Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

1,963 Hadith48 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ إِسْلَامُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 390

390 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ قثنا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ، يَعْنِي: الْعَنْقَزِيُّ، قثنا يُونُسُ، يَعْنِي: ابْنَ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ قَالَ: إِنِّي لَأَرَى هَلَاكَ عُمَرَ هَدَمَ ثُلُثَ الْإِسْلَامِ.

عمرو بن میمون ؑ نے فرمایا: میری رائے کے مطابق سیدنا عمررضی اللہ عنہ کی شہادت پر تہائی اسلام مٹ گیا ہے۔(4)

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The Islam of Umar ibn Al-Khattab, may God be pleased with him · Hadith 390

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ إِسْلَامُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 391

391 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ وَهُوَ الْقُرَشِيُّ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ قثنا عَاصِمٌ، عَنِ الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ قَالَ: سَارَ إِلَيْنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ سَبْعًا مِنَ الْمَدِينَةِ، فَصَعَدَ الْمِنْبَرَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّ غُلَامَ الْمُغِيرَةِ، أَبَا لُؤْلُؤَةَ، قَتَلَ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ عُمَرَ، قَالَ: فَضَجَّ النَّاسُ وَصَاحُوا وَاشْتَدَّ بُكَاؤُهُمْ، قَالَ: ثُمَّ قَالَ: إِنَّا اجْتَمَعْنَا أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَّرْنَا عَلَيْنَا عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ، وَلَمْ نَأْلُ خَيْرَنَا ذَا فُوقٍ

مسیب بن رافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عبدا للہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ساتویں شخص ہیں جو مدینہ منورہ سے ہمارے پاس تشریف لائے اور منبر پر جلوہ افروز ہوئے اللہ کی حمد و ثنا بیان کیپھر فرمایا : یقینا مغیرہ کے غلام ابولؤ لؤ نے سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا ہے راوی کہتے ہیں : لوگوں نے شور مچا دیا ، چیخنے اور زو ر زور سے روئے پھر فرمایا : ہم نبی کریم ﷺ کے صحابہ کرام جمع ہوئے اتفاق رائے سے سیدنا عثمان غنی کو خلیفہ بنایا جو (درجے کے لحاظ سے ) ہم سب سے اونچے تھے ۔ (1)

الْمُسَیِّبِ بْنِ رَافِعٍ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ قثنا عَاصِمٌ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ وَهُوَ الْقُرَشِيُّ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The Islam of Umar ibn Al-Khattab, may God be pleased with him · Hadith 391

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ إِسْلَامُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 392

392 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قثنا أَبُو هِشَامٍ مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الرِّفَاعِيُّ قثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ قُرَّةَ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي نَهِيكٍ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: أَبُو نَهِيكٍ اسْمُهُ الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ قَالَ حِينَ حُصِرَ عُثْمَانُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُبِضَ فَنَظَرَ الْمُسْلِمُونَ خَيْرَهُمْ فَاسْتَخْلَفُوهُ، وَهُوَ أَبُو بَكْرٍ، فَلَمَّا قُبِضَ أَبُو بَكْرٍ نَظَرَ الْمُسْلِمُونَ خَيْرَهُمْ فَاسْتَخْلَفُوهُ، وَهُوَ عُمَرُ، فَلَمَّا قُبِضَ عُمَرُ نَظَرَ الْمُسْلِمُونَ خَيْرَهُمْ فَاسْتَخْلَفُوهُ، وَهُوَ عُثْمَانُ، فَإِنْ قَتَلْتُمُوهُ فَهَاتُوا خَيْرًا مِنْهُ.

