فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 1731
1731 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ قَالَ: حَدَّثَنِي حُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي بُرَيْدَةَ يَقُولُ: أَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَعَا بِلَالًا فَقَالَ: «يَا بِلَالُ بِمَ سَبَقْتَنِي إِلَى الْجَنَّةِ، مَا دَخَلْتُ الْجَنَّةَ قَطُّ إِلَّا سَمِعْتُ خَشْخَشَتَكَ أَمَامِي أَنِّي دَخَلْتُ الْبَارِحَةَ الْجَنَّةَ، فَسَمِعْتُ خَشْخَشَتَكَ أَمَامِي بِمَ سَبَقْتَنِي إِلَى الْجَنَّةِ؟» قَالَ: مَا أَحْدَثْتُ إِلَّا تَوَضَّأْتُ، فَصَلَّيْتُ رَكْعَتَيْنِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «بِهَذَا» .
سیدنا ابو بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک دفعہ سیدنا بلال کو پاس بلایا اور دریافت کیا : بلال ! تم کس طرح مجھ سے جنت میں سبقت لے گئے ۔ ( یعنی تم کونسا عمل کرتے ہو ) کہ میں جب بھی جنت میں داخل ہوا تو تمہارے قدموں کی آہت اپنے آگے سنی ؟ میں گزشتہ رات جنت میں داخل ہوا ہی تھا تو پھر بھی تمہارے قدموں کی آہٹ اپنے آگے سنی تم کیسے مجھ جنت میں سبقت لے گئے ؟سیدنا بلال رضی اللہ عنہ عرض کرنے لگے : یا رسول اللہ ﷺ جب بھی میں بے وضو ہوتا ہوں تو وضو کر کے دور کعت ضرور پڑھتا ہوں تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہ عظمت اسی وجہ سے ہے۔(3) نوٹ : یہ قصہ نبی کریم ﷺ کے خواب کا ہے جیسا کہ دوسری روایات یں اس کی صراحت منقول ہے اسے معراج کا واقعہ سمجھنا جہالت ہے۔
رَسُولِ اللَّهِ بِهَذَا ← مَا أَحْدَثْتُ إِلَّا تَوَضَّأْتُ، فَصَلَّيْتُ رَكْعَتَيْنِ ← خَشْخَشَتَكَ أَمَامِي بِمَ سَبَقْتَنِي إِلَى الْجَنَّةِ؟» ← خَشْخَشَتَكَ أَمَامِي إِنِّي دَخَلْتُ الْبَارِحَةَ الْجَنَّةَ ← يَا بِلَالُ بِمَ سَبَقْتَنِي إِلَى الْجَنَّةِ مَا دَخَلْتُ الْجَنَّةَ قَطُّ إِلَّا ← أَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ فَدَعَا بِلَالًا ← أَبي بُرَيْدَةَ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ← حُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ، ← أَبِي، قثنا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ← عَبْدُ اللَّهِ
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The Virtue of the Companions of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 1731
