Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

1,963 Hadith48 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ مَشَايِخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَحْمَدَ، وَمِنْ فَضَائِلِ أَبِي بَكْرٍ أَيْضًا · حديث 638

638 - حَدَّثَنَا عَلِيٌّ قثنا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدٍ قثنا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ وَاصِلٍ الْأَحْدَبِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ قَالَ: جَلَسْتُ إِلَى شَيْبَةَ بْنِ عُثْمَانَ، فَقَالَ: جَلَسَ إِلَيَّ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ مَجْلِسَكَ هَذَا فَقَالَ: لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ لَا أَدَعَ صَفْرَاءَ وَلَا بَيْضَاءَ إِلَّا قَسَمْتُهَا، فَقُلْتُ: إِنَّهُ كَانَ لَكَ صَاحِبَانِ، النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ، لَمْ يَفْعَلَا ذَلِكَ، قَالَ: هُمَا الْمَرْآنِ أَقْتَدِيهِمَا.

ابو وائل رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ میں شیبہ بن عثمان رحمۃ اللہ علیہ کی مجلس میں بیٹھا انہوں نے کہا : سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اس جگہ پر بیتھے ہوئے تھے ، جہاں تم بیٹھے ہواور کہا : میری خواہش ہے کہ میں تمام سونا اور چاندی کو تقسیم کروں؟ مین نے کہا: آپ کے پیش رو نبی کریم ﷺ اور سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے یہ کام نہیں کیا؟ تو سیدنا عر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے : وہی دونوں تو میرے اس کام میں پیش رو ہیں ۔ (یعنی وہ سونا اور چاندی کو تقسیم کر دیا کرتے تھے )۔(5)

لَقَدْ هَمَمْتُ ← جَلَسَ إِلَيَّ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ مَجْلِسِكَ هَذَا، ← جَلَسْتُ إِلَى شَيْبَةَ بْنِ عُثْمَانَ ← أَبِي وَائِلٍ ← وَاصِلٌ الْأَحْدَبُ ← الثَّوْرِيُّ ← عَلِيٌّ قثنا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدٍ قثنا ابْنُ عُيَيْنَةَ،

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And among the virtues of Omar bin Al-Khattab from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik, on the authority of his sheikhs other than Abd Allah bin Ahmed, and from the hadith of Abu Bakr bin Malik. · Hadith 638

Hassan

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ مَشَايِخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَحْمَدَ، وَمِنْ فَضَائِلِ أَبِي بَكْرٍ أَيْضًا · حديث 639

639 - حَدَّثَنَا عَلِيٌّ قثنا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدٍ، نا مُحَمَّدُ بْنُ فُلَيْحِ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: سُئِلَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ: مَا أَشَدُّ مَا رَأَيْتَ الْمُشْرِكِينَ نَالُوا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: أَشَدُّ مَا رَأَيْتُ مِنْهُمْ نَالُوا مِنْهُ قَطُّ أَنَّهُمْ عَدَوْا عَلَيْهِ يَوْمًا فَأَخَذُوهُ وَهُوَ يَطُوفُ، يَعْنِي بِالْبَيْتِ، فَأَخَذُوا بِجُمْعِ رِدَائِهِ فَلَبَّبُوهُ وَقَالُوا: أَنْتَ الَّذِي تَسُبُّ آلِهَتَنَا، وَتَنْهَانَا عَمَّا كَانَ يَعْبُدُ آبَاؤُنَا؟ فَيَقُولُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نَعَمْ، أَنَا ذَاكَ» ، وَأَبُو بَكْرٍ مُحْتَضِنُهُ إِلَيْهِ يَقُولُ بِأَعْلَى صَوْتِهِ: يَا قَوْمِ، أَتَقْتُلُونَ رَجُلًا أَنْ يَقُولَ: رَبِّيَ اللَّهُ، وَقَدْ جَاءَكُمْ بِالْبَيِّنَاتِ مِنْ رَبِّكُمْ؟ قَالَ: وَعَيْنَاهُ تَسْفَحَانِ.

