Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

1,963 Hadith48 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ مَشَايِخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَحْمَدَ، وَمِنْ فَضَائِلِ أَبِي بَكْرٍ أَيْضًا · حديث 686

686 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، نا عَلِيُّ بْنُ دَاوُدَ قثنا رَجُلٌ قَالَ نا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَطِيَّةَ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْطَبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْطَبٍ قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَظَرَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ فَقَالَ: «هَذَانِ السَّمْعُ وَالْبَصَرُ» .

عبداللہ بن حنطب ؒ سے روایت ہے کہ ہم نبی کریم ﷺ کے ہمراہ تھے آپ نے سیدنا ابو بکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہم کی طرف دیکھ کر فرمایا : یہ دونوں میرے لیے کان اور آنکھ کی مانند ہیں ۔(2)

كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ فَنَظَرَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ فَقَالَ: «هَذَانِ السَّمْعُ وَالْبَصَرُ» ← جَدِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْطَبٍ ← أَبِيهِ ← عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْطَبٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ عَطِيَّةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← عَلِيُّ بْنُ دَاوُدَ قثنا رَجُلٌ ← مُحَمَّدٍ

Hadith 686

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ مَشَايِخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَحْمَدَ، وَمِنْ فَضَائِلِ أَبِي بَكْرٍ أَيْضًا · حديث 687

687 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ قثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ قَالَ: نا عَبْدَةُ وَيَعْلَى، قَالَا: نا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ مَكْحُولٍ، وَغُضَيْفِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَضَعَ الْحَقَّ عَلَى لِسَانِ عُمَرَ» .

سیدنا ابوزر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : بلاشبہ اللہ عزوجل نے عمر کی زبان پر حق جار ی کیا ہے۔ (3)

اَبِیْ ذَرٍّ ← مَكْحُولٍ، وَغُضَيْفِ بْنِ الْحَارِثِ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← عَبْدَةُ وَيَعْلَى، ← مُحَمَّدٌ قثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ

Hadith 687

Hassan

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ مَشَايِخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَحْمَدَ، وَمِنْ فَضَائِلِ أَبِي بَكْرٍ أَيْضًا · حديث 688

688 - حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْبَصْرِيُّ قثنا مُحَمَّدُ بْنُ تَمِيمٍ النَّهْشَلِيُّ قثنا خَازِمُ بْنُ جَبَلَةَ، عَنْ أَبِي الْعَبْدِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لِأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ: «يَا أَبَا بَكْرٍ، وَيَا عُمَرُ، وَاللَّهِ إِنِّي لَأُحِبُّكُمَا، وَوَاللَّهِ إِنَّ اللَّهَ لَيُحِبُّكُمَا لِحُبِّي إِيَّاكُمَا، وَوَاللَّهِ إِنَّ الْمَلَائِكَةَ لَتُحِبُّكُمَا لِحُبِّ اللَّهِ إِيَّاكُمَا، أَحَبَّ اللَّهُ مَنْ أَحَبَّكُمَا، وَوَصَلَ اللَّهُ مَنْ وَصَلَكُمَا، قَطَعَ اللَّهُ مَنْ قَطَعَكُمَا، أَبْغَضَ اللَّهُ مَنْ أَبْغَضَكُمَا» .

سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سیدنا ابو بکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا : ابو بکر و عمر ! اللہ کی قسم ! میں آپ دونوں سے محبت کرتا ہوں، میری محبت کی وجہ سے اللہ بھی آپ دونوں سے محبت کرتا ہے اللہ کی قسم ! فرشتے بھی آپ دونوں کو محبوب رکھتے ہیں کیونکہ اللہ تم سے محبت کرتا ہے اور اللہ ہر اس شخص سے محبت کرتا ہے جو تم سے محبت کرے گا۔ اللہ اسے ملائے گا جو تم سے ملا رہتا ہے ، اللہ اس شخص کو کاٹے گا جوتم سے قطعی تعلقی کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس سے بغض رکھتا ہے جو تم دونوں سے بعض رکھتا ہے ۔ (4)

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← أَبِي الْعَبْدِيِّ،

Hadith 688

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ مَشَايِخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَحْمَدَ، وَمِنْ فَضَائِلِ أَبِي بَكْرٍ أَيْضًا · حديث 689

689 - حَدَّثَنَا الْحَسَنُ قثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ قثنا الْوَضَّاحُ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا أَبَا بَكْرٍ، إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَعْطَانِي ثَوَابَ مَنْ آمَنَ بِهِ مُنْذُ يَوْمِ خَلَقَ اللَّهُ آدَمَ إِلَى أَنْ تَقُومَ السَّاعَةُ، وَإِنَّ اللَّهَ أَعْطَاكَ يَا أَبَا بَكْرٍ ثَوَابَ مَنْ آمَنَ بِي مُنْذُ يَوْمِ بَعَثَنِي اللَّهُ إِلَى أَنْ تَقُومَ السَّاعَةُ» .

سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ابو بکر ! بے شکر اللہ نے مجھے آدم کی پیدائش سے لے کر قیامت قام ہونے تک ایان لانے والے شخص کے برابر ثواب دیا اور ابو بکر ! جس دن اللہ تعالیٰ نے مجھے معبوث کیا اس دن سے لے کر قیامت قائم ہونے تک مجھ پر ایمان لانے والے شخص کے برابر آپ کو ثواب عطا کیا ۔ (5)

عَلِيٍّ، ← الْحَارِثِ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← اِسْرَائِیْلُ ← الْحَسَنُ قثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ قثنا الْوَضَّاحُ،

Hadith 689

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ مَشَايِخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَحْمَدَ، وَمِنْ فَضَائِلِ أَبِي بَكْرٍ أَيْضًا · حديث 690

690 - حَدَّثَنَا الْحَسَنُ قثنا لُؤْلُؤُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَبُو بَكْرٍ الْعَوْفِيُّ قَالَ: نا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ عَلِيٍّ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: {مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ} [الفتح: 29] ، قَالَ: مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ {وَالَّذِينَ مَعَهُ} [الفتح: 29] أَبُو بَكْرٍ، {أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ} [الفتح: 29] عُمَرُ، {رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ} [الفتح: 29] عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ، {تَرَاهُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا} [الفتح: 29] عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، {يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِنَ اللَّهِ وَرِضْوَانًا} [الفتح: 29] ، طَلْحَةُ وَالزُّبَيْرُ، {سِيمَاهُمْ فِي وُجُوهِهِمْ مِنْ أَثَرِ السُّجُودِ} [الفتح: 29] عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ وَسَعْدٌ، {ذَلِكَ مَثَلُهُمْ فِي التَّوْرَاةِ وَمَثَلُهُمْ فِي الْإِنْجِيلِ كَزَرْعٍ أَخْرَجَ شَطْأَهُ فَآزَرَهُ فَاسْتَغْلَظَ فَاسْتَوَى عَلَى سُوقِهِ يُعْجِبُ الزِّرَاعَ} [الفتح: 29] الْمُؤْمِنُونَ الْمُحِبُّونَ لَهُمْ، {لِيَغِيظَ بِهِمُ الْكُفَّارَ} [الفتح: 29] الْمُبْغِضُونَ لَهُمْ، {وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ مِنْهُمْ مَغْفِرَةً وَأَجْرًا عَظِيمًا} [الفتح: 29] .

سیدنا علی رضی اللہ عنہ اس آیت کی تفسیر یوں کرتے ہیں (محمد رسول اللہ ) سے مراد سیدنا محمد ﷺ (والذین معہ) سے سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ (اشداء علی الکفار) سے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ (رحماء بینھم ) سے مراد سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہم (تراھم رکعا سجدا) سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ (یبتغون فضلا من اللہ و رضوانا) سے سیدنا طلحہ اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہم (سیماھم فی وجوھھم من اثر السجود) سے سیدنا عبد الرحمن بن عوف اور سیدنا سعد رضی اللہ عنہ (ذلک مثلھم فی التوراۃ و مثلھم فی الانجیل کزرع اخرج شطاہ قازرہ فاستوی علی سوقہ یعجب الزراع) سے مراد وہ مومنین ہیں جو ان صحابہ کرام سے محبت کرتے ہیں اور (لیغیظ بھم الکفار ) سے مراد ہر وہ شخص ہے جو ان سے نفرت کرے (وعد اللہ الزین آمنو وعملو الصالحات منھم مغفرۃ واجر ا عظیما)۔(1)

عَلِيٍّ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: {مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ} [الفتح: ← جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← الْحَسَنُ قثنا لُؤْلُؤُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَبُو بَكْرٍ الْعَوْفِيُّ

