Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

1,963 Hadith48 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 361

361 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ الْمَكِّيُّ قثنا سُفْيَانُ قَالَ: سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ، عَنْ بَعْضِ آلِ أَبِي رَبِيعَةَ، وَكَانَتْ أُمُّ كُلْثُومِ ابْنَةُ أَبِي بَكْرٍ عِنْدَهُمْ، قَالَ: وَذَكَرَ الْمُحَصَّبَ فَقَالَ: [البحر الطويل] جَزَى اللَّهُ خَيْرًا مِنْ أَمِيرٍ وَبَارَكَتْ ... يَدُ اللَّهِ فِي ذَاكَ الْأَدِيمِ الْمُمَزَّقِ فَمَنْ يَسْعَ أَوْ يَرْكَبْ جَنَاحَيْ نَعَامَةٍ ... لَيُدْرِكَ مَا قَدَّمْتَ بِالْأَمْسِ يُسْبَقِ قَضَيْتَ أُمُورًا ثُمَّ غَادَرْتَ بَعْدَهَا ... بَوَائِجَ فِي أَكْمَامِهَا لَمْ تُفَتَّقِ قَالَتْ عَائِشَةُ: فَنَحَلُوهُ الشَّمَّاخَ بْنَ ضِرَارٍ فَسَأَلُوهُ، فَقَالَ: مَا قُلْتُهُ

آل ربیعہ کے کسی آدمی کے پاس سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کی بیٹی سیدہ ام کلثوم رضی اللہ عنہا بیٹھی ہوئی تھیں۔ جب محصب کا تذکرہ ہوا تو وہ (آل ربیعہ کا آدمی ) کہنے لگا اللہ تعالیٰ اس خلیفہ کو خیراور برکت عطا کرے جس کے ساتھ پھٹے ہوئے چمڑوں میں اللہ تعالیٰ کا ہاتھ (مدد ) ہے۔ جو شخص گذشتہ کاموں کو پانے کےلیے شتر مرغ کے پروں پر سوار ہوتا تھا تو وہ سبقت لے جاتا تھا ۔ (اے خلیفہ) تم ان تمام کاموں کو پایہ تکمیل تک پہنچا کر وہاں سے نکل گئے اور ابھی ران کی رگ بھی نہیں پھٹی تھی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں لوگوں نے ان اشعار کی نسبت شماخ بن ضرار کی طرف کی ہے لیکن جب اس سے دریافت کیا گیا تو انہوں نے فرمایا : میں نے یہ بات نہیں کہی۔ (3)

كَانَتْ أُمُّ كُلْثُومِ ابْنَةُ أَبِي بَكْرٍ عِنْدَهُمْ، ← بَعْضِ آلِ أَبِي رَبِيعَةَ، ← الزُّهْرِيِّ، ← عَبْدُ اللَّهِ قثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ الْمَكِّيُّ قثنا سُفْيَانُ

Hadith 361

Hassan

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 362

362 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ قثنا أَبُو ضَمْرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُجَمِّعٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ إِبْرَاهِيمَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ أَخْبَرَهُ، عَنْ أُمِّ كُلْثُومٍ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: لَمَّا كَانَ آخِرُ حَجَّةٍ حَجَّهَا عُمَرُ حَجَّ أُمَّهَاتُ الْمُؤْمِنِينَ، فَلَمَّا صَدَرْنَا عَنْ مِنًى مَرُّوا بِالْمُحَصَّبِ، فَسَمِعْتُ رَجُلًا عَلَى رَاحِلَتِهِ يَقُولُ: أَيْنَ كَانَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ؟ فَسَمِعْتُ آخَرَ قَالَ: كَانَ هَاهُنَا كَانَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَتْ: فَأَنَاخَ رَاحِلَتَهُ ثُمَّ قَالَ: [البحر الطويل] عَلَيْكَ سَلَامٌ مِنْ إِمَامٍ وَبَارَكَتْ ... يَدُ اللَّهِ فِي ذَاكَ الْأَدِيمِ الْمُمَزَّقِ فَمَنْ يَسْعَ أَوْ يَرْكَبْ جَنَاحَيْ نَعَامَةٍ ... لَيُدْرِكَ مَا قَدَّمْتَ بِالْأَمْسِ يُسْبَقِ قَضَيْتَ أُمُورًا ثُمَّ غَادَرْتَ بَعْدَهَا ... بَوَائِجَ فِي أَكْمَامِهَا لَمْ يُفَتَّقِ قَالَتْ عَائِشَةُ: فَالْتُمِسَ ذَلِكَ الرَّاكِبُ، فَلَمْ يُقْدَرْ عَلَيْهِ، وَلَمْ يُدْرَ مَنْ هُوَ، فَكُنَّا نَتَحَدَّثُ أَنَّهُ مِنَ الْجِنِّ، قَالَ فَرَجَعَ عُمَرُ مِنْ ذَلِكَ الْحَجِّ فَطُعِنَ فَمَاتَ