عروہ بن زبیر رحمۃ اللہ علیہ روایت کرتے ہیں کہ سیدنا عمر و بن العاص رضی اللہ عنہ سے کسی نے پوچھا مشرکین نے نبی کریم ﷺ کو کونسی سخت تکلیف پہنچائی ؟ سیدنا عمر و رضی اللہ عنہ نے کہا: سب سے سخت تکلیف یہ پہنچائی کہ مشرکین نے نبی کریم ﷺ کو ایک دن پکڑا اور چادر سے جکڑ کر گھسیٹا اور کہنے لگے : تم وہ شخص ہو جو ہمارے معبودوں کو گالیاں دیتے ہو؟ اور ہمیں انکی عبادت سے روکتے ہو جن کی ہمارے باپ دادا بھی عبادت کیا کرتے تھے ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : ہاں ! وہ میں ہی ہوں اس وقت سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ آئے اور نبی کریم ﷺ سے چمٹ گئے اور اونچی آواز سے کہنے لگے اے لوگو! تم اس شخص کو قتل کرنا چاہتے ہو جو کہتا ہے میرا رب صرف اللہ ہےاور اس پر ان کے پاس اپنے رب کی طرف سے واضح دلائل بھی موجود ہیں ۔ راوی حدیث کہتے ہیں اس وقت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے ۔ (1)

سُئِلَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ: مَا أَشَدُّ مَا رَأَيْتَ الْمُشْرِكِينَ نَالُوا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← محمدُ بنُ فُليحِ بنِ سليمانَ، ← عَلِيٌّ قثنا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدٍ،

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And among the virtues of Omar bin Al-Khattab from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik, on the authority of his sheikhs other than Abd Allah bin Ahmed, and from the hadith of Abu Bakr bin Malik. · Hadith 639

Hassan

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ مَشَايِخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَحْمَدَ، وَمِنْ فَضَائِلِ أَبِي بَكْرٍ أَيْضًا · حديث 640

640 - حَدَّثَنَا عَلِيٌّ قثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قثنا صَالِحُ بْنُ مُوسَى الطَّلْحِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «احْفَظُونِي فِي أَصْحَابِي، وَأَزْوَاجِي، وَأَصْهَارِي» .

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میرے صحابہ ، میری ازواج اور میرے سسرال والوں کا احترام کرو۔ (2)

عَائِشَةَ ← الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَکْرٍ ← عَلِيٌّ قثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قثنا صَالِحُ بْنُ مُوسَى الطَّلْحِيُّ،

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And among the virtues of Omar bin Al-Khattab from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik, on the authority of his sheikhs other than Abd Allah bin Ahmed, and from the hadith of Abu Bakr bin Malik. · Hadith 640

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ مَشَايِخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَحْمَدَ، وَمِنْ فَضَائِلِ أَبِي بَكْرٍ أَيْضًا · حديث 641

641 - حَدَّثَنَا عَلِيٌّ قثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ عَلَى حِرَاءٍ هُوَ وَأَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، وَعَلِيٌّ، وَعُثْمَانُ، وَطَلْحَةُ، وَالزُّبَيْرُ، فَتَحَرَّكَتِ الصَّخْرَةُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اهْدَئِي فَمَا عَلَيْكِ إِلَّا نَبِيُّ، أَوْ صِدِّيقٌ، أَوْ شَهِيدٌ» .

