Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

1,963 Hadith48 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ مَشَايِخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَحْمَدَ، وَمِنْ فَضَائِلِ أَبِي بَكْرٍ أَيْضًا · حديث 482

482 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ قثنا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ قثنا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ قَالَ: أنا الْمَسْعُودِيُّ، عَنِ الْقَاسِمِ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ وَهُوَ ابْنُ مَسْعُودٍ: إِنَّ إِسْلَامَ عُمَرَ كَانَ عِزًّا، وَإِنَّ هِجْرَتَهُ كَانَتْ فَتْحًا وَنَصْرًا، وَإِنَّ إِمَارَتَهُ كَانَتْ رَحْمَةً، وَاللَّهِ مَا اسْتَطَعْنَا أَنْ نُصَلِّيَ حَوْلَ الْكَعْبَةِ ظَاهِرِينَ حَتَّى أَسْلَمَ عُمَرُ، وَإِنِّي لَأَحْسَبُ أَنَّ بَيْنَ عَيْنَيْ عُمَرَ مَلَكَيْنِ يُسَدِّدَانِهِ، وَإِنِّي لَأَحْسَبُ أَنَّ الشَّيْطَانَ يَفْرَقُهُ، فَإِذَا ذُكِرَ الصَّالِحُونَ فَحَيَّ هَلَا بِعُمَرَ.

سیدنا عبدا للہ بن مسعود نے فرمایا سیدناعمر کا اسلام فیروز مندی انکی ہجرت فتح و نصرف اور انکی امارت رحمت تھی اللہ کی قسم ! ہم کعبۃ اللہ میں کھلے عام نماز نہیں پرھ سکتے تھے یہاں تک کہ سیدنا عمر نے اسلام قبول کر لیا اور میرے خیال کے مطابق ان کی دو آنکھوں کے درمیان دو فرشتے ہیں جو انہیں درست رکھتے تھے اسی طرح میں یہ بھی گمان کرتا ہوں کہ شیطان ان سے بھاگتا ہے اور جب صلحا کا تذکرہ ہو تو سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ سر فہرست ہوتے ہیں۔(2)

عَبْدِ اللَّهِ وَهُوَ ابْنُ مَسْعُودٍ ← الْقَاسِمِ، ← الْمَسْعُودِيِّ ← أَحْمَدُ قثنا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ قثنا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And among the virtues of Omar bin Al-Khattab from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik, on the authority of his sheikhs other than Abd Allah bin Ahmed, and from the hadith of Abu Bakr bin Malik. · Hadith 482

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ مَشَايِخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَحْمَدَ، وَمِنْ فَضَائِلِ أَبِي بَكْرٍ أَيْضًا · حديث 483

483 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ قثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ قثنا الْحَسَنُ بْنُ حَمَّادٍ الْكُوفِيُّ الْوَرَّاقُ قثنا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: عُمَرُ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا رَأَى فِي نَوْمِهِ أَوْ يَقَظَتِهِ فَهُوَ حَقٌّ، قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " بَيْنَا أَنَا فِي الْجَنَّةِ إِذْ رَأَيْتُ دَارًا فَسَأَلْتُ عَنْهَا، فَقِيلَ: لِعُمَرَ ".

سیدنا معاذ بن جبل سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ جنتی ہیں کیونکہ رسول اللہ ﷺ خواب یا حالت بیداری میں جو دیکھیں وہ حق ہوتا ہے ۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا میں نے خواب دیکھا کہ میں جنت میں ہوں اچانک ایک گھر دیکھا میں نے اس کے متعلق سوال کیاتو مجھے بتایا گیا کہ یہ عمر (رضی اللہ عنہ ) کا ہے ۔ (1)

عُمَرُ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ، ← مُّعَاذِ بْنِ جَبَلِ ← مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ، ← مِسْعَرٍ،

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And among the virtues of Omar bin Al-Khattab from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik, on the authority of his sheikhs other than Abd Allah bin Ahmed, and from the hadith of Abu Bakr bin Malik. · Hadith 483

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ مَشَايِخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَحْمَدَ، وَمِنْ فَضَائِلِ أَبِي بَكْرٍ أَيْضًا · حديث 484

