Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

1,963 Hadith48 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ أَبِي الْفَضْلِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ عَمِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 1763

1763 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ: أنا هُشَيْمٌ، قثنا حَجَّاجٌ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، وَعَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ عَلَى الصَّدَقَاتِ قَالَ: فَأَتَى عَلَى الْعَبَّاسِ فَسَأَلَهُ صَدَقَةَ مَالِهِ قَالَ: فَتَجَهَّمَهُ الْعَبَّاسُ قَالَ: حَتَّى كَانَ بَيْنَهُمَا، فَانْطَلَقَ عُمَرُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَشَكَا الْعَبَّاسُ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا عُمَرُ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ الرَّجُلَ صِنْوُ أَبِيهِ؟ إِنَّا كُنَّا تَعَجَّلْنَا صَدَقَةَ الْعَبَّاسِ الْعَامَ عَامَ أَوَّلَ» .

عطاء بن ابی رباح رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو زکوۃ کی وصولی پر مقرر کیا ، وہ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے پاس زکوۃ وصل کرنے کے لیے آئے تو دونوں میں تلخ کلامی ہوئی تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے آپ ﷺ کو انکی شکایت لگائی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: عمر ! تم نہیں جانتے کہ چچا باپ کی جگہ ہوتا ہے اور ہم نے عباس سے وقت مقررہ سے قبل ایک سال جلدی زکوۃ وصول کی تھی ۔ (2)

ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، وَعَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، ← هُشَيْمٌ، قثنا حَجَّاجٌ، ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The virtues of Abu al-Fadl al-Abbas ibn Abd al-Muttalib, the uncle of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 1763

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ أَبِي الْفَضْلِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ عَمِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 1764

1764 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ عَامِرٍ، قَالَ: انْطَلَقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَهُ الْعَبَّاسُ عَمُّهُ إِلَى السَّبْعِينَ مِنَ الْأَنْصَارِ عِنْدَ الْعَقَبَةِ تَحْتَ الشَّجَرَةِ، فَقَالَ: «لَيَتَكَلَّمْ مُتَكَلِّمُكُمْ وَلَا يُطِلِ الْخُطْبَةَ فَإِنَّ عَلَيْكُمْ مِنَ الْمُشْرِكِينَ عَيْنًا وَإِنْ يَعْلَمُوا بِكُمْ يَفْضَحُوكُمْ» ، فَقَالَ قَائِلُهُمْ، وَهُوَ أَبُو إِمَامَةَ سَلْ يَا مُحَمَّدُ لِرَبِّكَ مَا شِئْتَ، سَلْ لِنَفْسِكَ وَلِأَصْحَابِكَ مَا شِئْتَ، ثُمَّ أَخْبِرْنَا مَا لَنَا مِنَ الثَّوَابِ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَعَلَيْكُمْ إِذَا فَعَلْنَا ذَاكَ؟ قَالَ: «أَسْأَلُكُمْ لِرَبِّي أَنْ تَعْبُدُوهُ، وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا، وَأَسْأَلُكُمْ لِنَفْسِي وَلِأَصْحَابِي أَنْ تُؤْوُونَا وَتَنْصُرُونَا وَتَمْنَعُونَا مِمَّا مَنَعْتُمْ مِنْهُ أَنْفُسَكُمْ» قَالُوا: فَمَا لَنَا إِذَا فَعَلْنَا ذَلِكَ؟ قَالَ: «لَكُمُ الْجَنَّةُ» قَالُوا: فَلَكَ ذَاكَ.

عامر شبعی رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ بیعت عقبہ کی رات مخصوص درخت کے نیچے اپنے چچا عباس کے ساتھ 70 انصار مدینہ سے ملنے گئے تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: تم میں سے جس نے بات کرنی ہے وہ لمبی گفتگو نہ کرے۔ کیونکہ مشرکین کے ہم پر جاسوس بھی ہیں انصار میں سے ابو امامہ نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ہم سے اپنے رب کے لیے اپنے لیے ، اپنے صحابہ کے لیے جو آپ چاہتے ہیں مطالبہ کرلیں اور پھرہمیں بتا دینا کہ جب ہم آپ کی بات مان جائیں تو اس کے بدلے میں اللہ اور آپ کی طرف سے ہمیں کیا ثواب ملے گاَ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : میرے رب کے لیے میرا مطالبہ یہ ہے کہ تم خاص اسی کی عبادت کرو اور اس کے علاوہ کسی کو شریک نہ ٹھہرا ؤ میری ذات اور میرے صحابہ کے بارے میں میرا مطالبہ یہ ہےکہ تم لوگ ہمیں پناہ دو اورہماری حفاظت کرو جس طرح تم اپنے نفسوں کی اور اپنی اولاد کی کرتے ہو ۔ انصار نے پوچھا : اگر ہم ایسا کریں تو ہمیں اس کے بدلے کیا ملے گا؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا " تمہارے لیے جنت ہے سب نے کہا : ہم تیار ہیں۔(1)