سالم بن عبداللہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ جب سیدنا عثمان محصور تھے اس وقت سیدنا عبد اللہ بن عمر نے فرمایا جب رسول اللہ ﷺ وفات پا گئے تو مسلمانوں کی نظروں میں جو سب سے بہتر تھا انہوں نے انکو خلیفہ بنایا اور وہ سیدنا ابو بکر تھے ۔ جب سیدنا ابو بکر فوت ہو گئے تو بھی مسلمانوں کو نظروں میں جو سب سے بہتر تھا اسکو خلیفہ بنایا اور وہ سیدنا عمر تھے جب سیدنا عمر شہید ہو گئے تو بھی مسلمانوں کی نظروں میں جو سب سے بہتر تھا اس کو خلیفہ بنایا اور وہ سیدنا عثمان تھے اب اگر تم انہیں شہید کرنا چاہتے ہو تو ان سے بہتر آدمی کو لے کرتو آؤ۔ (2)

حِينَ حُصِرَ عُثْمَانُ: ← أَبِيهِ أَنَّهُ ← سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← عَبْدُ اللَّهِ: أَبُو نَهِيكٍ اسْمُهُ الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← أَبِي نَهِيکٍ ← قُرَّۃُ بْنُ خَالِدٍ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The Islam of Umar ibn Al-Khattab, may God be pleased with him · Hadith 392

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ إِسْلَامُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 393

393 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى بْنِ مُعَاذِ بْنِ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ قَالَ: حَدَّثَنِي سَوَّارُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْعَنْبَرِيُّ قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، عَنْ أَخِيهِ الْمُثَنَّى بْنِ مُعَاذٍ قَالَ: حَدَّثَنِي حَيَّانُ النَّحْوِيُّ قَالَ: كَانَ لِي جَلِيسٌ يَذْكُرُ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ، فَأَنْهَاهُ فَيُغْرِي، فَأَقُومُ عَنْهُ، فَذَكَرَهُمَا يَوْمًا فَقُمْتُ عَنْهُ مُغْضَبًا، وَاغْتَمَمْتُ بِمَا سَمِعْتُ إِذْ لَمْ أَرُدَّ عَلَيْهِ الَّذِي يَنْبَغِي، فَنِمْتُ فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَنَامِي كَأَنَّهُ أَقْبَلَ وَمَعَهُ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ لِي جَلِيسًا يُؤْذِينِي فِي هَذَيْنِ، فَأَنْهَاهُ فَيُغْرِي يَزْدَادُ، فَالْتَفَتَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى رَجُلٍ قَرِيبٍ مِنْهُ فَقَالَ: «اذْهَبْ إِلَيْهِ فَاذْبَحْهُ» ، قَالَ: فَذَهَبَ الرَّجُلُ، وَأَصْبَحْتُ فَقُلْتُ: إِنَّهَا لَرُؤْيَا، لَوْ أَتَيْتُهُ فَأَخْبَرْتُهُ لَعَلَّهُ يَنْتَهِي، فَمَضَيْتُ أُرِيدُهُ، فَلَمَّا صِرْتُ قَرِيبًا مِنْ بَابِهِ إِذَا الصُّرَاخُ وَإِذَا بَوَارِيُّ مُلْقَاةٌ، فَقُلْتُ: مَا هَذَا؟ قَالُوا: فُلَانٌ طَرَقَتْهُ الذَّبْحَةُ فِي هَذِهِ اللَّيْلَةِ.