484 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ قثنا هَيْثَمُ بْنُ خَارِجَةَ، وَالْحَكَمُ بْنُ مُوسَى، قَالَا: نا شِهَابُ بْنُ خِرَاشٍ قَالَ: حَدَّثَنِي الْحَجَّاجُ بْنُ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ قَالَ: ضَرَبَ عَلْقَمَةُ بْنُ قَيْسٍ هَذَا الْمِنْبَرَ فَقَالَ: خَطَبَنَا عَلِيٌّ عَلَى هَذَا الْمِنْبَرِ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَذَكَرَهُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَذْكُرَهُ، ثُمَّ قَالَ: أَلَا إِنَّهُ بَلَغَنِي أَنَّ أُنَاسًا يُفَضِّلُونِي عَلَى أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ، وَلَوْ كُنْتُ تَقَدَّمْتُ فِي ذَلِكَ لَعَاقَبْتُ، وَلَكِنِّي أَكْرَهُ الْعُقُوبَةَ قَبْلَ التَّقَدُّمِ، فَمَنْ قَالَ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ فَهُوَ مُفْتَرٍ، عَلَيْهِ مَا عَلَى الْمُفْتَرِي، إِنَّ خَيْرَ النَّاسِ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبُو بَكْرٍ، ثُمَّ عُمَرُ، وَإِنَّا أَحْدَثْنَا بَعْدَهُمْ أَحْدَاثًا يَقْضِي اللَّهُ فِيهَا مَا أَحَبَّ، ثُمَّ قَالَ: أَحْبِبْ حَبِيبَكَ هَوْنًا مَا عَسَى أَنْ يَكُونَ بَغِيضَكَ يَوْمًا مَا، وَأَبْغِضْ بَغِيضَكَ هَوْنًا مَا عَسَى أَنْ يَكُونَ حَبِيبَكَ يَوْمًا مَا.

ابراہیم نخعی سے روایت ہے کہ علقمہ بن قیس رضی اللہ عنہ نے ایک منبر کو مارا کر فرمایا : یہ وہ منبر ہے جس پر سیدنا علی نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی اور جو اللہ نے چاہا بیان کیا ، اس کے بعد فرمایا خبردار ! مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ لوگ مجھے سیدنا ابو بکر اور سیدناعمر پر فصیلت دیتے ہیں اگر میں اس بارے میں کوئی اقدام اٹھاتا تو ضرور سزا دیتا لیکن حجت قائم ہونے سے پہلے سزا دینا مجھے پسند نہیں ہے ۔ ایسی بات کرنے والا جھوٹا ہے اور اس پر جھوٹ کی سزا نافذ ہو گی ۔ بے شک بہترین انسان نبی کریم ﷺ کے بعد سیدنا ابو بکر اور انکے بعد سیدنا عمر ہیں پھر ان دونوں کے بعد افضل کون ہے اس کے بعد میں ) ہم نے ان کے بعد بہت سی نئی باتیں بنا لی ہیں جس کا فیصلہ اللہ کر دے گا۔ اپنے دوست سے دوستی ایک حد تک رکھو کیا پتا کس دن وہ تیرا دشمن بن جائے اور اپنے دشمن سے دشمنی بھی ایک حد تک رکھو کیا پتہ کس دن وہ آپ کا دوست بن جائے ۔ (2)

ضَرَبَ عَلْقَمَةُ بْنُ قَيْسٍ هَذَا الْمِنْبَرَ ← إِبْرَاهِيمُ النَّخَعِيُّ، ← أَبِي مَعْشَرٍ، ← الْحَجَّاجِ بْنِ دِينَارٍ ← شهاب بن خراش ← أَحْمَدُ قثنا هَيْثَمُ بْنُ خَارِجَةَ، وَالْحَكَمُ بْنُ مُوسَى،

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And among the virtues of Omar bin Al-Khattab from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik, on the authority of his sheikhs other than Abd Allah bin Ahmed, and from the hadith of Abu Bakr bin Malik. · Hadith 484

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ مَشَايِخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَحْمَدَ، وَمِنْ فَضَائِلِ أَبِي بَكْرٍ أَيْضًا · حديث 485

