Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

1,963 Hadith48 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 1732

1732 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا هُشَيْمٌ قَالَ: أنا مُغِيرَةُ، عَنِ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَا دَخَلْتُ الْجَنَّةَ إِلَّا سَمِعْتُ خَشْفَةَ بِلَالٍ بَيْنَ يَدَيَّ» فَقِيلَ لِبِلَالٍ فِي ذَلِكَ، قِيلَ: بِمَ أَدْرَكْتَ ذَاكَ؟ قَالَ: إِنِّي لَمْ أَتَوَضَّأَ قَطُّ إِلَّا صَلَّيْتُ رَكْعَتَيْنِ.

ابو زرعہ رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں جب بھی جنت میں داخل ہوا تو بلال کے قدموں کی آہٹ اپنے آگے سنی ، سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے اس کے بارے میں دریافت کیا گیا کہ آپ نے ہ مقام کیسے پالیا تو انہوں نے فرمایا : جب بھی میں بے وضو ہوتا ہوں تو وضو کر کے دور کعت ضرور پڑھتا ہوں۔(1)

أَبِي زُرْعَةَ ← الْحَارِثِ ← مُغِيرَةَ، ← أَبِي، قثنا هُشَيْمٌ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The Virtue of the Companions of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 1732

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 1733

1733 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ قثنا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ الضَّبِّيُّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ حَفِظَنِي فِي أَصْحَابِي كُنْتُ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَافِظًا، وَمَنْ سَبَّ أَصْحَابِي فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ»

عطاء بن ابی رباح رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو بندہ میرے صحابہ کی حفاظت کرے گا تو میں قیامت کے دن اس کی حفاظت کروں اور جو بندہ میرے صحابہ کو برا بھلا کہتا ہے تو اس پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو ۔ (2)

عَطَاءُ بْنُ اَبِیْ رَبَاحٍ ← أَبِي، قثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ قثنا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ الضَّبِّيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The Virtue of the Companions of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 1733

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 1734

1734 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ قثنا حَمَّادٌ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ قَالَ: قَالَ لِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ مُرْ غُلَامَكَ فَلْيَنْظُرْ إِلَى وَجْهِ هَذَا الرَّجُلِ، قُلْتُ: بَلْ أَخْبِرْنِي أَنْتَ، قَالَ: " إِنَّ هَذَا رَجُلٌ قَدْ سَوَّدَ اللَّهُ وَجْهَهُ، قُلْتُ: وَلِمَهْ؟ قَالَ: كَانَ يَقَعُ فِي عَلِيٍّ، وَطَلْحَةَ، وَالزُّبَيْرِ، فَجَعَلْتُ أَنْهَاهُ، فَجَعَلَ يَأْبَى، فَقُلْتُ: اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ هَؤُلَاءِ قَوْمٌ لَهُمْ سَوَابِقُ وَقَدَمٌ، فَإِنْ كَانَ مُسْخِطًا لَكَ مَا يَقُولُ فَأَرْبِهِ وَاجْعَلْهُ آيَةً قَالَ: فَسَوَّدَ اللَّهُ وَجْهَهُ ".

علی بن زید رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ مجھے سعید بن مسیب رحمۃ اللہ علیہ نے کہا : تم اپنے غلام سے کہو کہ فلاں آدمی کے چہرے کو دیکھے تو میں نے ( علی بن زید رحمۃ اللہ علیہ سے ) کہا کہ بلکہ آپ ہی مجھے بتا دیں تو کہنے لگے کہ یہ وہ آدمی ہے جو سیدنا علی سیدنا زبیر اور سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہم کے بارے میں زبان درازی کرتا تھا تو اللہ نے اس کے چہرے کو سیاہ کر دیا ہے میں نے اس کو کئی بار منع بھی کیا لیکن وہ باز نہیں آتا تھا پھر میں نے کہا : اے اللہ ! تُو جانتا ہے کہ ان لوگوں (صحابہ کرام) کی ہم پر کیا فضیلت ہے ، اسلام کے لیے کیا قربانیاں ہیں اور جو کچھ ان کے بارے میں یہ انسان کہتا ہے اگر وہ برا ہے تو اس کو باقی لوگوں کے لیے نشانی عبرت بنا دے تو اللہ نے اس کے چہرے کو سیاہ کر دیا ۔ (3)

عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ← أَبِي، قثنا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ قثنا حَمَّادٌ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The Virtue of the Companions of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 1734

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 1735

1735 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا وَكِيعٌ قثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَسُبُّوا أَصْحَابِي، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ أَنْفَقَ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا، مَا أَدْرَكَ مُدَّ أَحَدِهِمْ، وَلَا نَصِيفَهُ»

سید ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : میرے صحابہ کرام کو بُرا مت کہو اس ذات کی قسم ! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے پس اگر تم میں سے کوئی اُحد پہاڑ کے برابر بھی سونا خرچ کردے تو پھر بھی وہ ان میں سے کسی ایک کے مدبرابر یا نصف مد (دانے خرچ کرنے) کے بھی برابر نہیں پہنچ سکتا ۔ (1)

اَبِیْ سَعِیْدٍ ← اَبِیْ صَالِحٍ ← أَبِي، قثنا وَكِيعٌ قثنا الْأَعْمَشُ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The Virtue of the Companions of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 1735

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 1736

1736 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا وَكِيعٌ، نا سُفْيَانُ، عَنْ نُسَيْرِ بْنِ ذُعْلُوقٍ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ قَالَ: «لَا تَسُبُّوا أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ فَلَمَقَامُ أَحَدِهِمْ سَاعَةً خَيْرٌ مِنْ عَمَلِ أَحَدِكُمْ عُمْرَهُ» .

نسیر بن ذعلوق رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے : نبی کریم ﷺ کے صحابہ رضی اللہ عنہ کو برا مت کہو کیونکہ ان کا حضور نبی کریم ﷺ کی رفاقت میں گزرا ہوا ایک لمحہ تمہاری زندگی بھر کے تمام اعمال سے بہتر ہے ۔(2)

«لَا تَسُبُّوا أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ فَلَمَقَامُ أَحَدِهِمْ سَاعَةً خَيْرٌ مِنْ عَمَلِ أَحَدِكُمْ عُمْرَهُ» ← ابْنِ عُمَرَ ← نُسَيْرِ بْنِ ذُعْلُوقٍ ← سُفْيَانَ، ← أَبِي، قثنا وَكِيعٌ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The Virtue of the Companions of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 1736

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 1737

1737 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنَا سَابِقُ الْعَرَبِ، وَسَلْمَانُ سَابِقُ فَارِسَ، وَصُهَيْبٌ سَابِقُ الرُّومِ، وَبِلَالٌ سَابِقُ الْحَبَشِ» .

امام حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمیا : میں عربوں میں ، سلمان فارسیوں میں اور صہیب رومیوں میں اور بلال حبشیوں میں سبقت لینے والا ہے۔ (3)

الْحَسَنِ، ← يُونُسَ ← سُفْيَانَ، ← أَبِي، قثنا وَكِيعٌ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The Virtue of the Companions of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 1737

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 1738

1738 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا وَكِيعٌ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ قَالَا: نا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ «أُمِرُوا بِالِاسْتِغْفَارِ لِأَصْحَابِ مُحَمَّدٍ فَسَبُّوهُمْ» وَقَالَ: أَبُو مُعَاوِيَةَ قَالَتْ: يَا ابْنَ أُخْتِي «أُمِرُوا أَنْ يَسْتَغْفِرُوا لِأَصْحَابِ مُحَمَّدٍ فَسَبُّوهُمْ» .