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دن نبی کریم ﷺ سیدنا ابو بکر ،سیدنا عمر ، سیدنا علی ، سیدنا عثمان ، سیدنا طلحہ اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہم حراء پہاڑ پر چڑھے تو وہ حرکت میں آگیا نبی کریم ﷺ نے فرمایا : رُک جاؤ ! تجھ پر صرف نبی ،صدیق یا شہید ہیں (3)

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← سُهَيْلٍ، ← عَلِيٌّ قثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ،

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And among the virtues of Omar bin Al-Khattab from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik, on the authority of his sheikhs other than Abd Allah bin Ahmed, and from the hadith of Abu Bakr bin Malik. · Hadith 641

Hassan

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ مَشَايِخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَحْمَدَ، وَمِنْ فَضَائِلِ أَبِي بَكْرٍ أَيْضًا · حديث 642

642 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ قثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، نا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ أَسْمَاءَ بْنِ الْحَكَمِ الْفَزَارِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيًّا يَقُولُ: إِنِّي كُنْتُ إِذَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا نَفَعَنِي اللَّهُ بِهِ بِمَا شَاءَ أَنْ يَنْفَعَنِي، وَإِذَا حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِهِ اسْتَحْلَفْتُهُ، فَإِذَا حَلَفَ لِي صَدَّقْتُهُ، وَإِنَّهُ حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ، وَصَدَقَ أَبُو بَكْرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَا مِنْ رَجُلٍ مُؤْمِنٍ يُذْنِبُ ذَنْبًا، ثُمَّ يَقُومُ فَيَتَطَهَّرُ فَيُحْسِنُ الطُّهُورَ، ثُمَّ يُصَلِّي، ثُمَّ يَسْتَغْفِرُ اللَّهَ، إِلَّا غَفَرَ اللَّهُ لَهُ» ، ثُمَّ قَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ {وَالَّذِينَ إِذَا فَعَلُوا فَاحِشَةً أَوْ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ} [آل عمران: 135] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ.

سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب میں رسول اللہ ﷺ سے کوئی بات سنتا تو اللہ جتنا چاہتا اتنا مجھے نفع دیتا اور جب میں آپ ﷺ کے کسی صحابی رضی اللہ عنہ سے حدیث سنتا تو میں اس سے قسم لیتا ، جب وہ قسم اٹھاتا تو میں تصڈیق کرتا ، یقینا مجھے سیدنا ابو بکر صدیق نے حدیث سنائی اور بلاشبہ انہوں نےسچ بیان کیا کہ سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرما رہے تھے کوئی مومن بندہ جب گناہ کرتا ہے تو فورا اچھی طرح وضو کرتا ہے پھر نماز پڑھتا ہے اور مغفرت طلب کرتا ہے پس اللہ اسکی مغفرت فرما دیتا ہے پھر یہ آیت تلاوت فرمائی (والذین اذا فعلوا فاحشۃ او ظلمو ا انفسہم ۔۔۔۔۔) جب ان سے کوئی ناشائستہ کام ہو جائے یا یا اپنی جانوں پر ظلم کر بیٹھیں۔۔۔۔)(1)

رَسُولِ اللَّهِ ← أبو بكر وصدق أبو بكر ← رجل من أَصْحَابه اسْتَحْلَفته فَإِذا حلف لي صدقته وَإنَّهُ ← مِنْ رَسُولِ اللَّهِ حَدِيثًا نَفَعَنِي اللَّهُ بِهِ بِمَا شَاءَ أَنْ يَنْفَعَنِي، وَإِذَا ← إِنِّي كنت إِذا ← عَلِيًّا ← أَسْمَاءَ بْنِ الْحَكَمِ الْفَزَارِيِّ ← عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ ← عُثْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ← أَبُو عَوَانَةَ، ← عَلِيُّ قثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ،

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And among the virtues of Omar bin Al-Khattab from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik, on the authority of his sheikhs other than Abd Allah bin Ahmed, and from the hadith of Abu Bakr bin Malik. · Hadith 642

Hassan

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ مَشَايِخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَحْمَدَ، وَمِنْ فَضَائِلِ أَبِي بَكْرٍ أَيْضًا · حديث 643