485 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ قثنا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ قثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُوقَرِيُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: حَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَنَّ أَسْمَاءَ بِنْتَ يَزِيدَ أَخْبَرَتْهُ، أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْمُهَاجِرِينَ دَخَلَ عَلَى أَبِي بَكْرٍ حِينَ اشْتَكَى وَجَعَهُ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ فَقَالَ: يَا أَبَا بَكْرٍ، أُذَكِّرُكَ اللَّهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ، فَإِنَّكَ قَدِ اسْتَخْلَفْتَ عَلَى النَّاسِ رَجُلًا فَظًّا غَلِيظًا يَزَعُ النَّاسَ، وَلَا سُلْطَانَ لَهُمْ، وَإِنَّ اللَّهَ سَائِلُكَ، فَقَالَ: أَجْلِسُونِي، فَأَجْلَسْنَاهُ، فَقَالَ: أَبِاللَّهِ تُخَوِّفُونِي، إِنِّي أَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنِّي اسْتَخْلَفْتُ عَلَيْهِمْ خَيْرَهُمْ.

اسماء بنت یزید سے روایت ہے کہ سیدنا ابو بکر کے مرض وفات میں ایک مہاجر شخص ان کے پاس آکر کہنے لگا اے ابو بکر میں آپ کو اللہ اور یوم آخرت کی یاد دلاتا ہوں آپ نے لوگوں پر ایک سخت طیبعت شخص کو خلیفہ بنا دیا ہے جو لوگوں کو جھڑکے گا اور انکا اس پر کوئی غلبہ نہ ہو گا۔ اور اللہ تعالیٰ آپ سے اس کے بارے میں سوال کرے گاتو سیدنا ابوبکر نے فرمایا مجھے بٹھایا تو فرفانے لگے کیا تم مجھے اللہ سے ڈرنے کا حکم دیتے ہو تو میں کہوں گا اے اللہ ! میں نے ان میں سب سے بہتر شخص کو ان پر خلیفہ بنایا ہے ۔ (1)

الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، ← الزُّهْرِيِّ، ← أَحْمَدُ قثنا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ قثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُوقَرِيُّ،

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And among the virtues of Omar bin Al-Khattab from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik, on the authority of his sheikhs other than Abd Allah bin Ahmed, and from the hadith of Abu Bakr bin Malik. · Hadith 485

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ مَشَايِخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَحْمَدَ، وَمِنْ فَضَائِلِ أَبِي بَكْرٍ أَيْضًا · حديث 486

486 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ قثنا الْحَسَنُ بْنُ الطَّيِّبِ الْبَلْخِيُّ قثنا جَعْفَرُ بْنُ حُمَيْدٍ الْقُرَشِيُّ قثنا يُونُسُ بْنُ أَبِي يَعْفُورٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مُسْلِمٍ أَبِي سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّهُ مَرَّ عَلَى رَجُلَيْنِ فِي الْمَسْجِدِ قَدِ اخْتَلَفَا فِي آيَةٍ مِنَ الْقُرْآنِ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا: أَقْرَأَنِيهَا عُمَرُ، وَقَالَ الْآخَرُ: أَقْرَأَنِيهَا أُبَيٌّ، فَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: اقْرَأَهَا كَمَا أَقْرَأَكَهَا عُمَرُ، ثُمَّ هَمَلَتْ عَيْنَاهُ حَتَّى بَلَّ الْحَصَى وَهُوَ قَائِمٌ، قَالَ: إِنَّ عُمَرَ كَانَ حَائِطًا كَنِيفًا يَدْخُلُهُ الْمُسْلِمُونَ وَلَا يَخْرُجُونَ مِنْهُ، فَانْثَلَمَ الْحَائِطُ فَهُمْ يَخْرُجُونَ مِنْهُ وَلَا يَدْخُلُونَ , وَلَوْ أَنَّ كَلْبًا أَحَبَّ عُمَرَ لَأَحْبَبْتُهُ، وَلَا أَحْبَبْتُ أَحَدًا حُبِّي لِأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ وَأَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ.

