Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

1,963 Hadith48 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ إِسْلَامُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 426

426 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ قَالَ أنا خَالِدٌ، عَنْ عَطَاءٍ، يَعْنِي: ابْنَ السَّائِبِ، عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ، عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ نَبِيِّهَا؟ أَبُو بَكْرٍ، ثُمَّ خَيْرُهَا بَعْدَ أَبِي بَكْرٍ عُمَرُ، يَجْعَلُ اللَّهُ الْخَيْرَ حَيْثُ أَحَبَّ.

عبدخیر ؑ سے روایت ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : کیامیں تمہیں اس امت میں نبی کریم ﷺکے بعد سب سے افضل شخص کے بارے میں نہ بتاؤں؟ وہ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ ہیں سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کے بعد سب سے افضل سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ہیں ، انکے بعد وہ افضل ہے جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ زیادہ محبت رکھتا ہے۔ (4)

عَلِيٍّ، ← عبد خير ← عطاء يعني ابن السائب ← خَالِدٌ، ← وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The Islam of Umar ibn Al-Khattab, may God be pleased with him · Hadith 426

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ إِسْلَامُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 427

427 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ قثنا مُسْهِرُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سَلْعٍ الْهَمْدَانِيُّ، عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيًّا يَقُولُ: قَبَضَ اللَّهُ نَبِيَّهُ عَلَى خَيْرِ مَا قَبَضَ عَلَيْهِ نَبِيًّا مِنَ الْأَنْبِيَاءِ، قَالَ: فَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ اسْتُخْلِفَ أَبُو بَكْرٍ فَعَمِلَ بِعَمَلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسُنَّتِهِ، ثُمَّ قُبِضَ عَلَى خَيْرِ مَا قَبَضَ اللَّهُ عَلَيْهِ أَحَدًا، فَكَانَ خَيْرَ الْأُمَّةِ بَعْدَ نَبِيِّهَا، ثُمَّ اسْتُخْلِفَ عُمَرُ، فَعَمِلَ بِعَمَلِهِمَا وَسُنَّتِهِمَا، ثُمَّ قُبِضَ عَلَى خَيْرِ مَا قُبِضَ عَلَيْهِ أَحَدٌ، فَكَانَ خَيْرَ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ نَبِيِّهَا وَبَعْدَ أَبِي بَكْرٍ.

عبد خیر ؑ سے روایت ہے کہ میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے سنا آپ رضی اللہ عنہ فرما رہے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم ﷺ کو تمام انبیا کی طرح بہترین انداز کے ساتھ وفات دی ، پھر انہوں نے فرایا : اس پر اللہ کی حمد و ثنا بیان کی پھر اللہ نے آپ ﷺ کو بعد سیدنا ابوبکر کو خلاف سے نوازا ۔سیدنا ابو بکر نے بھی وہ کچھ کیا جو نبی کریم ﷺ کیا کرتے تھے پھر اللہ نے ان کوبھی وفات دی ۔ پس وہ تمام امت میں نبی کریم ﷺ کے بعد سب سے افضل تھے ۔ پھر سیدنا ابو بکر صدیق کی روح کو اللہ تعالیٰ نے بہترین حالت میں قبض کیا ، جس طرح کہ وہ کسی ایک کو اپنے پاس بلاتا ہے، پھر اللہ نے سیدنا عمر کو خلافت سے نوازا ۔پھر وہ بھی نبی کریم ﷺ اور سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے کام کرتے رہے پھر سیدنا عمر کی روح کو اللہ تعالیٰ نے بہترین حالت میں قبض کیا جس طرح کہ وہ کسی ایک کو اپنے پاس بلاتا ہے ، پس وہ نبی کریم ﷺ اور سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کے بعد سب سے افضل تھے ۔ (1)

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The Islam of Umar ibn Al-Khattab, may God be pleased with him · Hadith 427

Hassan

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ إِسْلَامُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 428

428 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ قَالَ نا وِقَاءُ بْنُ إِيَاسَ الْأَسَدِيُّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ الْوَالِبِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: " إِنِّي لَأَعْرِفُ أَخْيَارَ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ نَبِيِّهَا أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ، وَلَوْ شِئْتُ أَنْ أُسَمِّيَ الثَّالِثَ لَفَعَلْتُ.