643 - حَدَّثَنَا عَلِيٌّ قثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنِ الْأَعْرَجِ، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " بَيْنَا رَجُلٌ يَسُوقُ بَقَرَةً فَبَدَا لَهُ أَنْ يَرْكَبَهَا، فَأَقْبَلَتْ بِهِ فَقَالَتْ لَهُ: إِنَّا لَمْ نُخْلَقْ لِهَذَا إِنَّمَا خُلِقْنَا لِلْحِرَاثَةِ "، فَقَالَ مَنْ حَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ: سُبْحَانَ اللَّهِ سُبْحَانَ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَإِنِّي آمَنْتُ بِهِ أَنَا وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ، وَلَمْ يَكُنْ ثَمَّ أَبُو بَكْرٍ وَلَا عُمَرُ» ، وَقَالَ: " بَيْنَمَا رَجُلٌ فِي غَنَمِهِ إِذْ جَاءَ الذِّئْبُ فَذَهَبَ بِشَاةٍ مِنَ الْغَنَمِ، فَطَلَبَهُ، فَلَمَّا أَدْرَكَهُ لَفَظَهَا ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْهِ فَقَالَ: فَمَنْ لَهَا يَوْمَ السَّبُعِ يَوْمَ لَا رَاعِيَ يَكُونُ لَهَا غَيْرِي؟ " فَقَالَ مَنْ حَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ: سُبْحَانَ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ: «فَإِنِّي آمَنْتُ بِهِ أَنَا وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ، وَلَمْ يَكُنْ ثَمَّ أَبُو بَكْرٍ وَلَا عُمَرُ» .

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ایک آدمی بیل پر بوجھ لادے ہوئے بازار میں جا رہا تھا جب وہ اس پر سوار ہونے لگا ، وہ اسکی طرف متوجہ ہو کر کہنے لگا : بلاشبہ مجھے بار برداری کے لیے تو پیدا نہیں کیا گیا بلکہ مجھے تو صرف کھیتی باڑی کے لیے پیدا کیا گیا ہے رسول اللہ ﷺ کے ارد گرد بیٹھے لوگوں نے یہ سن کر تعجب کرتے ہوئے کہا :سبحان اللہ ، سبحان اللہ (بڑی عجیب بات ہے کہ بیل بھی کلام کرتا ہے؟) تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یقینا مین اس پر ایما لایا ہوں اور ابو بکر اور عمر بھی اس پر ایمان رکھتے ہیں حالانکہ وہاں سیدنا ابو بکر صدیق اور سیدنا عمر فارق نہیں تھے ۔۔۔ پھر ( مزید اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے ) فرمایا ایک چرواہا اپنی بکریوں میں موجود تھا اچانک ایک بھیڑیا اس کے ریوڑ پر حملہ آور ہوا اور اس نے اس میں سے ایک بکری دبوچ لی۔ چرواہے نے بکری کے حصول کے لیے اس کا تعاقب کیا حتیٰ کہ اس نے اپنی بکری چھڑالی ۔بھیڑیے نے اس کی طرف متوجہ ہو کر کہا : درندوں کے دن انکا محافظ کون ہوگا؟ اس دن میرے علاوہ انکا کوئی چرواہا نہیں ہوگا ؟رسول اللہ ﷺ کے ارد گرد بیٹھے لوگوں نے پھر تعجب کرتے ہوئے کہا سبحان اللہ سبحان اللہ ( کیا بھیڑیا بھی باتیں کرتا ہے ؟) تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : یقینا میں اس پر ایمان لایا ہوں اور ابو بکر اور عمر بھی اس پر ایمان رکھتے ہیں ۔ حالانکہ وہاں سیدنا ابو بکر اور سیدنا عمر فاروق سے جہنم میں داخل کی گئی کہ اس نے ایک بلے یا بلی کو باندھے رکھا ، اے کچھ کھانے کے لیے دیا اور نہ ہی اسے آزاد کیا ،البتہ وہ زمین کے کیڑے مکوڑے کھاتی رہی ،بالاخر مر گئی ، اس پر ابو بکر اور عمر گواہ ہیں حالانکہ وہاں سیدنا ابوبکر صدیق اور سیدنا عمر موجود نہیں تھے۔اسی طر ح ایک آدمی بیل پر سوار ہو کر اسے ہانگے ہوئے لے جا رہا تھا جب وہ اس پر سوار ہوا تو ا سےمارا توبیل نے اسے کہا بلا شبہ مجھے بار برداری کے لیے تو پیدا نہیں کیا گیابلکہ مجھے تو کھیتی باڑی کے لیے پیدا کیا گیا ہے ۔ لوگوں نے یہ سن کر تعجب کرتے ہوئے کہا : سبحان الللہ !(بڑی عجیب بات ہے ) کیا بیل بھی کلام کرتا ہے ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یقیناََ مین اس پر ایمان رکھتا ہوں ابو بکر اور عمر بھی اس پر ایمان رکھتے ہیں حالانکہ اس محفل میں وہ دونوں (ابو بکر صدیق اور عمر فاروق ) موجود نہیں تھے پھر مزید اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے فرمایا :ایک چر واہا اپنی بکریوں میں موجود تھا اسی اثنا میں ایک بھڑیااس ے ریوڑ پر حملہ آور ہوا اور اس نے ان میں سے ایک بکری دبوچ لی۔ چرواہے نے بکری کے حصول کے لیے اس کا تعاقب کیا حتی کہ اس سے اپنی بکری چھڑالی ۔بھیڑیے نے اس کو کہا آج تو تم نے مجھ سے بکری چھین لی ۔درندوں کے دن ان کا محافظ کون ہوگا۔اس دن میرے علاوہ ان کا کوئی چروایا نہیں ہو گا؟ لوگوں نےپھر تعجب کرتے ہوئے کہا سبحان اللہ ! بھیڑیا بھی باتیں کرتا ہے ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یقیناََ میں اس پر ایمان رکھتا ہوں ابو بکر اور عمر بھی اس پر ایمان رکھتے حالانکہ وہاں سیدنا ابو بکر صدیق اور سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہم نہیں تھے ۔(2)