عَامِرٍ، ← أَبِي ← أَبِي، قثنا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The virtues of Abu al-Fadl al-Abbas ibn Abd al-Muttalib, the uncle of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 1764

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ أَبِي الْفَضْلِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ عَمِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 1765

1765 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا قثنا مُجَالِدٌ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ، بِنَحْوِ هَذَا قَالَ: وَكَانَ أَبُو مَسْعُودٍ أَصْغَرَهُمْ سِنًّا،

سیدنا ابو مسعود رضی اللہ عنہ سے یہی مذکورہ روایت منقول ہے مگر اس میں یہ الفاظ زیادہ ہیں کہ سیدنا ابو مسعود الانصاری رضی اللہ عنہ بھی ان میں شامل تھے اور سب سے عمر میں چھوٹے تھے ۔ (2)

وَكَانَ أَبُو مَسْعُودٍ أَصْغَرَهُمْ سِنًّا ← أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ، بِنَحْوِ هَذَا ← عَامِرٍ، ← أَبِي، قثنا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا قثنا مُجَالِدٌ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The virtues of Abu al-Fadl al-Abbas ibn Abd al-Muttalib, the uncle of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 1765

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ أَبِي الْفَضْلِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ عَمِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 1766

1766 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا قَالَ: حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ قَالَ: شَهِدْتُ الشَّعْبِيَّ يَقُولُ «مَا سَمِعَ الشَّيْبُ وَلَا الشُّبَّانُ بِخُطْبَةٍ مِثْلِهَا»

امام شبعی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: کسی نوجوان اور بوڑھے نے اس طرح خطبہ کبھی بھی نہیں سنا جو لیلۃ العقبہ (عقبہ کی رات ) آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا ۔ (3)

الشَّيْبُ وَلَا الشُّبَّانُ بِخُطْبَةٍ مِثْلِهَا» ← مَا ← شَهِدْتُ الشَّعْبِيَّ ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ ← أَبِي، قثنا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The virtues of Abu al-Fadl al-Abbas ibn Abd al-Muttalib, the uncle of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 1766

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ أَبِي الْفَضْلِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ عَمِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 1767

1767 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا يَعْقُوبُ قثنا أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ: فَحَدَّثَنِي مَعْبَدُ بْنُ كَعْبِ بْنِ مَالِكِ بْنِ أَبِي كَعْبٍ أَخُو بَنِي سَلَمَةَ أَنَّ أَخَاهُ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ كَعْبٍ حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَاهُ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ، وَكَانَ كَعْبٌ مِنْ أَعْلَمِ الْأَنْصَارِ مِمَّنْ شَهِدَ الْعَقَبَةَ وَبَايَعَ رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: خَرَجْنَا فِي حُجَّاجِ قَوْمِنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. قَالَ: فَاجْتَمَعْنَا بِالشِّعْبِ نَنْتَظِرُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى جَاءَنَا، وَمَعَهُ عَمُّهُ الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ قَالَ: قُلْنَا: تَكَلَّمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَخُذْ لِنَفْسِكَ وَلِرَبِّكَ مَا أَحْبَبْتَ قَالَ: فَتَكَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلِي، وَدَعَا إِلَى اللَّهِ وَرَغَّبَ فِي الْإِسْلَامِ، وَقَالَ: «أُبَايِعُكُمْ عَلَى أَنْ تَمْنَعُونِي مِمَّا تَمْنَعُونَ مِنْهُ نِسَاءَكُمْ وَأَبْنَاءَكُمْ» قَالَ: فَأَخَذَ الْبَرَاءُ بْنُ مَعْرُورٍ بِيَدِهِ ثُمَّ قَالَ: نَعَمْ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَنَمْنَعُكَ مِمَّا نَمْنَعُ مِنْهُ أَزِرَّتَنَا فَبَايِعْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَنَحْنُ وَاللَّهِ أَهْلُ الْحُرُوبِ، وَأَهْلُ الْحَلْقَةِ وَرِثْنَاهَا كَابِرًا، عَنْ كَابِرٍ.

سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ ان انصاریوں میں سب سے زیادہ جاننے والے تھے جو عقبہ کی رات رسول اللہ ﷺ کی بیعت کرنے کے لیے حاضر ہوئے تھے ۔کعب بیان کرتے ہیں کہ ہم اپنی مشرک قوم کے قافلے کے ساتھ نکلے پھر باقی حدیث کو بیان کیا کہ ہم اس گھاٹی میں جمع ہوئے جس میں ہم رسول اللہ ﷺ کا انتظار کر رہے تھے یہاں تک کہ آپ ﷺ اپنے چچا عباس کے ساتھ تشریف لائے ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ گفتگو شروع فرمائیے۔ یا رسول اللہ ﷺ اپنے رب کے لیے اور اپنے لیے جو آپ ﷺ چاہتے ہیں مطالبہ کر لیں آپ ﷺ نے مجھ سے پہلے اپنی گفتگو کا آغاز کر دیا ، اللہ رب العزت کی طرف دعوت دی ، اسلام کی ترغیب دی پھر فرمایا میں اس بات پر آپ سے بیعت لیتا ہوں کہ تم لوگ ہمیں پناہ دو اور ہماری حفاظت کرو جس طرح تم اپنے نفسوں اور اپنی اولاد کی کرتے ہو ۔ پس براء بن معرور نے آپ ﷺ کا ہاتھ پکڑ تے ہوئے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ جی ہاں ! اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ معبوث کیا ہے ۔ ہم آپ ﷺ کی حفاظت کریں گے جس طرح ہم اپنی جانوں اور بچوں کی کرتے ہیں ، پس یا رسول اللہ ﷺ ہم سے بیعت لیں ، ہم یقینا سخت جنگجو اور زرہ پوش ہیں ، یہ ہمیں اپنے بڑوں سے نسل در نسل وراثت میں ملا ہے ۔ (1)

مَعْبَدُ بْنُ كَعْبِ بْنِ مَالِكِ بْنِ أَبِي كَعْبٍ أَخُو بَنِي سَلَمَةَ ← ابْنِ إِسْحَاقَ، ← أَبِي، قثنا يَعْقُوبُ قثنا أَبِي، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The virtues of Abu al-Fadl al-Abbas ibn Abd al-Muttalib, the uncle of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 1767

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ أَبِي الْفَضْلِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ عَمِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 1768

1768 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ التَّيْمِيُّ، مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سُهَيْلٍ نَافِعُ بْنُ مَالِكٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْعَبَّاسِ: «هَذَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ أَجْوَدُ قُرَيْشٍ كَفًّا وَأَوْصَلُهَا» .

سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ سے فرمایا عباس بن عبد المطلب قریش کے سب سے زیادہ سخی اور اچھے خاندان کے ہیں ۔ (2)

سَعْدَ بْنَ اَبِیْ وَقَّاصِ ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← أَبُو سُهَيْلٍ نَافِعُ بْنُ مَالِكٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ التَّيْمِيُّ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ ← أَبِي، قثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The virtues of Abu al-Fadl al-Abbas ibn Abd al-Muttalib, the uncle of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 1768

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ أَبِي الْفَضْلِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ عَمِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 1769

1769 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قثنا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: أَخْبَرَنِي كَثِيرُ بْنُ عَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، عَنْ أَبِيهِ الْعَبَّاسِ قَالَ: " شَهِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ فَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ وَمَا مَعَهُ إِلَّا أَنَا وَأَبُو سُفْيَانَ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، فَلَزِمْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ نُفَارِقْهُ وَهُوَ عَلَى بَغْلَةٍ شَهْبَاءَ، وَرُبَّمَا قَالَ مَعْمَرٌ: بَيْضَاءَ، قَالَ الْعَبَّاسُ: فَأَنَا آخِذٌ بِلِجَامِ بَغْلَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكُفُّهَا، وَهُوَ لَا يَأْلُو مَا أَسْرَعَ نَحْوَ الْمُشْرِكِينَ ".

