Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

1,963 Hadith48 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ أَبِي الْفَضْلِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ عَمِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 1751

1751 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ قثنا أَبِي قَالَ: سَمِعْتُ الْأَعْمَشَ يُحَدِّثُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْنِي لِعُمَرَ: «أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ عَمَّ الرَّجُلِ صِنْوَ أَبِيهِ، يَعْنِي الْعَبَّاسَ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ» .

سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول الل ﷺ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا : کیا تم نہیں جانتے کہ چچا باپ کی جگہ ہوتا ہے ۔ یعنی عباس بن عبدالمطلب ( میرے چچا میرے باپ کی جگہ پر ہیں ۔) (1)

عَلِيٍّ، ← أَبِي الْبَخْتَرِيِّ ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← الْاَعْمَشِ ← أَبِي، قثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ قثنا أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The virtues of Abu al-Fadl al-Abbas ibn Abd al-Muttalib, the uncle of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 1751

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ أَبِي الْفَضْلِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ عَمِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 1752

1752 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى عَفَّانَ، قَالَ: نا حَمَّادٌ، يَعْنِي: ابْنَ سَلَمَةَ قَالَ: أنا ثَابِتٌ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، أَنَّ. رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِلْعَبَّاسِ: «هَلُمَّ هَهُنَا، فَإِنَّكَ صِنْوُ أَبِي» .

ابو عثمان نہدی رحمۃ اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ سے فرمایا : یہاں پر آجاؤ کیونکہ آپ میرے با پ کی جگہ پر ہیں ۔ (2)

أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ← عَلَى عَفَّانَ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The virtues of Abu al-Fadl al-Abbas ibn Abd al-Muttalib, the uncle of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 1752

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ أَبِي الْفَضْلِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ عَمِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 1753

1753 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ بِشْرِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ قَالَ: أَرَادَ عُمَرُ تَوْسِيعَ الْمَسْجِدَ فَكَانَ لِلْعَبَّاسِ دَارٌ، فَقَالَ: لَا أُعْطِيكَهَا لَيْسَ لَكَ ذَاكَ قَالَ: اجْعَلْ بَيْنِي وَبَيْنَكَ أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ حَكَمًا، فَقَضَى عَلَيْهِ، فَقَالَ الْعَبَّاسُ: «هِيَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ صَدَقَةٌ» .

سعید بن مسیب رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مسجد کی توسیع کرنے کا ارادہ کیا، ساتھ سیدنا عباس کا گھر تھا ، انہوں نے گھر دینے سے انکار کیا اور کہا کہ میرے اور آپ کے درمیان سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ قاضی ہیں تو انہوں نے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے حق میں فیصلہ دے دیا تو پھر سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اب یہ گھر تمام مسلمانوں پر صدقہ ہے ۔ (3)

الْعَبَّاسُ: «هِيَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ صَدَقَةٌ» ← اجْعَلْ بَيْنِي وَبَيْنَكَ أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ حَكَمًا، فَقَضَى عَلَيْهِ، ← لَا أُعْطِيكَهَا لَيْسَ لَكَ ذَاكَ ← أَرَادَ عُمَرُ تَوْسِيعَ الْمَسْجِدَ فَكَانَ لِلْعَبَّاسِ دَارٌ، ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← بِشْرِ بْنِ عَاصِمٍ، ← أَبِي، قثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The virtues of Abu al-Fadl al-Abbas ibn Abd al-Muttalib, the uncle of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 1753

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ أَبِي الْفَضْلِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ عَمِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 1754

1754 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا وَكِيعٌ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ عَامِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُغْمِيَ عَلَيْهِ وَهُوَ صَائِمٌ يَوْمَ السَّبْتِ، فَلَدُّوهُ بِزَيْتٍ وَقُسْطٌ فَأَفَاقَ، وَقَالَ: «أَمَا تَحَرَّجْتُمْ لَدَدْتُمُونِي وَأَنَا صَائِمٌ، لَا يَبْقَى أَحَدٌ فِي الْبَيْتِ إِلَّا لُدَّ» قَالَتْ فَاطِمَةُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ _ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ _ إِلَّا عَمُّكَ الْعَبَّاسُ قَالَ: «إِلَّا عَمِّيَ الْعَبَّاسُ» قَالَ: فَلَدَّ النِّسَاءُ بَعْضُهُمْ بَعْضًا.