أَبَا هُرَيْرَةَ ← أَنَّهُ ← الْأَعْرَجِ، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← عَلِيٌّ قثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قثنا ابْنُ لَهِيعَةَ،

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And among the virtues of Omar bin Al-Khattab from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik, on the authority of his sheikhs other than Abd Allah bin Ahmed, and from the hadith of Abu Bakr bin Malik. · Hadith 643

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ مَشَايِخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَحْمَدَ، وَمِنْ فَضَائِلِ أَبِي بَكْرٍ أَيْضًا · حديث 644

644 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ طَيْفُورٍ قثنا قُتَيْبَةُ قثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " سَيَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يُبْعَثُ مِنْهُمْ بَعْثٌ فَيَقُولُونَ: انْظُرُوا هَلْ فِيكُمْ أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَيُوجَدُ الرَّجُلُ الْوَاحِدُ، فَيُفْتَحُ لَهُمْ بِهِ، ثُمَّ يُبْعَثُ مِنَ النَّاسِ بَعْثٌ فَيُقَالُ: انْظُرُوا هَلْ فِيكُمْ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ أَحَدٌ؟ فَلَا يُوجَدُ أَحَدٌ مِنْهُمْ "، قَالَ: وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: «سَيَأْتِي عَلَى النَّاسِ يَوْمٌ فَلَوْ سَمِعُوا بِرَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِي مِنْ وَرَاءِ الْبُحُورِ لَالْتَمَسُوهُ، ثُمَّ لَا يَجِدُونَهُ» .

سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : لوگوں پر ایسا وقت آئے گا جب وہ لشکر بھیجیں گے تو کہیں گے دیکھو تم میں نبی کریم ﷺ کا کوئی صحابی ہے پھر وہ ایک شخص کو پالیں گے۔ اللہ تعالیٰ اس لشکر کو ان کے طفیل فتح عطا فرمائے گا پھر لوگ دوبارہ لشکر بھجیں گے تو کہیں گے : تم میں نبی کریم ﷺ کا کوئی صحابی ہے مگر ان مین کوئی اسیا آدمی نہیں پائیں گے ۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے سنا آپ ﷺ فرما رہے تھے : عنقریب لوگوں پر ایک ایسا دن بھی آئے گا کہ اگر وہ لوگ یہ سنیں کہ ایک صحابی سمندروں کے پار رہتا ہے تووہ اسے تلاش کریں گے مگر ایسا کوئی شخص وہ نہیں پائیں گے۔(1)

