Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

1,963 Hadith48 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ مَشَايِخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَحْمَدَ، وَمِنْ فَضَائِلِ أَبِي بَكْرٍ أَيْضًا · حديث 494

494 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سُلَيْمَانَ قثنا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَذْرَمِيُّ قثنا هُشَيْمٌ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: وَافَقْتُ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ فِي ثَلَاثٍ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَوِ اتَّخَذْنَا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى، وَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ نِسَاءَكَ يَدْخُلُ عَلَيْهِنَّ الْبَرُّ وَالْفَاجِرُ، فَلَوْ أَمَرْتَهُنَّ أَنْ يَحْتَجِبْنَ، قَالَ: فَنَزَلَتْ: {وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى} [البقرة: 125] ، وَنَزَلَتْ آيَةُ الْحِجَابِ، قَالَ: وَاجْتَمَعَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِسَاؤُهُ فِي الْغَيْرَةِ، قَالَ: فَقُلْتُ: {عَسَى رَبُّهُ إِنْ طَلَّقَكُنَّ أَنْ يُبْدِلَهُ أَزْوَاجًا خَيْرًا مِنْكُنَّ} [التحريم: 5] ، فَنَزَلَتْ كَذَلِكَ.

سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں نے اپنے رب سے تین چیزوں میں موافقت کی ہے یا میرے رب نے میرے ساتھ تین چیزوں میں موافقت کی ہے ۔ 1۔ میں نے آپﷺ سے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! کاش آپ مقام ابراہیم کو مصلیٰ بناتے ؟ اس پر اللہ نے اس حکم کو نازل فرمایا (واتخذو امن مقام ابراہیم مصلی)۔2۔میں نے عرض کیا یار سول اللہ ﷺ آپ کے پاس نیک و بد ہر طرح کے لوگوں کاآنا جانا لگا رہتا ہے ، کاش امہات المومنین ان سے پردہ میں رہا کریں ۔ اس پر آیت حجاب نازل ہوئی ۔ 3۔مجھے امہات المومنین کے متعلق یہ بات پہنچی کہ ان میں سے کسی پر نبی کریم ﷺ نے سختی کی ہے چنانچہ میں امہات المومنین میں سے ہر ایک کے پاس جا کر انہیں نبی کریم ﷺ کو تکلیف دینے سے روکتا رہا یہاں تک کہ میں نے ان میں کسی زوجہ محترمہ کے پاس آیا ۔ وہ کہنے لگیں کیا اللہ کے نبی ﷺ کی موجودگی میں آپ ہمیں نصیحت کررہے ہیں ؟ کیا نبی کریم ﷺ ہمیں نصیحت کرنے کے لیے کافی نہیں ہیں؟ آپ ہمیں نصحیت کیوں کرتے ہیں ؟ تو اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی : عسی ربہ ان طلقکن ان یبدلہ ازوجاخیر ا منکن ۔(2)

عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: وَافَقْتُ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ فِي ثَلَاثٍ، فَقُلْتُ: ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سُلَيْمَانَ قثنا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَذْرَمِيُّ قثنا هُشَيْمٌ،

Hadith 494

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ مَشَايِخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَحْمَدَ، وَمِنْ فَضَائِلِ أَبِي بَكْرٍ أَيْضًا · حديث 495

495 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سُلَيْمَانَ قثنا أَيُّوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَزَّانُ الرَّقِّيُّ قثنا مَرْوَانُ، نا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: وَافَقَنِي رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ فِي ثَلَاثٍ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَوِ اتَّخَذْنَا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى، فَنَزَلَتْ: {وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى} [البقرة: 125] ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، يَدْخُلُ عَلَيْكَ الْبَرُّ وَالْفَاجِرُ، فَلَوْ حَجَبْتَ أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ آيَةَ الْحِجَابِ، وَبَلَغَنِي أَنَّهُ كَانَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ بَعْضِ أَزْوَاجِهِ كَلَامٌ، فَاسْتَقْرَيْتُهُنَّ امْرَأَةً امْرَأَةً، فَقُلْتُ: لَتَكُفُّنَّ عَنْ أَذَى رَسُولِ اللَّهِ أَوْ لَيُبْدِلَنَّهُ اللَّهُ بِكُنَّ أَزْوَاجًا خَيْرًا مِنْكُنَّ مُسْلِمَاتٍ مُؤْمِنَاتٍ قَانِتَاتٍ الْآيَةَ، حَتَّى أَتَيْتُ عَلَى إِحْدَى أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ، فَقَالَتْ: يَا عُمَرُ، أَمَا فِي رَسُولِ اللَّهِ مَا يَعِظُ نِسَاءَهُ حَتَّى تَعِظَهُنَّ أَنْتَ، فَاسْكُتْ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: {عَسَى رَبُّهُ إِنْ طَلَّقَكُنَّ أَنْ يُبْدِلَهُ أَزْوَاجًا خَيْرًا مِنْكُنَّ مُسْلِمَاتٍ} [التحريم: 5] الْآيَةَ.

سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں نے اپنے رب سے تین چیزوں میں موافقت کی ہے یا میرے رب نے میرے ساتھ تین چیزوں میں موافقت کی ہے ۔ 1۔ میں نے آپﷺ سے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! کاش آپ مقام ابراہیم کو مصلیٰ بناتے ؟ اس پر اللہ نے اس حکم کو نازل فرمایا (واتخذو امن مقام ابراہیم مصلی)۔2۔میں نے عرض کیا یار سول اللہ ﷺ آپ کے پاس نیک و بد ہر طرح کے لوگوں کاآنا جانا لگا رہتا ہے ، کاش امہات المومنین ان سے پردہ میں رہا کریں ۔ اس پر آیت حجاب نازل ہوئی ۔ 3۔مجھے امہات المومنین کے متعلق یہ بات پہنچی کہ ان میں سے کسی پر نبی کریم ﷺ نے سختی کی ہے چنانچہ میں امہات المومنین میں سے ہر ایک کے پاس جا کر انہیں نبی کریم ﷺ کو تکلیف دینے سے روکتا رہا یہاں تک کہ میں نے ان میں کسی زوجہ محترمہ کے پاس آیا ۔ وہ کہنے لگیں کیا اللہ کے نبی ﷺ کی موجودگی میں آپ ہمیں نصیحت کررہے ہیں ؟ کیا نبی کریم ﷺ ہمیں نصیحت کرنے کے لیے کافی نہیں ہیں؟ آپ ہمیں نصحیت کیوں کرتے ہیں ؟ تو اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی : عسی ربہ ان طلقکن ان یبدلہ ازوجاخیر ا منکن ۔(1)

عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: وَافَقَنِي رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ فِي ثَلَاثٍ، قُلْتُ: ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سُلَيْمَانَ قثنا أَيُّوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَزَّانُ الرَّقِّيُّ قثنا مَرْوَانُ،

Hadith 495

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ مَشَايِخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَحْمَدَ، وَمِنْ فَضَائِلِ أَبِي بَكْرٍ أَيْضًا · حديث 496

496 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ نا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قثنا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي قثنا الْحُسَيْنُ الْمُعَلِّمُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: تَزَوَّجَ رِئَابُ بْنُ حُذَيْفَةَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ سَهْمٍ أُمَّ وَائِلٍ بِنْتَ مَعْمَرِ بْنِ حَبِيبٍ الْجُمَحِيَّةَ، فَوَلَدَتْ لَهُ ثَلَاثَةَ غِلْمَةٍ: وَائِلًا، وَمَعْمَرًا، وَرَجُلًا آخَرَ، فَمَاتَتْ فَوَرِثُوهَا وَلَاءَ مَوَالِيهَا، وَكَانَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ عَصَبَةً، فَخَرَجَ بِهِمْ عَمْرٌو إِلَى الشَّامِ، فَمَاتُوا فِي طَاعُونِ عَمَوَاسَ، فَلَمَّا قَدِمَ عَمْرٌو جَاءَ بَنُو مَعْمَرِ بْنِ حَبِيبٍ إِخْوَةُ أُمِّ وَائِلٍ فَخَاصَمُوهُ فِي مَوَالِي أُخْتِهِمْ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، فَقَالَ عُمَرُ: أَقْضِي بَيْنَكُمْ بِمَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَا أَحْرَزَ الْوَلَدُ فَهُوَ لِعَصَبَتِهِ مَنْ كَانَ» ، قَالَ: فَكَتَبَ عُمَرُ بِذَلِكَ كِتَابًا فِيهِ شَهَادَةُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، وَزَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، وَرَجُلٍ آخَرَ، فَلَمْ يَزَلِ الْكِتَابُ فِي أَيْدِينَا حَتَّى اسْتُخْلِفَ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مَرْوَانَ، فَمَاتَ مَوْلَاهَا وَتَرَكَ أَلْفَيْ دِينَارٍ، فَبَلَغَهُمْ أَنَّ الْحَجَّاجَ قَدْ غَيَّرَ هَذَا الْقَضَاءَ فَخَاصَمُوهُ إِلَى هِشَامِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ، فَرَفَعَهُمْ إِلَى عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَرْوَانَ، فَرَفَعَنَا إِلَى الْقَاضِي، فَأَتَيْتُهُ بِكِتَابِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، فَقَالَ عَبْدُ الْمَلِكِ لِلْقَاضِي: حَقِيقٌ إِذَا أُتِيتُ بِكِتَابِ عُمَرَ أَنْ نَنْتَهِيَ إِلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: هَذَا مِنَ الْقَضَاءِ الَّذِي كُنْتُ أَرَى أَنَّ أَحَدًا لَا يَشُكُّ فِيهِ، وَمَا كُنْتُ أَرَى أَنَّهُ بَلَغَ مِنْ رَأْيِ أَهْلِ الْمَدِينَةِ أَنْ يَشُكُّوا، وَقَضَى لَنَا بِكِتَابِ عُمَرَ، فَنَحْنُ فِيهِ بَعْدُ.