ربیعہ والبی ؑ سے روایت ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : یقینا میں جانتا ہوں کہ نبی کریم ﷺ کے بعد اس امت میں سب سے افضل سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ تھے پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ہیں اگر میں چاہوں تو تیسرے کا نام بھی بتا سکتا ہوں ۔ (2)

عَلِيٍّ، ← عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ الْوَالِبِيِّ ← وَقَاءَ بْنِ إيَاسٍ الأَسَدِيِّ ← أَبِي، قثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The Islam of Umar ibn Al-Khattab, may God be pleased with him · Hadith 428

Hassan

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ إِسْلَامُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 429

429 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِشْكَابَ قثنا مُحَاضِرٌ، عَنْ مُوسَى الصَّغِيرِ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الْمَلِكِ بْنَ مَيْسَرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ النَّزَّالَ قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيًّا وَهُوَ يَخْطُبُ فِي الْمَسْجِدِ وَهُوَ يَقُولُ: أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ نَبِيِّهَا؟ ثَلَاثَةً، ثُمَّ ذَكَرَ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ، وَلَوْ شِئْتُ لَسَمَّيْتُ الثَّالِثَ.

نزل ؑ سے روایت ہے کہ میں نے سنا سیدنا علی برسر منبر مسجد میں خطبہ ارشاد فرما رہے تھے : کیا میں تمہیں اس بات کی خبر نہ دوں کہ اس امت میں نبی کریم ﷺ کے بعد بہترین اشخاص تین ہیں ۔پھر انہوں نے سیدنا ابو بکر اور سیدنا عمر کا تذکرہ کیا ،مزید فرمایا : اگر میں چاہتا تو تیسر ےکا نام بھی بتا دیتا۔ (3)

أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ، وَلَوْ شِئْتُ لَسَمَّيْتُ الثَّالِثَ. ← أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ نَبِيِّهَا؟ ثَلَاثَةً، ثُمَّ ← عَلِيًّا وَهُوَ يَخْطُبُ فِي الْمَسْجِدِ وَهُوَ ← النَّزَّالِ ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ، ← مُوسَى الصَّغِيرِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِشْكَابَ قثنا مُحَاضِرٌ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The Islam of Umar ibn Al-Khattab, may God be pleased with him · Hadith 429

Hassan

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ إِسْلَامُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 430

430 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قثنا الْحَسَنُ بْنُ الصَّبَّاحِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْبَزَّارُ قثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّقِّيُّ قَالَ نا عَبْدُ اللَّهِ، يَعْنِي: ابْنَ عَمْرٍو الرَّقِّيُّ، عَنْ خَلَفِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قُلْتُ لِعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ: مَنْ أَفْضَلُ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ نَبِيِّهَا؟ قَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ يَا بُنَيَّ أَبُو بَكْرٍ، قَالَ: قُلْتُ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ يَا بُنَيَّ ثُمَّ عُمَرُ، قَالَ: قُلْتُ لَهُ مَخَافَةَ أَنْ أَزِيدَ فَيَزِيدَنِي: ثُمَّ أَنْتَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ؟ قَالَ: ثُمَّ لَسْتُ هُنَاكَ، ثُمَّ أَنَا بَعْدُ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ.

محمد بن حنفیہ ؑ سے روایت ہے کہ میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا اس امت میں نبی کریم ﷺ کے بعد افضل شخص کون ہے؟ انہوں نے فرمایا : سبحان اللہ ! میرے بیٹے ! سیدنا ابو بکر ہیں پھر میں نے پوچھا : انکے بعد کون ہے ؟ فرمایا : سبحآن اللہ ! سیدنا عمر ہیں پھر میں نے اس ڈر سے کہ اگر میں نے کسی اور کا نام زیادہ کیا تو آپ رضی اللہ عنہ بھی کسی اور کا نام زیادہ کر دیں گے ۔ (یعنی کسی اور کا نام بتا دیں گے ) میں نے ہکا : ان کے بعد تو امیر المومنین آپ ہی ہین ، فرمایا : میں ان میں سے نہیں ہوں میں تو بقایا مسلمانوں کی طرح ایک عام شخص ہوں ۔ (4)

