Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

1,963 Hadith48 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ إِسْلَامُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 474

474 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سُفْيَانَ، نا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، نا زَائِدَةُ قَالَ: قَالَ مَنْصُورٌ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ يَوْمٍ إِلَّا هُوَ شَرٌّ مِنَ الَّذِي قَبْلَهُ، وَكَذَلِكَ الْآخِرُ فَالْآخِرُ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: قَدْ كَانَ عَامُ أَوَّلٍ فِيكُمْ عُمَرُ فَأَزْوَى الْعَامُ فِيكُمْ مِثْلَ عُمَرَ.

منصور سے روایت ہے کہ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہر آنے والا دن گزشتہ دن سے بدتر ہے اسی طرح روزبہ روز چنانچہ پچھلے سال سیدنا عمر تم میں تھے پس اس سال نے سیدنا عمر جیسی ہستی کو تم سے شکار کر لیا ہے۔ (5)

مَنْصُورٌ، ← زَائِدَۃَ، ← مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ← هَارُونَ بْنَ سُفْيَانَ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The Islam of Umar ibn Al-Khattab, may God be pleased with him · Hadith 474

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ إِسْلَامُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 475

475 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سُفْيَانَ قثنا مُعَاوِيَةُ، يَعْنِي: ابْنَ عَمْرٍو، قَالَ نا زَائِدَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ قَالَ: كَانَ عَبْدُ اللَّهِ يَقُولُ: إِذَا ذُكِرَ الصَّالِحُونَ فَحَيَّ هَلَا بِعُمَرَ، وَلَوَدِدْتُ أَنِّي خَادِمٌ لِمِثْلِ عُمَرَ حَتَّى أَمُوتَ.

منصور عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا جب صالحین کا ذکر خیر ہوگا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ان کے سرخیل ہیں ۔ میری تمنا یہ ہے کہ مرتے دم تک سیدنا عمر جیسی ہستی کا خادم رہوں ۔ (6)

الصَّالِحُونَ فَحَيَّ هَلَا بِعُمَرَ، وَلَوَدِدْتُ أَنِّي خَادِمٌ لِمِثْلِ عُمَرَ حَتَّى أَمُوتَ. ← «إِذَا ← كَانَ عَبْدُ اللهِ ← مَنْصُورٌ، ← زَائِدَۃَ، ← هَارُونُ بْنُ سُفْيَانَ قثنا مُعَاوِيَةُ، يَعْنِي: ابْنَ عَمْرٍو، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The Islam of Umar ibn Al-Khattab, may God be pleased with him · Hadith 475

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ إِسْلَامُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 476

476 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْوَرْكَانِيُّ قَالَ: أنا أَبُو مَعْشَرٍ نَجِيحٌ الْمَدَنِيُّ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: وُضِعَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ بَيْنَ الْمِنْبَرِ وَالْقَبْرِ فَجَاءَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ حَتَّى قَامَ بَيْنَ يَدَيِ الصُّفُوفِ فَقَالَ: هُوَ ذَا، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ قَالَ: رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْكَ، مَا مِنْ خَلْقِ اللَّهِ أَحَدٌ أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَلْقَاهُ بِصَحِيفَتِهِ، بَعْدَ صَحِيفَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِنْ هَذَا الْمُسَجَّى عَلَيْهِ ثَوْبُهُ.

