فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ إِسْلَامُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 438
438 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو صَالِحٍ الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى قثنا شِهَابُ بْنُ خِرَاشٍ قَالَ: حَدَّثَنِي الْحَجَّاجُ بْنُ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ قَالَ: ضَرَبَ عَلْقَمَةُ بْنُ قَيْسٍ هَذَا الْمِنْبَرَ قَالَ: خَطَبَنَا عَلِيٌّ عَلَى هَذَا الْمِنْبَرِ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَذَكَرَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَذْكُرَ قَالَ: وَإِنَّ خَيْرَ النَّاسِ كَانَ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ أَبُو بَكْرٍ، ثُمَّ عُمَرُ، ثُمَّ أَحْدَثْنَا بَعْدَهُمَا أَحْدَاثًا يَقْضِي اللَّهُ فِيهَا.
امام ابراہیم نخعی سے روایت ہے کہ علقمہ بن قیس رضی اللہ عنہ نے ایک منبر کو مار کر فرمایا : یہ وہ منبر ہے جس پر سیدنا علی نے خطبہ دیتے ہوئے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی پھر اللہ تعالیٰ نے جو چاہا انہوں نے بیان کیا چنانچہ سیدنا علی نے فرمایا بے شک بہترین انسان نبی کریم ﷺ کے بعد سیدنا ابو بکر ہیں پھر سیدنا عمر ہیں پھر (ان دونوں کے بعد افضل کون ہے اس کے بارے میں ) ہم نے اس کے بعد بہت کچھ نئی باتیں بنا لی ہیں جن کا فیصلہ اللہ تعالیٰ فرمائے گا۔ (2)
مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَذْكُرَ ← خَطَبَنَا عَلِيٌّ عَلَى هَذَا الْمِنْبَرِ، فَحَمِدَ اللَّهَ ← ضَرَبَ عَلْقَمَةُ بْنُ قَيْسٍ هَذَا الْمِنْبَرَ ← إِبْرَاهِيمُ النَّخَعِيُّ، ← أَبِي مَعْشَرٍ، ← الْحَجَّاجِ بْنِ دِينَارٍ ← أَبُو صَالِحٍ الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى قثنا شِهَابُ بْنُ خِرَاشٍ ← عَبْدُ اللَّهِ
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The Islam of Umar ibn Al-Khattab, may God be pleased with him · Hadith 438