حیان نحوی سے روایت ہے کہ میرا ایک دوست جب میرے پاس بیٹھتا تو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا برے الفاظ میں تذکرہ کرتا ،میں اسکو منع کرتا تو وہ مجھ سے ناراض ہو جاتا چنانچہ میں اس کے پاس سے اٹھ جاتا، ایک دن پھر اس نے ان دونوں کا برے الفاظ میں تذکرہ کیا میں اس کے پاس سے غصہ میں اٹھا جو کچھ اس سے میں نے سنا اس پر مجھے پریشانی ہوئی کیونکہ وہ اسے وہ کچھ نہیں کہہ سکا جس کا وہ حق دار تھا پس میں سویا ، میں نے خواب نبی کریم ﷺ کی زیارت کی آپ ﷺ تشریف لارہے ہیں آپ ﷺ کے ساتھ سیدنا ابوبکر صدیق اور سیدنا عمر فاروق بھی ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺمیرا ایک دوست جو مجھے تکلیف دیتا ہے ان دونوں کا برے الفاظ میں تذکرہ کرنے سے جب منع کرتا ہوں تو وہ ناراض ہو جاتا ہے ۔رسول اللہ ﷺ نے اپنے پاس ایک شخص کو دیکھ کراسے ارشاد فرمایا : جاؤ اسکو ذبح کرو۔ راوی کہتا ہے وہ شخص چلا گیاصبح ہوئی میں نے کہا : یہ خواب میں جا کر اس دوست کو بتاتا ہوں شاید وہ باز آجائے میں اسکی طر ف نکلا ، جب اس کے دروازے کے پاس پہنچا تو رونے کی آوازیں سنائی دیں اور ایک چٹائی پھینکی ہوئی ہے میں نے کہا یہ کیاہے ؟ ؛لوگوں نےکہا : فلاں ہے جس کو آج رات ذبح کر دیا گیا ۔ (1)

حَيَّانُ النَّحْوِيُّ ← أَخِيهِ الْمُثَنَّى بْنِ مُعَاذٍ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، ← سَوَّارُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْعَنْبَرِيُّ، ← معاذ بن المثنى بن معاذ بن معاذ العنبري ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The Islam of Umar ibn Al-Khattab, may God be pleased with him · Hadith 393

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ إِسْلَامُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 394

394 - نا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى قثنا الْحُسَيْنُ بْنُ الْأَسْوَدِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُغِيرَةِ قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ السَّمَّانُ قَالَ: سَمِعْتُ رِضْوَانَ السَّمَّانَ قَالَ: كَانَ لِي جَارٌ فِي مَنْزِلِي وَسُوقِي وَكَانَ يَشْتِمُ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ، قَالَ: حَتَّى كَثُرَ الْكَلَامُ بَيْنِي وَبَيْنَهُ، حَتَّى إِذَا كَانَ ذَاتَ يَوْمٍ شَتَمَهُمَا وَأَنَا حَاضِرٌ، فَوَقَعَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ كَلَامٌ كَثِيرٌ حَتَّى تَنَاوَلَنِي وَتَنَاوَلْتُهُ، قَالَ: فَانْصَرَفْتُ إِلَى مَنْزِلِي وَأَنَا مَغْمُومٌ حَزِينٌ أَلُومُ نَفْسِي، قَالَ: فَنِمْتُ وَتَرَكْتُ الْعِشَاءَ مِنَ الْغَمِّ، قَالَ: فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَنَامِي مِنْ لَيْلَتِي، فَقُلْتُ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فُلَانٌ جَارِي فِي مَنْزِلِي وَفِي سُوقِي وَهُوَ يَسُبُّ أَصْحَابَكَ، فَقَالَ: «مَنْ أَصْحَابِي؟» فَقُلْتُ: أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خُذْ هَذِهِ الْمُدْيَةَ فَاذْبَحْهُ بِهَا» ، قَالَ: فَأَخَذْتُهُ فَأَضْجَعْتُهُ فَذَبَحْتُهُ، قَالَ: فَرَأَيْتُ كَأَنَّ يَدَيَّ قَدْ أَصَابَهَا مِنْ دَمِهِ، فَأَلْقَيْتُ الْمُدْيَةَ وَضَرَبْتُ بِيَدِيَّ إِلَى الْأَرْضِ فَمَسَحْتُهَا بِالْأَرْضِ، فَانْتَبَهْتُ وَأَنَا أَسْمَعُ الصُّرَاخَ مِنْ نَحْوِ الدَّارِ، فَقُلْتُ لِلْخَادِمِ: انْظُرْ مَا هَذَا الصُّرَاخُ؟ فَقَالَ: فُلَانٌ مَاتَ فَجْأَةً، فَلَمَّا أَصْبَحْنَا نَظَرْنَا إِلَى حَلْقِهِ فَإِذَا فِيهِ خَطُّ مَوْضِعِ الذَّبْحِ.

