Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

1,963 Hadith48 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ أَبِي الْفَضْلِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ عَمِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 1787

1787 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ: قثنا عَلِيُّ بْنُ مُسْلِمٍ قثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ يَعْنِي الْمَاجِشُونَ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، خَرَجَ بِالنَّاسِ يَسْتَسْقِي فَأَخَذَ بِعَضُدِ عَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَقَالَ: «اللَّهُمَّ إِنَّا نَسْتَسْقِيكَ بِعَمِّ نَبِيِّكَ» .

ماجشون رحمۃ اللہ علیہ اپنےباپ سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا عمر قحط سالی میں بارش طلب کرنے کی غرض سے لوگوں کو لے کر نکلے اور سیدنا عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ کا بازو پکڑ کر فرمایا : اے اللہ : ہمیں اپنے نبی کریم ﷺ کےچچا کے وسیلے سے بارش سے سیراب فرما۔ (1)

أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ: قثنا عَلِيُّ بْنُ مُسْلِمٍ قثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ يَعْنِي الْمَاجِشُونَ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The virtues of Abu al-Fadl al-Abbas ibn Abd al-Muttalib, the uncle of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 1787

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ أَبِي الْفَضْلِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ عَمِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 1788

1788 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ قثنا أَبِي، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَجُلًا شَتَمَ أَبًا لِلْعَبَّاسِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَلَطَمَهُ الْعَبَّاسُ، فَبَلَغَ قَوْمَهُ، فَلَبِسُوا السِّلَاحَ ثُمَّ جَاءُوا، فَقَالُوا: لَا نَرْضَى حَتَّى نَلْطِمَهُ كَمَا لَطَمَهُ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَطَبَ وَقَالَ: " أَمَا عَلِمْتُمْ أَنَّ الْعَبَّاسَ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ؟ وَغَضِبَ، وَقَالَ: لَا تَسُبُّوا الْأَمْوَاتَ فَتُؤْذُوا الْحَيَّ " فَقَالُوا: نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ غَضِبِ اللَّهِ وَغَضِبِ رَسُولِهِ، اسْتَغْفِرْ لَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ: «غَفَرَ اللَّهُ لَكُمْ» .

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہےکہ ایک آدمی نے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے باپ کے بارے میں کچھ برا کہا جو کہ زمانہ جاہلیت کے تھے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے انکو تھپڑ دے مارا جب یہ بات اس کے قبیلےوالوں کو معلوم ہوئی تو وہ ہتھیار پہنے ہوئے آکرکہنے لگے ہم اس وقت تک راضی نہیں ہوں گے جب تک ہم اس ( عباس رضی اللہ عنہ ) کو تھپڑ نہیں مار لیتے جس طرح انہوں نے مارا ہے ۔ جب اس بات کی اطلاع رسول اللہ ﷺ کو ملی تو خطبہ ارشاد فرمایا (لوگو) کیا تم نہیں جانتے کہ عباس مجھ سے ہے اور میں ان سے ہوں ؟ غصے میں آ گئے اور فرمایا : پس تم لوگ ہمارے فوت شد گان کو برا بھلا مت کہو جس سے ہم زندوں کو تکلیف ہوتی ہے پس وہ لوگ کہنے لگے یا رسول اللہ ﷺ ہم آپ کے غضب سے اللہ کی پناہ لیتے ہیں اور کہنے لگے : یا رسول اللہ ﷺ آپ ہمارے لیے دعا ئے مغفرت کیجے تو آپ ﷺ نے فرمایا جاؤ تمہاری مغفرت ہو گئی ہے ۔ (2)

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← عَبْدُ الْأَعْلَى ← اِسْرَائِیْلُ ← سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ قثنا أَبِي، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The virtues of Abu al-Fadl al-Abbas ibn Abd al-Muttalib, the uncle of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 1788

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ أَبِي الْفَضْلِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ عَمِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 1789

1789 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرُّزِّيُّ قثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ الْخَفَّافُ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَعِدَ الْمِنْبَرَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: «أَيُّهَا النَّاسُ أَيُّ أَهْلِ الْأَرْضِ أَكْرَمُ عَلَى اللَّهِ؟» قَالَ: قُلْنَا: أَنْتَ، قَالَ: «فَإِنَّ الْعَبَّاسَ مِنِّي، وَأَنَا مِنْهُ، لَا تُؤْذُوا الْعَبَّاسَ فَتُؤْذُونِي» وَقَالَ: «مَنْ سَبَّ الْعَبَّاسَ، فَقَدْ سَبَّنِي» .

