فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ إِسْلَامُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 378
378 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا عَتَّابُ بْنُ زِيَادٍ قثنا عَبْدُ اللَّهِ، يَعْنِي: ابْنَ الْمُبَارَكِ، قثنا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ قَالَ: سَمِعْتُ نَافِعًا مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ يَقُولُ: أَصَابَ النَّاسُ فَتْحًا بِالشَّامِ، فِيهِمْ بِلَالٌ، وَأَظُنُّهُ ذَكَرَ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ، فَكَتَبُوا إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ: إِنَّ هَذَا الْفَيْءَ الَّذِي أَصَبْنَا لَكَ خُمُسُهُ، وَلَنَا مَا بَقِيَ لَيْسَ لِأَحَدٍ فِيهِ شَيْءٌ، كَمَا صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحُنَيْنٍ، فَكَتَبَ عُمَرُ: إِنَّهُ لَيْسَ عَلَى مَا قُلْتُمْ، وَلَكِنِّي أَقِفُهَا لِلْمُسْلِمِينَ، فَرَاجَعُوهُ الْكِتَابَ، وَرَاجَعَهُمْ، يَأْبَوْنَ وَيَأْبَى، فَلَمَّا أَبَوْا قَامَ عُمَرُ فَدَعَا عَلَيْهِمْ فَقَالَ: اللَّهُمَّ اكْفِنِي بِلَالًا وَأَصْحَابَ بِلَالٍ، فَمَا حَالَ الْحَوْلُ عَلَيْهِمْ حَتَّى مَاتُوا جَمِيعًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ.
نافع ؑ سے روایت ہے کہ لوگ شام میں فتح یاب ہوئے ان میں سیدنا بلال بھی تھے ۔ میرا خیال ہے کہ سیدنا معاذبن جبل بھی تھے انہوں نے سیدنا عمر کو لکھ بھیجا کہ اس مال غنیمت میں سے آپ کو پانچوا ں حصہ ملے گا باقی سب ہمارے حصہ میں آئے گا۔ اور کسی انسان کا اس میں حق نہیں ہے جس طرح نبی کریم ﷺ نے جنگ حنین کے موقع پر تقسیم کیا تھا ۔سیدنا عمر نے فرمایا آپ لوگوں کا کوئی حصہ نہیں ہے ۔ یہ مال سب مسلمانوں کا ہے دونوں گروہوں کے درمیان خط و کتابت کا سلسلہ جاری ہوا جب انکا انکار شدت اختیار کر گیا تو عمر نے دعا فرمائی ! اے اللہ مجھے بلال اور اس کے ساتھیوں سے نجات دے آئندہ سال ابھی نہیں آیا تھا کہ وہ سب فوت ہو گئے ۔ (رضی اللہ عنہم )۔(3)
Hadith 378