Hadith 690

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ مَشَايِخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَحْمَدَ، وَمِنْ فَضَائِلِ أَبِي بَكْرٍ أَيْضًا · حديث 691

691 - حَدَّثَنَا الْحَسَنُ قثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ أَبُو بَكْرٍ الْمَكِّيُّ قثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْأَنْصَارِيُّ قثنا شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ خُلَيْدِ بْنِ دَعْلَجٍ، وَأَبِي الْجُودِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مُهَاجِرٍ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ قَالَ: جَاءُوا بِرَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ أَصَابَ حَدًّا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِهِ: «مَا تَرَوْنَ فِيهِ؟» فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: أَرَى أَنْ تُوجِعَ قَرْنَيْهِ، فَقَالَ الْأَنْصَارُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّكَ إِنْ تُطِعْ عُمَرَ فِي أُمَّتِكَ تَشْتَدَّ عَلَيْهِمْ، وَانْصَرَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَى جِبْرِيلُ فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، إِنَّ رَبَّكَ عَزَّ وَجَلَّ أَعَزَّ الْإِسْلَامَ بِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، فَالْقَوْلُ مَا قَالَ عُمَرُ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَ النَّاسَ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عُمَرُ مِنِّي، وَأَنَا مِنْ عُمَرَ، وَأَحِلُّ حَيْثُ يَحِلُّ عُمَرُ» ، وَدَعَا بِالْأَنْصَارِيِّ فَأَقَامَ عَلَيْهِ الْحَدَّ

سیدنا مقدام بن معد یکرب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک انصاری کو حد لگانے کے لیے نبی کریم ﷺ کے سامنے لایا گیا ۔نبی کریم ﷺ نے صحابہ کرام سے دریافت کیا تمہاری اس باے میں کیا رائے ؟ سیدنا عمر نے عرض کیا : اس کوایسی حد لگے کہ اس کے سر کی چوٹی پھٹ جائے ۔اس پر انصار نے : یا رسول اللہ ﷺ اگر آپ ان کی مانیں گے تو یہ امت پر بہت سخت ہو گی یہ سن کر آپ ﷺ نے اسکو چھوڑ دیا اس وقت سیدنا جبرائیل ؑ نے آکر کہا اے محمد ﷺ اللہ تعالیٰ نے اسلام کو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ذریعے عزت بخشی ہے ،چنانچہ حق بات وہ تھی جو سیدنا عمر نے کہی تھی اس وقت آ پﷺ نے اعلان کیا کہ میں عمر سے ہوں اور عمر مجھ سے ہے جہاں عمر جاتا ہے میں بھی جاتا ہوں ، چنانچہ اس انصاری کو دوبارہ بلایا گیا اور اس پر حد قائم کی گئی ۔ (2)

الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ، ← سَعِيدِ بْنِ مُهَاجِرٍ، ← خُلَيْدِ بْنِ دَعْلَجٍ، وَأَبِي الْجُودِيِّ،

Hadith 691

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ مَشَايِخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَحْمَدَ، وَمِنْ فَضَائِلِ أَبِي بَكْرٍ أَيْضًا · حديث 692

692 - حَدَّثَنَا الْحَسَنُ قثنا عُثْمَانُ بْنُ عَمْرٍو قثنا عَبْدُ الْحَكَمِ، عَنْ هِشَامٍ قثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ جَابِرٍ قَالَ: مَا رَأَيْتُ أَحَدًا أَعْلَمَ بِاللَّهِ، وَلَا أَقْرَأَ لِكِتَابِ اللَّهِ، وَلَا أَفْقَهَ فِي دِينِ اللَّهِ، مِنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ.

قبیصہ بن جابر ؒ نے فرمایا : میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے بڑھ کر عالم ،قرآن کا قاری اور رفقیہ فے لدین کسی کونہیں دیکھا ۔(3)

قَبِيصَةَ بْنِ جَابِرٍ ← هِشَامٍ قثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ، ← الْحَسَنُ قثنا عُثْمَانُ بْنُ عَمْرٍو قثنا عَبْدُ الْحَكَمِ،

Hadith 692

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ مَشَايِخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَحْمَدَ، وَمِنْ فَضَائِلِ أَبِي بَكْرٍ أَيْضًا · حديث 693

693 - حَدَّثَنَا الْحَسَنُ قثنا كَامِلُ بْنُ طَلْحَةَ الْجَحْدَرِيُّ قثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، وَهُوَ الْمَقْبُرِيُّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ فِي السَّمَاءِ الدُّنْيَا ثَمَانِينَ أَلْفَ مَلَكٍ يَسْتَغْفِرُونَ اللَّهَ لِمَنْ أَحَبَّ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ، وَفِي السَّمَاءِ الثَّانِيَةِ ثَمَانُونَ أَلْفَ مَلَكٍ يَلْعَنُونَ مَنْ أَبْغَضَ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ» .