عمرو بن شعیب اپنے باپ دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رئا ب بن حذیفہ کی شادی ام وائل بنت معمر بن حبیب جہمیہ سے ہوئی تو اس سے ان کے تین لڑکے ہوئے ۔وائل ، معمر اور ایک اور بچہ ، جب و ہ عورت فوت ہو گئی تو انہوں نے بطور ولاء اس کے بچوں کو وراثت میں لے لیا اور ان کے ساتھ سیدنا عمر وبن العاص رضی اللہ عنہ عصبہ تھے ۔ سیدنا عمر و بن العاص رضی اللہ عنہ انہیں شام لے گئے ۔ وہاں طاعون کی بیماری میں سارے فوت ہو گئے ۔ پس جب سیدنا عمر و رضی اللہ شام سے واپس لوٹے تو بنو معمر یعنی ام وائل کے بھائی اپنی بہن کے موالی کی ولاء کے استحقاق کے بارے میں سیدنا عمر کی عدالت میں جھگڑالے کر آئے ۔ سیدنا عمر نے فرمایا: میں نے نبی کریم ﷺ سے جس طرح سنا تھا اسی طرح فیصلہ کروں گا آپ ﷺ کا ارشاد ہے جس طرح بھی ہو بیٹے سے بچا ہوا مال (ہر صورت میں ) عصبہ کو ملتا ہے سیدنا عمر نے خط لکھا جس میں سیدنا عبد الرحمان بن عوف اور سیدنا بن ثابت رضی اللہ عنہ اور ایک دوسر ے شخص کی شہادت قلمبند تھی وہ خط عبدا لملک بن مروان کی خلافت کے بعد تک ہمیشہ کے لیے محفوظ رہا ۔ جب اسکا آقا دو ہزار دینار ترکہ چھوڑ کر فوت ہو گیا تب لوگوں کو معلوم ہوا کہ حجاج بن یوسف نے اس فیصلہ میں تبدیلیاں کی ہیں ۔ ان وارثوں نے فیصلہ ہشام بن اسماعیل سے کروانا چاہا تو انہوں نے اس مقدمہ کو عبدالملک بن مروان کے پاس بھیچ دیا پھر پھر قاضی کے پاس پہنچا یا گیا تو اس وقت میں اس خط کو لے آیا جو سیدنا عمر نےلکھا تھا یہ دیکھ کر عبد الملک نے قاضی کو ہدایت کی کہ سیدنا عمر کے فیصلے سے آگے مت جاؤ پھر کہا یہ وہ فیصلہ ہے جس میں کسی کو کوئی شک نہیں رہتا اور نہ مدینہ کے اہل الرائے اس میں کوئی اعتراض کریں گے اس کے بعد پھر اسی فیصلے کے مطابق فیصلہ ہوا کرتا تھا ۔ (1)

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ← أَبِي قثنا الْحُسَيْنُ الْمُعَلِّمُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قثنا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سُلَيْمَانَ

Hadith 496

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ مَشَايِخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَحْمَدَ، وَمِنْ فَضَائِلِ أَبِي بَكْرٍ أَيْضًا · حديث 497