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← عَلِيُّ بْنُ طَيْفُورٍ قثنا قُتَيْبَةُ قثنا ابْنُ لَهِيعَةَ،

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And among the virtues of Omar bin Al-Khattab from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik, on the authority of his sheikhs other than Abd Allah bin Ahmed, and from the hadith of Abu Bakr bin Malik. · Hadith 644

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ مَشَايِخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَحْمَدَ، وَمِنْ فَضَائِلِ أَبِي بَكْرٍ أَيْضًا · حديث 645

645 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ زَنْجُوَيْهِ الْقَطَّانُ قثنا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ الدِّمَشْقِيُّ قثنا أَسَدٌ، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ، عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَقَالَ: «وَمَنْ أَبْغَضَ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ فَهُوَ مُنَافِقٌ» .

سیدنا ابو سعید الخدری سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ابو بکر اور عمر سے بعض رکھنے والا شخص منافق ہے ۔ (2)

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عَطِّيَةَ الْعَوْفِيِّ ← الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، ← أَحْمَدُ بْنُ زَنْجُوَيْهِ الْقَطَّانُ قثنا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ الدِّمَشْقِيُّ قثنا أَسَدٌ،

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And among the virtues of Omar bin Al-Khattab from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik, on the authority of his sheikhs other than Abd Allah bin Ahmed, and from the hadith of Abu Bakr bin Malik. · Hadith 645

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ مَشَايِخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَحْمَدَ، وَمِنْ فَضَائِلِ أَبِي بَكْرٍ أَيْضًا · حديث 646

646 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ، نا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ قثنا ابْنُ أَبِي الْجَوْنِ، نا فِطْرُ بْنُ خَلِيفَةَ، عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ أَهْلَ الدَّرَجَاتِ الْعُلَى يَنْظُرُونَ إِلَى عِلِّيِّينَ كَمَا تَنْظُرُونَ إِلَى الْكَوْكَبِ الطَّالِعِ فِي السَّمَاءِ، وَإِنَّ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ مِنْهُمْ، وَأَنْعَمَا» .

سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بلاشبہ مقام علیین والوں کو ان سے نچلے مقام والے اس طرح دیکھیں گے جس طرح تم آسمان کے افق میں چمکدار ستارے کو دیکھتے ہو اور ابو بکر و عمر ان ہی میں سے ہیں اور وہ بڑے اچھے ہیں ۔(3)

رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عَطِّيَةَ الْعَوْفِيِّ ← فِطْرِ بن خليفة ← هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ قثنا ابْنُ أَبِي الْجَوْنِ، ← أَحْمَدُ،

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And among the virtues of Omar bin Al-Khattab from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik, on the authority of his sheikhs other than Abd Allah bin Ahmed, and from the hadith of Abu Bakr bin Malik. · Hadith 646

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ مَشَايِخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَحْمَدَ، وَمِنْ فَضَائِلِ أَبِي بَكْرٍ أَيْضًا · حديث 647

647 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الصُّوفِيُّ، نا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى أَبُو صَالِحٍ قثنا ابْنُ أَبِي الرِّجَالِ، قَالَ إِسْحَاقُ بْنُ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ، أَخْبَرَنِي قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمِّي عِيسَى بْنُ طَلْحَةَ قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ فَقُلْتُ: يَا أَبَا عَبَّاسٍ، أَخْبِرْنِي عَنْ سَلَفِنَا حَتَّى كَأَنِّي عَايَنْتُهُمْ، قَالَ: تَسْأَلُنِي عَنْ أَبِي بَكْرٍ؟ كَانَ وَاللَّهِ يَا ابْنَ أَخِي تَقِيًّا يُرَى الْخَيْرُ فِيهِ مِنْ رَجُلٍ يُصَادَى مِنْهُ غَرْبٌ، قَالَ: يَعْنِي الْحِدَّةَ، تَسْأَلُنِي عَنْ عُمَرَ؟ كَانَ وَاللَّهِ فِي عِلْمِي قَوِيًّا تَقِيًّا قَدْ وُضِعَتْ لَهُ الْحَبَائِلُ بِكُلِّ مَرْصَدٍ، فَهُوَ لَهَا حَذِرٌ مِنْ رَجُلٍ سَوْقُهُ عَنِفٌ. وَذَكَرَ الْحَدِيثَ.