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ منبر پر جلوہ گر ہوئے اللہ تعالی کی حمد و ثنا بیان کی اور فرمایا لوگو! زمین والوں میں سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ کو کون معزز ہے ؟ لوگوں نے عرض کیا : آپ پھر فرمایا بلا شبہ عباس مجھ سے اور میں اس سے ہوں تم میں جس کسی نے عباس کو تکلیف دی تو گویا اس نےمجھے تکلیف دی اور فرمایا جس نے عباس کو گالی دی تو گویا اس نےمجھے گالی دی۔ (3)

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← عَبْدُ الْأَعْلَى ← اِسْرَائِیْلُ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرُّزِّيُّ قثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ الْخَفَّافُ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The virtues of Abu al-Fadl al-Abbas ibn Abd al-Muttalib, the uncle of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 1789

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ أَبِي الْفَضْلِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ عَمِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 1790

1790 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رِزْمَةَ قثنا خَلَفُ بْنُ أَيُّوبَ قثنا إِسْرَائِيلُ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، أَنَّ رَجُلًا وَقَعَ فِي أَبٍ كَانَ لِلْعَبَّاسِ فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ سُفْيَانَ

سعید بن جبیر رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے والد کو تنقید کا نشانہ بنا رہا تھا پھر آگے انہوں نے مذکورہ روایت کو بیان کیا ۔ (1)

سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← عَبْدُ الْأَعْلَى ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رِزْمَةَ قثنا خَلَفُ بْنُ أَيُّوبَ قثنا إِسْرَائِيلُ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The virtues of Abu al-Fadl al-Abbas ibn Abd al-Muttalib, the uncle of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 1790

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ أَبِي الْفَضْلِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ عَمِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 1791

1791 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ قثنا أَبِي، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي الضُّحَى قَالَ: قَالَ الْعَبَّاسُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا لَنَرَى ضَغَائِنَ فِي وُجُوهِ قَوْمٍ مِنْ وَقَائِعَ أَوْقَعْتَهَا بِهِمْ، قَالَ: وَقَدْ فَعَلُوهَا؟ قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: «مَا كَانُوا لِيُؤْمِنُوا حَتَّى يُحِبُّوكُمْ لِقَرَابَتِي، أَتَرْجُو سَلْهُمْ شَفَاعَتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا يَرْجُوهَا بَنُو عَبْدِ الْمُطَّلِبِ» .

ابو ضحٰی رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ ﷺ ہم جب قریشی لوگوں کے پاس جاتے ہیں تو ان کے چہروں سے کینہ پاتے ہیں تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : وہ (قریشی ) ہر گز کامل ایمان والے نہیں ہو سکتے جب تک کہ وہ آپ سے اللہ کے لیے اور میری قرابت داری کی وجہ سے محبت نہیں کر لیتے ، ان سے سوال کریں کہ روز قیامت تم میری شفاعت کی امید رکھتے ہو جوکہ بنو عبدالمطلب نہیں رکھتے ؟ (یعنی تم ہی تو صرف میری شفاعت کے امیدوار نہیں ہو بلکہ تمہاری طرح بنو عبد المطلب بھی میری شفاعت کے امیدوار ہیں ) ۔ (2)

الْعَبَّاسُ: ← أَبِي الضُّحَى، ← سَلَمَةَ، ← أَبِيهِ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ قثنا أَبِي، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The virtues of Abu al-Fadl al-Abbas ibn Abd al-Muttalib, the uncle of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 1791