497 - حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَيُّوبَ الْمُخَرِّمِيُّ قثنا صَالِحُ بْنُ مَالِكٍ قثنا عَبْدُ الْغَفُورِ قثنا أَبُو هَاشِمٍ الرُّمَّانِيُّ، عَنْ زَاذَانَ قَالَ: رَأَيْتُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ يُمْسِكُ الشِّسْعَ بِيَدِهِ يَمُرُّ فِي الْأَسْوَاقِ، فَيُنَاوِلُ الرَّجُلَ الشِّسْعَ، وَيُرْشِدُ الضَّالَّ، وَيُعِينُ الْحَمَّالَ عَلَى الْجَوَازِ وَيَقْرَأُ هَذِهِ الْآيَةَ: {تِلْكَ الدَّارُ الْآخِرَةُ نَجْعَلُهَا لِلَّذِينَ لَا يُرِيدُونَ عُلُوًّا فِي الْأَرْضِ وَلَا فَسَادًا وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ} [القصص: 83] ، ثُمَّ يَقُولُ: هَذِهِ الْآيَةُ أُنْزِلَتْ فِي الْوُلَاةِ وَذِي الْقُدْرَةِ مِنَ النَّاسِ.

زاذان سے روایت ہے کہ میں نے سیدنا علی کو دیکھا کہ وہ ہاتھ میں جوتے کا تسمہ لیے بازار میں گھوم رہے تھے جس کا تسمہ ہوتا اسے دے دیتے کسی گمشدہ آدمی کو راستہ دکھا دیتے کسی کا بوجھ اٹھا کر سواری میں لادتے اوریہ آیات تلاوت کرتے (تلک الدار الا خرۃ نجعلھا لا یریدون علوافی الارض ولا فساد اوالعاقبۃ للمتقین) اور ساتھ یہ بھی کہتے تھے کہ یہ آیت بادشاہوں اور صاحب استطاعت لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے ۔ (2)

زَاذَانَ

Hadith 497

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ مَشَايِخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَحْمَدَ، وَمِنْ فَضَائِلِ أَبِي بَكْرٍ أَيْضًا · حديث 498

498 - حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَصْرِيُّ أَبُو مُسْلِمٍ الْكَجِّيُّ قثنا يَحْيَى بْنُ كَثِيرٍ النَّاحِيُّ قثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ مِشْرَحِ بْنِ هَاعَانَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْ كَانَ بَعْدِي نَبِيٌّ كَانَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ» .

سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر بن خطاب ہوتے ۔ (3)

عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ ← مِشْرَحِ بْنِ هَاعَانَ

Hadith 498

Hassan

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ مَشَايِخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَحْمَدَ، وَمِنْ فَضَائِلِ أَبِي بَكْرٍ أَيْضًا · حديث 499

499 - حَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ شُعَيْبٍ الْبَلْخِيُّ قثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبَانَ، وَهُوَ الْكُوفِيُّ، قثنا الْمُحَارِبِيُّ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ زُبَيْدٍ الْيَامِيِّ، عَمَّنْ حَدَّثَهُ، عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذْ أَقْبَلَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ، فَلَمَّا نَظَرَ إِلَيْهِمَا قَالَ: «يَا عَلِيُّ، هَذَانِ سَيِّدَا كُهُولِ أَهْلِ الْجَنَّةِ مِنَ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ إِلَّا النَّبِيِّينَ وَالْمُرْسَلِينَ» ، ثُمَّ قَالَ: «يَا عَلِيُّ، لَا تُخْبِرْهُمَا» .

سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ کے پاس بیٹھا ہوا تھا اسی دوران سامنے سے سیدنا ابو بکر اور سیدنا عمر تشریف لائے ۔ جب آپ ﷺ کی نگاہ ان پر پڑی تو فرمایا علی ! یہ دونوں ماسوائے انبیا اور رسولوں کے تمام جنتی عمر رسیدہ لوگوں کے سردار ہیں ، پھر فرمایا : علی ! انہیں یہ بات نہ بتانا ۔(1)

عَلِيٍّ، ← زبيد اليامي عمن ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ

Hadith 499

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ مَشَايِخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَحْمَدَ، وَمِنْ فَضَائِلِ أَبِي بَكْرٍ أَيْضًا · حديث 500