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : لوگوں کو یدنا محمد ﷺ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے لیے التجاؤں کا حکم تھا لیکن یہ انہیں بُرا بھلا کہتے ہیں۔ ابو معاویہ نے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنا سے اپنی روایت میں یہ الفاظ بیان کیے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : بھانجے ! لوگوں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ سیدنامحمد ﷺ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کے لیے بخشش طلب کریں مگر یہ لوگ ان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں ۔ (4)

يَا ابْنَ أُخْتِي «أُمِرُوا أَنْ يَسْتَغْفِرُوا لِأَصْحَابِ مُحَمَّدٍ فَسَبُّوهُمْ» ← عَائِشَةَ «أُمِرُوا بِالِاسْتِغْفَارِ لِأَصْحَابِ مُحَمَّدٍ فَسَبُّوهُمْ» وَقَالَ: أَبُو مُعَاوِيَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامٍ ← أَبِي، قثنا وَكِيعٌ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The Virtue of the Companions of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 1738

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 1739

1739 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا وَكِيعٌ قثنا جَعْفَرٌ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ قَالَ: " ثَلَاثٌ ارْفُضُوهُنَّ: سَبُّ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالنَّظَرُ فِي النُّجُومِ، وَالنَّظَرُ فِي الْقَدَرِ ".

میمون بن مہران رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا : تم تین باتوں کو چھوڑ دو ۔ 1۔ سیدنا محمد ﷺ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ پر تنقید کرنا ۔ 2۔ نجومیوں والا کام کرنا ۔ 3۔ مسئلہ تقدیرمیں بحث کرنا ۔

ثَلَاثٌ ارْفُضُوهُنَّ: سَبُّ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ وَالنَّظَرُ فِي النُّجُومِ، وَالنَّظَرُ فِي الْقَدَرِ ← مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ، ← أَبِي، قثنا وَكِيعٌ قثنا جَعْفَرٌ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The Virtue of the Companions of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 1739

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 1740

1740 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ الْحَسَنِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِهِ: «أَنْتُمْ فِي النَّاسِ كَمَثَلِ الْمِلْحِ فِي الطَّعَامِ» . قَالَ: يَقُولُ الْحَسَنُ وَهَلْ يَطِيبُ الطَّعَامُ إِلَّا بِالْمِلْحِ؟ قَالَ: ثُمَّ يَقُولُ الْحَسَنُ فَكَيْفَ بِقَوْمٍ قَدْ ذَهَبَ مِلْحُهُمْ؟

امام حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کو ارشاد فرمایا : تم لوگوں میں ایسے ہو جیسے کھانے میں نمک ہی چلا گیا ۔ (1)

الْحَسَنِ، ← اَبِیْ مُوْسیٰ ← أَبِي، قثنا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The Virtue of the Companions of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 1740

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 1741

1741 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ قثنا رَجُلٌ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «لَا تَسُبُّوا أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ، فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ أَمَرَ بِالِاسْتِغْفَارِ لَهُمْ، وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّهُمْ سَيَقْتَتِلُونَ، وَيُحْدِثُونَ» .

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے فرایا : سیدا محمد ریم ﷺ کے صحابہ کرام کو گالی مت دو بلا شبہ اللہ عزوجل نے ان کے لیے بخشش طلب کرنے کا حکم دیا ہے اور اللہ جاناتا ہے کہ یہ (صحابہ کرام عنقریب ( شہید )کر دیے جائیں گے۔02)

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← مُجَاهِدٍ ← أَبِي، قثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ قثنا رَجُلٌ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The Virtue of the Companions of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 1741

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 1729

1729 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ نُسَيْرِ بْنِ ذُعْلُوقٍ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يَقُولُ «لَا تَسُبُّوا أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ فَلَمَقَامُ أَحَدِهِمْ سَاعَةً خَيْرٌ مِنْ عِبَادَةِ أَحَدِكُمْ أَرْبَعِينَ سَنَةً» .

