فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ أَبِي الْفَضْلِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ عَمِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 1775
1775 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ بْنُ هَمَّامٍ قثنا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: أَخْبَرَنِي كَثِيرُ بْنُ عَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، عَنْ أَبِيهِ الْعَبَّاسِ قَالَ: شَهِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُنَيْنًا فَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا مَعَهُ إِلَّا أَنَا وَأَبُو سُفْيَانَ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، فَلَزِمْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ نُفَارِقْهُ وَهُوَ عَلَى بَغْلَةٍ شَهْبَاءَ وَرُبَّمَا قَالَ مَعْمَرٌ: بَيْضَاءَ أَهْدَاهَا لَهُ فَرْوَةُ بْنُ نَعَامَةَ الْجُذَامِيُّ، فَلَمَّا الْتَقَى الْمُسْلِمُونَ وَالْكُفَّارُ وَلَّى الْمُسْلِمُونَ مُدْبِرِينَ، وَطَفِقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرْكِضُ بَغْلَتَهُ قِبَلَ الْكُفَّارِ قَالَ الْعَبَّاسُ: وَأَنَا آخِذٌ بِلِجَامِ بَغْلَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكُفُّهَا، وَهُوَ لَا يَأْلُو مَا أَسْرَعَ نَحْوَ الْمُشْرِكِينَ، وَأَبُو سُفْيَانَ بْنُ الْحَارِثِ آخِذٌ بِغَرْزِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا عَبَّاسُ نَادِ: يَا أَصْحَابَ السَّمُرَةِ " قَالَ: وَكُنْتُ رَجُلًا صَيِّتًا فَقُلْتُ بِأَعْلَى صَوْتِي: أَيْنَ أَصْحَابُ السَّمُرَةِ؟ قَالَ: فَوَاللَّهِ لَكَأَنَّ عَطْفَتَهُمْ حِينَ سَمِعُوا صَوْتِي عَطْفَةُ الْبَقَرِ عَلَى أَوْلَادِهَا، فَقَالَ: لَبَّيْكَ، يَا لَبَّيْكَ، يَا لَبَّيْكَ، وَأَقْبَلَ الْمُسْلِمُونَ، فَاقْتَتَلُوا هُمْ وَالْكُفَّارُ، فَنَادَتِ الْأَنْصَارُ يَقُولُونَ: يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ، ثُمَّ قَصُرَتِ الدَّاعُونَ عَلَى بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ، فَنَادَوْا: يَا بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ قَالَ: فَنَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى بَغْلَتِهِ كَالْمُتَطَاوِلِ عَلَيْهَا إِلَى قِتَالِهِمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا حِينَ حِمَى الْوَطِيسُ قَالَ: ثُمَّ أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَصَيَاتٍ فَرَمَى بِهِنَّ وُجُوهَ الْكُفَّارِ ثُمَّ قَالَ: «انْهَزَمُوا وَرَبِّ الْكَعْبَةِ، انْهَزَمُوا وَرَبِّ الْكَعْبَةِ» قَالَ: فَذَهَبْتُ أَنْظُرُ فَإِذَا الْقِتَالُ عَلَى هَيْئَتِهِ فِيمَا أَرَى، قَالَ: فَوَاللَّهِ مَا هُوَ إِلَّا أَنْ رَمَاهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحَصَيَاتِهِ فَمَا زِلْتُ أَرَى حَدَّهُمْ كَلِيلًا وَأَمْرَهُمْ مُدْبِرًا حَتَّى هَزَمَهُمُ اللَّهُ قَالَ: وَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْكُضُ خَلْفَهُمْ عَلَى بَغْلَتِهِ.
سیدنا عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حنین کی جنگ میں شریک ہوا البتہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا اس وقت صرف میں اور ابو سفیان بن حارث بن عبدالمطلب آپ ﷺ کے ساتھ تھے ۔ ہم آپ ﷺ کے ساتھ رہے اور ایک گھڑی بھی الگ نہ ہوئے آپ اپنے شہبا اس کو اس لیے کہا جاتا تھا کہ وہ سفید یا سیاہی مائل تھا ) پر سوار تھے معمر کہتے ہیں کہ شاید وہ سفید تھا جو فر وہ بن نعامہ جدامی کی طرف سے بطور تحفہ ملا تھا جب مسلمانوں اور کافروں کا آمنا سامنا ہوا تو مسلمان پیچھے ہٹنے لگے اور رسول اللہ ﷺ اپنے خچر پر بیٹھے ، کافر وں کے سامنے آئے عباس کہتے ہیں میں نے آپ ﷺ کےخچر کی لگام تھام رکھی تھی میں روکنے کی کوشش کر رہا تھا مگرآپ ﷺ ان کی طرف بڑھنے کی کوشش کر رہے تھے اور ابو سفیان نے آپ ﷺ کی سواری کو رکاب تھام رکھی تھی تو رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا : عباس ! درخت والوں (حدییبہ کے مقام پر جنہوں نے بیعت کی تھی ) کو آواز دو میں بہت اونچی آواز کا مالک تھا تو میں نے آواز لگائی درخت والے کہاں ہیں ؟ اللہ کی قسم وہ میری آواز سن کر اس طرح واپس پلٹے جس طرح گائے اپنے بچھڑے کی طرف پلٹتی ہے تو کہنے لگے : لبیک لبیک ہم حاضر ہیں ، ہم حاضر ہیں پھر دوبارہ مسلمانوں اور کافروں کا آمنا سامنا ہوا تو انصار نے آواز لگاتے ہوئے کہا اے انصار کی جماعت پھر پکارنے والوں نے بنو حارث بن خزرج کو روکتے ہوئے کہا : اے بنو حارث آپ ﷺ خچر پر سوار ہو کر صحابہ کرام کی طرف دیکھ رہے تھے جب جنگ شدت اختیار کر گئی تو رسول اللہ ﷺ نے کافروں کے چہروں پر کنکریاں پھینکیں اور فرمایا : شکست کھائیں گے کعبہ کے رب کی قسم !شکست کھائیں گے کعبہ کے رب کی قسم ! پس میں دیکھنے گیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ جنگ اپنی حالت پر تھی اللہ کی قسم ! نبی کریم ﷺ نے ان کنکریاں پھینکیں ، میں مسلسل ان کی طرف دیکھتا رہا کہ ان کی تدبیریں کمزور ہو گئیں ، پیٹھ کے بل پھر گئے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے شکست سے دوچار کیا ، میں رسول اللہ ﷺ کو دیکھ رہا تھا اپنے خچر پر سوار ہوکر ان کے پیچھے دوڑرہے تھے ۔ (1)
أبيه العباس ← كَثِيرِ بْنِ عَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← أَبِي، قثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ بْنُ هَمَّامٍ قثنا مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ اللَّهِ
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The virtues of Abu al-Fadl al-Abbas ibn Abd al-Muttalib, the uncle of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 1775