رضوان سمان سے روایت ہے کہ میرے گھر اور بازار کا ایک پڑوسی سیدنا ابو بکر صدیق اور سیدنا عمر فاروق کو(نعوذباللہ) برا بھلا ہتا تھا یہاں تک کہ میرے اور اس کے درمیان بحث طوالت اختیار کر گئی ہے،جب ایک دن اس نے (معاذ اللہ) تنقید کرنا شرو ع کی ۔ میں اس کے پاس تھا میرے اور اس کے درمیان گفتگو طول پکڑ گئی یہاں تک اس نے مجھے اور میں نے اس کو پکڑا۔ میں اپنے نفس کو ملامت کرتا ہوا غمزدگی کی حالت میں گھر لوٹ گیا ۔ میں زیادہ غم کی وجہ سے رات کا کھانا کھائے بغیر سو گیا ۔رات خواب میں رسول اللہ ﷺ کی زیارت ہوئی میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ فلاں میرے گھر اور بازار کا پڑوسی ہے وہ آپ ﷺ کے صحابہ کرام کو (نعوذباللہ) گالیاں دیتا ہے آپ نے ارشاد فرمایا یہ چھری پکڑکر اسے ذبح کر دو ۔ میں نے چھری لی اسکو لٹا کر ذبح کر دیا میں نے دیکھا کہ میرے ہاتھ پراس کا خون لگا ہے تو میں نے چھری پھینک دی اور اپنے ہاتھ کو زمین پر مارا کر رگڑا ، میں چونک گیا ،کیونکہ اس وقت میں اس گھر سے چیخیں سن رہا تھا میں نے خادم سے کہا ذرا جا کر دیکھو یہ چیخ کیسی ہے ؟ خادم نے کہا : فلاں آدمی اچانک مر گیا ہے جب صبح ہوئی تو ہم نے اسکی گرد ن کو دیکھا اس پر ذبح کی جگہ لکریں تھیں ۔ (2)

فَنِمْتُ وَتَرَكْتُ الْعِشَاءَ مِنَ الْغَمِّ، ← مَغْمُومٌ حَزِينٌ أَلُومُ نَفْسِي، ← فَانْصَرَفْتُ إِلَى مَنْزِلِي ← حَاضِرٌ، فَوَقَعَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ كَلَامٌ كَثِيرٌ حَتَّى تَنَاوَلَنِي وَتَنَاوَلْتُهُ، ← حَتَّى كَثُرَ الْكَلَامُ بَيْنِي وَبَيْنَهُ، حَتَّى إِذَا كَانَ ذَاتَ يَوْمٍ شَتَمَهُمَا ← كَانَ لِي جَارٌ فِي مَنْزِلِي وَسُوقِي وَكَانَ يَشْتِمُ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ، ← رِضْوَانَ السَّمَّانَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ السَّمَّانُ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ← مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى قثنا الْحُسَيْنُ بْنُ الْأَسْوَدِ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The Islam of Umar ibn Al-Khattab, may God be pleased with him · Hadith 394

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ إِسْلَامُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 395

395 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قثنا مُصْعَبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُصْعَبٍ الزُّبَيْرِيُّ قثنا ابْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ جَعَلَ الْحَقَّ عَلَى لِسَانِ عُمَرَ وَقَلْبِهِ» .

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : بلا شبہ اللہ عزوجل نے عمر کی زبان اور دل پر حق جاری کر دیا ہے ۔ (3)

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ،

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The Islam of Umar ibn Al-Khattab, may God be pleased with him · Hadith 395

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ إِسْلَامُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 396