عیسٰی بن طلحہ رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ میں نے سیدنا عبدا للہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے کہا کہ مجھے ہمارے سابقون کے بارے ایسی خبر بیان کریں ، گویا کہ میں انکو دیکھ رہا ہوں ؟سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بارے میں سوال کرتے ہو بھتیجے اللہ کی قسم ! وہ سب سے زیادہ پر ہیز گار تھے ، ان سے خیرو بھلائی نظر آتی تھی اور کبھی وہ سخت مزاجی سے بھی کام لیتے تھے پھر فرمایا تم سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے بارے میں پوچھتے ہو اللہ کی قسم وہ میرے علم کے مطابق سخت قول اور پرہیز گار تھے یقینا ان کے لیے ہر مورچہ گاہ میں رسیاں بچھائی ہوئی ہیں وہ ان سے بڑے محتاط رہتے تھے وہ شخص (سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ) جس کا ہانکنا بہت سخت تھا۔(1)

الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى أَبُو صَالِحٍ قثنا ابْنُ أَبِي الرِّجَالِ، ← أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الصُّوفِيِّ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And among the virtues of Omar bin Al-Khattab from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik, on the authority of his sheikhs other than Abd Allah bin Ahmed, and from the hadith of Abu Bakr bin Malik. · Hadith 647

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ مَشَايِخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَحْمَدَ، وَمِنْ فَضَائِلِ أَبِي بَكْرٍ أَيْضًا · حديث 648

648 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ قثنا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ قَالَ: سَمِعْتُ مُقَاتِلًا يَقُولُ فِي قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: {فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ مَوْلَاهُ وَجِبْرِيلُ وَصَالِحُ الْمُؤْمِنِينَ} [التحريم: 4] ، قَالَ: أَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، وَعَلِيٌّ.

مقاتل کہتے ہیں : اس آیت (ان اللہ ھو مولا ہ و جبریل و صالح المومنین ) سے مراد سیدنا ابو بکر ،سیدناعمر اور سیدنا علی رضی اللہ عنہم ہیں ۔(2)

أَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، وَعَلِيٌّ. ← فِي قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ← مُقَاتِلًا ← أَحْمَدُ قثنا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And among the virtues of Omar bin Al-Khattab from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik, on the authority of his sheikhs other than Abd Allah bin Ahmed, and from the hadith of Abu Bakr bin Malik. · Hadith 648

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ مَشَايِخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَحْمَدَ، وَمِنْ فَضَائِلِ أَبِي بَكْرٍ أَيْضًا · حديث 649

649 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ، نَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ قَالَ: أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ بْنُ الْحَجَّاجِ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ حَبِيبٍ قَالَ: كَتَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ إِلَى أَبِي مُوسَى: إِنَّهُ لَمْ يَزَلْ لِلنَّاسِ وُجُوهٌ يَرْفَعُونَ بِحَوَائِجِ النَّاسِ، فَأَكْرِمْ وُجُوهَ النَّاسِ، فَبِحَسْبِ الْمُسْلِمِ الضَّعِيفِ مِنَ الْعَدْلِ أَنْ يُنْصَفَ فِي الْعَطِيَّةِ وَالْقِسْمَةِ.