500 - حَدَّثَنَا حَامِدٌ قثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَوْنٍ الْخَرَّازُ قثنا أَبُو يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَامِينَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي وَاقِدٍ اللَّيْثِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ قَوَائِمَ مِنْبَرِي رَوَاتِبُ فِي الْجَنَّةِ، وَإِنَّ عَبْدًا مِنْ عِبَادِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ خَيَّرَهُ اللَّهُ بَيْنَ الدُّنْيَا وَنَعِيمِهَا وَمَا عِنْدَهُ، فَاخْتَارَ مَا عِنْدَهُ» ، فَلَمْ يَفْهَمْهَا أَحَدٌ مِنَ الْقَوْمِ غَيْرَ أَبِي بَكْرٍ، قَالَ: فَبَكَى وَقَالَ: بَلْ نَفْدِيكَ بِالْأَمْوَالِ وَالْأَنْفُسِ وَالْأَهْلِينَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا مِنْ أَحَدٍ أَمَنُّ عَلَيْنَا فِي ذَاتِ يَدِهِ مِنْ أَبِي بَكْرٍ، وَلَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِيلًا لَاتَّخَذْتُ أَبَا بَكْرٍ خَلِيلًا، وَلَكِنِّي خَلِيلُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ» .

سیدنا ابو واقدالیثی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : میرے اس منبر کے پائے جنت میں بھی قائم ہوں گے بلا شبہ اللہ نے ایک بندے کو دنیا اور اس نعمتوں یا جو اس کے پاس ہے میں سے ایک اختیاردیا ہے مگراس بندے نے جو چیزاللہ تعالیٰ کے پاس ہے کو اختیار کر لیا ہے ۔ یہ بات سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کے سوا لوگوں میں سے کسی کو سمجھ نہ آئی تو انہوں نے روتے ہوئے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ہم آپ پر اپنے مال و جان اور اولاد کو قربان کر دیں گے اس وقت نبی کریم ﷺ نے فرمایا مجھ پر ابو بکر صدیق جتنا کسی کا احسان نہیں اگر میں اللہ کے علاوہ کسی کو دوست بناتا تو ابو بکر کو ہی بناتا مگر میں نے اپنے اللہ عزوجل کو اپنا بنا لیا ہے۔ (2)

أبي واقد الليثي ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَامِينَ، ← حَامِدٌ قثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَوْنٍ الْخَرَّازُ قثنا أَبُو يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ،

Hadith 500

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ مَشَايِخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَحْمَدَ، وَمِنْ فَضَائِلِ أَبِي بَكْرٍ أَيْضًا · حديث 501

501 - حَدَّثَنَا حَامِدٌ قثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبَانَ قَالَ: نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ خِرَاشٍ الشَّيْبَانِيُّ، عَنِ الْعَوَّامِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: لَمَّا أَسْلَمَ عُمَرُ نَزَلَ جِبْرِيلُ فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، لَقَدِ اسْتَبْشَرَ أَهْلُ السَّمَاءِ بِإِسْلَامِ عُمَرَ.

سیدنا عبد اللہ بن عباس سے روایت ہے کہ جب سیدناعمر رضی اللہ عنہ اسلام لائے تو سیدنا جبرائیل ؑ نے آکر نبی کریم ﷺ کو بشارت دی کہ آسمان والے بھی سیدنا عمر کے اسلام لانے پر خوش ہیں ۔ (3)

يَا مُحَمَّدُ، لَقَدِ اسْتَبْشَرَ أَهْلُ السَّمَاءِ بِإِسْلَامِ عُمَرَ ← لَمَّا أَسْلَمَ عُمَرُ نَزَلَ جِبْرِيلُ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← مُجَاهِدٍ ← الْعَوَّامِ بْنِ حَوْشَبٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ خِرَاشٍ الشَّيْبَانِيُّ، ← حَامِدٌ قثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبَانَ

Hadith 501

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ مَشَايِخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَحْمَدَ، وَمِنْ فَضَائِلِ أَبِي بَكْرٍ أَيْضًا · حديث 502