سیدنا عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جنین کی جنگ میں شریک ہوا البتہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا اس وقت میں اور ابو سفیان بن حارث بن عبد المطلب آپ ﷺ کے ساتھ تھے ہم آپ ﷺ کے ساتھ رہے اور ایک گھڑی بھی الگ نہ ہوئے آپ اپنے شہباء نامی خچر ( شہباء اس کو اس لیے کہا جاتا تھا کہ وہ سفیدی یا ساہی مائل تھا ) پر سوار تھے ۔ معمر کہتے ہیں کہ شاید وہ سفید تھا ۔ میں نے آپ ﷺ کے خچر کی لگام تھام رکھی تھی انہوں نے جلدی سے مشرکین کی طرف لنکنے میں کوئی کوتاہی نہیں کی ۔ (3)

أبيه العباس ← كَثِيرِ بْنِ عَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← أَبِي، قثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قثنا مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The virtues of Abu al-Fadl al-Abbas ibn Abd al-Muttalib, the uncle of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 1769

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ أَبِي الْفَضْلِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ عَمِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 1770

1770 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا حُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّى قثنا إِسْرَائِيلُ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى، عَنِ ابْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ وَقَعَ فِي أَبٍ لِلْعَبَّاسِ كَانَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَلَطَمَهُ الْعَبَّاسُ فَجَاءَ قَوْمُهُ، فَقَالُوا: وَاللَّهِ لَنَلْطِمَنَّهُ كَمَا لَطَمَهُ، فَلَبِسُوا السِّلَاحَ، فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَعَدَ الْمِنْبَرَ فَقَالَ: «أَيُّهَا النَّاسُ أَيُّ أَهْلِ الْأَرْضِ أَكْرَمُ عَلَى اللَّهِ؟» قَالُوا: أَنْتَ، قَالَ: «فَإِنَّ الْعَبَّاسَ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ، فَلَا تَسُبُّوا أَمْوَاتَنَا، فَتُؤْذُوا أَحْيَاءَنَا» فَجَاءَ الْقَوْمُ فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ غَضَبِكَ.

سیدنا عبدا للہ بن عبا س رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک انصاری نے سیدنا عباس کے والد کے بارے میں کچھ کہا برا کہا جو کہ زمانہ جاہلیت کے (شخص) تھے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے ان کو تھپڑ لگادیا اس آدمی کے قبیلے والے جنگ کے لیے ہتھیار اٹھا کر آگئے اور کہنے لگے ہم اس (عباس) کو بھی تھپڑ لگائیں گے یہ سن کر رسول اللہ ﷺ منبر پر جلوہ گر ہوئے اور فرمایا : اے لوگوں ! زمین والوں میں سب سے زیادہ اللہ کو کون پیارا ہے ؟ صحابہ کرام نے عرض کیا آپ ! پھر فرمایا : عباس مجھ سے اور میں ان سے ہوں پس تم لوگ ہمارے فوت شدگان کو گالیاں مت دو جس سے ہم زندوں کو تکلیف ہوتی ہے پس وہ لوگ کہنے لگے : یا رسول اللہ ﷺ ہم آپ کے غضب سے اللہ کی پناہ لیتے ہیں ۔ (4)

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← ابْنِ جُبَيْرٍ ← عَبْدُ الْأَعْلَى ← أَبِي، قثنا حُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّى قثنا إِسْرَائِيلُ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The virtues of Abu al-Fadl al-Abbas ibn Abd al-Muttalib, the uncle of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 1770

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ أَبِي الْفَضْلِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ عَمِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 1771

1771 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ قثنا حَاتِمٌ قَالَ: حَدَّثَنِي بَعْضُ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ يَقُولُ: حَدَّثَنِي أَبِي عَبْدِ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ، عَنْ أَبِيهِ الْعَبَّاسِ أَنَّهُ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنَا عَمُّكَ، كَبُرَتْ سِنِّي وَاقْتَرَبَ أَجَلِي، فَعَلِّمْنِي شَيْئًا يَنْفَعُنِي اللَّهُ بِهِ، قَالَ: يَا عَبَّاسُ «أَنْتَ عَمِّي، وَلَا أُغْنِي عَنْكَ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا، وَلَكِنْ سَلْ رَبَّكَ الْعَفْوَ، وَالْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ» قَالَهَا ثَلَاثًا، ثُمَّ أَتَاهُ قُرْبَ الْحَوْلِ فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ. [ص:926]