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : دنیائے آسمان میں 80ہزار فرشتے ان لوگوں کے لیے دعا مغفرت کرتے ہیں جو ابو بکر اور عمر سے محبت کرتے ہیں اور دوسے آسمان میں 80 ہزار فرشتے ہیں جو لعنت بھیجتے ہیں ہر اس شخص پر جو ابو بکر اور عمر سے نفرت کرتا ہے۔ (1)

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، وَهُوَ الْمَقْبُرِيُّ، ← الْحَسَنُ قثنا كَامِلُ بْنُ طَلْحَةَ الْجَحْدَرِيُّ قثنا ابْنُ لَهِيعَةَ،

Hadith 693

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ مَشَايِخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَحْمَدَ، وَمِنْ فَضَائِلِ أَبِي بَكْرٍ أَيْضًا · حديث 694

694 - حَدَّثَنَا الْحَسَنُ قثنا مُحَمَّدُ بْنُ نُمَيْرٍ النَّهْشَلِيُّ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ قثنا وَهْبُ اللَّهِ قثنا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ مِشْرَحِ بْنِ هَاعَانَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَوْ كَانَ بَعْدِي نَبِيٌّ لَكَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ» .

سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر ہی ہوتا ۔ (2)

«لَوْ كَانَ بَعْدِي نَبِيُّ لَكَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ» ← عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ ← مِشْرَحِ بْنِ هَاعَانَ ← بَكْرُ بْنُ عَمْرٍو،

Hadith 694

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ مَشَايِخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَحْمَدَ، وَمِنْ فَضَائِلِ أَبِي بَكْرٍ أَيْضًا · حديث 695

695 - حَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ قثنا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ قثنا الْمَسْعُودِيُّ، عَنِ الْقَاسِمِ قَالَ: كَانَ لِأَبِي بَكْرٍ غُلَامٌ يَأْتِيهُ بِكِسْرَتِهِ كُلَّ لَيْلَةٍ فَيَسْأَلُهُ عَنْهَا: مِنْ أَيْنَ أَصَبْتَهُ؟ قَالَ: أَصَبْتُهُ مِنْ كَذَا وَكَذَا، فَأَتَى لَيْلَةً بِكَسْبِهِ وَأَبُو بَكْرٍ قَدْ طَالَ صِيَامُهُ فَنَسِيَ أَنْ يَسْأَلَهُ، فَوَضَعَ يَدَهُ فَأَكَلَ، فَقَالَ الْغُلَامُ لِأَبِي بَكْرٍ: كُنْتَ تَسْأَلُنِي كُلَّ لَيْلَةٍ عَنْ كَسْبِي إِذَا جِئْتُكَ، فَلَمْ أَرَ سَأَلْتَنِي عَنْ كَسْبِي اللَّيْلَةَ، قَالَ: فَأَخْبِرْنِي مِنْ أَيْنَ هُوَ؟ قَالَ: كُنْتُ تَكَهَّنْتُ لِقَوْمٍ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَلَمْ يُعْطُونِي أَجْرَ كَهَانَتِي، حَتَّى كَانَ الْيَوْمُ فَلَقِيتُهُمُ الْيَوْمَ فَأَعْطَوْنِي، وَإِنَّمَا كَانَ كَذْبَةً، قَالَ: فَأَدْخَلَ أَبُو بَكْرٍ أُصْبُعَهُ فِي حَلْقِهِ فَجَعَلَ يَتَقَيَّأُ، قَالَ: فَذَهَبَ الْغُلَامُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هِيهِ، أَكْذَبْتَ أَبَا بَكْرٍ» ، قَالَ: فَضَحِكَ، أَحْسَبُهُ قَالَ: ضَحِكًا شَدِيدًا، وَقَالَ: «وَيْحَكَ إِنَّ أَبَا بَكْرٍ يَكْرَهُ أَنْ يَدْخُلَ بَطْنَهُ إِلَّا طَيِّبٌ» .