سیدنا عبداللہ بن عمر سے روایت ہے کہ سیدنا عمر کا جسد اطہر منبر اور قبر کے درمیانی مقام میں رکھا گیا ، اتنے میں سیدنا علی بن ابی طالب تشریف لائے وہ صفوں کے درمیان کھڑے ہوئے اور فرمایا : یہ وہ شخص ہے تین مرتبہ یہ بات دہرائی پھر فرمایا نبی کریم ﷺ کے دیدار کے بعد مخلوق خدا میں جن جن کی زیارت کرنے کا مجھے موقع ملا ہے یہ کپڑے میں ڈھکا ہوا شخص ان سب سے مجھے محبوب تر ہے ۔ (1)

هُوَ ذَا، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ ← الْقَبْرِ فَجَاءَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ حَتَّى قَامَ بَيْنَ يَدَيِ الصُّفُوفِ ← وُضِعَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، بَيْنَ الْمِنْبَرِ ← ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← أَبُو مَعْشَرٍ نَجِيحٌ الْمَدَنِيُّ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْوَرَکَانِيُّ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The Islam of Umar ibn Al-Khattab, may God be pleased with him · Hadith 476

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ إِسْلَامُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 477

477 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: ثنا أَبِي، قثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ أنا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ عَلِيٍّ أَنَّهُ قَالَ يَوْمَ الْجَمَلِ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَعْهَدْ إِلَيْنَا عَهْدًا نَأْخُذُ بِهِ فِي إِمَارَةٍ، وَلَكِنَّهُ شَيْءٌ رَأَيْنَاهُ مِنْ قِبَلِ أَنْفُسِنَا، ثُمَّ اسْتُخْلِفَ أَبُو بَكْرٍ، رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَى أَبِي بَكْرٍ، فَأَقَامَ وَاسْتَقَامَ، ثُمَّ اسْتُخْلِفَ عُمَرُ، رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَى عُمَرَ، فَأَقَامَ وَاسْتَقَامَ، حَتَّى ضَرَبَ الدِّينُ بِجِرَانِهِ.

ایک شخص سیدنا علی سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے جنگ جمل کے موقع پر فرمایا : امارت و خلافت کے حوالے سے اللہ کے رسول ﷺ نے ہم سے کوئی وصیت نہیں فرمائی جسے ہم امر خلافت میں لیں البتہ خلیفہ کا تقرر ہم اپنی رائے سے کرتے ہیں پھر سیدنا ابو بکر صدیق خلیفہ بنے ان پر اللہ کی رحمت ہو وہ خود بھی حق پر قائم ہے ۔ دوسروں کو بھی قائم رکھا ان کے بعد سیدنا عمر خلیفہ بنے ان پر اللہ کی رحمت ہو وہ خود بھی (حق پر ) قائم رہے اور دوسروں کو بھی قائم رکھا یہاں تک دین نے زمین پر اپنے قدم جما لیے ۔ (2)

يَوْمَ الْجَمَلِ ← عَلِیٍّ اَنَّہٗ ← رَجُلٌ: ← الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، ← سُفْيَانَ، ← أَبِي، قثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The Islam of Umar ibn Al-Khattab, may God be pleased with him · Hadith 477

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ إِسْلَامُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 478

478 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ مَوْلَى الرَّبْعِيِّ، عَنْ رِبْعِيٍّ، عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «إِنِّي لَا أَدْرِي مَا قَدْرُ بَقَائِي فِيكُمْ، فَاقْتَدُوا بِاللَّذَيْنِ مِنْ بَعْدِي» ، وَأَشَارَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ.

سیدنا حذیفہ سے روایت ہے کہ ہم نے نبی کریم ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے آپ ﷺ نے فرمایا میں نہیں جانتا کہ تم میں میری زندگی کے کتنے دن باقی رہ گئے ہیں ؟ پھر سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر فاروق کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا میرے بعد تم انکی پیروی کرنا ۔ (3)

كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ النَّبِيِّ ← حُذَيْفَةَ ← رِبْعِيٍّ ← مولى الربعِي، ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← سُفْيَانَ، ← أَبِي، قثنا وَكِيعٌ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The Islam of Umar ibn Al-Khattab, may God be pleased with him · Hadith 478

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ إِسْلَامُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 479

479 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ هُوَ الطَّنَافِسِيُّ، قثنا سَالِمٌ الْمُرَادِيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ هَرِمٍ الْأَزْدِيِّ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ، وَرِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: بَيْنَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ قَالَ: «إِنِّي لَسْتُ أَدْرِي مَا قَدْرُ بَقَائِي فِيكُمْ، فَاقْتَدُوا بِاللَّذَيْنِ مِنْ بَعْدِي» ، يُشِيرُ إِلَى أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ.

