فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ مَشَايِخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَحْمَدَ، وَمِنْ فَضَائِلِ أَبِي بَكْرٍ أَيْضًا · حديث 482
482 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ قثنا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ قثنا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ قَالَ: أنا الْمَسْعُودِيُّ، عَنِ الْقَاسِمِ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ وَهُوَ ابْنُ مَسْعُودٍ: إِنَّ إِسْلَامَ عُمَرَ كَانَ عِزًّا، وَإِنَّ هِجْرَتَهُ كَانَتْ فَتْحًا وَنَصْرًا، وَإِنَّ إِمَارَتَهُ كَانَتْ رَحْمَةً، وَاللَّهِ مَا اسْتَطَعْنَا أَنْ نُصَلِّيَ حَوْلَ الْكَعْبَةِ ظَاهِرِينَ حَتَّى أَسْلَمَ عُمَرُ، وَإِنِّي لَأَحْسَبُ أَنَّ بَيْنَ عَيْنَيْ عُمَرَ مَلَكَيْنِ يُسَدِّدَانِهِ، وَإِنِّي لَأَحْسَبُ أَنَّ الشَّيْطَانَ يَفْرَقُهُ، فَإِذَا ذُكِرَ الصَّالِحُونَ فَحَيَّ هَلَا بِعُمَرَ.
سیدنا عبدا للہ بن مسعود نے فرمایا سیدناعمر کا اسلام فیروز مندی انکی ہجرت فتح و نصرف اور انکی امارت رحمت تھی اللہ کی قسم ! ہم کعبۃ اللہ میں کھلے عام نماز نہیں پرھ سکتے تھے یہاں تک کہ سیدنا عمر نے اسلام قبول کر لیا اور میرے خیال کے مطابق ان کی دو آنکھوں کے درمیان دو فرشتے ہیں جو انہیں درست رکھتے تھے اسی طرح میں یہ بھی گمان کرتا ہوں کہ شیطان ان سے بھاگتا ہے اور جب صلحا کا تذکرہ ہو تو سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ سر فہرست ہوتے ہیں۔(2)
عَبْدِ اللَّهِ وَهُوَ ابْنُ مَسْعُودٍ ← الْقَاسِمِ، ← الْمَسْعُودِيِّ ← أَحْمَدُ قثنا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ قثنا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ
Hadith 482