قاسم سے روایت ہے کہ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کا غلام ہر رات انکو کھانا کھلاتا تو وہ پوچھتے یہ روٹی کا ٹکڑا کہاں سے ملا ؟ غلام کہتا : ایسے ایسے مجھے ملا ہے ۔ پھر ایک رات غلام اپنی کمائی لایا مگر سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ لمبے روزے کی وجہ سے پوچھنا بھول گئے اور کھانے کے لیے برتن میں ہاتھ ڈالا اور کھا لیا تو غلام نے کہا : روزنہ جب میں آپ کے پاس آتا ہوں ، مجھ سے میری کمائی کے متعلق پوچھتے ہیں ؟ مگر آج رات آ پ نے مجھ سے کمائی کے بارے میں دریافت نہیں کیا ؟ تو سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہاں بتاؤ کہا سے لایا ؟ غلام نے کہا : میں زمانہ جاہلیت میں نجومی تھا ، فلاں لوگوں نے اس وقت سے میری کہانت کا معاوضہ نہیں دیا تھا تو اب وہ لوگ مجھے ملے ، انہوں نے وہ معاوضہ دے دیا ، حالانکہ میری کہانت جھوٹی تھی ،سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے اپنی انگلیاں حلق میں ڈالیں اور قے کردی اسی وقت وہ غلام نبی کریم ﷺ کے پاس گیا اور اسکو اس کی خبر دی ۔ آپ ﷺ نے بطور تعجب فرمایا تو نے ابو بکر سے جھوٹ بولا؟ غلام کہتا ہے پس آپ ﷺ مسکرائے اور کچھ زیادہ ہی مسکرائے آپ ﷺ نے فرمایا : تیرے لیے ہلاکت ہو یقینا ابو بکر اپنے میں صرف حلال چیزوں کو داخل کرنا ہی پسند کرتے ہیں ۔(3)

الْقَاسِمِ، ← الْحَسَنُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ قثنا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ قثنا الْمَسْعُودِيُّ،

Hadith 695

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ مَشَايِخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَحْمَدَ، وَمِنْ فَضَائِلِ أَبِي بَكْرٍ أَيْضًا · حديث 696

696 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ قثنا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ قثنا زُهَيْرٌ قثنا أَبُو إِسْحَاقَ قَالَ: حَدَّثَنِي غَيْرُ وَاحِدٍ، وَقَدْ ذَكَرَ طَلْحَةُ بْنُ مُصَرِّفٍ قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: أَلَيْسَ هَذَا مَقَامُ خَلِيلِ رَبِّنَا عَزَّ وَجَلَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «بَلَى» ، قَالَ: أَلَا نَتَّخِذُهُ مُصَلًّى؟ قَالَ: فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: {وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى} [البقرة: 125] ، قَالَ: فَأَمَرَهُمْ أَنْ يَتَّخِذُوا.

طلحہ بن مصرف ؒ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ کیا ہم اپنے عزت وجلال والے رب کے خلیل (ابراہیم ؒ) کے مقام کو نمازہ کی جگہ نہ بنا لیں۔آپ ﷺ نے فرمایا : کیوں نہیں ! تو آپ ﷺ نے فرمایا : حضرات ! ہم نے اس مقام کو نماز کی جگہ بنا لیا ہے تو اللہ عزوجل نے اس آیت کو نازل فرمایا (واتخذو امن مقام ابراہیم مصلی) تو اللہ نے اس طرح انہیں اس مقام کو نماز کی جگہ بنانے کا حکم دے دیا ۔ (1)

عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: أَلَيْسَ هَذَا مَقَامُ خَلِيلِ رَبِّنَا عَزَّ وَجَلَّ ← طَلْحَۃَ بن مصرف ← غَيْرُ وَاحِدٍ، وَقَدْ ← أَحْمَدُ قثنا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ قثنا زُهَيْرٌ قثنا أَبُو إِسْحَاقَ

Hadith 696

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ مَشَايِخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَحْمَدَ، وَمِنْ فَضَائِلِ أَبِي بَكْرٍ أَيْضًا · حديث 697

697 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ قثنا أَبُو إِبْرَاهِيمَ التَّرْجُمَانِيُّ قثنا دَاوُدُ بْنُ الزِّبْرِقَانِ، عَنْ مَطَرٍ، وَسَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّهُ حَدَّثَهُمْ قَالَ: رَجَفَ أُحُدٌ، فَقَالَ: «اسْكُنْ حِرَاءَ عَلَيْكَ نَبِيٌّ، وَصِدِّيقٌ، وَشَهِيدَانِ، الصِّدِّيقُ أَبُو بَكْرٍ، وَالشَّهِيدَانِ عُمَرُ وَعُثْمَانُ» .