سیدنا حذیفہ سے روایت ہے کہ ہم نے نبی کریم ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے آپ ﷺ نے فرمایا میں نہیں جانتا کہ تم میں میری زندگی کے کتنے دن باقی رہ گئے ہیں ؟ پھر سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر فاروق کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا میرے بعد تم انکی پیروی کرنا ۔ (4)

بَيْنَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ إِذْ ← حُذَيْفَةَ ← أَبِي عَبْدِ اللَّهِ، وَرِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، ← عَمْرِو بْنِ هَرِمٍ الْأَزْدِيِّ، ← أَبِي، قثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ هُوَ الطَّنَافِسِيُّ، قثنا سَالِمٌ الْمُرَادِيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The Islam of Umar ibn Al-Khattab, may God be pleased with him · Hadith 479

Hassan

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ إِسْلَامُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 480

480 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، نا أَبِي، قثنا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ قَالَ: حَدَّثَنِي حُسَيْنٌ، هُوَ ابْنُ وَاقِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ أَمَةً سَوْدَاءَ أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَجَعَ مِنْ بَعْضِ مَغَازِيهِ، فَقَالَتْ: إِنِّي كُنْتُ نَذَرْتُ إِنْ رَدَّكَ اللَّهُ أَنْ أَضْرِبَ عِنْدَكَ بِالدُّفِّ، قَالَ: «إِنْ كُنْتِ فَعَلْتِ فَافْعَلِي، وَإِنْ كُنْتِ لَمْ تَفْعَلِي فَلَا تَفْعَلِي» ، فَضَرَبَتْ فَدَخَلَ أَبُو بَكْرٍ وَهِيَ تَضْرِبُ، وَدَخَلَ غَيْرُهُ وَهِيَ تَضْرِبُ، وَدَخَلَ عُمَرُ، قَالَ: فَجَعَلَتْ دُفَّهَا خَلْفَهَا، وَهِيَ مُقَنَّعَةٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الشَّيْطَانَ لَيَفْرَقُ مِنْكَ يَا عُمَرُ، أَنَا جَالِسٌ هَاهُنَا وَدَخَلَ هَؤُلَاءِ فَلَمَّا أَنْ دَخَلْتَ فَعَلَتْ مَا فَعَلَتْ» .

سیدنا عبداللہ بن بریدہ رضی اللہ عنہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کسی غزوے سے پلٹے تھے کہ ایک سیاہ فام لونڈی آپ ﷺ کے پاس آکر کہنےلگی یا رسول اللہ ﷺ میں نے نذر مانی تھی اگر اللہ آپ کو با سلامت لوٹا دے تو میں آپ کے پاس دف بجاؤں گی ۔ آپ ﷺ نے فرمایا تیری مرضی اگر نجانا چاہتی ہے تو بجا اگر نہیں پو پھر نہیں اس لونڈی نے دف بجانا شرو ع کیا ۔ سیدنا ابو بکر آئے وہ بجاتی رہی اور لوگ آئے تب بھی بجاتی رہی جب سیدنا عمر آئے تو اس نے اپنی دف پیچھے کر لی اور خود چھپنے لگی تب آپ ﷺ نے فرمایا اے عمر شیطان تجھ سے بھاگتا ہے حالانکہ میں بھی یہاں تک یہ لوگ بھی آئے مگر جب تم آئے ہو تو اس لونڈی نے بس اتنے ہی کام پر اکتفا کیا جو وہ کر بیٹھی تھی ۔ (1)

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ← حُسَيْنٌ، هُوَ ابْنُ وَاقِدٍ، ← أَبِي، قثنا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The Islam of Umar ibn Al-Khattab, may God be pleased with him · Hadith 480

