Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

1,963 Hadith48 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ إِسْلَامُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 438

438 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو صَالِحٍ الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى قثنا شِهَابُ بْنُ خِرَاشٍ قَالَ: حَدَّثَنِي الْحَجَّاجُ بْنُ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ قَالَ: ضَرَبَ عَلْقَمَةُ بْنُ قَيْسٍ هَذَا الْمِنْبَرَ قَالَ: خَطَبَنَا عَلِيٌّ عَلَى هَذَا الْمِنْبَرِ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَذَكَرَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَذْكُرَ قَالَ: وَإِنَّ خَيْرَ النَّاسِ كَانَ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ أَبُو بَكْرٍ، ثُمَّ عُمَرُ، ثُمَّ أَحْدَثْنَا بَعْدَهُمَا أَحْدَاثًا يَقْضِي اللَّهُ فِيهَا.

امام ابراہیم نخعی سے روایت ہے کہ علقمہ بن قیس رضی اللہ عنہ نے ایک منبر کو مار کر فرمایا : یہ وہ منبر ہے جس پر سیدنا علی نے خطبہ دیتے ہوئے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی پھر اللہ تعالیٰ نے جو چاہا انہوں نے بیان کیا چنانچہ سیدنا علی نے فرمایا بے شک بہترین انسان نبی کریم ﷺ کے بعد سیدنا ابو بکر ہیں پھر سیدنا عمر ہیں پھر (ان دونوں کے بعد افضل کون ہے اس کے بارے میں ) ہم نے اس کے بعد بہت کچھ نئی باتیں بنا لی ہیں جن کا فیصلہ اللہ تعالیٰ فرمائے گا۔ (2)

مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَذْكُرَ ← خَطَبَنَا عَلِيٌّ عَلَى هَذَا الْمِنْبَرِ، فَحَمِدَ اللَّهَ ← ضَرَبَ عَلْقَمَةُ بْنُ قَيْسٍ هَذَا الْمِنْبَرَ ← إِبْرَاهِيمُ النَّخَعِيُّ، ← أَبِي مَعْشَرٍ، ← الْحَجَّاجِ بْنِ دِينَارٍ ← أَبُو صَالِحٍ الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى قثنا شِهَابُ بْنُ خِرَاشٍ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The Islam of Umar ibn Al-Khattab, may God be pleased with him · Hadith 438

Hassan

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ إِسْلَامُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 439

439 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ قثنا هُشَيْمٌ قَالَ أنا حُصَيْنٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ عَلِيٍّ، أَنَّهُ خَطَبَ فَقَالَ: إِنَّ خَيْرَ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ نَبِيِّهَا أَبُو بَكْرٍ، وَمِنْ بَعْدِ أَبِي بَكْرٍ عُمَرُ، وَلَوْ شِئْتُ أَنْ أُسَمِّيَ الثَّالِثَ لَسَمَّيْتُهُ.

عبدا للہ بن سلمہ سے روایت ہے کہ سیدنا علی نے خطبہ میں ارشاد فرمایا اس امت میں نبی کریم ﷺ کے بعد سب سے افضل شخص سیدنا ابو بکر اور ان کے بعد سیدنا عمر ہیں اگر میں چاہوں تو تیسرے کا نا م بھی لے لیتا ۔ (3)

عَلِيٍّ، أَنَّهُ خَطَبَ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ، ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← حُصَيْنٍ ← عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ قثنا هُشَيْمٌ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The Islam of Umar ibn Al-Khattab, may God be pleased with him · Hadith 439

Hassan

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ إِسْلَامُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 440

440 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ أَبُو مَعْمَرٍ قثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ خَطَبَ النَّاسَ فَقَالَ: خَيْرُ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ نَبِيِّهَا أَبُو بَكْرٍ، ثُمَّ عُمَرُ.

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو خطبہ میں ارشاد فرمایا : اس امت میں سب سے بہتر شخص نبی کریم ﷺ کے بعد سیدنا ابو بکر اور انکے بعد سیدنا عمر ہیں ۔ (4)

أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ خَطَبَ النَّاسَ ← أَبِيهِ ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← إِسْمَاعِيلُ أَبُو مَعْمَرٍ قثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The Islam of Umar ibn Al-Khattab, may God be pleased with him · Hadith 440

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ إِسْلَامُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 441

441 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قثنا أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ زِيَادٍ سَبْلَانُ قَالَ أنا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: مَرَّ بِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ حِمَارٌ عَلَيْهِ عَشْرُ لَبِنَاتٍ، فَقَامَ فَوَضَعَ عَنْهُ خَمْسًا، وَتَرَكَ عَلَيْهِ خَمْسًا، وَقَالَ لِصَاحِبِهِ: إِذَا حَمَلْتَ عَلَيْهِ فَاحْمِلْ عَلَيْهِ هَكَذَا.