عامر شبعی رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ پر ہفتے کے دن روزے کی حالت میں غشی طاری ہو ئی تو آپ ﷺ کو تیل اور ایک قسم دوائی پلائی گئی تو آپ ﷺ ہوش میں آگئے فرمایا: کیا تمہیں مجھے اس حال میں دوائی پلانتے ہوئے تکلیف نہ ہوئی کہ میں روزے دار تھا تو اب کوئی بھی گھر میں باقی نہ رہے مگر اسکو دوائی پلائی جائے گی تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ آپ کے چچا عباس کو بھی ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: میرے چچا عباس کے علاوہ (باقی سب کو پلاؤ) پس تمام عورتوں نے ایک دوسرے کو دوائی پلائی ۔ (1)

عَامِرٍ، ← جَابِرٍ ← اِسْرَائِیْلُ ← أَبِي، قثنا وَكِيعٌ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The virtues of Abu al-Fadl al-Abbas ibn Abd al-Muttalib, the uncle of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 1754

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ أَبِي الْفَضْلِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ عَمِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 1755

1755 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ قثنا الْحَكَمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ بِشْرٍ الْخَثْعَمِيِّ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ، قَالَ: أَقْبَلَ الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَعَلَيْهِ حُلَّةٌ وَلَهُ ضَفِيرَتَانِ وَهُوَ أَبْيَضُ بَضٌّ، فَلَمَّا رَآهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَبَسَّمَ فَقَالَ لَهُ الْعَبَّاسُ: مَا أَضْحَكَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَضْحَكَ اللَّهُ سِنَّكَ؟ قَالَ: «أَعْجَبَنِي جَمَالُكَ يَا عَمِّ النَّبِيِّ» ، فَقَالَ الْعَبَّاسُ: مَا الْجَمَالُ فِي الرَّجُلِ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «اللِّسَانُ» .

ابو جعفر رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ ایک دن سیدنا عباس رضی اللہ عنہ جبہ تن کیے ہوئے اور بالوں کی دو مینڈیاں بناتے ہوئے آپ ﷺ کے سامنے آئے حالانکہ وہ بہت سفید رنگ والے تھے تو جب آپ ﷺ نے ان کو دیکھا تو مسکرانے لگے ، سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے پوچھا : یا رسول اللہ ﷺ! آپ کیوں مسکرا رہے ہیں؟ اللہ آپ ﷺ کو عمر بھر ہنستا رکھے ، نبی کریم ﷺ نے فرمایا: اے چچا ! آپ کی خوبصورتی نے مجھے تعجب میں ڈالا ، سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے پوچھا : یا رسول اللہ ﷺ انسان میں خوبصورتی کیا ہوتی ہے ؟ فرمایا : زبان ۔(2)

له العباس ما أضحكك ← عليه حلة وله ضفيرتان وهو أبيض بض فلما رآه النبي تبسم ← أقبل العباس بن عبد المطلب ← أَبِي جَعْفَرٍ، ← عمر بن بشر الخثعمي ← أَبِي، قثنا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ قثنا الْحَكَمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The virtues of Abu al-Fadl al-Abbas ibn Abd al-Muttalib, the uncle of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 1755

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ أَبِي الْفَضْلِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ عَمِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 1756

1756 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي الضُّحَى قَالَ: قَالَ الْعَبَّاسُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا نَعْرِفُ فِي وُجُوهٍ أَقْوَامٍ الضَّغَائِنَ بِوَقَائِعَ أَوْقَعْتُهَا فِيهِمْ قَالَ: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَنْ يَنَالُوا خَيْرًا حَتَّى يُحِبُّوكُمْ لِلَّهِ، وَلِقَرَابَتِي تَرْجُو سَلْهُمْ شَفَاعَتِي، وَلَا يَرْجُوهَا بَنُو عَبْدِ الْمُطَّلِبِ» .