نسیر بن ذعلوق رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ سیدنا عبدا للہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے نبی کریم ﷺ کے صحابہ رضی اللہ عنہ کو برا مت کہو کیونکہ انکا حضور ﷺ کی رفاقت میں گزرا ہوا ایک لمحہ تمہاری زندگی بھر کے تمام اعمال سے بہتر ہے ۔ (1)

ابْنِ عُمَرَ ← نُسَيْرِ بْنِ ذُعْلُوقٍ ← سُفْيَانَ، ← أَبِي، قثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The Virtue of the Companions of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 1729

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 1730

1730 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: أنا مَعْمَرٌ، عَمَّنْ سَمِعَ الْحَسَنَ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَثَلُ أَصْحَابِي فِي النَّاسِ كَمَثَلِ الْمِلْحِ فِي الطَّعَامِ» ، ثُمَّ يَقُولُ الْحَسَنُ: هَيْهَاتَ ذَهَبَ مِلْحُ الْقَوْمِ

امام حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ سے روایت کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : میرے صحابہ کرام لوگوں میں ایسے ہیں جیسے کھانے میں نمک ہوتا ہے پھر امام حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ نے کہا : اس قوم کا کیا حال ہو گا جس کا نمک ہی چلا گیا ۔ (2)

الْحَسَنِ، ← معمر عمن ← أَبِي، قثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The Virtue of the Companions of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 1730

Daif

chevron_left Previous
12
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door2. He was asked about the virtues of Abu, the first-born of al-Siddiq, the mercy and pleasure of God be upon him3. He was asked about the words of Ali ibn Abi Talib and others: The best of this nation after its prophet Abu Bakr and Omar4. His saying, may God’s prayers and peace be upon him: “If I had taken people as a friend, I would not have taken a virgin father as a friend5. He, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Pass a virgin father, let him pray to the people.”6. The remainder of his saying: “Show a first-born father who prays to people.”7. It was not narrated that Abu Bakr was the first to become Muslim8. It was not narrated that a virgin father came to ask permission, so the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Permit him, and give him good tidings of paradise.”9. The Virtue of the Commander of the Believers, Omar Ibn Al-Khattab, may God be pleased with him10. The Islam of Umar ibn Al-Khattab, may God be pleased with him11. And among the virtues of Omar bin Al-Khattab from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik, on the authority of his sheikhs other than Abd Allah bin Ahmed, and from the hadith of Abu Bakr bin Malik.12. The virtue of Othman bin Affan, may God be pleased with him13. And from the merits of Othman, from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik on the authority of his sheikhs except for Abdullah bin Ahmad14. The news of the Prince of the Believers, Ali bin Abi Talib, and his asceticism, may God be pleased with him15. His mother's name and genealogy16. A merit upon me, peace be upon him17. And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah18. The Virtue of Abd al-Rahman ibn Awf, may God be pleased with him19. The Virtue of Az-Zubayr Bin Awwam, may God be pleased with him
20. Fadil Abi Ubaidah Ibn Al Jarrah, may God be pleased with him
21. Fadil Talha Bin Ubaid Allah, may God be pleased with him
22. Fadil Saad bin Abi Waqas, may God be pleased with him
23. Fadil Fatima, the daughter of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him
24. The virtues of good, and the good, may God be pleased with them.
25. The Virtues of Ansar, may God be pleased with them
26. The virtue of Khalid bin Al-Walid, may God have mercy on him
27. Fadil Saad bin Muadh, may God have mercy on him
28. Fadil Haritha Ibn Nu'man, may God be pleased with him
29. Fadil Suhaib, may God be pleased with him
30. The virtues of the Arabs
31. The virtue of Usama bin Zaid, may God be pleased with him
32. Fadil Abdullah bin Masoud, may God be pleased with him
33. Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with them
34. Virtues of Khadija and others
35. Fadil Ammar ibn Yasser, may God be pleased with him
36. Virtues 0 People of Yemen
37. Virtues of the family of the Mother of the Believers, may God be pleased with her, and other things among the people of Yemen
38. The virtues of the Banu Ghafar, and Islam and others
39. Fadil Jaafar ibn Abi Talib, may God be pleased with him
40. Fadil Jarir bin Abdullah, may God be pleased with him
41. Fadil Abdullah Bin Omar, may God be pleased with them
42. The virtues of a people of the Levant
43. The Virtue of the Companions of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him
44. The virtue of Amr ibn al-Aas, may God be pleased with him
45. The Virtues of Mu`awiyah Bin Abi Sufyan, may God be pleased with them
46. The virtues of Abu al-Fadl al-Abbas ibn Abd al-Muttalib, the uncle of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him
47. Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with him