قُلْتُ لَهُ مَخَافَةَ ← سُبْحَانَ اللَّهِ يَا بُنَيَّ ثُمَّ عُمَرُ، ← قُلْتُ ثُمَّ مَنْ ← سُبْحَانَ اللَّهِ يَا بُنَيَّ: أَبُو بَكْرٍ. ← قُلْتُ لِعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ: مَنْ أَفْضَلُ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ نَبِيِّهَا؟ ← أَبِيهِ ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← أَبِي مَالِکٍ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← خَلَفِ بْنِ حَوْشَبٍ ← عَبْدُ اللَّهِ، يَعْنِي: ابْنَ عَمْرٍو الرَّقِّيُّ،

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The Islam of Umar ibn Al-Khattab, may God be pleased with him · Hadith 430

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ إِسْلَامُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 431

431 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قثنا مُصْعَبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزُّبَيْرِيُّ قثنا هِشَامُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِكْرِمَةَ الْمَخْزُومِيُّ قَالَ: غِبْتُ غَيْبَةً عَنِ الْمَدِينَةِ، ثُمَّ أَتَيْتُ مَالِكَ بْنَ أَنَسٍ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَقَالَ لِي: أَيْنَ كُنْتَ؟ قَالَ: قُلْتُ: كُنْتُ بِوَادِي الْعَقِيقِ، قَالَ: ذَاكَ وَادٍ لَا يَذْهَبُ إِلَيْهِ أَحَدٌ إِلَّا يَغْرَمُ، وَلَا يَأْتِي أَحَدٌ مِنْهُ إِلَّا يَغْنَمُ، قَالَ: قُلْتُ: لَا تَقُلْ ذَاكَ يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ؛ فَإِنَّ هِشَامَ بْنَ عُرْوَةَ حَدَّثَنِي، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «اطْلُبُوا الرِّزْقَ فِي خَبَايَا الْأَرْضِ» .

عبداللہ بن عکرمہ مخزومی ؑ سے روایت ہے کہ میں مدینہ سے کچھ عرصہ غائب رہا پھر وہاں سے نکلا اور سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان کو سلام کیا تو وہ مجھے کہنے لگے کہ تم کہاں تھے؟ میں نے کہا: میں وادی عقیق گیا ہوا تھا تو انہوں نے فرمایا : یہ وہ وادی ہے جہاں جو بھی جاتا ہے نقصان کر جاتاہے اور وہاں سےجو بھی آتا ہے ،غنیمت پاتا ہے میں نے کہا ابو عبداللہ ! اس طرح مت کہو مجھے ہشام بن عروہ نے بہ روایت عن ابیہ عن عائشہ بیان کیا ہے کہ بلاشبہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم زمین کے نیچے سے رزق تلاش کرو۔ (1)

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The Islam of Umar ibn Al-Khattab, may God be pleased with him · Hadith 431

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ إِسْلَامُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 432

432 - قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ: قَالَ لِي مُصْعَبٌ فِي أَوَّلِ يَوْمٍ رَأَيْتُهُ: مَا اسْمُكَ؟ قُلْتُ: عَبْدُ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنِي عِدَّةٌ مِنْ أَصْحَابِنَا مِنْهُمُ ابْنُ زَبَالَةَ قَالَ: قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: [البحر الطويل] أَقُولُ لِعَبْدِ اللَّهِ لَمَّا لَقِيتُهُ ... يَسِيرُ بِأَعْلَى الْقَرْيَتَيْنِ مُشَرِّقَا تَتَبَّعْ خَبَايَا الْأَرْضِ وَادْعُ مَلِيكَهَا ... لَعَلَّكَ يَوْمًا أَنْ تُجَابَ فَتُرْزَقَا.

