میں آپ کی طرف دیکھ رہا تھا تو آپ ﷺ سر مبارک آسمان ی طرف اٹھا کر فرما رہے تھے ا اللہ عباس اور ان کی آل کو جہنم کی آگ سے بچا (1)

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The virtues of Abu al-Fadl al-Abbas ibn Abd al-Muttalib, the uncle of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 1810

Daif

chevron_left Previous
1234567
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door2. He was asked about the virtues of Abu, the first-born of al-Siddiq, the mercy and pleasure of God be upon him3. He was asked about the words of Ali ibn Abi Talib and others: The best of this nation after its prophet Abu Bakr and Omar4. His saying, may God’s prayers and peace be upon him: “If I had taken people as a friend, I would not have taken a virgin father as a friend5. He, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Pass a virgin father, let him pray to the people.”6. The remainder of his saying: “Show a first-born father who prays to people.”7. It was not narrated that Abu Bakr was the first to become Muslim8. It was not narrated that a virgin father came to ask permission, so the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Permit him, and give him good tidings of paradise.”9. The Virtue of the Commander of the Believers, Omar Ibn Al-Khattab, may God be pleased with him10. The Islam of Umar ibn Al-Khattab, may God be pleased with him11. And among the virtues of Omar bin Al-Khattab from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik, on the authority of his sheikhs other than Abd Allah bin Ahmed, and from the hadith of Abu Bakr bin Malik.12. The virtue of Othman bin Affan, may God be pleased with him13. And from the merits of Othman, from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik on the authority of his sheikhs except for Abdullah bin Ahmad14. The news of the Prince of the Believers, Ali bin Abi Talib, and his asceticism, may God be pleased with him15. His mother's name and genealogy16. A merit upon me, peace be upon him17. And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah18. The Virtue of Abd al-Rahman ibn Awf, may God be pleased with him19. The Virtue of Az-Zubayr Bin Awwam, may God be pleased with him
20. Fadil Abi Ubaidah Ibn Al Jarrah, may God be pleased with him
21. Fadil Talha Bin Ubaid Allah, may God be pleased with him
22. Fadil Saad bin Abi Waqas, may God be pleased with him
23. Fadil Fatima, the daughter of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him
24. The virtues of good, and the good, may God be pleased with them.
25. The Virtues of Ansar, may God be pleased with them
26. The virtue of Khalid bin Al-Walid, may God have mercy on him
27. Fadil Saad bin Muadh, may God have mercy on him
28. Fadil Haritha Ibn Nu'man, may God be pleased with him
29. Fadil Suhaib, may God be pleased with him
30. The virtues of the Arabs
31. The virtue of Usama bin Zaid, may God be pleased with him
32. Fadil Abdullah bin Masoud, may God be pleased with him
33. Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with them
34. Virtues of Khadija and others
35. Fadil Ammar ibn Yasser, may God be pleased with him
36. Virtues 0 People of Yemen
37. Virtues of the family of the Mother of the Believers, may God be pleased with her, and other things among the people of Yemen
38. The virtues of the Banu Ghafar, and Islam and others
39. Fadil Jaafar ibn Abi Talib, may God be pleased with him
40. Fadil Jarir bin Abdullah, may God be pleased with him
41. Fadil Abdullah Bin Omar, may God be pleased with them
42. The virtues of a people of the Levant
43. The Virtue of the Companions of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him
44. The virtue of Amr ibn al-Aas, may God be pleased with him
45. The Virtues of Mu`awiyah Bin Abi Sufyan, may God be pleased with them
46. The virtues of Abu al-Fadl al-Abbas ibn Abd al-Muttalib, the uncle of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him
47. Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with him