سیدنا عبدا للہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہنے لگے : اے اللہ کے رسول اللہ ﷺ میں آپ کا چچا ہوں میری عمر زیادہ ہو گئی ہے اور موت قریب ہےمجھے کوئی ایسی چیز بتا دو جس سے اللہ مجھے فائدہ دے تو آپ ﷺ نے فرمایا عباس ! آپ میرے چچا تو ہیں مگر میں آپ کو اللہ سے نہیں بچا سکتا ، البتہ آپ اپنے رب سے دنیا و آخرت میں معافی اور سلامتی کا سوال کریں ، یہ بات تین دفعہ فرمائی وہ پھر مکمل ایک سال کے بعد دوبارہ آئے تو آپ ﷺ نے اسی کی مثل دوبارہ فرمادیا۔ (1)

أَبِيهِ الْعَبَّاسِ أَنَّهُ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ ← أَبِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ ← بَعْضُ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ← أَبِي، قثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ قثنا حَاتِمٌ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The virtues of Abu al-Fadl al-Abbas ibn Abd al-Muttalib, the uncle of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 1771

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ أَبِي الْفَضْلِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ عَمِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 1772

1772 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا رَوْحٌ قثنا أَبُو يُونُسَ الْقُشَيْرِيُّ حَاتِمُ بْنُ أَبِي صَغِيرَةَ قَالَ: حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ قَالَ: قَدِمَ عَلَيْنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، فَحَضَرَهُ بَنُو عَبْدِ الْمُطَّلِبِ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ عَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنَا عَمُّكَ قَدْ كَبُرَتْ سِنِّي، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ.

سیدنا عبدا للہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہےکہ سیدنا عبا س رضی اللہ عنہ رسول ﷺ کے پاس آکر کہنے لگے اے اللہ کے رسول ﷺ میں آپ کا چچا ہوں ، میری عمر زیادہ ہو گئی ہے پھر آگے مذکورہ روایت ہی کی مثل بیان کی ۔(2)

أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ فَقُلْتُ: ← أَبِيهِ عَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، ← قَدِمَ عَلَيْنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، فَحَضَرَهُ بَنُو عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ← رَجُلٌ مِنْ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ← أَبِي، قثنا رَوْحٌ قثنا أَبُو يُونُسَ الْقُشَيْرِيُّ حَاتِمُ بْنُ أَبِي صَغِيرَةَ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The virtues of Abu al-Fadl al-Abbas ibn Abd al-Muttalib, the uncle of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 1772

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ أَبِي الْفَضْلِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ عَمِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 1773

1773 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ قَالَ: أنا إِسْمَاعِيلُ، يَعْنِي: ابْنَ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ قُرَيْشًا إِذَا لَقِيَ بَعْضُهَا بَعْضًا لَقُوهُمْ بِبِشْرٍ حَسَنٍ، وَإِذَا لَقُونَا لَقُونَا بِوُجُوهٍ لَا نَعْرِفُهَا قَالَ: فَغَضِبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَضَبًا شَدِيدًا وَقَالَ: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَا يَدْخُلُ قَلْبَ رَجُلٍ الْإِيمَانُ حَتَّى يُحِبَّكُمْ لِلَّهِ وَرَسُولِهِ» . [ص:927]

سیدنا عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہےکہ میں نے عرض کیا یار سول اللہ ﷺ قریشی آپس میں تو خوش رو ہوکر ملتے ہیں ، مگر ہم سے اجنیبوں کی طرح ملتے تھے ؟ اس پر رسول اللہ ﷺ شدید غصے میں آگئے اور فرمایا : اس ذات کی قسم ! جس کے ہاتھ محمد(ﷺ) کی جان ہے کسی انسان کے دل میں اس وقت تک ایمان داخل نہیں ہو سکتا جب تک وہ آپ سے اللہ اور رسول اللہ کی وجہ سے محبت نہ کر لے۔ (3)

قُلْتُ ← الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، ← إِسْمَاعِيلَ يَعْنِي: ابْنَ أَبِي خَالِدٍ ← أَبِي، قثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The virtues of Abu al-Fadl al-Abbas ibn Abd al-Muttalib, the uncle of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 1773