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ أَبِي الْفَضْلِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ عَمِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 1792

1792 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قثنا أَبُو الْمُوَرِّعِ قثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي سَبْرَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ قَالَ: جَلَسَ الْعَبَّاسُ إِلَى قَوْمٍ مِنْ قُرَيْشٍ فَقَطَعُوا حَدِيثَهُمْ فَذَكَرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فَخَطَبَ فَقَالَ: «مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَتَحَدَّثُونَ بِالْحَدِيثِ، فَإِذَا جَلَسَ إِلَيْهِمْ أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ بَيْتِي، قَطَعُوا حَدِيثَهُمْ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا يَدْخُلُ قَلْبَ امْرِئٍ إِيمَانٌ حَتَّى يُحِبَّهُمْ لِلَّهِ، وَلِقَرَابَتِي مِنْهُمْ» .

محمد بن کعب قرظی رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہےکہ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ قوم قریش کے پاس جا کر بیٹھے تو انہوں نے ( ان کے جانے پر ) گفتگو بند کر دی ،سیدنا عباس نے اس کا ذکر نبی کریم ﷺ سے کیا تو آپ ﷺ نےخطبہ دیا اور فرمایا ان آپس میں گفتگو کرنے والے لوگوں کو کیا ہوا ہے جب میرے اہل بیت میں کوئی بندہ ان کےپاس جاکر بیٹھتا ہے تو وہ اپنی گفتگو روک دیتے ہیں ۔ اس ذات کی قسم !جس کے ہاتھ میں جان ہے کسی انسان کے دل میں اس وقت تک ایمان داخل نہیں ہو سکتا جب تک وہ آپ( عباس) سے اللہ کےلیے اور میری قرابت داری کی وجہ سے محبت نہ کرے۔ (3)

فَخَطَبَ ← ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ ← جَلَسَ الْعَبَّاسُ إِلَى قَوْمٍ مِنْ قُرَيْشٍ فَقَطَعُوا حَدِيثَهُمْ ← مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ، ← أَبِي سَبْرَةَ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قثنا أَبُو الْمُوَرِّعِ قثنا الْأَعْمَشُ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The virtues of Abu al-Fadl al-Abbas ibn Abd al-Muttalib, the uncle of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 1792

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ أَبِي الْفَضْلِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ عَمِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 1793

1793 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ قثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ قثنا ابْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ قُرَيْشًا إِذَا لَقِيَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا لَقُوا بِبِشْرٍ حَسَنٍ، فَإِذَا لَقُونَا لَقُونَا بِوُجُوهٍ لَا نَعْرِفُهَا، قَالَ: فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «وَاللَّهِ لَا يُؤْمِنُ عَبْدٌ حَتَّى يُحِبَّكُمْ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَلِرَسُولِهِ» .

سیدنا عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ قریش آپس میں تو بڑی خوشی سے ملتے ہیں مگر ہم سے ایسی حالت میں نہیں ملتے اس پر رسول اللہ ﷺ کو شدید غصہ آگیا اور فرمایا اللہ کی قسم کوئی بندہ اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک وہ آپ سے اللہ اور اس کے رسول کی وجہ سے محبت نہ کرے۔ (4)

قُلْتُ ← الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ، ← يَزِيدُ: ← أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ قثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ قثنا ابْنُ أَبِي خَالِدٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The virtues of Abu al-Fadl al-Abbas ibn Abd al-Muttalib, the uncle of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 1793

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ أَبِي الْفَضْلِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ عَمِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 1794

1794 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ: قثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: «أَخَذَ الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ بِيَدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْعَقَبَةِ حِينَ وَافَاهُ السَّبْعُونَ مِنَ الْأَنْصَارِ، يَأْخُذُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ وَيَشْتَرِطُ لَهُمْ، وَذَلِكَ وَاللَّهِ فِي غُرَّةِ الْإِسْلَامِ وَأَوَّلِهِ، مِنْ قَبْلَ أَنْ يَعْبُدَ اللَّهَ أَحَدٌ عَلَانِيَةً» .