ابو ضحی رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ہم جب قریشی لوگوں کے پاس جاتے ہیں تو ان کے چہروں سے کینہ پاتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : وہ (قریشی ) ہرگز نیکی کو نہیں پہنچ سکتے جب تک کہ وہ تم سے اللہ کے لیے ااور میری قرابت داری کی وجہ سے محبت نہیں کر لیتے ، ان سے سوال کرو کہ تم میری شفاعت کی امید رکھتے ہو جو کہ بنو عبدالمطب نہیں رکھتے ؟ ( یعنی تم ہی تو صرف میری شفاعت کے امیدوار نہیں ہو بلکہ تمہار ی طرح بنو عبدا لملطلب بھی میری شفاعت کے امیدوار ہیں )۔(3)

الْعَبَّاسُ: ← أَبِي الضُّحَى، ← أَبِيهِ ← سُفْيَانَ، ← أَبِي، قثنا وَكِيعٌ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The virtues of Abu al-Fadl al-Abbas ibn Abd al-Muttalib, the uncle of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 1756

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ أَبِي الْفَضْلِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ عَمِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 1757

1757 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا جَرِيرٌ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ بْنِ رَبِيعَةَ قَالَ: دَخَلَ الْعَبَّاسُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا لَنَخْرُجُ فَنَرَى قُرَيْشًا تُحَدِّثُ فَإِذَا رَأَوْنَا سَكَتُوا، فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَدَرَّ عِرْقٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ ثُمَّ قَالَ: «وَاللَّهِ لَا يَدْخُلُ قَلْبَ امْرِئٍ إِيمَانٌ حَتَّى يُحِبَّكُمْ لِلَّهِ وَلِقَرَابَتِي»

عبدالمطلب بن ربیعہ رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ آپ ﷺ کے پاس آئے اور کہنے لگے : یا رسول اللہ ﷺ ہم جب نکلتے ہیں تو قریش کو باتیں کرتے ہوئے دیکھتے ہیں اور جب وہ ہمیں دیکھتے ہیں تو خآموش ہو جاتے ہیں ؟ آپ ﷺ کو یہ سن کر بہت غصہ آیا یہاں تک کہ آپ ﷺ کی آنکھوں کے درمیان (پیشانی مبارک ) سے پسینہ نکل آیا اور فرمایا : اللہ کی قسم ! کسی انسا ن کے دل میں اس وقت تک ایمان داخل نہیں ہو سکتا جب تک وہ تم سے اللہ کے لیے اور میری قرابت داری کی وجہ سے محبت نہ کرے ۔، (1)

دَخَلَ الْعَبَّاسُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ فَقَالَ ← عبد المطلب بن ربيعة ← عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، ← أَبِي، قثنا جَرِيرٌ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The virtues of Abu al-Fadl al-Abbas ibn Abd al-Muttalib, the uncle of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 1757

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ أَبِي الْفَضْلِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ عَمِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 1758

1758 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سُفْيَانَ قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ قثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ قثنا الْعَبَّاسُ قَالَ: قُلْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا أَغْنَيْتَ عَنْ عَمِّكَ فَقَدْ كَانَ يَحُوطُكَ، وَيَغْضَبُ لَكَ، قَالَ: «هُوَ فِي ضَحْضَاحٍ» ، - قَالَ: ابْنُ مَهْدِيٍّ - «مِنَ النَّارِ وَلَوْلَا أَنَا لَكَانَ فِي الدَّرْكِ الْأَسْفَلِ مِنَ النَّارِ» .