سیدنا ابو سعیدرضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مسجد میں سیدنا عبداللہ بن مسعود کا گزر دو ایسے آدمیوں پر ہوا جو قرآن کی آیت کے بارے میں اختلاف کر رہے تھے ایک کہتا تھا کہ مجھے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس طرح پڑھایا ہے دوسرے نے کہا مجھے سیدنا ابی بن کعب نے اس طرح پڑھایا ہے ۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود نے ایک سے کہا سناؤ جس طرح تمہیں سیدنا عمر نےپڑھایا ہے (جب اس نے پڑھنا شروع کیا تو تلاوت سن کر )انکی آنکھوں سے آنسو بہہ پڑے یہاں تک کنکریاں تر ہو گئیں وہ اس وقت کھڑے تھے انہوں نے فرمایا بے شک سیدنا عمر ایک مضبوط دیوار تھے جس سے مسلمان داخل ہوتے تھے مگر نکلتے نہیں تھے ۔ اب وہ دیوار ٹوٹ گئی ہے ۔ لوگ نکل تو رہے ہیں مگرداخل نہیں ہو رہے بالفرض کوئی کتا بھی سیدنا عمر نے ، سیدنا ابوعبیدۃ بن الجراح رضی اللہ عنہ سے بڑھ کر میں کسی سے محبت نہیں کرتا ۔(2)

ابْنِ مَسْعُودٍ، ← مُسْلِمٍ أَبِي سَعِيدٍ، ← أَبِيهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And among the virtues of Omar bin Al-Khattab from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik, on the authority of his sheikhs other than Abd Allah bin Ahmed, and from the hadith of Abu Bakr bin Malik. · Hadith 486

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ مَشَايِخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَحْمَدَ، وَمِنْ فَضَائِلِ أَبِي بَكْرٍ أَيْضًا · حديث 487

487 - حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَجْشَرٍ، قثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ الضَّرِيرُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «حُبُّ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ إِيمَانٌ، وَبُغْضُهُمَا كُفْرٌ»

علی بن زید رحمۃ اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : ابو بکر اور عمر سے محبت ایمان اور ان دونوں سے نفرت کفر کی علامت ہے ۔ (3)

عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← عَبَّاسُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَجْشَرٍ، قثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ الضَّرِيرُ،

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And among the virtues of Omar bin Al-Khattab from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik, on the authority of his sheikhs other than Abd Allah bin Ahmed, and from the hadith of Abu Bakr bin Malik. · Hadith 487

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ مَشَايِخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَحْمَدَ، وَمِنْ فَضَائِلِ أَبِي بَكْرٍ أَيْضًا · حديث 488

488 - حَدَّثَنَا عَبَّاسٌ قَالَ: نا الْحَسَنُ بْنُ يَزِيدَ قثنا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ الْخَيَّاطُ قثنا خَارِجَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا قَالَ النَّاسُ فِي شَيْءٍ، وَقَالَ فِيهِ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، إِلَّا جَاءَ الْقُرْآنُ بِنَحْو مِمَّا يَقُولُ» .

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: جب لوگوں اور عمر کے درمیان کسی چیز کے بارے میں اختلاف ہو جاتا تو قراآن عمر کی موافقت میں نازل ہوتا ۔ (4)

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← الْحَسَنُ بْنُ يَزِيدَ قثنا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ الْخَيَّاطُ قثنا خَارِجَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ← عَبَّاسٍ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And among the virtues of Omar bin Al-Khattab from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik, on the authority of his sheikhs other than Abd Allah bin Ahmed, and from the hadith of Abu Bakr bin Malik. · Hadith 488

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ مَشَايِخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَحْمَدَ، وَمِنْ فَضَائِلِ أَبِي بَكْرٍ أَيْضًا · حديث 489

489 - حَدَّثَنَا عَبَّاسٌ قثنا الْحَسَنُ بْنُ يَزِيدَ قثنا سَلْمُ بْنُ سَالِمٍ الْبَلْخِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحِيمِ بْنِ زَيْدٍ الْعَمِّيِّ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي قَالَ: أَدْرَكْتُ مَشْيَخَتَنَا مِنَ التَّابِعِينَ، كُلُّهُمْ يُحَدِّثُونَنَا عَنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ أَحَبَّ جَمِيعَ أَصْحَابِي، وَتَوَلَّاهُمْ، وَاسْتَغْفَرَ لَهُمْ، جَعَلَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَعَهُمْ فِي الْجَنَّةِ» .