عبید اللہ بن عمر سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس ایک گدھا گزرا جس پر دس اینٹیں لادی ہوئی تھیں تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پانچ اتار دیں پانچ چھوڑدیں اور مالک سے فرمایا :آئندہ جب بھی لادنا تو اس طرح لادنا ۔(1)

عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ قثنا أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ زِيَادٍ سَبْلَانُ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The Islam of Umar ibn Al-Khattab, may God be pleased with him · Hadith 441

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ إِسْلَامُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 442

442 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا عَفَّانُ قثنا حَمَّادٌ، يَعْنِي: ابْنَ سَلَمَةَ قَالَ: أنا ثَابِتٌ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى عُمَرَ فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، أَعْطِنِي، فَوَاللَّهِ لَئِنْ أَعْطَيْتَنِي لَا أَحْمَدُكَ، وَلَئِنْ مَنَعْتَنِي لَا أَذُمُّكَ، قَالَ: وَلِمَ ذَاكَ؟ قَالَ: لِأَنَّ اللَّهَ جَلَّ ثَنَاؤُهُ هُوَ الْمُعْطِي، وَهُوَ الْمَانِعُ، قَالَ عُمَرُ: أَدْخِلُوهُ بَيْتَ الْمَالِ، فَلْيَأْخُذْ مَا شَاءَ، فَأَدْخَلُوهُ، قَالَ: فَجَعَلَ يَرَى صَفْرَاءَ وَبَيْضَاءَ، فَقَالَ: مَا هَذَا، لَيْسَ لِي فِيمَا هَا هُنَا حَاجَةٌ، إِنَّمَا أَرَدْتُ زَادًا وَرَاحِلَةً، وَإِنَّمَا أَرَادَ عُمَرُ أَنْ يُزَوِّدَهُ، فَأَمَرَ لَهُ عُمَرُ بِزَادٍ وَرَاحِلَةٍ، فَرَحَلَ لَهُ، فَلَمَّا رَكِبَ رَاحِلَتَهُ رَفَعَ يَدَهُ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ الَّذِي حَمَّلَهُ الَّذِي أَعْطَاهُ، وَجَعَلَ عُمَرُ يَمْشِي خَلْفَهُ، وَيَتَمَنَّى أَنْ يَدْعُوَ لَهُ، قَالَ: اللَّهُمَّ وَاجْزِ عُمَرَ خَيْرًا، وَصَفَ عَفَّانُ: أَوْمَأَ حَمَّادٌ بِيَدِهِ خَلْفَهُ بَيْنَ كَتِفَيْهِ.

سیدنا ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوکر کہنے لگا اے امیر المومنین آپ مجھے کچھ عنایت کریں ، اللہ کی قسم ! اگر آپ مجھے کچھ عطافرمائیں گے تو میں آپ کی تعریف کروں گا اگر نہیں دو کے تو میں آپ کی توہین کروں گا۔ سیدنا عمر نے فرمایا وہ کیوں ؟ بے شک اللہ دینے والا اور روکنے والا بھی ہے سیدنا عمر نے فرمایا : اس کو بیت المال تک پہنچاؤ وہاں سے جو مرضی اُٹھائے ۔جب وہ داخل ہوا تو اسےکچھ سفید اور کچھ زرد مال نظر آیا تو کہنے لگا ۔ یہ کیا ہے؟ مجھے اسکی ضرورت نہیں مجھے تو زادراہ اور سواری چاہیے سیدنا عمر نے حکم دیا کہ اسکو سواری اور زادراہ دے دو چنانچہ اسے سواری دے دی گئی جب وہ آدمی سوار ہو ا تو دونوں ہاتھوں کواُٹھا کر اللہ کی حمد و ثنا بیان کی اور اس ذات کی تعریف کی جس نے سوار ہونے کےلیے سواری عنایت فرمائی تو سیدنا عمراس کے پیچھے جا رہے تھے آپ کی خواہش تھی کہ وہ آپ کے لیے بھی دعا کرے آخر اس نےکر ہی دی کہ اے اللہ ! سیدنا عمر کو بھی جزائے خیر ےدے حدیث کے راوی عفان یا حماد نے سیدنا عمر کی حالت دونوں ہاتھ اپنے پیچھے دونوں کندھوں کے درمیان باندھ کر واضح فرمائی ۔ (2)