سیدنا عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا : یا رسول اللہ ﷺ کیا وجہ ہے ؟ آپ ﷺ کے چچا ابو طالب آگ کے اوپر والے حصے میں ہیں حاانکہ وہ آپ کی حفاظت کرتے تھے اور آپ کے لیے غصہ ہوتے تھے نبی کریم ﷺ نے فرمایا : وہ تو (جہنم کے ) نچلے حصے میں تھے ، ابن نہدی نے یہ الفاظ بھی آگے بیان کیے ہیں : اگر میں نہ ہوتا تو وہ جہنم کے نچلے طبقے میں ہوتے ۔ (2)

لَکَانَ فِي الدَّرَکِ الْأَسْفَلِ مِنْ النَّارِ ← ابْنُ مَهْدِيٍّ «مِنَ النَّارِ وَلَوْلَا ← «هُوَ فِي ضَحْضَاحٍ» ← عَمِّكَ فَقَدْ كَانَ يَحُوطُكَ وَيَغْضَبُ لَكَ ← قُلْتُ لِلنَّبِيِّ مَا أَغْنَيْتَ ← عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ قثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ قثنا الْعَبَّاسُ ← سُفْيَانَ، ← أَبِي، قثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The virtues of Abu al-Fadl al-Abbas ibn Abd al-Muttalib, the uncle of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 1758

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ أَبِي الْفَضْلِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ عَمِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 1759

1759 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا هُشَيْمٌ قَالَ: أنا مَنْصُورٌ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ الْمَكِّيِّ، قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ عَلَى الصَّدَقَاتِ قَالَ: فَأَتَى عَلَى الْعَبَّاسِ فَسَأَلَهُ صَدَقَةَ مَالِهِ قَالَ: فَتَجَهَّمُهُ الْعَبَّاسُ وَكَانَ بَيْنَهُمَا كَلَامٌ، قَالَ: فَانْطَلَقَ عُمَرُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَشَكَا الْعَبَّاسَ إِلَيْهِ قَالَ: فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَمَا عَلِمْتَ يَا عُمَرُ، إِنَّ عَمَّ الرَّجُلِ صِنْوُ أَبِيهِ؟، إِنَّا كُنَّا تَعَجَّلْنَا صَدَقَةَ مَالِ الْعَبَّاسِ الْعَامَ عَامَ أَوَّلَ» .

حسن بن مسلم مکی رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو زکوۃ کی وصولی پر مقرر کیا ، وہ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے پاس زکوۃ وصل کرنے کے لیے آئے تو دونوں میں تلخ کلامی ہوئی تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے آپ ﷺ کو انکی شکایت لگائی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: عمر ! تم نہیں جانتے کہ چچا باپ کی جگہ ہوتا ہے اور ہم نے عباس سے وقت مقررہ سے قبل ایک سال جلدی زکوۃ وصول کی تھی ۔ (3)

كُنَّا تَعَجَّلْنَا صَدَقَةَ مَالِ الْعَبَّاسِ الْعَامَ عَامَ أَوَّلَ» ← لَهُ رَسُولُ اللَّهِ «أَمَا عَلِمْتَ يَا عُمَرُ، إِنَّ عَمَّ الرَّجُلِ صِنْوُ أَبِيهِ؟، ← فَانْطَلَقَ عُمَرُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ فَشَكَا الْعَبَّاسَ إِلَيْهِ ← فَتَجَهَّمُهُ الْعَبَّاسُ وَكَانَ بَيْنَهُمَا كَلَامٌ، ← فَأَتَى عَلَى الْعَبَّاسِ فَسَأَلَهُ صَدَقَةَ مَالِهِ ← بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ عَلَى الصَّدَقَاتِ ← الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ الْمَكِّيِّ، ← الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، ← مَنْصُورٌ، ← أَبِي، قثنا هُشَيْمٌ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The virtues of Abu al-Fadl al-Abbas ibn Abd al-Muttalib, the uncle of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 1759