ابو عبدالرحمن ؑ سے روایت ہے کہ مجھ سے پہلی ملاقات میں سیدنا مصعب رضی اللہ عنہ نے پوچھا آپ کا کیا نام ہے ؟ میں نے کہا عبداللہ انہوں نے کہا : مجھے ہمارے بے شمار ساتھیوں نے بتایا ہے جن مین زبالہ بھی ہیں کہ امام ابن شہاب زہری ؑ یہ اشعار کہتے ہیں : میں نے عبداللہ سے کہا کہ جب میں ان سے ملا اوروہ زمین کے اونچے حصے پر جا رہے تھے کہ تم زمین کے نیچے سے رزق تلاش کرو اور رب تعالیٰ سے دعا کرو شاید تمہاری دعا قبول ہو اور تم اس دن رزق پاؤ گے۔(2)

عِدَّةٌ مِنْ أَصْحَابِنَا مِنْهُمُ ابْنُ زَبَالَةَ ← لِي مُصْعَبٌ فِي أَوَّلِ يَوْمٍ رَأَيْتُهُ: مَا اسْمُكَ؟ قُلْتُ: عَبْدُ اللَّهِ، ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The Islam of Umar ibn Al-Khattab, may God be pleased with him · Hadith 432

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ إِسْلَامُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 433

433 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قثنا مُصْعَبٌ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: كَانَ الزُّبَيْرُ يُنَقِّزُنِي وَهُوَ يَقُولُ: أَنْضَرُ مِنْ آلِ أَبِي عَتِيقٍ، مُبَارَكٌ مِنْ وَلَدِ الصِّدِّيقِ، أَلَذُّهُ كَمَا أَلَذُّ رِيقِي "

ہشام بن عروہ ؑ اپنے بات سے روایت کرتے ہیں کہ مجھے سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا آل ابوعتیق سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کی اولاد میں سے خوش و خرم رہے اور انہیں مبارک ہو میں ان میں اپنے لعاب سے زیادہ مٹھاس محسوس کرتا ہوں ۔(3)

كَانَ الزُّبَيْرُ يُنَقِّزُنِي وَهُوَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ قثنا مُصْعَبٌ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The Islam of Umar ibn Al-Khattab, may God be pleased with him · Hadith 433

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ إِسْلَامُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 434

434 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، يَعْنِي مُحَمَّدًا، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ عُمَرُ: وَافَقْتُ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ فِي ثَلَاثٍ، أَوْ وَافَقَنِي رَبِّي فِي ثَلَاثٍ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَوِ اتَّخَذْتَ الْمَقَامَ مُصَلًّى، قَالَ: فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: {وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى} [البقرة: 125] ، وَقُلْتُ: لَوْ حَجَبْتَ عَنْ أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ، فَإِنَّهُ يَدْخُلُ عَلَيْكَ الْبَرُّ وَالْفَاجِرُ، فَأُنْزِلَتْ آيَةُ الْحِجَابِ، قَالَ: وَبَلَغَنِي عَنْ أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ شَيْءٌ فَاسْتَقْرَيْتُهُنَّ أَقُولُ لَهُنَّ: لَتَكُفُّنَّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ لَيُبْدِلَنَّهُ اللَّهُ بِكُنَّ أَزْوَاجًا خَيْرًا مِنْكُنَّ، حَتَّى أَتَيْتُ عَلَى إِحْدَى أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ، فَقَالَتْ: يَا عُمَرُ، أَمَا فِي رَسُولِ اللَّهِ مَا يَعِظُ نِسَاءَهُ، حَتَّى تَعِظَهُنَّ أَنْتَ؟ فَكَفَفْتُ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: {عَسَى رَبُّهُ إِنْ طَلَّقَكُنَّ أَنْ يُبْدِلَهُ أَزْوَاجًا خَيْرًا مِنْكُنَّ مُسْلِمَاتٍ مُؤْمِنَاتٍ قَانِتَاتٍ} [التحريم: 5] الْآيَةَ "

سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر نے فرمایا : میں نے تین چیزوں میں اپنے رب سے موافقت کی ہے یا میرے رب نے مجھ سے موافقت فرمائی ہے ۔ ۔1۔میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ آپ مقام ابراہیم کو نماز کی جگہ کیوں نہیں بناتے ؟تو اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی (واتخذوامن مقام ابراہیم مصلی)۔2۔میں عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ آپ امہات المومنین کو پردے کا حکم کیوں نہیں دیتے ؟ اس لیے کہ آپ کے پاس نیک و بد دونوں طرح کے لوگ آتے جاتے ہیں پھر اللہ نے آیت حجاب نازل فرمائی ۔ 3۔مجھے امہات المومنین کے متعلق کوئی بات بہنچی تو میں نے کہا : امہات المومنین ! آپ باز آجائیں ورنہ اللہ تعالیٰ تم سے بہتر بیویاں نبی کریم ﷺ کو عطا فرمائے گا۔ پھر میں امہات المومنین میں سے کسی ایک کے پاس آیاتو وہ کہنے لگیں : کیا اللہ کے نبی ﷺ اپنی بیویوں کو خود نصیحت نہیں کر سکتے تم ہمیں کیوں نصحیت کرتے ہو ۔ پھر میں رک گیا تو اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی (عسی ربہ ان طلقکن ان بیدلہ ازوجا خیرا منکن مسلمات مؤمنات قانتات)۔(1)