Hassan

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ إِسْلَامُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 481

481 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، نَا أَبُو النَّضْرِ هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، نا الْمُبَارَكُ، يَعْنِي: ابْنَ فَضَالَةَ، قثنا أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ، عَنْ رَبِيعَةَ الْأَسْلَمِيِّ قَالَ: كُنْتُ أَخْدُمُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَقَالَ فِي آخِرِهِ: ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطَانِي بَعْدَ ذَلِكَ أَرْضًا، وَأَعْطَى أَبَا بَكْرٍ أَرْضًا، وَجَاءَتِ الدُّنْيَا فَاخْتَلَفْنَا فِي عِذْقِ نَخْلَةٍ، فَقُلْتُ أَنَا: هِيَ فِي جَدِّي، وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: هِيَ فِي جَدِّي، فَكَانَ بَيْنِي وَبَيْنَ أَبِي بَكْرٍ كَلَامٌ، فَقَالَ لِي أَبُو بَكْرٍ كَلِمَةً كَرِهَهَا وَنَدِمَ عَلَيْهَا، وَقَالَ لِي: يَا رَبِيعَةُ، رُدَّ عَلَيَّ مِثْلَهَا، حَتَّى يَكُونَ قِصَاصًا، فَقُلْتُ: مَا أَنَا بِفَاعِلٍ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: لَتَقُولَنَّ أَوْ لَأَسْتَعْدِيَنَّ عَلَيْكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: مَا أَنَا بِفَاعِلٍ، قَالَ: وَرَفَضَ الْأَرْضَ، وَانْطَلَقَ أَبُو بَكْرٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَانْطَلَقْتُ أَتْلُوهُ، فَجَاءَ نَاسٌ مِنْ أَسْلَمَ فَقَالُوا لِي: رَحِمَ اللَّهُ أَبَا بَكْرٍ، فِي أَيِّ شَيْءٍ يَسْتَعْدِي عَلَيْكَ رَسُولَ اللَّهِ وَهُوَ الَّذِي قَالَ لَكَ مَا قَالَ؟ قَالَ: فَقُلْتُ: أَتَدْرُونَ مَا هَذَا؟ هَذَا أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ، هَذَا ثَانِيَ اثْنَيْنِ، وَهُوَ ذُو شَيْبَةِ الْمُسْلِمِينَ، أَتَاكُمْ لَا يَلْتَفِتُ فَيَرَاكُمْ تَنْصُرُونِي عَلَيْهِ فَيَغْضَبَ فَيَأْتِيَ رَسُولَ اللَّهِ فَيَغْضَبَ لِغَضَبِهِ، فَيَغْضَبَ اللَّهُ لِغَضَبِهِمَا، فَتَهْلِكَ رَبِيعَةُ، قَالَ: مَا تَأْمُرُنَا؟ قَالَ: ارْجِعُوا، وَانْطَلَقَ أَبُو بَكْرٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَتَبِعْتُهُ وَحْدِي، حَتَّى أَتَى رَسُولَ اللَّهِ فَحَدَّثَهُ الْحَدِيثَ كَمَا كَانَ، فَرَفَعَ إِلَيَّ رَأْسَهُ فَقَالَ: «يَا رَبِيعَةُ، مَا لَكَ وَلِلصِّدِّيقِ؟» قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَانَ كَذَا وَكَذَا، قَالَ لِي كَلِمَةً كَرِهَهَا، فَقَالَ لِي: قُلْ كَمَا قُلْتُ؛ حَتَّى يَكُونَ قِصَاصًا، فَأَبَيْتُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَجَلْ، فَلَا تُرَدَّ عَلَيْهِ، وَلَكِنْ قُلْ: غَفَرَ اللَّهُ لَكَ يَا أَبَا بَكْرٍ "، فَقُلْتُ: غَفَرَ اللَّهُ لَكَ يَا أَبَا بَكْرٍ، قَالَ الْحَسَنُ: فَوَلَّى أَبُو بَكْرٍ وَهُوَ يَبْكِي.