ثَابِتٍ، ← أَبِي، قثنا عَفَّانُ قثنا حَمَّادٌ، يَعْنِي: ابْنَ سَلَمَةَ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The Islam of Umar ibn Al-Khattab, may God be pleased with him · Hadith 442

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ إِسْلَامُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 443

443 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: وَأُخْبِرْتُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ وَهْبٍ قثنا ابْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، يَعْنِي أَسْلَمَ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَوْمًا: لَقَدْ خَطَرَ عَلَى قَلْبِي شَهْوَةُ الطَّرِيِّ مِنْ حِيتَانٍ، قَالَ: فَيَخْرُجُ يَرْفَأُ فَرَحَلَ رَاحِلَةً لَهُ، فَسَارَ لَيْلَتَيْنِ مُدْبِرًا وَلَيْلَتَيْنِ مُقْبِلًا، وَاشْتَرَى مِكْتَلًا فَجَاءَ. قَالَ: وَيَعْمِدُ يَرْفَا إِلَى الرَّاحِلَةِ فَغَسَلَهَا، فَقَالَ عُمَرُ: انْطَلِقْ حَتَّى أَنْظُرَ إِلَى الرَّاحِلَةِ، فَنَظَرَ عُمَرُ ثُمَّ قَالَ: نَسِيتَ أَنْ تَغْسِلَ هَذَا الْعَرَقَ الَّذِي تَحْتَ أُذُنِهَا، عَذَّبْتَ بَهِيمَةً مِنَ الْبَهَائِمِ فِي شَهْوَةِ عُمَرَ، لَا وَاللَّهِ لَا يَذُوقُهُ عُمَرُ، عَلَيْكَ بِمِكْتَلِكَ.

اسلم ؑ سے روایت ہے کہ ایک دن سیدنا عمر نےفرمایا تازہ مچھلی کھانے کو جی چاہ رہا ہے یہ سن کر ان کا یرفا نامی غلام سواری پر بیٹھ کر چلا گیا ۔ اس کو دو راتیں جانے میں لگیں اور دو آنے میں ۔اس نے ایک ٹوکری خریدی اور واپس آیا جب یرفانے سواری کو صاف کیا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا : چلو میں سواری دیکھتا ہوں اسکو دیکھا پھر فرمایا : تم اس سواری کے کان کے نیچے والی جگہ سے پسینہ صاف کرنا بھول گئے ہو اور تم نے عمر کی خواشی پوری کرنے کےلیے ایک جانور کو تکلیف میں ڈالا اللہ کی قسم ! عمر اس غوکری سے کچھ بھی کھائے گا۔ (3)

عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَوْمًا: لَقَدْ خَطَرَ عَلَى قَلْبِي شَهْوَةُ الطَّرِيِّ مِنْ حِيتَانٍ، ← جَدِّهِ، يَعْنِي أَسْلَمَ، ← أَبِيهِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ وَهْبٍ قثنا ابْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The Islam of Umar ibn Al-Khattab, may God be pleased with him · Hadith 443

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ إِسْلَامُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 444