قُلْتُ ← عُمَرُ وَافَقْتُ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ فِي ثَلَاثٍ أَوْ وَافَقَنِي رَبِّي فِي ثَلَاثٍ ← أَنَسٍ، ← حُمَيْدٍ ← أَبِي، قثنا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، يَعْنِي مُحَمَّدًا، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The Islam of Umar ibn Al-Khattab, may God be pleased with him · Hadith 434

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ إِسْلَامُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 435

435 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا هُشَيْمٌ قَالَ أنا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ عُمَرُ: وَافَقْتُ رَبِّي فِي ثَلَاثٍ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَوِ اتَّخَذْتَ مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى، فَنَزَلَتْ: {وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى} [البقرة: 125] ، وَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ نِسَاءَكَ يَدْخُلُ عَلَيْهِنَّ الْبَرُّ وَالْفَاجِرُ، فَلَوْ أَمَرْتَهُنَّ أَنْ يَحْتَجِبْنَ، فَنَزَلَتْ آيَةُ الْحِجَابِ، وَاجْتَمَعَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ نِسَاؤُهُ فِي الْغَيْرَةِ، فَقُلْتُ لَهُنَّ: {عَسَى رَبُّهُ إِنْ طَلَّقَكُنَّ أَنْ يُبْدِلَهُ أَزْوَاجًا خَيْرًا مِنْكُنَّ} [التحريم: 5] ، فَنَزَلَتْ كَذَلِكَ.

سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر نے فرمایا : رب تعالیٰ نے میرے ساتھ تین چیزوں میں موافقت کی ہے ۔ میں نے آپ ﷺ سے عرض کیا رسول اللہ ﷺ کاش آپ مقام ابراہیم کو نماز کی جگہ بنا لیتے اس پر اللہ تعالیٰ نے حکم نازل فرمایا (واتخذوامن مقام ابراہیم مصلی)مقام ابراہیم کو نماز کی جگہ بنا لیں ۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ آپ کے گھر والوں کے پاس نیک و بدہر طرح کے لوگ آتے جاتے ہیں اگر آپ ﷺ اپنی بیویوں کو پردے کا حکم دے دیں ؟ اس پر آیت حجاب نازل ہوئی اور ایک مرتبہ آپ ﷺ کےپاس امہات المومنین اکٹھی ہو کر کچھ مطالبات کرنے لگیں ۔میں نے (جسطرح ان ) سے کہا اسی طرح درج ذیل آیت نازل ہوئی ۔ (عسی ربہ ان طلقکن ان بیدلہ ازوجا خیرا منکن)۔(2)

عمرُ: وافقتُ ربِّي في ثلاثٍ، قلتُ: ← أَنَسٍ، ← حُمَيْدٍ ← أَبِي، قثنا هُشَيْمٌ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The Islam of Umar ibn Al-Khattab, may God be pleased with him · Hadith 435

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ إِسْلَامُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 436