502 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَيْمَانَ الْبَاغَنْدِيُّ قثنا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ قَالَ نا صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَاقِدٍ، عَنْ بُسْرِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ عَائِذِ اللَّهِ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ أَقْبَلَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ آخِذًا بِطَرَفِ ثَوْبِهِ حَتَّى أَبْدَى عَنْ رُكْبَتِهِ، فَقَالَ: «أَمَّا صَاحِبُكُمْ فَقَدْ غَامَرَ» ، فَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنَّهُ كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ شَيْءٌ، فَأَسْرَعْتُ إِلَيْهِ، ثُمَّ نَدِمْتُ، فَسَأَلْتُهُ أَنْ يَغْفِرَ لِي، فَأَبَى وَتَحَرَّزَ مِنِّي بِدَارِهِ، فَأَقْبَلْتُ إِلَيْهِ فَقَالَ: يَغْفِرُ اللَّهُ لَكَ يَا أَبَا بَكْرٍ ثُمَّ أَتَى عُمَرُ فَأَتَى مَنْزِلَ أَبِي بَكْرٍ، فَسَأَلَ: أَيْنَ أَبُو بَكْرٍ؟ فَقَالُوا: لَيْسَ هُوَ هَا هُنَا، فَأَقْبَلَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَعَلَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَمَعَّرُ، حَتَّى أَشْفَقَ أَبُو بَكْرٍ فَجَثَا عَلَى رُكْبَتَيْهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ بَعَثَنِي إِلَيْكُمْ فَقُلْتُمْ: كَذَبْتَ، وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: صَدَقْتَ، وَوَاسَانِي بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ، فَهَلْ أَنْتُمْ تَارِكُونَ لِي صَاحِبِي؟ " قَالَ: فَمَا أُوذِيَ بَعْدَهَا.

سیدنا ابوالدرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے پاس تھے اتنے میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اپنے کپڑوں کو سمیٹتے ہوئے اس حال میں حاضر ہوئے کہ ان کے گھٹنوں کی طرف سے کچھ کپڑا ہٹا ہوا تھا آپ ﷺ نے انکو دیکھ کر فریاما لگتا ہے تمہارے ساتھی کو کسی نے کچھ کہا ہے انہوں نے حاضر ہو کر سلام کیا اور کہنے لگے یا رسول اللہ ﷺ ! میرے اور سیدنا عمر کے درمیان کچھ اختلاف ہوا ہے اور میں نےجلدبازی کا مظاہرہ کیا لیکن اب میں پشمان ہوں میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے معذرت بھی کی ہے ۔ مگر وہ نہ مانے اور اپنے گھر چلے گئے میں ان ہی کی طرف سے آرہا ہوں پھر ان کے سامنے گیا ۔ آپ ﷺ نے فرمایا ابو بکر اللہ تجھے معاف کرے دوسری طرف سیدنا عمر سیدنا ابو بکر کے گھر گئے اور پوچھا یہاں ابو بکر ہیں آواز آئی :وہ یہاں نہیں ہیں تو وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے رسول اللہ ﷺ کا چہرہ متغیر ہو گیا تو سیدنا ابو بکر گھبرا گئے اور گھٹنوں کے بل بیٹھ گئے پس رسول اللہ ﷺ نے فرمایا لوگو ! اللہ تعالیٰ نے مجھے تمہاری طرف معبوث فرمایا ہے مگر تم نے مجھے جھٹلایا اور صرف ابو بکر نے میری تصدیق کی اور مال و جان سے میری مدد کی پس کیا تم میرے ساتھی کو نظر اناز کرتے ہو۔ راوی کہتے ہیں : اس دن کے بعد انہیں کوئی تکلیف نہیں دی گئی ۔ (1)

كُنْتُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي الدَّرْدَاءِ، ← عَائِذِ اللَّهِ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ ← بُسْرُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، ← زَيْدُ بْنُ وَاقِدٍ ← صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَيْمَانَ الْبَاغَنْدِيُّ قثنا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ

Hadith 502

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ مَشَايِخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَحْمَدَ، وَمِنْ فَضَائِلِ أَبِي بَكْرٍ أَيْضًا · حديث 503

503 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْبَاغَنْدِيُّ قَالَ: نا يَحْيَى بْنُ الْفَضْلِ الْخُرْقِيُّ الْعَنَزِيُّ، قثنا وُهَيْبُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ النَّمَرِيُّ الْقَارِئُ قثنا هَارُونُ الْأَعْوَرُ، عَنْ أَبَانَ بْنِ تَغْلِبَ، عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ الرَّجُلَ مِنْ أَعْلَى عِلِّيِّينَ لَيُشْرِفُ عَلَى أَهْلِ الْجَنَّةِ، فَتُضِيءُ الْجَنَّةُ لِوَجْهِهِ كَأَنَّهَا كَوْكَبٌ دُرِّيُّ» - مَرْفُوعَةُ الدَّالِ لَا تُهْمَزُ - قَالَ: «وَإِنَّ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ لَمِنْهُمْ، وَأَنْعَمَا» .

سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ایک آدمی مقام علیین سے باقی جنتیوں کی طرف جھانکےگا تو اس کے چہرے کی چمک سے جنت روشن ہو جائے گی گویا کہ وہ چمکتا ہوا ستارہ ہے ۔ (لفظ دری پر ضمہ بلا ہمزہ ہے ) آپ ﷺ نے پھر فرمایا : بلا شبہ ابو بکر اور عمر انہی میں سے ہیں اور دونوں آسودہ حال ہوں گے۔ (2)

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عَطِّيَةَ الْعَوْفِيِّ ← اَبَانَ بْنِ تَغْلِبَ ← هَيْبُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ النَّمَرِيُّ الْقَارِئُ قثنا هَارُونُ الْأَعْوَرُ، ← يَحْيَى بْنُ الْفَضْلِ الْخُرْقِيُّ الْعَنَزِيُّ، قثنا ← أَبُو بَكْرٍ الْبَاغَنْدِيُّ،

Hadith 503

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ مَشَايِخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَحْمَدَ، وَمِنْ فَضَائِلِ أَبِي بَكْرٍ أَيْضًا · حديث 504

504 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ الْقَطِيعِيُّ قَالَ: نا مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَبُو عِيسَى الْمَسْرُوقِيُّ قثنا أَبُو أُسَامَةَ قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ: لَا أَزَالُ هَائِبَةً لِعُمَرَ بَعْدَ مَا رَأَيْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، صَنَعْتُ حَرِيرَةً وَعِنْدِي سَوْدَةُ بِنْتُ زَمْعَةَ جَالِسَةٌ، فَقُلْتُ لَهَا: كُلِي، فَقَالَتْ: لَا أَشْتَهِي وَلَا آكُلُ، فَقُلْتُ: لَتَأْكُلِنَّ أَوْ لَأَلْطَخَنَّ وَجْهَكِ، فَلَطَخْتُ وَجْهَهَا، فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بَيْنِي وَبَيْنَهَا، فَأَخَذَتْ مِنْهَا فَلَطَخَتْ وَجْهِي، وَرَسُولُ اللَّهِ يَضْحَكُ، إِذْ سَمِعْنَا صَوْتًا جَاءَنَا يُنَادِي: يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ: «قُومَا فَاغْسِلَا وُجُوهَكُمَا، فَإِنَّ عُمَرَ دَاخِلٌ» ، فَقَالَ عُمَرُ: السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْكُمْ، أَأَدْخُلُ؟ فَقَالَ: «ادْخُلِ ادْخُلْ»

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں اس وقت سے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے خوف زدہ رہتی ہوں جب سے میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا تھا کہ ایک دن میں نے حلوہ بنایا میرے پاس سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا بیٹھی تھیں ۔ میں نے ان سے کہا کھاؤ وہ کہنے لگی : میرا دل نہیں کر رہا میں نہیں کھاتی میں نے کہا : کھاؤ ورنہ میں اسے تمہارے چہرے پر مل دو ں گی تو میں نے انکے چہرے پر مل دیا آپ ﷺ ہم دونوں کے درمیان میں تھے ۔ دیکھ کر مسکرائے پھر میں نے بھی اپنے چہرے پر مل لیا تو آپ ﷺ پھر سے مسکرائے اسی دوران اچانک ہم نے ایک آوازلگانے والے کی آواز سنی میں نے عبداللہ بن عمر ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : اب تم دونوں اُٹھو اور اپنے چہرے دھولو عمر آرہا ہے ۔ تو سیدنا عمر نے کہا اسلام علیکم ایھا النبی و رحمۃ اللہ و برکاتہ السلام علیکم ۔ کیا میں آجاؤں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : آجاؤ ،آجاؤ۔(1)

يَحْيَى بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَبُو عِيسَى الْمَسْرُوقِيُّ قثنا أَبُو أُسَامَةَ ← علي بن الحسن القطيعي

Hadith 504

Hassan

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ مَشَايِخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَحْمَدَ، وَمِنْ فَضَائِلِ أَبِي بَكْرٍ أَيْضًا · حديث 505

505 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ قثنا أَبُو عِيسَى مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ وَضَّاحٍ الْبَصْرِيُّ قثنا وَهْبٌ، هُوَ ابْنُ جَرِيرٍ، قثنا أَبِي قَالَ: سَمِعْتُ يُونُسَ الْأَيْلِيَّ يُحَدِّثُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «أُتِيتُ وَأَنَا نَائِمٌ بِقَدَحٍ مِنْ لَبَنٍ، فَشَرِبْتُ مِنْهُ حَتَّى جَعَلَ اللَّبَنُ يَخْرُجُ مِنْ أَظْفَارِي، فَنَاوَلْتُ فَضْلِي عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ» ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَمَا أَوَّلْتَهُ؟ قَالَ: «الْعِلْمُ» .