444 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: أُخْبِرْتُ عَنْ دَاوُدَ بْنِ عَمْرٍو قثنا مُكْرَمُ بْنُ حَكِيمٍ الْخَثْعَمِيُّ، عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي دَارٍ فَدَخَلَ عَلَيْهِ نِسْوَةٌ مِنْ قُرَيْشٍ يَسْأَلْنَهُ وَيَسْتَزِدْنَهُ رَافِعَاتٍ أَصْوَاتَهُنَّ فَوْقَ صَوْتِهِ، فَأَقْبَلَ عُمَرُ فَاسْتَأْذَنَ، فَلَمَّا سَمِعْنَ صَوْتَ عُمَرَ بَادَرْنَ الْحُجُبَ أَوِ الْحِجَابَ، فَأَذِنَ لِعُمَرَ فَدَخَلَ، وَاسْتَضْحَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ عُمَرُ: أَضْحَكَ اللَّهُ سِنَّكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، مِمَّ ضَحِكْتَ؟ قَالَ: «أَلَا إِنَّ نِسْوَةً مِنْ قُرَيْشٍ دَخَلْنَ عَلَيَّ يَسْأَلْنَنِي وَيَسْتَزِدْنَنِي رَافِعَاتٍ أَصْوَاتَهُنَّ فَوْقَ صَوْتِي، فَلَمَّا سَمِعْنَ صَوْتَكَ بَادَرْنَ الْحِجَابَ أَوِ الْحُجُبَ» ، فَقَالَ عُمَرُ: أَيْ عَدُوَّاتِ أَنْفُسِهِنَّ، تَهَبْنَنِي وَتَجْتَرِئْنَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ؟ فَقَالَتِ امْرَأَةٌ مِنْهُنَّ: إِنَّكَ أَفَظُّ وَأَغْلَظُ، فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَهْ عَنْ عُمَرَ، فَوَاللَّهِ مَا سَلَكَ عُمَرُ وَادِيًا قَطُّ فَسَلَكَهُ الشَّيْطَانُ»

سیدناانس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ گھر میں تھے قریش کی چند عورتیں آپ کی خدمت میں حاضر ہوئیں زیادہ سوالات کرتے ہوئے انکی آوازیں آپ کی آواز سے بلند ہونے لگیں اسی دوران سیدنا عمر نے اندر آنے کی اجازت طلب کی جب انہوں نے سیدنا عمر کی آوازی سنی تو جلدی سے پردہ میں چلی گیئں سیدنا عمر اجاز ت کے بعد اندر داخل ہوئے ،رسول اللہ ﷺ اس وقت مسکرارہے تھے ، انہوں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ اللہ تعالیٰ آپ کو ہمیشہ ہنستارکھے ،تبسم کا کیا سبب ہے ؟ نبی کریم ﷺ نےفرمایا قریش کی چند عورتیں میرےپاس آکر سوالات کرتے ہوئے اپنی آوازوں کو میری آواز سے بلندکرنے لگیں جب انہو ں نے آپ کی آواز سنی تو جلدی سے پردہ میں چلی گیں سیدنا عمر نے ان عورتوں کر وفرمای اے اپنی جان کی دشمون کیا تم مجھ سے ڈرتی ہو اور رسول اللہ ﷺ کے سامنے اس طرح کی جراٹ کا مظہارہ کرتی ہو؟ ان عوتوں میں سے ایک نے کہا ہاں ! کیونکہ آپ بہت سخت اور غصے والے ہیں ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : عمر کو ایسے مت کہو اس ذا ت کی قسم ! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ جس وادی سے بھی عمر گزرا ہے شیطان کبھی اس وادی سے نہیں گزرا۔(1)

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← الْحَسَنِ، ← أبي محمد ← دَاوُدَ بْنِ عَمْرٍو قثنا مُكْرَمُ بْنُ حَكِيمٍ الْخَثْعَمِيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The Islam of Umar ibn Al-Khattab, may God be pleased with him · Hadith 444

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ إِسْلَامُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 445

445 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: أُخْبِرْتُ عَنْ أَشْعَثَ بْنِ شُعْبَةَ قثنا مَنْصُورُ بْنُ دِينَارٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، وَالْحَسَنِ بْنِ عَمْرٍو، وَجَامَعِ بْنِ أَبِي رَاشِدٍ، وَمُحَمَّدِ بْنِ قَيْسٍ، وَأَبِي حَصِينٍ، عَنْ مُنْذِرٍ الثَّوْرِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي عَلِيٍّ: أَيُّ النَّاسِ خَيْرٌ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: أَبُو بَكْرٍ، قُلْتُ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: ثُمَّ عُمَرُ، قَالَ: ثُمَّ بَادَرْتُهُ وَخِفْتُ أَنْ أَسْأَلَهُ فَيُجِيبُنِي بِغَيْرِهِ، ثُمَّ قُلْتُ: أَنْتَ؟ قَالَ: لَا، أَنَا رَجُلٌ مِنَ النَّاسِ لِي حَسَنَاتٌ وَلِي سَيِّئَاتٌ، يَفْعَلُ اللَّهُ مَا يَشَاءُ.