436 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قثنا شُعْبَةُ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا جَمرَةَ الضُّبَعِيَّ يُحَدِّثُ، عَنْ جُوَيْرِيَةَ بْنِ قُدَامَةَ قَالَ: حَجَجْتُ فَأَتَيْتُ الْمَدِينَةَ الْعَامَ الَّذِي أُصِيبَ فِيهِ عُمَرُ، قَالَ: فَخَطَبَ فَقَالَ: إِنِّي رَأَيْتُ كَأَنَّ دِيكًا نَقَرَنِي نَقْرَةً أَوْ نَقْرَتَيْنِ، شُعْبَةُ الشَّاكُّ، فَكَانَ مِنْ أَمْرِهِ أَنْ طُعِنَ، فَأَذِنَ لِلنَّاسِ عَلَيْهِ، فَكَانَ أَوَّلَ مَنْ دَخَلَ عَلَيْهِ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ، ثُمَّ أَهْلُ الشَّامِ، ثُمَّ أَذِنَ لِأَهْلِ الْعِرَاقِ، فَدَخَلْتُ فِيمَنْ دَخَلَ، قَالَ: وَكَانَ كُلَّمَا دَخَلَ عَلَيْهِ قَوْمٌ، أَثْنَوْا عَلَيْهِ وَبَكَوْا، قَالَ: فَلَمَّا دَخَلْنَا عَلَيْهِ قَالَ: وَقَدْ عَصَبَ بَطْنَهُ بِعِمَامَةٍ سَوْدَاءَ وَالدَّمُ يَسِيلُ، قَالَ: فَقُلْنَا: أَوْصِنَا، قَالَ: وَمَا سَأَلَهُ الْوَصِيَّةَ غَيْرُنَا، فَقَالَ: عَلَيْكُمْ بِكِتَابِ اللَّهِ، فَإِنَّكُمْ لَنْ تَضِلُّوا مَا اتَّبَعْتُمُوهُ، فَقُلْنَا: أَوْصِنَا، قَالَ: أُوصِيكُمْ بِالْمُهَاجِرِينَ؛ فَإِنَّ النَّاسَ سَيَكْثُرُونَ وَيَقِلُّونَ، فَأُوصِيكُمْ بِالْأَنْصَارِ؛ فَإِنَّهُمْ شِعْبُ الْإِسْلَامِ الَّذِي لَجَأَ إِلَيْهِ، وَأُوصِيكُمْ بِالْأَعْرَابِ؛ فَإِنَّهُمْ أَهْلُكُمْ وَمَادَّتُكُمْ، وَأُوصِيكُمْ بِأَهْلِ ذِمَّتِكُمْ؛ فَإِنَّهُمْ عَهْدُ نَبِيِّكُمْ وَرِزْقُ عِيَالِكُمْ، قُومُوا عَنِّي، قَالَ: فَمَا زَادَنَا عَلَى هَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ قَالَ: مُحَمَّدٌ قَالَ شُعْبَةُ: ثُمَّ سَأَلْتُهُ بَعْدَ ذَلِكَ، فَقَالَ فِي الْأَعْرَابِ: وَأُوصِيكُمْ بِالْأَعْرَابِ؛ فَإِنَّهُمْ إِخْوَانُكُمْ وَعَدُوُّ عَدُوِّكُمْ.

ابو حمزہ ضبعی سیدہ جو یریہ بنت قدامتہ رضی اللہ عنہا سے روایت بیان کرتے ہیں کہ میں اس سال حج کے بعد مدینہ کے بعد مدینہ آیا جس سال سیدنا عمر کو شہید کیا گیا کہ ایک دن سیدنا عمر نے خطبہ دیا اور فرمایا میں نے خواب دیکھا کہ ایک مرغ نے مجھے ایک یا دو مرتبہ چونچ ماری پھر وہی ہوا کہ ان کو نیزہ مارا گیا لوگوں کو ان سے ملنے کی اجازت ملی تو سب سے پہلے صحابہ کرام میں سے اہل مدینہ ان کے پاس آئے ان کے بعد اہل شام اور ان کے بعد اہل عراق ۔ عراقیوں کے ساتھ میں بھی داخل ہو ا لوگوں کا کوئی بھی گروہ جب ان سے ملاقات کرتاتو ضرور انکی تعریف کرتا اور رونے لگ جاتا جب ہم داخل ہوئے تو خون روکنے کے لیے ان ک ےپیٹ کو سیاہ عمامہ سے باندھا ہو اتھا اور خون بہہ رہا تھا ہم نے ان سے کہا ہمیں کوئی وصیت فرمائیں ؟ ہمارے علاوہ کسی نے بھی ان سے وصیت کا نہیں کہا تھا ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم کتاب اللہ کو لازم پکڑو اس کی پیروی کرنے والے ہرگز گمراہ نہیں ہوں گے۔ ہم نے کہا: مزید وصیت فرمائیں انہوں نے فرمایا : مہاجرین سے نیکی کرو بے شک وہ زیادہ ہوں یا کم ۔پھر انصار سے نیکی کرو یہ اسلام کی گھاٹی ہے جس میں لوگوں کو پناہ ملی ۔ پھر دیہاتیوں سے نیکی کرو کیونکہ یہ تمہارے اہل اور اصل ہں پھر تم اہل ذمہ سے نیکی سے پیش آؤ، کیونکہ یہ تمہارے نبی کریم ﷺ کا حکم ہے اور یہ تمہاری اولاد کے لیے ذریعہ رزق ہیں ۔ اب تم میرے پاس سے چلے جاؤ۔ راوی کہتے ہیں اس کے علاوہ ہمیں انہوں نے کچھ بھی نہیں فرمایا ۔ محمد ؑ کہتے ہیں کہ میں نے شعبہ ؑ سے پوچھا: یہ دیہاتیوں کے بارے میں جو وصیت فرمائی اسکا کیا مطلب ہے ؟ انہوں نے فرمایا بے شک دیہاتی تمہارے بھائی ہیں اور تمہارے دشمنوں کے دشمن ہیں ۔ (1)