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ أَبِي الْفَضْلِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ عَمِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 1774

1774 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثناه جَرِيرٌ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ بْنِ رَبِيعَةَ قَالَ: دَخَلَ الْعَبَّاسُ، عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنَّا لَنَخْرُجُ فَنَرَى قُرَيْشًا تُحَدِّثُ. فَذَكَرَ الْحَدِيثَ

عبدالمطلب بن ربیعہ رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہےکہ ایک دن سیدنا عباس رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ جب ہم نکلتے ہیں تو قریش ہمارے خلاف بولتے ہوئے نظر آتے ہیں پھر آگے مذکورہ روایت کی مثل بیان کیا ۔(4)

لَنَخْرُجُ فَنَرَى قُرَيْشًا تَحَدَّثُ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ← دَخَلَ الْعَبَّاسُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ فَقَالَ ← عبد المطلب بن ربيعة ← عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، ← أَبِي، قثناه جَرِيرٌ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The virtues of Abu al-Fadl al-Abbas ibn Abd al-Muttalib, the uncle of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 1774

Daif

chevron_left Previous
1234567
Next chevron_right

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
All Chapters
1. Book
    1. Door2. He was asked about the virtues of Abu, the first-born of al-Siddiq, the mercy and pleasure of God be upon him3. He was asked about the words of Ali ibn Abi Talib and others: The best of this nation after its prophet Abu Bakr and Omar4. His saying, may God’s prayers and peace be upon him: “If I had taken people as a friend, I would not have taken a virgin father as a friend5. He, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Pass a virgin father, let him pray to the people.”6. The remainder of his saying: “Show a first-born father who prays to people.”7. It was not narrated that Abu Bakr was the first to become Muslim8. It was not narrated that a virgin father came to ask permission, so the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Permit him, and give him good tidings of paradise.”9. The Virtue of the Commander of the Believers, Omar Ibn Al-Khattab, may God be pleased with him10. The Islam of Umar ibn Al-Khattab, may God be pleased with him11. And among the virtues of Omar bin Al-Khattab from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik, on the authority of his sheikhs other than Abd Allah bin Ahmed, and from the hadith of Abu Bakr bin Malik.12. The virtue of Othman bin Affan, may God be pleased with him13. And from the merits of Othman, from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik on the authority of his sheikhs except for Abdullah bin Ahmad14. The news of the Prince of the Believers, Ali bin Abi Talib, and his asceticism, may God be pleased with him15. His mother's name and genealogy16. A merit upon me, peace be upon him17. And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah18. The Virtue of Abd al-Rahman ibn Awf, may God be pleased with him19. The Virtue of Az-Zubayr Bin Awwam, may God be pleased with him20. Fadil Abi Ubaidah Ibn Al Jarrah, may God be pleased with him21. Fadil Talha Bin Ubaid Allah, may God be pleased with him22. Fadil Saad bin Abi Waqas, may God be pleased with him23. Fadil Fatima, the daughter of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him24. The virtues of good, and the good, may God be pleased with them.25. The Virtues of Ansar, may God be pleased with them26. The virtue of Khalid bin Al-Walid, may God have mercy on him27. Fadil Saad bin Muadh, may God have mercy on him28. Fadil Haritha Ibn Nu'man, may God be pleased with him29. Fadil Suhaib, may God be pleased with him30. The virtues of the Arabs31. The virtue of Usama bin Zaid, may God be pleased with him32. Fadil Abdullah bin Masoud, may God be pleased with him33. Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with them34. Virtues of Khadija and others35. Fadil Ammar ibn Yasser, may God be pleased with him36. Virtues 0 People of Yemen37. Virtues of the family of the Mother of the Believers, may God be pleased with her, and other things among the people of Yemen38. The virtues of the Banu Ghafar, and Islam and others39. Fadil Jaafar ibn Abi Talib, may God be pleased with him40. Fadil Jarir bin Abdullah, may God be pleased with him41. Fadil Abdullah Bin Omar, may God be pleased with them42. The virtues of a people of the Levant43. The Virtue of the Companions of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him44. The virtue of Amr ibn al-Aas, may God be pleased with him45. The Virtues of Mu`awiyah Bin Abi Sufyan, may God be pleased with them46. The virtues of Abu al-Fadl al-Abbas ibn Abd al-Muttalib, the uncle of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him47. Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with him