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ أَبِي الْفَضْلِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ عَمِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 1760

1760 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ قثنا يَزِيدُ، يَعْنِي: ابْنَ عَطَاءٍ، عَنْ يَزِيدَ، يَعْنِي: ابْنَ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمُطَّلِبِ بْنُ رَبِيعَةَ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ قَالَ: دَخَلَ الْعَبَّاسُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُغْضَبًا فَقَالَ لَهُ: مَا يُغْضِبُكَ؟ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا لَنَا وَلِقُرَيْشٍ إِذَا تَلَاقَوْا بَيْنَهُمْ تَلَاقَوْا بِوُجُوهٍ مُبْشَرَةٍ، وَإِذَا لَقُونَا لَقُونَا بِغَيْرِ ذَلِكَ، قَالَ: فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى احْمَرَّ وَجْهُهُ، وَحَتَّى اسْتَدَرَّ عَرَقٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ، وَكَانَ إِذَا غَضِبَ اسْتَدَرَّ فَلَمَّا سُرِّيَ عَنْهُ قَالَ: " وَالَّذِي نَفْسِي أَوْ نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَا يَدْخُلُ قَلْبَ رَجُلٍ الْإِيمَانُ حَتَّى يُحِبَّكُمْ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَلِرَسُولِهِ، ثُمَّ قَالَ: أَيُّهَا النَّاسُ مِنْ آذَى الْعَبَّاسَ فَقَدْ آذَانِي إِنَّمَا عَمُّ الرَّجُلِ صِنْوُ أَبِيهِ ".

ربیعہ بن حارث بن عبدالمطلب رحمۃ اللہ علیہ سے روایت سے روایت ہے کہ ایک دن سیدنا عباس رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے پاس غصے کی حالت میں آئے ، رسول اللہ ﷺ نے دریافت کیا : کس نے آپ کو کس نے غضبناک کیا ہے ؟ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول الہ ﷺ! قریش آپس میں بڑی خوشی سے ملتے ہیں ،جب ہم سے ملتے ہیں تو وہ خوش نہیں ہوتے ، اس پر رسول اللہ ﷺ کو شدید غصہ آیا یہاں تک کہ آپ ﷺ کا چہرہ سرخ ہو گیا ۔اور دونوں آنکھوں کے درمیان سے پسہینہ بہہ پڑا ، غصے کی یہ حالت ہوا کرتی تھی ، پس غصہ ختم ہو گیا تو فرمایا : اس ذات کی قسم ! جس کے ہاتھ میں میری یا جس کے ہاتھ میں محمد ﷺ کی جان ہے کسی انسان کے دل میں ایمان نہیں داخل ہو سکتا جب تک وہ آپ سے اللہ اور رسول کی وجہ سے محبت نہ کرے ۔ پھر فرمایا: لوگوں میں جس کسی نے عباس کو تکلیف دی گویا اس نے مجھے تکلیف دی یقینا چچا باپ کی جگہ ہوتا ہے ۔ (1)

دَخَلَ الْعَبَّاسُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ مُغْضَبًا فَقَالَ لَهُ مَا يُغْضِبُكَ ← عبد المطلب بن ربيعة بن الحارث بن عبد المطلب. ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ، ← يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ أَبِي زِيَادٍ ← أَبِي، قثنا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ قثنا يَزِيدُ، يَعْنِي: ابْنَ عَطَاءٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The virtues of Abu al-Fadl al-Abbas ibn Abd al-Muttalib, the uncle of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 1760

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ أَبِي الْفَضْلِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ عَمِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 1761

