فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ مَشَايِخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَحْمَدَ، وَمِنْ فَضَائِلِ أَبِي بَكْرٍ أَيْضًا · حديث 506
506 - حَدَّثَنَا عَلِيٌّ قثنا أَبُو عِيسَى قثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ قثنا أَبِي، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَدِمَ عُيَيْنَةُ بْنُ حِصْنٍ فَنَزَلَ عَلَى ابْنِ أَخِيهِ الْحُرِّ بْنِ قَيْسِ بْنِ حِصْنٍ، وَكَانَ مِنَ النَّفَرِ الَّذِينَ يُدْنِيهِمْ عُمَرُ، وَكَانَ الْقُرَّاءُ أَصْحَابَ مَجْلِسِ عُمَرَ وَمُشَاوَرَتِهِ، كُهُولًا كَانُوا أَوْ شُبَّانًا، قَالَ عُيَيْنَةُ لِابْنِ أَخِيهِ: هَلْ لَكَ وَجْهٌ عِنْدَ الْأَمِيرِ تَسْتَأْذِنُ لِي عَلَيْهِ؟ فَفَعَلَ، فَدَخَلَ عَلَيْهِ فَقَالَ: يَا ابْنَ الْخَطَّابِ، وَاللَّهِ مَا تُعْطِينَا الْجَزْلَ، وَلَا تَحْكُمُ بَيْنَنَا بِالْعَدْلِ، فَغَضِبَ عُمَرُ حَتَّى هَمَّ أَنْ يَقَعَ بِهِ، فَقَالَ الْحُرُّ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ: {خُذِ الْعَفْوَ وَأْمُرْ بِالْعُرْفِ وَأَعْرِضْ عَنِ الْجَاهِلِينَ} [الأعراف: 199] ، وَإِنَّ هَذَا مِنَ الْجَاهِلِينَ، فَوَاللَّهِ مَا جَاوَزَهَا حِينَ تَلَاهَا، وَكَانَ وَقَّافًا عِنْدَ كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ.
سیدنا عبدا للہ بن عباس سے روایت ہے کہ عیینہ بن حصن آکر اپنے بھتیجے سیدنا حربن قیس بن حصن رضی اللہ عنہ کے پاس ٹھہرے وہ لوگوں کے اس گروہ میں سے تھے جن کوسیدنا عمر اپنے پاس بٹھاتے سیدنا عمر کے ہم مجلس اور شوریٰ کے ارکان قرائے کرام ہوتے تھے جن میں بوڑھے اور نوجوان دونوں شامل تھے ایک دن عینیہ بن حصن نے اپنے بھتیجے سیدنا حربن قیس بن حصن سے کہا میرے لیے خلفیہ اندر آنے کی اجازت لو انہوں نے اجازت لے دی وہ سیدنا عمر کے پاس آکر کہنے لگا ابن خطاب اللہ کی قسم ! آپ ہمیں انعامات سے محروم کر دیتے ہو اور تقسیم بھی انصاف سے نہیں کرتے ؟ سیدنا عمر کو بڑا غصہ آیا قریب تھا کہ انہیں سزا دیتے حربن قیس نے کہا امیر المومنین ! اللہ کا ارشاد ہے (خذالعفو و امر بالمعروف ۔۔۔) یہ شخص بھی ناواقف ہے یہ سن کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ خاموش ہو ئے اسے کچھ بھی نہ کہا اور آپ احکامات الہیہ کے سامنے سر تسلیم خم کرنے والے تھے ۔ (3)
ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عُتْبَةَ ← عَلِيٌّ قثنا أَبُو عِيسَى قثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ قثنا أَبِي،
Hadith 506