فَخَطَبَ ← حَجَجْتُ فَأَتَيْتُ الْمَدِينَةَ الْعَامَ الَّذِي أُصِيبَ فِيهِ عُمَرُ ← جُوَيْرِيَةَ بْنِ قُدَامَةَ ← أَبَا جَمْرَةَ الضُّبَعِيَّ ← أبي قثنا محمد بن جعفر قثنا شعبة ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The Islam of Umar ibn Al-Khattab, may God be pleased with him · Hadith 436

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ إِسْلَامُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 437

437 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، قثنا أَبِي، قثنا يَحْيَى هُوَ ابْنُ سَعِيدٍ، قثنا حُمَيْدٌ هُوَ الطَّوِيلُ، عَنْ أَنَسٍ هُوَ ابْنُ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ: وَافَقْتُ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ فِي ثَلَاثٍ، وَوَافَقَنِي رَبِّي فِي ثَلَاثٍ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَوِ اتَّخَذْتَ مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: {وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى} [البقرة: 125] ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهُ يَدْخُلُ عَلَيْكَ الْبَرُّ وَالْفَاجِرُ، فَلَوْ أَمَرْتَ أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ بِالْحِجَابِ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ آيَةَ الْحِجَابِ، وَبَلَغَنِي مُعَاتَبَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْضَ نِسَائِهِ، قَالَ: فَاسْتَقْرَيْتُ أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ فَدَخَلْتُ عَلَيْهِنَّ فَجَعَلْتُ أَسْتَقْرِئُهُنَّ وَاحِدَةً وَاحِدَةً، وَاللَّهِ لَئِنِ انْتَهَيْتُنَّ وَإِلَّا لَيُبَدِّلَنَّ اللَّهُ رَسُولَهُ خَيْرًا مِنْكُنَّ، قَالَ: فَأَتَيْتُ عَلَى بَعْضِ نِسَائِهِ قَالَتْ: يَا عُمَرُ، أَمَا فِي رَسُولِ اللَّهِ مَا يَعِظُ نِسَاءَهُ حَتَّى تَكُونَ أَنْتَ تَعِظُهُنَّ؟ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: {عَسَى رَبُّهُ إِنْ طَلَّقَكُنَّ أَنْ يُبْدِلَهُ أَزْوَاجًا خَيْرًا مِنْكُنَّ} [التحريم: 5] .

سیدنا انس سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے تین چیزوں میں اپنے رب سے موافقت کی ہے یا میرے رب نے مجھے سے موافقت فرمائی ہے : ۔(1)۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ آپ مقام ابراہیم کو نماز کی جگہ کیوں نہیں بنا لیتے؟ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ۔(واتخذو من مقام ابراہیم مصلی)۔2۔میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ آپ امہات المومنین کو پردے کا حکم کیوں نہیں دیتے ؟ اس لیے کہ آپ کے پاس نیک اور بد دونوں طرح کے لوگ آتے جاتے ہیں پھر اللہ نے آیت حجاب نازل فرمائی ۔ 3۔مجھے امہات المومنین کے متعلق کوئی بات پہنچی کہ نبی کریم ﷺ نے اپنی ازواج مطہرات پر عتاب فرمایا : لہذا میں امہات المومنین میں سے ہر ایک کے پاس جا کر پوچھتا رہا اور کہتا رہا : آپ باز آجائیں ورنہ اللہ آپ سے بہتر بیویاں نبی کریم ﷺ کو عطا فرمائے گا۔ پھر میں امہات المومنین میں سے کسی ایک کے پاس آیا تو وہ کہنے لگیں : عمر ! کیا اللہ کے نبی ﷺ اپنی بیویوں کو خود نصیحت نہیں کر سکتے ، آپ ہمیں کیوں نصیحت کرتے ہو ؟ پھر رک گیا تو اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی ۔(عسی ربہ ان طلقکن ان بیدلہ ازوجا خیرا منکن مسلمات مؤمنات قانتات)(1)