1761 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ قثنا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ لِلْعَبَّاسِ، مِيزَابٌ عَلَى طَرِيقِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، فَلَبِسَ عُمَرُ ثِيَابَهُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، وَقَدْ كَانَ ذُبِحَ لِلْعَبَّاسِ فَرْخَانِ، فَلَمَّا وَافَى الْمِيزَابَ صُبَّ مَاءٌ بِدَمِ الْفَرْخَيْنِ، فَأَصَابَ عُمَرَ وَفِيهِ دَمُ الْفَرْخَيْنِ، فَأَمَرَ عُمَرُ بِقَلْعِهِ ثُمَّ رَجَعَ، فَطَرَحَ ثِيَابَهُ وَلَبِسَ ثِيَابًا غَيْرَ ثِيَابِهِ ثُمَّ جَاءَ فَصَلَّى بِالنَّاسِ فَأَتَاهُ الْعَبَّاسُ فَقَالَ: «وَاللَّهِ إِنَّهُ لِلْمَوْضِعُ الَّذِي وَضَعَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» فَقَالَ: عُمَرُ لِلْعَبَّاسِ وَأَنَا أَعْزِمُ عَلَيْكَ لَمَا صَعِدْتَ عَلَى ظَهْرِي حَتَّى تَضَعَهُ فِي الْمَوْضِعِ الَّذِي وَضَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَفَعَلَ ذَلِكَ الْعَبَّاسُ.

عبید اللہ بن عباس رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کا پرنالہ اس راستے پر تھا جہاں سے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ گزرتے تھے تو سیدنا عمررضی اللہ عنہ جمعہ کے دن اچھا لباس پہنے آرہے تھے سیدناعباس رضی اللہ عنہ نے اس دن دو (بکری یا کسی دنبہ وغیرہ کے ) بچوں کو ذبح کیا تھا، پرنالے سے خون آلود پانی وافر ہونے کی وجہ نیچے گر رہا تھا جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ وہاں پہنچے تو اس کے چھینٹے کپڑوں پرگرے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس پر نالےکو اکھیڑنے کا حکم دیا واپس ( گھر ) گئے وہ کپڑے اتار کر دوسرے پہن لیے اور آکر کر لوگوں کونماز پڑھائی اس وقت سیدنا عباس رضی اللہ عنہ آئے اور کہا : اللہ کی قسم ! یہ وہ جگہ ہےجہاں رسول اللہ ﷺ نے خود پرنالہ لگایا تھا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عباس کو قسم دے کرکہا : آپ میری پیٹھ پر چڑھ جائیں اس پرنالہ کو وہاں لگا دو جہاں پر رسول اللہ ﷺ نے لگایا تھا ۔ تو سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے ایسا ہی کیا ۔ (2)

عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ← أَبِي، قثنا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ قثنا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The virtues of Abu al-Fadl al-Abbas ibn Abd al-Muttalib, the uncle of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 1761

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ أَبِي الْفَضْلِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ عَمِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 1762

1762 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ قثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ، عَنِ الْعَبَّاسِ قَالَ: " نِعْمَ الرَّجُلُ عُمَرُ كَانَ لِي جَارًا فَكَانَ لَيْلَهُ قِيَامٌ، وَنَهَارَهُ صِيَامٌ، وَفِي حَوَائِجِ النَّاسِ، قَالَ: فَسَأَلْتُ رَبِّي أَنْ يُرِينِيهِ فِي الْمَنَامِ، فَأَرَانِيهِ رَأْسَ الْحَوْلِ وَهُوَ جَاءٍ مِنَ السُّوقِ مُسْتَحْيِيًا فَقُلْتُ مَا صُنِعَ بِكَ أَوْ مَا لَقِيتَ؟ قَالَ: فَقَالَ: كَادَ عَرْشِي أَنْ يَهْوَى لَوْلَا أَنْ لَقِيتُ رَبًّا رَحِيمًا ".