محمد بن علی بیان کرتے ہیں کہ میں اپنے والد سیدنا علی سے پوچھا نبی کریم ﷺ کے بعد لوگوں میں کون بہتر ہیں ؟ سیدنا علی نے فرمایا سیدنا ابو بکر میں نے کہا پھر کون ؟ انہوں نے فرمایا سیدنا عمر پھر اس ڈر سے کہ کہیں آپ اپنے علاوہ کسی دوسے کا نام نہ لے دیں میں نے جلدی سے عرض کیا ان کے بعد آپ ہیں ؟ تو فرمایا نہیں میں تو عام لوگوں میں سے ایک ہوں جسکی نیکیاں اور برائیاں دونوں ہیں اللہ جو چاہتا ہے وہی کرتا ہے۔ (2)

محمد بن علي ← مُنْذِرٍ الثَّوْرِيِّ، ← أَبِي حَصِينٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ قَيْسٍ، ← جَامِعُ بْنُ أَبِي رَاشِدٍ ← الْأَعْمَشِ، وَالْحَسَنِ بْنِ عَمْرٍو، ← أَشْعَثَ بْنِ شُعْبَةَ قثنا مَنْصُورُ بْنُ دِينَارٍ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The Islam of Umar ibn Al-Khattab, may God be pleased with him · Hadith 445

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ إِسْلَامُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 446

446 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: أُخْبِرْتُ عَنْ أَشْعَثَ بْنِ شُعْبَةَ قثنا مَنْصُورُ بْنُ دِينَارٍ قَالَ: حَدَّثَنِي مَسْعَدَةُ الْأَعْوَرُ الْبَجَلِيُّ قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيًّا يَقُولُ عَلَى مِنْبَرِ الْكُوفَةِ: أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ نَبِيِّهَا؟ أَبُو بَكْرٍ، ثُمَّ عُمَرُ، وَلَوْ شِئْتُ لَسَمَّيْتُ الثَّالِثَ.

اعور بجلی سے روایت ہے میں نے سیدنا علی کو کوفے کے منبر پر کہتے ہوئے سنا میں تمہیں خبر دیتا ہوں کہ اس امت میں نبی کریم ﷺ کے بعد سب سے بہتر سیدنا ابوبکر اور ان کے بعد سیدنا عمر ہیں اگر میں چاہتا تو تیسرا نام بھی بتا دیا۔ (1)

عَلِيًّا ← مَسْعَدَةُ الْأَعْوَرُ الْبَجَلِيُّ ← أَشْعَثَ بْنِ شُعْبَةَ قثنا مَنْصُورُ بْنُ دِينَارٍ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The Islam of Umar ibn Al-Khattab, may God be pleased with him · Hadith 446

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ إِسْلَامُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 447

447 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: أُخْبِرْتُ عَنْ أَشْعَثَ بْنِ شُعْبَةَ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي كَثِيرٍ، مِثْلَهُ سَوَاءٌ.

ابو کثیرسے بھی اسی طرح کی روایت منقول ہے ۔ (2)

أَبِي كَثِيرٍ، مِثْلَهُ سَوَاءٌ. ← مُوسَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ← مَنْصُورُ بْنُ دِينَارٍ، ← أَشْعَثُ بْنُ شُعْبَةَ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The Islam of Umar ibn Al-Khattab, may God be pleased with him · Hadith 447

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ إِسْلَامُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 448

448 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: أُخْبِرْتُ عَنْ أَشْعَثَ بْنِ شُعْبَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ، مِثْلَهُ.

عبداخیر سے بھی اس جیسی روایت مروی ہے ۔ (3)

عَبْدِ خَيْرٍ، مِثْلَهُ. ← أَبِي إِسْحَاقَ ← مَنْصُورٌ، ← أَشْعَثُ بْنُ شُعْبَةَ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The Islam of Umar ibn Al-Khattab, may God be pleased with him · Hadith 448

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ إِسْلَامُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 449

449 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: أُخْبِرْتُ عَنْ أَشْعَثَ بْنِ شُعْبَةَ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ خَلَفِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أَبِي هَاشِمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ قَيْسٍ الْخَارِفِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: سَبَقَ رَسُولُ اللَّهِ، وَصَلَّى أَبُو بَكْرٍ، وَثَلَّثَ عُمَرُ، ثُمَّ كُنَّا قَوْمًا خَبَطَتْنَا فِتْنَةٌ مَا شَاءَ اللَّهُ.