أَنَسٍ هُوَ ابْنُ مَالِكٍ،

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The Islam of Umar ibn Al-Khattab, may God be pleased with him · Hadith 437

Sahih

chevron_left Previous
1…567…10
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door2. He was asked about the virtues of Abu, the first-born of al-Siddiq, the mercy and pleasure of God be upon him3. He was asked about the words of Ali ibn Abi Talib and others: The best of this nation after its prophet Abu Bakr and Omar4. His saying, may God’s prayers and peace be upon him: “If I had taken people as a friend, I would not have taken a virgin father as a friend5. He, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Pass a virgin father, let him pray to the people.”6. The remainder of his saying: “Show a first-born father who prays to people.”7. It was not narrated that Abu Bakr was the first to become Muslim8. It was not narrated that a virgin father came to ask permission, so the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Permit him, and give him good tidings of paradise.”9. The Virtue of the Commander of the Believers, Omar Ibn Al-Khattab, may God be pleased with him10. The Islam of Umar ibn Al-Khattab, may God be pleased with him11. And among the virtues of Omar bin Al-Khattab from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik, on the authority of his sheikhs other than Abd Allah bin Ahmed, and from the hadith of Abu Bakr bin Malik.12. The virtue of Othman bin Affan, may God be pleased with him13. And from the merits of Othman, from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik on the authority of his sheikhs except for Abdullah bin Ahmad14. The news of the Prince of the Believers, Ali bin Abi Talib, and his asceticism, may God be pleased with him15. His mother's name and genealogy16. A merit upon me, peace be upon him17. And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah18. The Virtue of Abd al-Rahman ibn Awf, may God be pleased with him19. The Virtue of Az-Zubayr Bin Awwam, may God be pleased with him
20. Fadil Abi Ubaidah Ibn Al Jarrah, may God be pleased with him
21. Fadil Talha Bin Ubaid Allah, may God be pleased with him
22. Fadil Saad bin Abi Waqas, may God be pleased with him
23. Fadil Fatima, the daughter of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him
24. The virtues of good, and the good, may God be pleased with them.
25. The Virtues of Ansar, may God be pleased with them
26. The virtue of Khalid bin Al-Walid, may God have mercy on him
27. Fadil Saad bin Muadh, may God have mercy on him
28. Fadil Haritha Ibn Nu'man, may God be pleased with him
29. Fadil Suhaib, may God be pleased with him
30. The virtues of the Arabs
31. The virtue of Usama bin Zaid, may God be pleased with him
32. Fadil Abdullah bin Masoud, may God be pleased with him
33. Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with them
34. Virtues of Khadija and others
35. Fadil Ammar ibn Yasser, may God be pleased with him
36. Virtues 0 People of Yemen
37. Virtues of the family of the Mother of the Believers, may God be pleased with her, and other things among the people of Yemen
38. The virtues of the Banu Ghafar, and Islam and others
39. Fadil Jaafar ibn Abi Talib, may God be pleased with him
40. Fadil Jarir bin Abdullah, may God be pleased with him
41. Fadil Abdullah Bin Omar, may God be pleased with them
42. The virtues of a people of the Levant
43. The Virtue of the Companions of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him
44. The virtue of Amr ibn al-Aas, may God be pleased with him
45. The Virtues of Mu`awiyah Bin Abi Sufyan, may God be pleased with them
46. The virtues of Abu al-Fadl al-Abbas ibn Abd al-Muttalib, the uncle of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him
47. Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with him