Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

1,963 Hadith48 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ مَشَايِخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَحْمَدَ، وَمِنْ فَضَائِلِ أَبِي بَكْرٍ أَيْضًا · حديث 710

710 - حَدَّثَنَا يَحْيَى قثنا أَبُو حَصِينِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ يُونُسَ، نا أَبِي، نا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ: آخَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ، فَأَقْبَلَا آخِذًا أَحَدُهُمَا بِيَدِ صَاحِبِهِ، فَقَالَ: «مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى سَيِّدَيْ كُهُولِ أَهْلِ الْجَنَّةِ مِنَ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ إِلَّا النَّبِيِّينَ وَالْمُرْسَلِينَ فَلْيَنْظُرْ إِلَى هَذَيْنِ الْمُقْبِلَيْنِ» .

امام شبعی ؒ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے درمیان مواخات قائم کی تو سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے ہوئے تشریف لائے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو پسند کرتا ہے کہ انبیا اور رسل کے علاوہ تمام اہل جنت کے عمر رسیدہ اولین و آخرین لوگوں کے سردار کو دیکھے تو وہ ان دونوں آنے والوں کی طرف دیکھ لے ۔ (3)

آخَى رَسُولُ اللَّهِ بَيْنَ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ، فَأَقْبَلَا آخِذًا أَحَدُهُمَا بِيَدِ صَاحِبِهِ، ← الشَّعْبِيِّ، ← مَالِکُ بْنُ مِغْوَلٍ ← أَبِي ← يَحْيَى قثنا أَبُو حَصِينِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ يُونُسَ،

Hadith 710

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ مَشَايِخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَحْمَدَ، وَمِنْ فَضَائِلِ أَبِي بَكْرٍ أَيْضًا · حديث 711

711 - حَدَّثَنَا يَحْيَى قثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، نا أَبُو النَّضْرِ هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ قثنا أَبُو عَقِيلٍ قثنا أَبُو إِسْمَاعِيلَ كَثِيرٌ قَالَ: حَدَّثَنِي الشَّعْبِيُّ قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ: مَا كُنَّا نُبْعِدُ أَنَّ السَّكِينَةَ تَنْطِقُ عَلَى فَمِ عُمَرَ، وَقَدْ كُنَّا نَرَى أَنَّ شَيْطَانَ عُمَرَ يَهَابُ عُمَرَ أَنْ يَأْمُرَ بِمَعْصِيَةٍ.

امام شبعی ؒ سے روایت ہے کہ سیدنا علی المرتضیٰ نے فرمایا: ہم یہ خیال کرتے تھے کہ سکینت سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے منہ سے جاری ہوتی ہے ۔ نیز ہم یہ بھی خیال کرتے تھے کہ شیطان ان سے ڈرتا ہے کہ انہیں کسی برائی کی طرف مائل کرنے سے ڈرتا ہے ۔(4)

الشَّعْبِيِّ، ← أَبُو النَّضْرِ هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ قثنا أَبُو عَقِيلٍ قثنا أَبُو إِسْمَاعِيلَ كَثِيرٌ ← يَحْيَى قثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ،

Hadith 711

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ مَشَايِخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَحْمَدَ، وَمِنْ فَضَائِلِ أَبِي بَكْرٍ أَيْضًا · حديث 712

712 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُونُسَ قثنا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ قثنا هِشَامٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ أَبِي الْعَاصِ قَالَ: كُنْتُ إِلَى جَانِبِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ وَدَخَلَ عَلَيْهِ رَجُلٌ، فَقَالَ: مِمَّنْ أَنْتَ؟ فَقَالَ: مِنْ أَهْلِ نَجْرَانَ، قَالَ: هَلْ لَكَ نَسَبٌ فِي غَيْرِهِمْ؟ قَالَ: لَا وَاللَّهِ، قَالَ: بَلَى وَاللَّهِ، حَتَّى تَحَالَفَا، حَتَّى لَكَأَنِّي وَجَدْتُ عَلَى أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ فِي نَفْسِي، ثُمَّ قَالَ: أَعْزِمُ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ يَعْلَمُ أَنَّ لَهُ نَسَبًا فِي غَيْرِ أَهْلِ نَجْرَانَ إِلَّا قَامَ، فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، جَدَّتُهُ، أَوْ جِدَّةُ أَبِيهِ، مِنْ غَيْرِ أَهْلِ نَجْرَانَ، فَقَالَ عُمَرُ: مَهْ، إِنَّا نَقْفُو الْأَثَرَ، ثَلَاثًا.