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ حراء پہاڑ حرکت میں آگیا تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا رک جاؤ! تجھ پر صرف نبی ، صدیق اور دو شہید ہیں ۔ صدیق سے مرادابو بکر اور دوشہید سے مراد عمر و عثمان ہیں۔(2)

رَجَفَ أُحُدٌ، ← أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّهُ ← قَتَادَةَ ← مَطَرٍ، وَسَعِيدٍ، ← أَحْمَدُ قثنا أَبُو إِبْرَاهِيمَ التَّرْجُمَانِيُّ قثنا دَاوُدُ بْنُ الزِّبْرِقَانِ،

Hadith 697

Daif

chevron_left Previous
1…17181920
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door2. He was asked about the virtues of Abu, the first-born of al-Siddiq, the mercy and pleasure of God be upon him3. He was asked about the words of Ali ibn Abi Talib and others: The best of this nation after its prophet Abu Bakr and Omar4. His saying, may God’s prayers and peace be upon him: “If I had taken people as a friend, I would not have taken a virgin father as a friend5. He, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Pass a virgin father, let him pray to the people.”6. The remainder of his saying: “Show a first-born father who prays to people.”7. It was not narrated that Abu Bakr was the first to become Muslim8. It was not narrated that a virgin father came to ask permission, so the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Permit him, and give him good tidings of paradise.”9. The Virtue of the Commander of the Believers, Omar Ibn Al-Khattab, may God be pleased with him10. The Islam of Umar ibn Al-Khattab, may God be pleased with him11. And among the virtues of Omar bin Al-Khattab from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik, on the authority of his sheikhs other than Abd Allah bin Ahmed, and from the hadith of Abu Bakr bin Malik.12. The virtue of Othman bin Affan, may God be pleased with him13. And from the merits of Othman, from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik on the authority of his sheikhs except for Abdullah bin Ahmad14. The news of the Prince of the Believers, Ali bin Abi Talib, and his asceticism, may God be pleased with him15. His mother's name and genealogy16. A merit upon me, peace be upon him17. And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah18. The Virtue of Abd al-Rahman ibn Awf, may God be pleased with him19. The Virtue of Az-Zubayr Bin Awwam, may God be pleased with him20. Fadil Abi Ubaidah Ibn Al Jarrah, may God be pleased with him21. Fadil Talha Bin Ubaid Allah, may God be pleased with him22. Fadil Saad bin Abi Waqas, may God be pleased with him23. Fadil Fatima, the daughter of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him24. The virtues of good, and the good, may God be pleased with them.25. The Virtues of Ansar, may God be pleased with them26. The virtue of Khalid bin Al-Walid, may God have mercy on him27. Fadil Saad bin Muadh, may God have mercy on him28. Fadil Haritha Ibn Nu'man, may God be pleased with him29. Fadil Suhaib, may God be pleased with him30. The virtues of the Arabs31. The virtue of Usama bin Zaid, may God be pleased with him32. Fadil Abdullah bin Masoud, may God be pleased with him33. Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with them34. Virtues of Khadija and others35. Fadil Ammar ibn Yasser, may God be pleased with him36. Virtues 0 People of Yemen37. Virtues of the family of the Mother of the Believers, may God be pleased with her, and other things among the people of Yemen38. The virtues of the Banu Ghafar, and Islam and others39. Fadil Jaafar ibn Abi Talib, may God be pleased with him40. Fadil Jarir bin Abdullah, may God be pleased with him41. Fadil Abdullah Bin Omar, may God be pleased with them42. The virtues of a people of the Levant43. The Virtue of the Companions of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him44. The virtue of Amr ibn al-Aas, may God be pleased with him45. The Virtues of Mu`awiyah Bin Abi Sufyan, may God be pleased with them46. The virtues of Abu al-Fadl al-Abbas ibn Abd al-Muttalib, the uncle of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him47. Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with him