زید عمی رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ کچھ تابعین نے ہمارے چند مشائخ کو بعض صحابہ کرام کے حوالے سے یہ حدیث بیان کی ہے نبی کریم ﷺ نے فرمایا جوشخص میرے تمام صحابہ سے محبت کرے ، ان سے دوستی کرے ،ان سے دوستی کرے اور انکے لیے مغفرت طلب کرے تو اللہ تعالیٰ روز قیامت اس شخص کو ان (صحابہ کرام ) کے ساتھ اٹھائے گا۔ (1)

أَصْحَابِ النَّبِيِّ ← أَدْرَكْتُ مَشْيَخَتَنَا مِنَ التَّابِعِينَ، كُلُّهُمْ يُحَدِّثُونَنَا ← أَبِي ← عبد الرحيم بن زيد العمي ← عَبَّاسٌ قثنا الْحَسَنُ بْنُ يَزِيدَ قثنا سَلْمُ بْنُ سَالِمٍ الْبَلْخِيُّ،

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And among the virtues of Omar bin Al-Khattab from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik, on the authority of his sheikhs other than Abd Allah bin Ahmed, and from the hadith of Abu Bakr bin Malik. · Hadith 489

Mozu

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ مَشَايِخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَحْمَدَ، وَمِنْ فَضَائِلِ أَبِي بَكْرٍ أَيْضًا · حديث 490

490 - حَدَّثَنَا عَبَّاسٌ قثنا الْعَلَاءُ بْنُ مَسْلَمَةَ قثنا إِسْحَاقُ بْنُ بِشْرٍ قثنا عَمَّارُ بْنُ سَيْفٍ، عَنْ أَبِي هَاشِمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: {وَصَالِحُ الْمُؤْمِنِينَ} [التحريم: 4] ، قَالَ: عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ.

سعید بن جبیر نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان (وصالح المومنین ) سے سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کو مراد لیا ہے ۔ (2)

عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، ← سَعِيد بن جُبير, في قولِهِ عزَّ وجلَّ: ← أَبِي هَاشِمٍ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And among the virtues of Omar bin Al-Khattab from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik, on the authority of his sheikhs other than Abd Allah bin Ahmed, and from the hadith of Abu Bakr bin Malik. · Hadith 490

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ مَشَايِخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَحْمَدَ، وَمِنْ فَضَائِلِ أَبِي بَكْرٍ أَيْضًا · حديث 491

491 - حَدَّثَنَا عَبَّاسٌ قَالَ: نا الْعَلَاءُ بْنُ مَسْلَمَةَ، نا إِسْحَاقُ بْنُ بِشْرٍ، نا خَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ، عَنْ أَبِي هَاشِمٍ الرُّمَّانِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَكُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ} [التوبة: 119] ، قَالَ: أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ.

سعید بن جبیر رحمۃ اللہ علیہ نے فرماتے ہیں : اس آیت (یاایھا الذین آمنو اتقو اللہ وکونوا مع الصادقین) سے مراد سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ہیں ۔ (3)

أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ ← سَعِيد بن جُبير, في قولِهِ عزَّ وجلَّ: ← أَبِي هَاشِمٍ الرُّمَّانِيِّ، ← خَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ، ← إسحاق بن بشر ← العلاء بن مسلمة ← عَبَّاسٍ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And among the virtues of Omar bin Al-Khattab from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik, on the authority of his sheikhs other than Abd Allah bin Ahmed, and from the hadith of Abu Bakr bin Malik. · Hadith 491

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ مَشَايِخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَحْمَدَ، وَمِنْ فَضَائِلِ أَبِي بَكْرٍ أَيْضًا · حديث 492

492 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ الْأَشْعَثِ السِّجِسْتَانِيُّ قثنا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ وَهُوَ الْكَوْسَجُ، قَالَ أنا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ قَالَ أنا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ هُوَ ابْنُ مَالِكٍ، قَالَ: لَمَّا طُعِنَ عُمَرُ صَرَخَتْ حَفْصَةُ، فَقَالَ عُمَرُ: يَا حَفْصَةُ، أَمَا سَمِعْتِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ الْمُعَوَّلَ عَلَيْهِ يُعَذَّبُ» ، وَجَاءَ صُهَيْبٌ فَقَالَ: وَاعُمَرَاهُ فَقَالَ: وَيْلَكَ يَا صُهَيْبُ، أَمَا بَلَغَكَ أَنَّ الْمُعَوَّلَ عَلَيْهِ يُعَذَّبُ؟ .