سیدنا ربیعہ اسلمی سے روایت ہے کہ میں نبی کریم ﷺ کی خدمت کرتا تھا ۔ پس آپ ﷺ نے مجھے ایک حصہ زمین عطا فرمائی پھر سیدنا ابو بکر کو بھی آپ ﷺ نے زمین کا ٹکڑا عطا کیا کچھ عرصہ بعد ہمارے درمیان پھل دار کھجور کے درخت کے بارے میں اختلاف ہوا ۔ میں نے کہا یہ میرے حصہ میں ہے ۔ سیدنا ابو بکر صدیق نے کہا یہ میرے حصے میں ہے ۔میرے اور سیدنا ابو بکر کے درمیان بات بڑھ گئی سیدنا ابو بکر نے مجھے ایک ایسا کلمہ کہہ ڈالا جسے خود ہی ناپسند سمجھا مجھ سے کہا ربیعہ ! بطور بدلہ تم بھی مجھے یہی کلمہ کہو میں نے کہا میں ایسا نہیں کرسکتا سیدنا ابو بکر صدیق نے کہا تجھے ضرور کہنا پڑے گا یا پھر میں آپ ﷺ کو تمہاری شکایت کروں گا میں نے کہا میں ایسا نہیں کر سکتا سیدنا ابو بکر صدیق زمین چھوڑ کر نبی کریم ﷺ کی جانب چل دیے اور میں بھی آپ رضی اللہ عنہ کے پیچھے پیچھے چل پڑا (راستے میں ) قبیلہ نبی اسلم کے کچھ لوگ ملے مجھے کہا اللہ سیدنا ابو بکر پر رحم کر ے وہ کس بات پر آپ کی شکایت لے کر نبی کریم ﷺ کے پاس گئے ہیں حالانکہ انہوں نے ہی تو بات کی ہے ؟ میں نے کہا کیا تم لوگ جانتے ہو یہ کون ہیں ۔ یہ آپ ﷺ کے رفیق غار ہیں اور مسلمانوں کے بزرگ وار ہیں خبردار !اگر ان کو پتا چل گیا کہ تم لوگ میرے طرف دار ہو تو وہ ناراض ہو کر نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو جائیں گے۔ اور انکی ناراضگی کی وجہ سے نبی کریم ﷺ بھی ناراض ہو جائیں گے۔ ان دونوں کی ناراضگی میرے لیے اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا سبب بنے گا پھر ربیعہ ( یعنی میں ) تو ہلاک ہو جائے گا ان لوگوں نے کہا پھر ہمیں کیا حکم ہے ؟ میں نے کہا تم لوگ چلے جاؤ۔ چنانچہ سیدنا ابو بکر آپ ﷺ کے پاس گئے میں اکیلا ان کے پیچھے چلا گیا یہاں تک کہ رسول اللہ کی خدمت میں حاضر ہو گیا سیدنا ابو بکر نے باس جس طرح ہوئی تھی ساری بیان کر دی تو آپ ﷺ نے میری طرف رخ انور اٹھا کر فرمایا ربیعہ ! آپ کا اور صدیق کا کیا معاملہ ہے ؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ایسے ایسے بات ہوئی ہے کہ انہوں نے مجھے ایک ایسا کلمہ کہہ دیا ہے جو انہیں نا پسند ہوا پھر مجھے فرمایا کہ تو بھی یہی کلمہ تاکہ ادلے کا بدلہ ہو جائے پس میں نہ مانا آپ ﷺ نے فرمایا تم نے درست کیا پس تو انہیں وہی کلمہ نہ کہہ لیکن اس کی جگہ یہ کہہ دے اے ابو بکر اللہ تجھے معاف کرے چنانچہ میں نے کہا اے ابو بکر اللہ آپ سے درگزر کرے راوی حسن کہتے ہیں سیدنا ابو بکر وہاں سے روتے روتے چلے گئ۔(1)