396 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قثنا شُعْبَةُ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى قَالَ: تَدَارَوْا فِي أَمْرِ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ عُطَارِدَ: عُمَرُ أَفْضَلُ مِنْ أَبِي بَكْرٍ، فَقَالَ الْجَارُودُ: بَلْ أَبُو بَكْرٍ، أَبُو بَكْرٍ أَفْضَلُ مِنْهُ، قَالَ: فَبَلَغَ ذَلِكَ عُمَرَ، قَالَ: فَجَعَلَ ضَرْبًا بِالدِّرَّةِ حَتَّى شَغَرَ بِرِجْلَيْهِ، ثُمَّ أَقْبَلَ إِلَى الْجَارُودِ فَقَالَ: إِلَيْكَ عَنِّي، ثُمَّ قَالَ عُمَرُ: أَبُو بَكْرٍ كَانَ خَيْرَ النَّاسِ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي كَذَا وَكَذَا، قَالَ: ثُمَّ قَالَ عُمَرُ: مَنْ قَالَ غَيْرَ هَذَا أَقَمْنَا عَلَيْهِ مَا نُقِيمُ عَلَى الْمُفْتَرِي.

ابن ابی لیلیٰ ؑ سے روایت ہے کہ دو بندوں کے درمیان سیدنا ابو بکر اور سیدنا عمر کے بارے میں جھگڑا ہو گیا عطاردی شخص نے کہا : سیدنا عمر سیدنا ابو بکر سے افضل ہیں ۔ جارو دبن معلیٰ نے کہا نہیں بلکہ سیدنا ابو بکر افضل ہیں جب یہ بات سیدنا عمر کو پہنچی تو انہوں نے اس شخص کو کوڑے مارے یہاں تک کہ اسکا پاؤں زخمی ہو گیا۔ پھر جارود سے فرمایا تم مجھ سے دور ہو جاؤ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا نبی کریم ﷺ کے بعد فلاں فلاں بات میں سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ لوگوں میں سب سے بہتر ہیں ۔ پھر فرمانے لگے : اگر کسی شخص نے اسکے علاوہ کوئی بات کہی تو ہم افترا باندھنے والے پر حد قائم کریں گے۔ (1)

غَيْرَ هَذَا أَقَمْنَا عَلَيْهِ مَا نُقِيمُ عَلَى الْمُفْتَرِي. ← عُمَرُ: مَنْ ← ثُمَّ ← عُمَرُ: أَبُو بَكْرٍ كَانَ خَيْرَ النَّاسِ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ فِي كَذَا وَكَذَا، ← إِلَيْكَ عَنِّي، ثُمَّ ← فَجَعَلَ ضَرْبًا بِالدِّرَّةِ حَتَّى شَغَرَ بِرِجْلَيْهِ، ثُمَّ أَقْبَلَ إِلَى الْجَارُودِ ← فَبَلَغَ ذَلِكَ عُمَرَ، ← الْجَارُودُ: بَلْ أَبُو بَكْرٍ، أَبُو بَكْرٍ أَفْضَلُ مِنْهُ، ← رَجُلٌ مِنْ عُطَارِدَ: عُمَرُ أَفْضَلُ مِنْ أَبِي بَكْرٍ، ← تَدَارَوْا فِي أَمْرِ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ، ← ابْنِ أَبِي لَيْلَی ← حُصَيْنٍ ← أبي قثنا محمد بن جعفر قثنا شعبة ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The Islam of Umar ibn Al-Khattab, may God be pleased with him · Hadith 396

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ إِسْلَامُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 397

397 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ قثنا هَارُونُ بْنُ سَلْمَانَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيًّا يَقُولُ: خَيْرُ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ نَبِيِّهَا أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ، وَلَوْ شِئْتُ أَنْ أُسَمِّيَ الثَّالِثَ.