سیدنا انس بن مالک سے روایت ہے کہ جب سیدنا عمر کو نیزہ مارا گیا تو سیدہ حفصہ بنت عمر رونے لگیں تو سیدنا عمر نے فرمایا : حفصہ ! کیا تو نے نبی کریم ﷺ سے نہیں سنا کہ آپ ﷺ نے فرمایا تھا کہ جس شخص پر آہ و بکا کی جائے اس کو عذاب ہو گا؟ اس وقت سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ کہنے لگے : ہائے عمر ! سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے صہیب ! تیرے لیے ہلاکت ہو ، کیا تجھے نہیں پتا کہ جس شخص پر آہ بکا کیجائے اسکو عذاب ہو گا؟(4)

وَاعُمَرَاهُ ← «إِنَّ الْمُعَوَّلَ عَلَيْهِ يُعَذَّبُ» وَجَاءَ صُهَيْبٌ ← عُمَرُ: يَا حَفْصَةُ، أَمَا ← لَمَّا طُعِنَ عُمَرُ صَرَخَتْ حَفْصَةُ، ← أَنَسٍ هُوَ ابْنُ مَالِكٍ، ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادٌ، ← النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And among the virtues of Omar bin Al-Khattab from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik, on the authority of his sheikhs other than Abd Allah bin Ahmed, and from the hadith of Abu Bakr bin Malik. · Hadith 492

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ مَشَايِخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَحْمَدَ، وَمِنْ فَضَائِلِ أَبِي بَكْرٍ أَيْضًا · حديث 493

493 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سُلَيْمَانَ قثنا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ قثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ قَالَ: نا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ عُمَرُ: وَافَقْتُ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ فِي ثَلَاثٍ، أَوْ وَافَقَنِي رَبِّي فِي ثَلَاثٍ، قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، لَوِ اتَّخَذْتَ مِنَ الْمَقَامِ قِبْلَةً، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: {وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى} [البقرة: 125] ، وَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهُ يَدْخُلُ عَلَيْكَ الْبَرُّ وَالْفَاجِرُ، فَلَوْ حَجَبْتَ أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ آيَةَ الْحِجَابِ، وَبَلَغَنِي عَنْ بَعْضِ نِسَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شِدَّةٌ عَلَيْهِ، فَأَتَيْتَهُنَّ أَعِظُهُنَّ امْرَأَةً امْرَأَةً، وَأَنْهَاهَا عَنْ أَذَى رَسُولِ اللَّهِ، حَتَّى أَتَيْتُ عَلَى إِحْدَاهُنَّ فَقَالَتْ: أَمَا فِي رَسُولِ اللَّهِ مَا يَعِظُ نِسَاءَهُ حَتَّى تَعِظَهُنَّ أَنْتَ؟ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: {عَسَى رَبُّهُ إِنْ طَلَّقَكُنَّ أَنْ يُبْدِلَهُ أَزْوَاجًا خَيْرًا مِنْكُنَّ} [التحريم: 5] .

سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں نے اپنے رب سے تین چیزوں میں موافقت کی ہے یا میرے رب نے میرے ساتھ تین چیزوں میں موافقت کی ہے ۔ 1۔ میں نے آپﷺ سے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! کاش آپ مقام ابراہیم کو مصلیٰ بناتے ؟ اس پر اللہ نے اس حکم کو نازل فرمایا (واتخذو امن مقام ابراہیم مصلی)۔2۔میں نے عرض کیا یار سول اللہ ﷺ آپ کے پاس نیک و بد ہر طرح کے لوگوں کاآنا جانا لگا رہتا ہے ، کاش امہات المومنین ان سے پردہ میں رہا کریں ۔ اس پر آیت حجاب نازل ہوئی ۔ 3۔مجھے امہات المومنین کے متعلق یہ بات پہنچی کہ ان میں سے کسی پر نبی کریم ﷺ نے سختی کی ہے چنانچہ میں امہات المومنین میں سے ہر ایک کے پاس جا کر انہیں نبی کریم ﷺ کو تکلیف دینے سے روکتا رہا یہاں تک کہ میں نے ان میں کسی زوجہ محترمہ کے پاس آیا ۔ وہ کہنے لگیں کیا اللہ کے نبی ﷺ کی موجودگی میں آپ ہمیں نصیحت کررہے ہیں ؟ کیا نبی کریم ﷺ ہمیں نصیحت کرنے کے لیے کافی نہیں ہیں؟ آپ ہمیں نصحیت کیوں کرتے ہیں ؟ تو اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی : عسی ربہ ان طلقکن ان یبدلہ ازوجاخیر ا منکن ۔(1)