سیدنا عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ میرے اچھے پڑوسی تھے رات کو قیام کرتے دن کو روزہ رکھتے اور لوگوں کی خدمت کرتے تھے میں نے اپنے رب سے وال کیا کہ مجھے خؤاب میں ان کی زیارت کرائے پس میں نے ایک سال بعد خواب میں انہیں باحیا حالت میں بازار سے آتے ہوئے دیکھا اور پوچھا : اللہ نے آپ کے ساتھ کیا معاملہ کیا ؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا قریب تھا کہ میں ہلاک ہو جاتا لیکن میں نے اپنے رب کو رحم کرنے والاپایا ۔ (1)

الْعَبَّاسُ: ← يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ، ← أَبِي، قثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ قثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The virtues of Abu al-Fadl al-Abbas ibn Abd al-Muttalib, the uncle of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 1762

Hassan

chevron_left Previous
1234567
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door2. He was asked about the virtues of Abu, the first-born of al-Siddiq, the mercy and pleasure of God be upon him3. He was asked about the words of Ali ibn Abi Talib and others: The best of this nation after its prophet Abu Bakr and Omar4. His saying, may God’s prayers and peace be upon him: “If I had taken people as a friend, I would not have taken a virgin father as a friend5. He, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Pass a virgin father, let him pray to the people.”6. The remainder of his saying: “Show a first-born father who prays to people.”7. It was not narrated that Abu Bakr was the first to become Muslim8. It was not narrated that a virgin father came to ask permission, so the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Permit him, and give him good tidings of paradise.”9. The Virtue of the Commander of the Believers, Omar Ibn Al-Khattab, may God be pleased with him10. The Islam of Umar ibn Al-Khattab, may God be pleased with him11. And among the virtues of Omar bin Al-Khattab from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik, on the authority of his sheikhs other than Abd Allah bin Ahmed, and from the hadith of Abu Bakr bin Malik.12. The virtue of Othman bin Affan, may God be pleased with him13. And from the merits of Othman, from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik on the authority of his sheikhs except for Abdullah bin Ahmad14. The news of the Prince of the Believers, Ali bin Abi Talib, and his asceticism, may God be pleased with him15. His mother's name and genealogy16. A merit upon me, peace be upon him17. And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah18. The Virtue of Abd al-Rahman ibn Awf, may God be pleased with him19. The Virtue of Az-Zubayr Bin Awwam, may God be pleased with him20. Fadil Abi Ubaidah Ibn Al Jarrah, may God be pleased with him21. Fadil Talha Bin Ubaid Allah, may God be pleased with him22. Fadil Saad bin Abi Waqas, may God be pleased with him23. Fadil Fatima, the daughter of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him24. The virtues of good, and the good, may God be pleased with them.25. The Virtues of Ansar, may God be pleased with them26. The virtue of Khalid bin Al-Walid, may God have mercy on him27. Fadil Saad bin Muadh, may God have mercy on him28. Fadil Haritha Ibn Nu'man, may God be pleased with him29. Fadil Suhaib, may God be pleased with him30. The virtues of the Arabs31. The virtue of Usama bin Zaid, may God be pleased with him32. Fadil Abdullah bin Masoud, may God be pleased with him33. Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with them34. Virtues of Khadija and others35. Fadil Ammar ibn Yasser, may God be pleased with him36. Virtues 0 People of Yemen37. Virtues of the family of the Mother of the Believers, may God be pleased with her, and other things among the people of Yemen38. The virtues of the Banu Ghafar, and Islam and others39. Fadil Jaafar ibn Abi Talib, may God be pleased with him40. Fadil Jarir bin Abdullah, may God be pleased with him41. Fadil Abdullah Bin Omar, may God be pleased with them42. The virtues of a people of the Levant43. The Virtue of the Companions of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him44. The virtue of Amr ibn al-Aas, may God be pleased with him45. The Virtues of Mu`awiyah Bin Abi Sufyan, may God be pleased with them46. The virtues of Abu al-Fadl al-Abbas ibn Abd al-Muttalib, the uncle of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him47. Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with him