حکم بن ابی العاص ؒ سے روایت ہے کہ میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس تھا انکے پاس ایک آدمی آیا اس سے پوچھا تم کون ہو؟ اس نے کہا: میں اہل نجران سے ہوں پھر پوچھا : اس کے علاوہ کوئی آپ کا نسب ہو۔ کہا : نہیں ۔سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : کیوں نہیں ! یہاں تک کہ دونوں میں گرما گرمی ہوئی تو مجھے امیر المومنین پر غصہ آیا ، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں قسم سے کر پوچھتا ہوں کہ کیا کسی کو معلوم ہے کہ اس کا نسب اہل نجران کے علاوہ کسی اور طرف ہے تو ایک آدمی نے کہا : ہاں ! اس کی دادی یا اس کے باپ کی دادی اہل بجران میں سے نہیں تھی ۔ توسیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ٹھہر جاؤ ہم بھی کافی نسب جاننے والے ہیں اس بات کو انہوں نے تین بار دہرایا ۔ (1)

لَا وَاللَّهِ ← هَلْ لَكَ نَسَبٌ فِي غَيْرِهِمْ؟ ← مِنْ أَهْلِ نَجْرَانَ، ← مِمَّنْ أَنْتَ‏؟‏ ← كُنْتُ إِلَى جَانِبِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ وَدَخَلَ عَلَيْهِ رَجُلٌ، ← الْحَكَمُ بْنُ أَبِي الْعَاصِ ← مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ← مُحَمَّدُ بْنُ يُونُسَ قثنا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ قثنا هِشَامٌ،

Hadith 712

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ مَشَايِخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَحْمَدَ، وَمِنْ فَضَائِلِ أَبِي بَكْرٍ أَيْضًا · حديث 713

713 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، وَهُوَ ابْنُ شَقِيقٍ، قثنا حُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ قثنا ابْنُ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلَالًا فَقَالَ: " يَا بِلَالُ، بِمَ سَبَقْتَنِي إِلَى الْجَنَّةِ؟ إِنِّي دَخَلْتُ الْجَنَّةَ الْبَارِحَةَ فَسَمِعْتُ خَشْخَشَتَكَ أَمَامِي، فَأَتَيْتُ عَلَى قَصْرٍ مِنْ ذَهَبٍ مُرَبَّعٍ، فَقُلْتُ: لِمَنْ هَذَا الْقَصْرُ؟ قَالُوا: لِرَجُلٍ مِنْ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ، قُلْتُ: فَأَنَا مُحَمَّدٌ، لِمَنْ هَذَا الْقَصْرُ؟ قَالُوا: لِرَجُلٍ مِنَ الْعَرَبِ، قُلْتُ: أَنَا عَرَبِيُّ، لِمَنْ هَذَا الْقَصْرُ؟ قَالُوا: لِرَجُلٍ مِنْ قُرَيْشٍ، قُلْتُ: أَنَا قُرَشِيُّ، لِمَنْ هَذَا الْقَصْرُ؟ قَالُوا: لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ".

سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو بلا کر پوچھا : بلال ! تو مجھ سے جنت میں داخل ہونے سے سبقت کیسے لے گیا کیونکہ جب میں ٹھنڈک والی جنت میں داخل ہوا تو میں نے اپنے آگے کھٹکھٹا ہٹ کو سنا پھر میں جنت میں سونے کے ایک محلہ کے پاس آیا میں نے پوچھا : یہ کس کا ہے ؟ تو انہوں (فرشتوں) نے کہا : یہ امت محمدیہ کے ایک شخص کا ہے ۔ میں نے کہا میں محمد ﷺ ہوں یہ محل کس کا ہے ؟ تو انہوں نے کہا اہل عرب میں سے ایک آدمی کا ہے تو میں نے کہا میں عربی ہوں ، یہ محل کس کا ہے ؟ انہوں نے کہا : اہل قریش میں سے ایک آدمی کا ہے میں نے کہا: میں قریشی ہوں تو یہ محل کس کا ہے ؟انہوں نے کہا : عمر بن خطاب (رضی اللہ عنہ) کا ۔ (2)

أَبِيهِ ← اقِدٍ قثنا ابْنُ بُرَيْدَةَ، ← أَبِي، قثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، وَهُوَ ابْنُ شَقِيقٍ، قثنا حُسَيْنُ بْنُ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ

Hadith 713

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ مَشَايِخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَحْمَدَ، وَمِنْ فَضَائِلِ أَبِي بَكْرٍ أَيْضًا · حديث 714

714 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: أنا مَعْمَرٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَوْ عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَعَدَنِي أَنْ يُدْخِلَ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي أَرْبَعَمِائَةِ أَلْفٍ» ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: زِدْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: «وَهَكَذَا» ، وَجَمَعَ كَفَّهُ، قَالَ: زِدْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: «وَهَكَذَا» ، فَقَالَ عُمَرُ: حَسْبُكَ يَا أَبَا بَكْرٍ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: دَعْنِي يَا عُمَرُ، وَمَا عَلَيْكَ أَنْ يُدْخِلَنَا اللَّهُ الْجَنَّةَ كُلَّنَا، فَقَالَ عُمَرُ: إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ إِنْ شَاءَ أَدْخَلَ خَلْقَهُ الْجَنَّةَ بِكَفٍّ وَاحِدٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «صَدَقَ عُمَرُ»

سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مجھ سے وعدہ کیا ہے کہ وہ میری امت میں سے چار لاکھ آدمیوں کو جنت میں داخل کرے گا۔ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ اور اضافہ کریں ۔ آپ ﷺ نے اضافہ کرتے ہوئے دونوں ہاتھوں کو ملایا ۔سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے دوبارہ عرض کیا : یارسول اللہ ﷺ!اور بھی اضافہ کریں ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : ابو بکر ! بہت ہے سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا عمر ! تم چھوڑو اللہ تعالیٰ ہم سب کو جنت داخل کرے گا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا اللہ اگر چائے گا تو پوری مخلوق کو ایک ہی مٹھی میں جنت میں داخل کر دے گا۔ نبی کریم ﷺ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی تصدیق فرمائی ۔(1)

أَنَسٍ، ← النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ، ← أنس أو ← قَتَادَةَ ← مَعْمَرٌ، ← أَبِي، قثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ← عَبْدُ اللَّهِ

Hadith 714

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ مَشَايِخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَحْمَدَ، وَمِنْ فَضَائِلِ أَبِي بَكْرٍ أَيْضًا · حديث 715

715 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، نَا يَحْيَى، هُوَ ابْنُ سَعِيدٍ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " دَخَلْتُ الْجَنَّةَ فَرَأَيْتُ قَصْرًا مِنْ ذَهَبٍ، قُلْتُ: لِمَنْ هَذَا؟ قَالُوا: هَذَا لِشَابٍّ مِنْ قُرَيْشٍ، فَظَنَنْتُ أَنِّي أَنَا هُوَ، قَالُوا: لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ".

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہےکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں جنت میں داخل ہوا وہاں سونے کا گھر دیکھا میں نے پوچھا یہ کس کا ہے تو انہوں نے کہا : یہ کسی قریشی نوجوان کا ہے ۔ مجھے خیال آیا کہ شاید وہ میں ہوں تو فرشتوں نے کہا : یہ عمر بن خطاب کا ہے ۔ (2)

لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ: ← هُوَ ← هَذَا لِشَابٍّ مِنْ قُرَيْشٍ، فَظَنَنْتُ أَنِّي ← دَخَلْتُ الْجَنَّةَ فَرَأَيْتُ قَصْرًا مِنْ ذَهَبٍ، قُلْتُ: لِمَنْ هَذَا؟ ← النَّبِيِّ ← أَنَسٍ، ← حُمَيْدٍ ← يَحْيَى -هُوَ ابْنُ سَعِيدٍ-، ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ

Hadith 715

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ مَشَايِخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَحْمَدَ، وَمِنْ فَضَائِلِ أَبِي بَكْرٍ أَيْضًا · حديث 716

716 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، نا أَبِي، وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَرْحَمُ أُمَّتِي أَبُو بَكْرٍ، وَأَشَدُّهَا فِي دِينِ اللَّهِ عُمَرُ» .

سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میری امت پر سب سے زیادہ رحم کرنے والا ابو بکر ہے اور سب سے سخت دین کے معاملے میں عمر ہے ۔ (3)

أَنَسٍ، ← أَبِي قِلَابَةَ، ← خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ← سُفْيَانَ، ← أبي وكيع ← عَبْدُ اللَّهِ

Hadith 716

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ مَشَايِخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَحْمَدَ، وَمِنْ فَضَائِلِ أَبِي بَكْرٍ أَيْضًا · حديث 717

717 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، قثنا أَبِي، قثنا مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قثنا الْجُعَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُصَيْفَةَ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ أَنَّهُ قَالَ: أَتَى إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، فَقَالُوا: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، إِنَّا لَقِينَا رَجُلًا يَسْأَلُ عَنْ تَأْوِيلِ الْقُرْآنِ، فَقَالَ: اللَّهُمَّ أَمْكِنِّي مِنْهُ، قَالَ: فَبَيْنَا عُمَرُ ذَاتَ يَوْمٍ جَالِسٌ يُغَدِّي النَّاسَ إِذْ جَاءَهُ وَعَلَيْهِ ثِيَابٌ وَعِمَامَةٌ، فَغَدَّاهُ، ثُمَّ إِذَا فَرَغَ قَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، {وَالذَّارِيَاتِ ذَرْوًا فَالْحَامِلَاتِ وِقْرًا} [الذاريات: 2] ، قَالَ عُمَرُ: أَنْتَ هُوَ؟ فَمَالَ إِلَيْهِ وَحَسَرَ عَنْ ذِرَاعَيْهِ، فَلَمْ يَزَلْ يَجْلِدُهُ حَتَّى سَقَطَتْ عِمَامَتُهُ، ثُمَّ قَالَ: وَاحْمِلُوهُ حَتَّى تُقْدِمُوهُ بِلَادَهُ، ثُمَّ لِيَقُمْ خَطِيبًا ثُمَّ لِيَقُلْ: إِنَّ صَبِيغًا ابْتَغَى الْعِلْمَ فَأَخْطَأَ، فَلَمْ يَزَلْ وَضِيعًا فِي قَوْمِهِ حَتَّى هَلَكَ، وَكَانَ سَيِّدَ قَوْمِهِ.

سائب بن یزید ؒ سے روایت ہے کہ کچھ لوگ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آکر کہنے لگے امیر المومنین ! ہمیں ایک آدمی ملا ہے جو لوگوں سے قرآن کے متعلق طرح طرح کے سوالا ت کرتا ہے ۔ (جس کا نام صبیغ) سیدنا عمر نے فرمایا اے اللہ اسکو مجھ سے ملا دے پس ایک دن سیدنا عمر رضی اللہ عنہ مجلس میں بیٹھے لوگوں کے ساتھ کھانا کھا رہےتھے۔ وہ شخص آیا اس پر کپڑے اور پگڑی تھی جب فارغ ہوئے تو اس نے پوچھا : اے امیر المومنین !( والذاریات ذروافالحاملات و قرا) کی تفسیر بیان کیجئے ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا تم وہی شخص ہو ؟ یہ کہہ کر اپنا بازو اور اوپر کیا اور اس کو مسلسل مارتے رہے یہاں تک کہ اس کی پگڑی گر پڑی پھر فرمایا : اس کو اپنے وطن بھیجو وہاں جا کر یہ خطبہ دے گا اور یہ بھی کہےلگا : صبیغ نے علم حاصل تو کیا تھا مگر غلط طریقے سے پس ایسا ہی ہوا وہ اپنی قوم میں ذلیل ہو کر ہلاک ہوا ۔ حالانکہ اس سے پہلے وہ اپنی قوم کا سردار تھا ۔(4)

السَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ ← يَزِيدُ بْنُ خُصَيْفَةَ1 ← عَبْدُ اللَّهِ، قثنا أَبِي، قثنا مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قثنا الْجُعَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ،

Hadith 717

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ مَشَايِخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَحْمَدَ، وَمِنْ فَضَائِلِ أَبِي بَكْرٍ أَيْضًا · حديث 718

718 - قَالَ ابْنُ مَالِكٍ: حَدَّثَنَا مَنْ سَمِعَ إِبْرَاهِيمَ الْحَرْبِيَّ قثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَرَ عَنْ رِجَالِهِ الْمُسَمَّيْنَ قَالُوا: مِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ بْنِ نُفَيْلِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُرْطِ بْنِ رِيَاحِ بْنِ قُرْطِ بْنِ رَزَاحِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ كَعْبِ بْنِ لُؤَيٍٍّ، قَالَ إِبْرَاهِيمُ الْحَرْبِيُّ: لَيْسَ كَذَا نَسَبُ عُمَرَ، هَذَا وَهْمٌ مِنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، إِنَّمَا هُوَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رِيَاحِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُرْطِ بْنِ رَزَاحٍ.