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← حُمَيْدٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سُلَيْمَانَ قثنا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ قثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And among the virtues of Omar bin Al-Khattab from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik, on the authority of his sheikhs other than Abd Allah bin Ahmed, and from the hadith of Abu Bakr bin Malik. · Hadith 493

Sahih

chevron_left Previous
1234…20
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door2. He was asked about the virtues of Abu, the first-born of al-Siddiq, the mercy and pleasure of God be upon him3. He was asked about the words of Ali ibn Abi Talib and others: The best of this nation after its prophet Abu Bakr and Omar4. His saying, may God’s prayers and peace be upon him: “If I had taken people as a friend, I would not have taken a virgin father as a friend5. He, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Pass a virgin father, let him pray to the people.”6. The remainder of his saying: “Show a first-born father who prays to people.”7. It was not narrated that Abu Bakr was the first to become Muslim8. It was not narrated that a virgin father came to ask permission, so the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Permit him, and give him good tidings of paradise.”9. The Virtue of the Commander of the Believers, Omar Ibn Al-Khattab, may God be pleased with him10. The Islam of Umar ibn Al-Khattab, may God be pleased with him11. And among the virtues of Omar bin Al-Khattab from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik, on the authority of his sheikhs other than Abd Allah bin Ahmed, and from the hadith of Abu Bakr bin Malik.12. The virtue of Othman bin Affan, may God be pleased with him13. And from the merits of Othman, from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik on the authority of his sheikhs except for Abdullah bin Ahmad14. The news of the Prince of the Believers, Ali bin Abi Talib, and his asceticism, may God be pleased with him15. His mother's name and genealogy16. A merit upon me, peace be upon him17. And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah18. The Virtue of Abd al-Rahman ibn Awf, may God be pleased with him19. The Virtue of Az-Zubayr Bin Awwam, may God be pleased with him
20. Fadil Abi Ubaidah Ibn Al Jarrah, may God be pleased with him
21. Fadil Talha Bin Ubaid Allah, may God be pleased with him
22. Fadil Saad bin Abi Waqas, may God be pleased with him
23. Fadil Fatima, the daughter of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him
24. The virtues of good, and the good, may God be pleased with them.
25. The Virtues of Ansar, may God be pleased with them
26. The virtue of Khalid bin Al-Walid, may God have mercy on him
27. Fadil Saad bin Muadh, may God have mercy on him
28. Fadil Haritha Ibn Nu'man, may God be pleased with him
29. Fadil Suhaib, may God be pleased with him
30. The virtues of the Arabs
31. The virtue of Usama bin Zaid, may God be pleased with him
32. Fadil Abdullah bin Masoud, may God be pleased with him
33. Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with them
34. Virtues of Khadija and others
35. Fadil Ammar ibn Yasser, may God be pleased with him
36. Virtues 0 People of Yemen
37. Virtues of the family of the Mother of the Believers, may God be pleased with her, and other things among the people of Yemen
38. The virtues of the Banu Ghafar, and Islam and others
39. Fadil Jaafar ibn Abi Talib, may God be pleased with him
40. Fadil Jarir bin Abdullah, may God be pleased with him
41. Fadil Abdullah Bin Omar, may God be pleased with them
42. The virtues of a people of the Levant
43. The Virtue of the Companions of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him
44. The virtue of Amr ibn al-Aas, may God be pleased with him
45. The Virtues of Mu`awiyah Bin Abi Sufyan, may God be pleased with them
46. The virtues of Abu al-Fadl al-Abbas ibn Abd al-Muttalib, the uncle of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him
47. Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with him