ہشام بن عروۃ رحمۃ اللہ علیہ اپنے باپ سے نقل کرتے ہیں کہ بیعت عقبہ کی رات سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے آپ کاہاتھ پکڑا ہوا تھا جب ستر انصاری آپ سے ملنے آئے تو سیدنا عباس رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے لیے وعدہ لے رہے تھے اور شروط لگا رہے تھے اللہ کی قسم !یہ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کا نبی کریم ﷺ کے ساتھ دینا ) اسلام کے اس ابتدائی وقت میں تھا جب کسی نے ظاہری طور پراللہ کی عبادت نہیں کی تھی۔ (1)

أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← عَبْدُ اللَّهِ: قثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ،

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The virtues of Abu al-Fadl al-Abbas ibn Abd al-Muttalib, the uncle of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 1794

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ أَبِي الْفَضْلِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ عَمِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 1795

1795 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرُّزِّيُّ قثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ الْخَفَّافُ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ. عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَبَّاسَ، فَقَالَ: «إِذَا كَانَ غَدَاةَ الِاثْنَيْنِ فَائْتِنِي أَنْتَ وَوَلَدُكَ» قَالَ: فَغَدَا وَغَدَوْنَا مَعَهُ قَالَ: فَأَلْبَسَنَا كِسَاءً لَهُ، ثُمَّ قَالَ: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْعَبَّاسِ وَلِوَلَدِهِ مَغْفِرَةً ظَاهِرَةً بَاطِنَةً لَا تُغَادِرْ ذَنْبًا، اللَّهُمَّ أُخْلُفْهُ فِي وَلَدِهِ» .

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کو بلاا کر فرمایا کل سوموار کے دن آپ اپنے بیٹے کے ہمراہ میرے پاس تشریف لانا ہمیں پس آپ ﷺ کےپاس گئے تو آپ ﷺ نے ہمیں چادر پہنائی اور دعا فرمائی : اے اللہ عباس اور اس کی اولاد کے ظاہری اور پوشیدہ گناہوں کی مغفرت فرما ، ان کے کوئی گناہ باقی نہ چھوڑنا اور ان کے بچوں کی نسل بڑھا دے ۔ (2)

فَأَلْبَسَنَا كِسَاءً لَهُ، ثُمَّ ← فَغَدَا وَغَدَوْنَا مَعَهُ ← «إِذَا كَانَ غَدَاةَ الِاثْنَيْنِ فَائْتِنِي أَنْتَ وَوَلَدُكَ» ← دَعَا رَسُولُ اللَّهِ الْعَبَّاسَ، ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← کُرَیْبٍ مَوْلٰی ابْنِ عَبَّاسٍ ← مَكْحُولٌ ← ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ، ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرُّزِّيُّ قثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ الْخَفَّافُ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The virtues of Abu al-Fadl al-Abbas ibn Abd al-Muttalib, the uncle of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 1795

Hassan

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ أَبِي الْفَضْلِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ عَمِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 1796

1796 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ: قثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ قثنا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، نا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي سَبْرَةَ النَّخَعِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا لَنَا وَلِقُرَيْشٍ نَجِيءُ وَهُمْ يَتَحَدَّثُونَ فَيَقْطَعُونَ حَدِيثَهُمْ؟ فَقَالَ: «أَمَا وَاللَّهِ لَا يَدْخُلُ قَلْبَ رَجُلٍ الْإِيمَانُ حَتَّى يُحِبَّكُمْ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَلِقَرَابِتِكُمْ مِنِّي» .