سیدنا عمر بن عمر سے روایت ہے کہ میں نےسنا رسول اللہ ﷺ فرما رہے تھے میں سویا ہوا تھا کہ میرے پاس دودھ کا پیالہ لایا گیا میں نے وہ پیا یہاں تک کہ اس کی سیرابی میں نے اپنے ناخنوں سے نکلتی ہوئی محسوس کی پھر میں نے بچا ہوا عمر کو دیا صحابہ کرام نے عرض کیا : رسول اللہ ﷺ آپ اس کی کیا تعبیر کرتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا : اس کی تعبیر علم ہے ۔ (2)

أَتَيْتُ ← أَبِيهِ ← حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، ← الزُّهْرِيِّ، ← يُونُسَ الْأَيْلِيِّ ← ضَّاحٍ الْبَصْرِيُّ قثنا وَهْبٌ، هُوَ ابْنُ جَرِيرٍ، قثنا أَبِي ← عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ قثنا أَبُو عِيسَى مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ

Hadith 505

chevron_left Previous
1234…20
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door2. He was asked about the virtues of Abu, the first-born of al-Siddiq, the mercy and pleasure of God be upon him3. He was asked about the words of Ali ibn Abi Talib and others: The best of this nation after its prophet Abu Bakr and Omar4. His saying, may God’s prayers and peace be upon him: “If I had taken people as a friend, I would not have taken a virgin father as a friend5. He, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Pass a virgin father, let him pray to the people.”6. The remainder of his saying: “Show a first-born father who prays to people.”7. It was not narrated that Abu Bakr was the first to become Muslim8. It was not narrated that a virgin father came to ask permission, so the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Permit him, and give him good tidings of paradise.”9. The Virtue of the Commander of the Believers, Omar Ibn Al-Khattab, may God be pleased with him10. The Islam of Umar ibn Al-Khattab, may God be pleased with him11. And among the virtues of Omar bin Al-Khattab from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik, on the authority of his sheikhs other than Abd Allah bin Ahmed, and from the hadith of Abu Bakr bin Malik.12. The virtue of Othman bin Affan, may God be pleased with him13. And from the merits of Othman, from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik on the authority of his sheikhs except for Abdullah bin Ahmad14. The news of the Prince of the Believers, Ali bin Abi Talib, and his asceticism, may God be pleased with him15. His mother's name and genealogy16. A merit upon me, peace be upon him17. And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah18. The Virtue of Abd al-Rahman ibn Awf, may God be pleased with him19. The Virtue of Az-Zubayr Bin Awwam, may God be pleased with him20. Fadil Abi Ubaidah Ibn Al Jarrah, may God be pleased with him21. Fadil Talha Bin Ubaid Allah, may God be pleased with him22. Fadil Saad bin Abi Waqas, may God be pleased with him23. Fadil Fatima, the daughter of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him24. The virtues of good, and the good, may God be pleased with them.25. The Virtues of Ansar, may God be pleased with them26. The virtue of Khalid bin Al-Walid, may God have mercy on him27. Fadil Saad bin Muadh, may God have mercy on him28. Fadil Haritha Ibn Nu'man, may God be pleased with him29. Fadil Suhaib, may God be pleased with him30. The virtues of the Arabs31. The virtue of Usama bin Zaid, may God be pleased with him32. Fadil Abdullah bin Masoud, may God be pleased with him33. Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with them34. Virtues of Khadija and others35. Fadil Ammar ibn Yasser, may God be pleased with him36. Virtues 0 People of Yemen37. Virtues of the family of the Mother of the Believers, may God be pleased with her, and other things among the people of Yemen38. The virtues of the Banu Ghafar, and Islam and others39. Fadil Jaafar ibn Abi Talib, may God be pleased with him40. Fadil Jarir bin Abdullah, may God be pleased with him41. Fadil Abdullah Bin Omar, may God be pleased with them42. The virtues of a people of the Levant43. The Virtue of the Companions of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him44. The virtue of Amr ibn al-Aas, may God be pleased with him45. The Virtues of Mu`awiyah Bin Abi Sufyan, may God be pleased with them46. The virtues of Abu al-Fadl al-Abbas ibn Abd al-Muttalib, the uncle of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him47. Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with him