محمد بن اسحاق ؒ نے کچھ مسلمان آدمیوں سے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا نسب بیان کیا ہے ، جو غزوہ بدر میں شریک تھے کہ انکا نسب یوں ہے : عمر بن خطاب بن نفیل بن عبد العزیٰ بن عبداللہ بن قرط بن ریاح بن قرط بن رزاح بن عدی بن کعب بن لوی۔ مگر ابراہیم حربی ؒ کہتے ہیں ابن اسحاق کو وہم ہوا ہے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا نسب ایسے نہیں ہے بلکہ انکا نسب یوں ہے عمر بن خطاب بن عبداللہ بن ریاح سے عبد اللہ بن قرط بن رزاح۔ (1)

رِجَالِهِ الْمُسَمَّيْنَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ، ← إِبْرَاهِيمَ الْحَرْبِيَّ قثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ← مَنْ ← ابْنِ مَالِكٍ

Hadith 718

Daif

chevron_left Previous
1…17181920
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door2. He was asked about the virtues of Abu, the first-born of al-Siddiq, the mercy and pleasure of God be upon him3. He was asked about the words of Ali ibn Abi Talib and others: The best of this nation after its prophet Abu Bakr and Omar4. His saying, may God’s prayers and peace be upon him: “If I had taken people as a friend, I would not have taken a virgin father as a friend5. He, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Pass a virgin father, let him pray to the people.”6. The remainder of his saying: “Show a first-born father who prays to people.”7. It was not narrated that Abu Bakr was the first to become Muslim8. It was not narrated that a virgin father came to ask permission, so the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Permit him, and give him good tidings of paradise.”9. The Virtue of the Commander of the Believers, Omar Ibn Al-Khattab, may God be pleased with him10. The Islam of Umar ibn Al-Khattab, may God be pleased with him11. And among the virtues of Omar bin Al-Khattab from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik, on the authority of his sheikhs other than Abd Allah bin Ahmed, and from the hadith of Abu Bakr bin Malik.12. The virtue of Othman bin Affan, may God be pleased with him13. And from the merits of Othman, from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik on the authority of his sheikhs except for Abdullah bin Ahmad14. The news of the Prince of the Believers, Ali bin Abi Talib, and his asceticism, may God be pleased with him15. His mother's name and genealogy16. A merit upon me, peace be upon him17. And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah18. The Virtue of Abd al-Rahman ibn Awf, may God be pleased with him19. The Virtue of Az-Zubayr Bin Awwam, may God be pleased with him20. Fadil Abi Ubaidah Ibn Al Jarrah, may God be pleased with him21. Fadil Talha Bin Ubaid Allah, may God be pleased with him22. Fadil Saad bin Abi Waqas, may God be pleased with him23. Fadil Fatima, the daughter of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him24. The virtues of good, and the good, may God be pleased with them.25. The Virtues of Ansar, may God be pleased with them26. The virtue of Khalid bin Al-Walid, may God have mercy on him27. Fadil Saad bin Muadh, may God have mercy on him28. Fadil Haritha Ibn Nu'man, may God be pleased with him29. Fadil Suhaib, may God be pleased with him30. The virtues of the Arabs31. The virtue of Usama bin Zaid, may God be pleased with him32. Fadil Abdullah bin Masoud, may God be pleased with him33. Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with them34. Virtues of Khadija and others35. Fadil Ammar ibn Yasser, may God be pleased with him36. Virtues 0 People of Yemen37. Virtues of the family of the Mother of the Believers, may God be pleased with her, and other things among the people of Yemen38. The virtues of the Banu Ghafar, and Islam and others39. Fadil Jaafar ibn Abi Talib, may God be pleased with him40. Fadil Jarir bin Abdullah, may God be pleased with him41. Fadil Abdullah Bin Omar, may God be pleased with them42. The virtues of a people of the Levant43. The Virtue of the Companions of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him44. The virtue of Amr ibn al-Aas, may God be pleased with him45. The Virtues of Mu`awiyah Bin Abi Sufyan, may God be pleased with them46. The virtues of Abu al-Fadl al-Abbas ibn Abd al-Muttalib, the uncle of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him47. Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with him