فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ إِسْلَامُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 450
450 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقُرَشِيُّ قثنا إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ قثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتِ: اسْتَأْذَنَ أَبُو بَكْرٍ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ جَالِسٌ كَاشِفٌ فَخِذَيْهِ، فَأَذِنَ لَهُ، ثُمَّ اسْتَأْذَنَ عُمَرُ، فَأَذِنَ لَهُ وَهُوَ كَهَيْئَتِهِ، ثُمَّ اسْتَأْذَنَ عُثْمَانُ فَأَهْوَى إِلَى ثَوْبِهِ فَغَطَّى فَخِذَيْهِ، قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَأَنَّكَ كَرِهْتَ أَنْ يَرَاكَ عُثْمَانُ، قَالَ: «إِنَّ عُثْمَانَ حَيِيُّ سِتِّيرٌ تَسْتَحِي مِنْهُ الْمَلَائِكَةُ» .
سیدہ عائشہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابو بکر نے نبی کریم ﷺ سے اندر آنے کی اجازت مانگی آپ ﷺ نے اجازت دے دی حالانکہ آپ ﷺ نے اپنی ران مبارک سے کپڑا ہٹا رکھا تھا پھر سیدنا عمر نے اجازت مانگی انکو بھی اسی حالت میں اجزت ملی وہ اندر آئے جب سیدنا عثمان نے اجازت مانگی تو آپ نے فورا کپڑے سے اپنی ران کو ڈھانپ لیا ، ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ کیا آپ نا پسند کرتے ہیں کہ سیدنا عثمان آپ ﷺ کو اس حالت میں دیکھ لیں تو آپ ﷺ نے فرمایا بلاشبہ عثمان بہت زیادہ حیا دار ہے جس سے فرشتے بھی حیا کرتے ہیں ۔(5)
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The Islam of Umar ibn Al-Khattab, may God be pleased with him · Hadith 450