كُنْتُ أَخْدُمُ رَسُولَ اللَّهِ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَقَالَ فِي آخِرِهِ: ثُمَّ ← رَبِيعَةَ الْأَسْلَمِيِّ، ← الْمُبَارَكُ، يَعْنِي: ابْنَ فَضَالَةَ، قثنا أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ، ← أَبُو النَّضْرِ هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The Islam of Umar ibn Al-Khattab, may God be pleased with him · Hadith 481

Sahih

chevron_left Previous
1…78910
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door2. He was asked about the virtues of Abu, the first-born of al-Siddiq, the mercy and pleasure of God be upon him3. He was asked about the words of Ali ibn Abi Talib and others: The best of this nation after its prophet Abu Bakr and Omar4. His saying, may God’s prayers and peace be upon him: “If I had taken people as a friend, I would not have taken a virgin father as a friend5. He, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Pass a virgin father, let him pray to the people.”6. The remainder of his saying: “Show a first-born father who prays to people.”7. It was not narrated that Abu Bakr was the first to become Muslim8. It was not narrated that a virgin father came to ask permission, so the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Permit him, and give him good tidings of paradise.”9. The Virtue of the Commander of the Believers, Omar Ibn Al-Khattab, may God be pleased with him10. The Islam of Umar ibn Al-Khattab, may God be pleased with him11. And among the virtues of Omar bin Al-Khattab from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik, on the authority of his sheikhs other than Abd Allah bin Ahmed, and from the hadith of Abu Bakr bin Malik.12. The virtue of Othman bin Affan, may God be pleased with him13. And from the merits of Othman, from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik on the authority of his sheikhs except for Abdullah bin Ahmad14. The news of the Prince of the Believers, Ali bin Abi Talib, and his asceticism, may God be pleased with him15. His mother's name and genealogy16. A merit upon me, peace be upon him17. And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah18. The Virtue of Abd al-Rahman ibn Awf, may God be pleased with him19. The Virtue of Az-Zubayr Bin Awwam, may God be pleased with him
20. Fadil Abi Ubaidah Ibn Al Jarrah, may God be pleased with him
21. Fadil Talha Bin Ubaid Allah, may God be pleased with him
22. Fadil Saad bin Abi Waqas, may God be pleased with him
23. Fadil Fatima, the daughter of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him
24. The virtues of good, and the good, may God be pleased with them.
25. The Virtues of Ansar, may God be pleased with them
26. The virtue of Khalid bin Al-Walid, may God have mercy on him
27. Fadil Saad bin Muadh, may God have mercy on him
28. Fadil Haritha Ibn Nu'man, may God be pleased with him
29. Fadil Suhaib, may God be pleased with him
30. The virtues of the Arabs
31. The virtue of Usama bin Zaid, may God be pleased with him
32. Fadil Abdullah bin Masoud, may God be pleased with him
33. Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with them
34. Virtues of Khadija and others
35. Fadil Ammar ibn Yasser, may God be pleased with him
36. Virtues 0 People of Yemen
37. Virtues of the family of the Mother of the Believers, may God be pleased with her, and other things among the people of Yemen
38. The virtues of the Banu Ghafar, and Islam and others
39. Fadil Jaafar ibn Abi Talib, may God be pleased with him
40. Fadil Jarir bin Abdullah, may God be pleased with him
41. Fadil Abdullah Bin Omar, may God be pleased with them
42. The virtues of a people of the Levant
43. The Virtue of the Companions of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him
44. The virtue of Amr ibn al-Aas, may God be pleased with him
45. The Virtues of Mu`awiyah Bin Abi Sufyan, may God be pleased with them
46. The virtues of Abu al-Fadl al-Abbas ibn Abd al-Muttalib, the uncle of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him
47. Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with him