عمرو بن حریث سے روایت ہے کہ میں نے سیدنا علی المرتضیٰ سے سنا وہ فرما رہے تھے : اس امت میں نبی کریم ﷺ کے بعد سب سے افضل سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ اور پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ہیں اگر میں چاہوں تو تیسرے شخص کا بھی نام لے سکتا ہوں ۔ (2)

عَلِيًّا ← عَمْرَو بْنَ حُرَيْثٍ ← أَبِي، قثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ قثنا هَارُونُ بْنُ سَلْمَانَ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The Islam of Umar ibn Al-Khattab, may God be pleased with him · Hadith 397

Hassan

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ إِسْلَامُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 398

398 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو الْفَضْلِ الْخُرَاسَانِيُّ قثنا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ قثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُحَارِبِيُّ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْفَرَّاءِ مَوْلَى عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ قثنا عَمْرُو بْنُ حُرَيْثٍ قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيًّا وَهُوَ يَخْطُبُ عَلَى الْمِنْبَرِ وَهُوَ يَقُولُ: أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ نَبِيِّهَا أَبُو بَكْرٍ، أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِالثَّانِي؟ فَإِنَّ الثَّانِيَ عُمَرُ.

عمر و بن حریث سے روایت ہے کہ میں نے سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کو برسر منبر خطبہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : کیا میں تمہیں خبرنہ دوں کہ اس امت میں نبی کریم ﷺ کے بعد سب سے افضل شخص سید نا ابو بکر رضی اللہ عنہ ہیں ، کیا میں تمہیں دوسرے کی بھی خبر نہ دو ں؟ دوسرے (بہترین شخص ) سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ہیں ۔(1)

أَبِي مُوسَى الْفَرَّاءِ مَوْلَى عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ قثنا عَمْرُو بْنُ حُرَيْثٍ ← أَبُو الْفَضْلِ الْخُرَاسَانِيُّ قثنا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ قثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُحَارِبِيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The Islam of Umar ibn Al-Khattab, may God be pleased with him · Hadith 398

Hassan

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ إِسْلَامُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 399

399 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ لُوَيْنٌ، قَالَا: نا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ - وَهَذَا لَفْظُ الْقَوَارِيرِيِّ - قثنا عَاصِمٌ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ قَالَ: خَطَبَنَا عَلِيٌّ يَوْمًا فَقَالَ: أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ نَبِيِّهَا؟ أَبُو بَكْرٍ، ثُمَّ قَالَ: أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ نَبِيِّهَا، وَبَعْدَ أَبِي بَكْرٍ؟ عُمَرُ.

سیدنا ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دن سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے دوران خطبہ ارشاد فرمایا: کیا میں تمہیں اس امت میں نبی کریم ﷺ کے بعد سب سے افضل آدمی کے بارے میں خبر دوں ؟ وہ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ ہیں ۔ کیا میں تمہیں اس امت میں نبی کریم ﷺ اور سیدناابو بکر رضی اللہ عنہ کے بعد سب سے افضل آدمی کے بارے میں خبر دوں؟ وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ہیں ۔(2)

أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ نَبِيِّهَا أَبُو بَكْرٍ ثُمَّ ← خَطَبَنَا عَلِيٌّ يَوْمًا ← أَبِي جُحَيْفَةَ ← زِرٍّ ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ وَهَذَا لَفْظُ الْقَوَارِيرِيِّ قثنا عَاصِمٌ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ لُوَيْنٌ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The Islam of Umar ibn Al-Khattab, may God be pleased with him · Hadith 399

Hassan

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ إِسْلَامُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 400

400 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَلِيٍّ الْمُقَدَّمِيُّ قثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ.

سیدنا ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو اسی طرح کہتے ہوئے سنا ہے ۔ (3)

عَلِيٍّ فَذَكَرَ مِثْلَهُ ← أَبِي جُحَيْفَةَ ← زِرٍّ ← عَاصِمٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَلِيٍّ الْمُقَدَّمِيُّ قثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The Islam of Umar ibn Al-Khattab, may God be pleased with him · Hadith 400

Hassan

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ إِسْلَامُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 401

401 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو حُمَيْدٍ الْحِمْصِيُّ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، نا مُعَاوِيَةُ، يَعْنِي: أَبُو حَفْصٍ الشَّعْبِيُّ، نا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سُوقَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: كُنَّا نَعُدُّ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، وَعُثْمَانُ، ثُمَّ نَسَكْتُ "

سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نبی کریم رضی اللہ عنہ کے زمانہ ہی سے یہ کہا کرتے تھے : سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ افضل ہیں پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ پھر ہم خاموش ہو جاتے ۔ (4)

كُنَّا نَعُدُّ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ أَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، وَعُثْمَانُ، ثُمَّ نَسَكْتُ ← ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ سُوقَةَ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← مُعَاوِيَةُ، يَعْنِي: أَبُو حَفْصٍ الشَّعْبِيُّ، ← أَبُو حُمَيْدٍ الْحِمْصِيُّ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The Islam of Umar ibn Al-Khattab, may God be pleased with him · Hadith 401

Hassan

chevron_left Previous
1234…10
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door2. He was asked about the virtues of Abu, the first-born of al-Siddiq, the mercy and pleasure of God be upon him3. He was asked about the words of Ali ibn Abi Talib and others: The best of this nation after its prophet Abu Bakr and Omar4. His saying, may God’s prayers and peace be upon him: “If I had taken people as a friend, I would not have taken a virgin father as a friend5. He, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Pass a virgin father, let him pray to the people.”6. The remainder of his saying: “Show a first-born father who prays to people.”7. It was not narrated that Abu Bakr was the first to become Muslim8. It was not narrated that a virgin father came to ask permission, so the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Permit him, and give him good tidings of paradise.”9. The Virtue of the Commander of the Believers, Omar Ibn Al-Khattab, may God be pleased with him10. The Islam of Umar ibn Al-Khattab, may God be pleased with him11. And among the virtues of Omar bin Al-Khattab from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik, on the authority of his sheikhs other than Abd Allah bin Ahmed, and from the hadith of Abu Bakr bin Malik.12. The virtue of Othman bin Affan, may God be pleased with him13. And from the merits of Othman, from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik on the authority of his sheikhs except for Abdullah bin Ahmad14. The news of the Prince of the Believers, Ali bin Abi Talib, and his asceticism, may God be pleased with him15. His mother's name and genealogy16. A merit upon me, peace be upon him17. And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah18. The Virtue of Abd al-Rahman ibn Awf, may God be pleased with him19. The Virtue of Az-Zubayr Bin Awwam, may God be pleased with him
20. Fadil Abi Ubaidah Ibn Al Jarrah, may God be pleased with him
21. Fadil Talha Bin Ubaid Allah, may God be pleased with him
22. Fadil Saad bin Abi Waqas, may God be pleased with him
23. Fadil Fatima, the daughter of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him
24. The virtues of good, and the good, may God be pleased with them.
25. The Virtues of Ansar, may God be pleased with them
26. The virtue of Khalid bin Al-Walid, may God have mercy on him
27. Fadil Saad bin Muadh, may God have mercy on him
28. Fadil Haritha Ibn Nu'man, may God be pleased with him
29. Fadil Suhaib, may God be pleased with him
30. The virtues of the Arabs
31. The virtue of Usama bin Zaid, may God be pleased with him
32. Fadil Abdullah bin Masoud, may God be pleased with him
33. Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with them
34. Virtues of Khadija and others
35. Fadil Ammar ibn Yasser, may God be pleased with him
36. Virtues 0 People of Yemen
37. Virtues of the family of the Mother of the Believers, may God be pleased with her, and other things among the people of Yemen
38. The virtues of the Banu Ghafar, and Islam and others
39. Fadil Jaafar ibn Abi Talib, may God be pleased with him
40. Fadil Jarir bin Abdullah, may God be pleased with him
41. Fadil Abdullah Bin Omar, may God be pleased with them
42. The virtues of a people of the Levant
43. The Virtue of the Companions of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him
44. The virtue of Amr ibn al-Aas, may God be pleased with him
45. The Virtues of Mu`awiyah Bin Abi Sufyan, may God be pleased with them
46. The virtues of Abu al-Fadl al-Abbas ibn Abd al-Muttalib, the uncle of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him
47. Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with him