قیس خارفی ؑ سے روایت ہے کہ سیدنا علی نے فرمایا اللہ کے رسول ﷺ سب سے سبقت لے گئے آپ ﷺ کے بعد سیدنا ابو بکر نے نماز پڑھائی اور تیسرا مقام سیدنا عمر کا ہے ان کے بعد ہمیں تو فتنوں نے جکڑ رکھا ہے جب تک اللہ چاہے گا ( ہم ان فتنوں میں مبتلا رہیں گے)۔(4)

عَلِيٍّ، ← سَعِيدِ بْنِ قَيْسٍ الْخَارِفِيِّ، ← أَبِي هَاشِمٍ ← خَلَفِ بْنِ حَوْشَبٍ ← مَنْصُورُ بْنُ دِينَارٍ، ← أَشْعَثُ بْنُ شُعْبَةَ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The Islam of Umar ibn Al-Khattab, may God be pleased with him · Hadith 449

Daif

chevron_left Previous
1…678910
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door2. He was asked about the virtues of Abu, the first-born of al-Siddiq, the mercy and pleasure of God be upon him3. He was asked about the words of Ali ibn Abi Talib and others: The best of this nation after its prophet Abu Bakr and Omar4. His saying, may God’s prayers and peace be upon him: “If I had taken people as a friend, I would not have taken a virgin father as a friend5. He, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Pass a virgin father, let him pray to the people.”6. The remainder of his saying: “Show a first-born father who prays to people.”7. It was not narrated that Abu Bakr was the first to become Muslim8. It was not narrated that a virgin father came to ask permission, so the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Permit him, and give him good tidings of paradise.”9. The Virtue of the Commander of the Believers, Omar Ibn Al-Khattab, may God be pleased with him10. The Islam of Umar ibn Al-Khattab, may God be pleased with him11. And among the virtues of Omar bin Al-Khattab from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik, on the authority of his sheikhs other than Abd Allah bin Ahmed, and from the hadith of Abu Bakr bin Malik.12. The virtue of Othman bin Affan, may God be pleased with him13. And from the merits of Othman, from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik on the authority of his sheikhs except for Abdullah bin Ahmad14. The news of the Prince of the Believers, Ali bin Abi Talib, and his asceticism, may God be pleased with him15. His mother's name and genealogy16. A merit upon me, peace be upon him17. And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah18. The Virtue of Abd al-Rahman ibn Awf, may God be pleased with him19. The Virtue of Az-Zubayr Bin Awwam, may God be pleased with him20. Fadil Abi Ubaidah Ibn Al Jarrah, may God be pleased with him21. Fadil Talha Bin Ubaid Allah, may God be pleased with him22. Fadil Saad bin Abi Waqas, may God be pleased with him23. Fadil Fatima, the daughter of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him24. The virtues of good, and the good, may God be pleased with them.25. The Virtues of Ansar, may God be pleased with them26. The virtue of Khalid bin Al-Walid, may God have mercy on him27. Fadil Saad bin Muadh, may God have mercy on him28. Fadil Haritha Ibn Nu'man, may God be pleased with him29. Fadil Suhaib, may God be pleased with him30. The virtues of the Arabs31. The virtue of Usama bin Zaid, may God be pleased with him32. Fadil Abdullah bin Masoud, may God be pleased with him33. Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with them34. Virtues of Khadija and others35. Fadil Ammar ibn Yasser, may God be pleased with him36. Virtues 0 People of Yemen37. Virtues of the family of the Mother of the Believers, may God be pleased with her, and other things among the people of Yemen38. The virtues of the Banu Ghafar, and Islam and others39. Fadil Jaafar ibn Abi Talib, may God be pleased with him40. Fadil Jarir bin Abdullah, may God be pleased with him41. Fadil Abdullah Bin Omar, may God be pleased with them42. The virtues of a people of the Levant43. The Virtue of the Companions of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him44. The virtue of Amr ibn al-Aas, may God be pleased with him45. The Virtues of Mu`awiyah Bin Abi Sufyan, may God be pleased with them46. The virtues of Abu al-Fadl al-Abbas ibn Abd al-Muttalib, the uncle of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him47. Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with him