عبد الملک بن حبیب سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کو فرمان جاری کیا کہ لوگوں کے لیے ایسے سردار ہمیشہ رہیں گے جن کے سامنے لوگوں کے مقدمے پیش ہوں گے اس لیے بڑوں کی عزت کرو ، کمزور مسلمان کے حق میں یہ بھی بڑا انصاف ہے کہ عطیات اور مال غنیمت کی تقسیم میں انکے ساتھ منصفانہ رویہ ہو ۔ (3)

أَبِي عِمْرَانَ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ حَبِيبٍ ← شُعْبَةُ بْنُ الْحَجَّاجِ ← عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ ← أَحْمَدُ،

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And among the virtues of Omar bin Al-Khattab from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik, on the authority of his sheikhs other than Abd Allah bin Ahmed, and from the hadith of Abu Bakr bin Malik. · Hadith 649

chevron_left Previous
1…131415…20
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door2. He was asked about the virtues of Abu, the first-born of al-Siddiq, the mercy and pleasure of God be upon him3. He was asked about the words of Ali ibn Abi Talib and others: The best of this nation after its prophet Abu Bakr and Omar4. His saying, may God’s prayers and peace be upon him: “If I had taken people as a friend, I would not have taken a virgin father as a friend5. He, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Pass a virgin father, let him pray to the people.”6. The remainder of his saying: “Show a first-born father who prays to people.”7. It was not narrated that Abu Bakr was the first to become Muslim8. It was not narrated that a virgin father came to ask permission, so the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Permit him, and give him good tidings of paradise.”9. The Virtue of the Commander of the Believers, Omar Ibn Al-Khattab, may God be pleased with him10. The Islam of Umar ibn Al-Khattab, may God be pleased with him11. And among the virtues of Omar bin Al-Khattab from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik, on the authority of his sheikhs other than Abd Allah bin Ahmed, and from the hadith of Abu Bakr bin Malik.12. The virtue of Othman bin Affan, may God be pleased with him13. And from the merits of Othman, from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik on the authority of his sheikhs except for Abdullah bin Ahmad14. The news of the Prince of the Believers, Ali bin Abi Talib, and his asceticism, may God be pleased with him15. His mother's name and genealogy16. A merit upon me, peace be upon him17. And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah18. The Virtue of Abd al-Rahman ibn Awf, may God be pleased with him19. The Virtue of Az-Zubayr Bin Awwam, may God be pleased with him20. Fadil Abi Ubaidah Ibn Al Jarrah, may God be pleased with him21. Fadil Talha Bin Ubaid Allah, may God be pleased with him22. Fadil Saad bin Abi Waqas, may God be pleased with him23. Fadil Fatima, the daughter of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him24. The virtues of good, and the good, may God be pleased with them.25. The Virtues of Ansar, may God be pleased with them26. The virtue of Khalid bin Al-Walid, may God have mercy on him27. Fadil Saad bin Muadh, may God have mercy on him28. Fadil Haritha Ibn Nu'man, may God be pleased with him29. Fadil Suhaib, may God be pleased with him30. The virtues of the Arabs31. The virtue of Usama bin Zaid, may God be pleased with him32. Fadil Abdullah bin Masoud, may God be pleased with him33. Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with them34. Virtues of Khadija and others35. Fadil Ammar ibn Yasser, may God be pleased with him36. Virtues 0 People of Yemen37. Virtues of the family of the Mother of the Believers, may God be pleased with her, and other things among the people of Yemen38. The virtues of the Banu Ghafar, and Islam and others39. Fadil Jaafar ibn Abi Talib, may God be pleased with him40. Fadil Jarir bin Abdullah, may God be pleased with him41. Fadil Abdullah Bin Omar, may God be pleased with them42. The virtues of a people of the Levant43. The Virtue of the Companions of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him44. The virtue of Amr ibn al-Aas, may God be pleased with him45. The Virtues of Mu`awiyah Bin Abi Sufyan, may God be pleased with them46. The virtues of Abu al-Fadl al-Abbas ibn Abd al-Muttalib, the uncle of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him47. Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with him