محمد بن کعب قرظی رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ سے عرض کیا : یار سول اللہ ﷺ ہم جب نکلتے ہیں تو قریشیوں کو باتیں کرتے ہوئے دیکھتے ہیں مگر جب وہ ہمیں دیکھتے ہیں تو اپنی گفتگو روک دیتے ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : کیوں نہیں اللہ کی قسم ! کسی انسان کے دل میں اس وقت تک ایمان نہیں داخل ہوتا جب تک وہ آپ سے اللہ تعالیٰ کے لیے اور میری قرابت داری کی وجہ سے محبت نہ کرے۔ (3)

الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ إِنَّهُ ← مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ، ← أَبِي سَبْرَةَ النَّخَعِيِّ، ← الْاَعْمَشِ ← عَبْدُ اللَّهِ: قثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ قثنا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ،

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The virtues of Abu al-Fadl al-Abbas ibn Abd al-Muttalib, the uncle of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 1796

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ أَبِي الْفَضْلِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ عَمِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 1797

1797 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رِزْمَةَ قَالَ: أنا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قثنا سَلَمَةُ بْنُ الْفَضْلِ يَعْنِي الْأَبْرَشَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عِكْرِمَةَ قَالَ: «كَانَ الْعَبَّاسُ إِذَا كَانَ فِي سَفَرٍ لَا تُرْفَعُ مَائِدَتَهُ، حَتَّى يُرْفَعَ مِنْهَا لِلطَّيْرِ وَالسِّبَاعِ» .

عکرمہ رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہےکہ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ سفر میں ہوتے تو ان کے دستر خوان اس وقت تک بچھے رہتے کہ پرندے اور درندے بھی کچھ کھالیتے ( اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہےکہ ان کے دسترخوان پر بے شمار لوگ کھانا کھاتے تھے) (1)

عِكْرِمَةَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قثنا سَلَمَةُ بْنُ الْفَضْلِ يَعْنِي الْأَبْرَشَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رِزْمَةَ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The virtues of Abu al-Fadl al-Abbas ibn Abd al-Muttalib, the uncle of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 1797

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ أَبِي الْفَضْلِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ عَمِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 1798

1798 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ قثنا عِيسَى بْنُ يُونُسَ بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ السَّبِيعِيُّ قثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي سَبْرَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ قَالَ: قَالَ الْعَبَّاسُ: كَانَ إِذَا جَلَسْنَا إِلَى قُرَيْشٍ وَهُمْ يَتَحَدَّثُونَ قَطَعُوا حَدِيثَهُمْ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا بَلَغَهُ عَنْهُمْ شَيْءٌ خَطَبَهُمْ فَيَتَّعِظُونَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا إِذَا جَلَسْنَا إِلَى قُرَيْشٍ وَهُمْ يَتَحَدَّثُونَ قَطَعُوا حَدِيثَهُمْ قَالَ: فَخَطَبَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «مَا بَالُ رِجَالٍ يَتَحَدَّثُونَ، فَإِذَا جَاءَ الرَّجُلُ مِنْ أَهْلِ بَيْتِي، قَطَعُوا حَدِيثَهُمْ؟ فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَا يَدْخُلُ قَلْبَ امْرِئٍ الْإِيمَانُ حَتَّى يُحِبَّهُمْ لِلَّهِ وَيُحِبَّهُمْ لِقَرَابَتِي» .

محمد بن قرظی رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہےکہ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یار سول اللہ ﷺ ہم جب قریش کے پاس بیٹھتے ہیں وہ باتیں کر رہے ہوتے ہیں مگر ہمیں دیکھ کر اپنی گفتگو روک دیتے ہیں آپ ﷺ کو جب لوگوں کے بارے میں ایسی باتوں کی اطلاع ملتی تو آپ ﷺ خطبہ ارشاد فرمایا کرتے تھے ، وعظ و نصیحت کرتے ، میں نے پھر عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ہم جب قریش کے پاس بیٹھتے ہیں وہ باتیں کررہے ہوئے ہیں مگر ہمیں دیکھ کر اپنی گفتگو روک دیتے ہیں ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا ان گفتگو کرنے والے لوگوں کو کیا ہوا کہ جب میرے اہل بیت میں کوئی بندہ ان کےپاس جاکر بیٹھتا ہے تو وہ اپنی گفتگو روک دیتے ہیں اس ذات کی قسم ! جس کے ہاتھ میں جان ہے کسی انسان کے دل میں ایمان نہیں ہوتا جب تک وہ تم سے اللہ کے لیے اور میری قرابت داری کی وجہ سے محبت نہ کرے۔ (2)

مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ، ← أَبِي سَبْرَةَ ← عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ قثنا عِيسَى بْنُ يُونُسَ بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ السَّبِيعِيُّ قثنا الْأَعْمَشُ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The virtues of Abu al-Fadl al-Abbas ibn Abd al-Muttalib, the uncle of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 1798

Daif

chevron_left Previous
1234567
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door2. He was asked about the virtues of Abu, the first-born of al-Siddiq, the mercy and pleasure of God be upon him3. He was asked about the words of Ali ibn Abi Talib and others: The best of this nation after its prophet Abu Bakr and Omar4. His saying, may God’s prayers and peace be upon him: “If I had taken people as a friend, I would not have taken a virgin father as a friend5. He, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Pass a virgin father, let him pray to the people.”6. The remainder of his saying: “Show a first-born father who prays to people.”7. It was not narrated that Abu Bakr was the first to become Muslim8. It was not narrated that a virgin father came to ask permission, so the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Permit him, and give him good tidings of paradise.”9. The Virtue of the Commander of the Believers, Omar Ibn Al-Khattab, may God be pleased with him10. The Islam of Umar ibn Al-Khattab, may God be pleased with him11. And among the virtues of Omar bin Al-Khattab from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik, on the authority of his sheikhs other than Abd Allah bin Ahmed, and from the hadith of Abu Bakr bin Malik.12. The virtue of Othman bin Affan, may God be pleased with him13. And from the merits of Othman, from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik on the authority of his sheikhs except for Abdullah bin Ahmad14. The news of the Prince of the Believers, Ali bin Abi Talib, and his asceticism, may God be pleased with him15. His mother's name and genealogy16. A merit upon me, peace be upon him17. And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah18. The Virtue of Abd al-Rahman ibn Awf, may God be pleased with him19. The Virtue of Az-Zubayr Bin Awwam, may God be pleased with him
20. Fadil Abi Ubaidah Ibn Al Jarrah, may God be pleased with him
21. Fadil Talha Bin Ubaid Allah, may God be pleased with him
22. Fadil Saad bin Abi Waqas, may God be pleased with him
23. Fadil Fatima, the daughter of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him
24. The virtues of good, and the good, may God be pleased with them.
25. The Virtues of Ansar, may God be pleased with them
26. The virtue of Khalid bin Al-Walid, may God have mercy on him
27. Fadil Saad bin Muadh, may God have mercy on him
28. Fadil Haritha Ibn Nu'man, may God be pleased with him
29. Fadil Suhaib, may God be pleased with him
30. The virtues of the Arabs
31. The virtue of Usama bin Zaid, may God be pleased with him
32. Fadil Abdullah bin Masoud, may God be pleased with him
33. Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with them
34. Virtues of Khadija and others
35. Fadil Ammar ibn Yasser, may God be pleased with him
36. Virtues 0 People of Yemen
37. Virtues of the family of the Mother of the Believers, may God be pleased with her, and other things among the people of Yemen
38. The virtues of the Banu Ghafar, and Islam and others
39. Fadil Jaafar ibn Abi Talib, may God be pleased with him
40. Fadil Jarir bin Abdullah, may God be pleased with him
41. Fadil Abdullah Bin Omar, may God be pleased with them
42. The virtues of a people of the Levant
43. The Virtue of the Companions of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him
44. The virtue of Amr ibn al-Aas, may God be pleased with him
45. The Virtues of Mu`awiyah Bin Abi Sufyan, may God be pleased with them
46. The virtues of Abu al-Fadl al-Abbas ibn Abd al-Muttalib, the uncle of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him
47. Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with him