فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ مَشَايِخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَحْمَدَ، وَمِنْ فَضَائِلِ أَبِي بَكْرٍ أَيْضًا · حديث 494
494 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سُلَيْمَانَ قثنا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَذْرَمِيُّ قثنا هُشَيْمٌ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: وَافَقْتُ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ فِي ثَلَاثٍ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَوِ اتَّخَذْنَا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى، وَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ نِسَاءَكَ يَدْخُلُ عَلَيْهِنَّ الْبَرُّ وَالْفَاجِرُ، فَلَوْ أَمَرْتَهُنَّ أَنْ يَحْتَجِبْنَ، قَالَ: فَنَزَلَتْ: {وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى} [البقرة: 125] ، وَنَزَلَتْ آيَةُ الْحِجَابِ، قَالَ: وَاجْتَمَعَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِسَاؤُهُ فِي الْغَيْرَةِ، قَالَ: فَقُلْتُ: {عَسَى رَبُّهُ إِنْ طَلَّقَكُنَّ أَنْ يُبْدِلَهُ أَزْوَاجًا خَيْرًا مِنْكُنَّ} [التحريم: 5] ، فَنَزَلَتْ كَذَلِكَ.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں نے اپنے رب سے تین چیزوں میں موافقت کی ہے یا میرے رب نے میرے ساتھ تین چیزوں میں موافقت کی ہے ۔ 1۔ میں نے آپﷺ سے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! کاش آپ مقام ابراہیم کو مصلیٰ بناتے ؟ اس پر اللہ نے اس حکم کو نازل فرمایا (واتخذو امن مقام ابراہیم مصلی)۔2۔میں نے عرض کیا یار سول اللہ ﷺ آپ کے پاس نیک و بد ہر طرح کے لوگوں کاآنا جانا لگا رہتا ہے ، کاش امہات المومنین ان سے پردہ میں رہا کریں ۔ اس پر آیت حجاب نازل ہوئی ۔ 3۔مجھے امہات المومنین کے متعلق یہ بات پہنچی کہ ان میں سے کسی پر نبی کریم ﷺ نے سختی کی ہے چنانچہ میں امہات المومنین میں سے ہر ایک کے پاس جا کر انہیں نبی کریم ﷺ کو تکلیف دینے سے روکتا رہا یہاں تک کہ میں نے ان میں کسی زوجہ محترمہ کے پاس آیا ۔ وہ کہنے لگیں کیا اللہ کے نبی ﷺ کی موجودگی میں آپ ہمیں نصیحت کررہے ہیں ؟ کیا نبی کریم ﷺ ہمیں نصیحت کرنے کے لیے کافی نہیں ہیں؟ آپ ہمیں نصحیت کیوں کرتے ہیں ؟ تو اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی : عسی ربہ ان طلقکن ان یبدلہ ازوجاخیر ا منکن ۔(2)
عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: وَافَقْتُ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ فِي ثَلَاثٍ، فَقُلْتُ: ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سُلَيْمَانَ قثنا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَذْرَمِيُّ قثنا هُشَيْمٌ،
Hadith 494