سیدہ عائشہ سے روایت ہے کہ جب سیدنا عمر کا آخری حج تھا ، جس میں امہات المومنین بھی شریک تھیں جب ہم منیٰ سے لوٹ آئے اور ہماراگزر روادی محصب سے ہوا میں نے ایک آدمی کو سنا جو اپنی سواری پر بیٹھا کہہ رہا تھا امیر المومنین کہاں ہیں ؟ دوسرے نے کہا : وہ جہاں ہیں ، اس نے سواری بٹھا کر یہ اشعار پڑھے: اے امیر المومنین ! آپ پر اللہ کی سلامتی اور خیر کثیر ہو ۔ اللہ کا ہاتھ (مدد) ان پھٹے ہوئے چمڑوں کے ساتھ ہے پس وہ شخص جو گذشتہ کاموں کو حاصل کر نےکی غرض سے شتر مرغ کے پروں پر سوار ہوتا تھا وہ سبقت حاصل کرلیتا ہے (اے امیر المومنین) البتہ تمام امور کو آپ نے پورا کیا لوٹ گئے اور ابھی ران کی رگ پھٹی بھی نہیں تھی ۔سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں کافی جستجو کے باوجود یہ اشعار پڑھنے والا انسان نہ ملا ، پس ہم کہنے لگے : بلاشبہ وہ کوئی جن تھا جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اس حج سے واپس آتےتو انہیں نیزہ مارا گیا اور وہ شہید ہو گئے ۔ (1)

ابْنِ شِهَابٍ، ← إبْرَاهِيمُ بْنُ إسْمَاعِيلَ بْنِ مُجَمِّعٍ ← عَبْدُ اللَّهِ قثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ قثنا أَبُو ضَمْرَةَ،

Hadith 362

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 363

363 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ الْمَكِّيُّ قثنا سُفْيَانُ قَالَ: سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ يُحَدِّثُ هَذِهِ الْأَرْبَعَةَ أَحَادِيثَ، حَفِظْتُهَا كَمَا تَسْمَعُ وَلَمْ أَحْفَظْ إِسْنَادَهَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " رَأَيْتُ لِعُمَرَ أَرْبَعَةً: رُؤْيَا: رَأَيْتُ كَأَنِّي أُتِيتُ بِإِنَاءٍ فِيهِ لَبَنٌ فَشَرِبْتُ حَتَّى رَأَيْتُ الرِّيَّ يَخْرُجُ مِنْ أَنَامِلِي، ثُمَّ نَاوَلْتُ فَضْلِي عُمَرَ "، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَمَا أَوَّلْتَ ذَاكَ؟ قَالَ: «الْعِلْمُ» . «وَرَأَيْتُ كَأَنَّ أُمَّتِي عَلَيْهِمُ الْقُمُصُ إِلَى الثَّدْيِ وَإِلَى الرُّكَبِ، وَإِلَى الْكَعْبِ، وَمَرَّ عُمَرُ يَسْحَبُ قَمِيصًا» ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا أَوَّلْتَ ذَلِكَ؟ قَالَ: «الدِّينُ» . قَالَ: " وَدَخَلْتُ الْجَنَّةَ فَرَأَيْتُ فِيهَا قَصْرًا، أَوْ دَارًا، فَقُلْتُ: لِمَنْ هَذَا؟ قَالُوا: لِرَجُلٍ مِنْ قُرَيْشٍ، فَرَجَوْتُ أَنْ أَكُونَ أَنَا هُوَ، فَقِيلَ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، فَأَرَدْتُ أَنْ أَدْخُلَ فَذَكَرْتُ غَيْرَتَكَ يَا أَبَا حَفْصٍ "، فَبَكَى عُمَرُ وَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ: أَوَ يُغَارُ عَلَيْكَ؟ وَرَأَيْتُ كَأَنِّي وَرَدْتُ بِئْرًا فَوَرَدَ ابْنُ أَبِي قُحَافَةَ فَنَزَعَ ذَنُوبًا أَوْ ذَنُوبَيْنِ، وَنَزْعُهُ فِيهِ ضَعْفٌ وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَهُ، ثُمَّ وَرَدَهَا عُمَرُ فَاسْتَحَالَتِ الدَّلْوُ فِي يَدِهِ غَرْبًا، فَاسْتَقَى فَأَرْوَى الظَمِئَةَ وَضَرَبَ النَّاسَ بِعَطَنٍ، فَلَمْ أَرَ أَحَدًا مِنَ النَّاسِ، أَوْ قَالَ: عَبْقَرِيًّا: يَفْرِي فَرْيَهُ "

امام سفیان ؑ سے روایت ہے کہ میں نے امام زہری ؑ سے ان چار احادیث کو سند کے بغیر یاد کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : میں نے عمر کے متعلق چار دفعہ خواب دیکھا ہے۔ (1) مجھے دودھ کا پیالہ دیا گیا تو میں نے اس خوب پیا، یہاں تک کہ مجھے ناخنوں سے بہتا ہوا محسوس ہوا۔ پھر میں نے باقی بچا ہوا دودھ عمر کو دیا ،صحابہ کرام نے پوچھا : اس کی تعبیر کیا ہے ؟ فرمایا علم ۔(2)۔ میں نے اپنی امت کو دیکھا ، کچھ کی قمیص چھاتی تک ، کچھ کی گھٹنوں تک اور کچھ کی قیمص ٹخنوں تک ہے مگر جب عمر کا گزر ہوا تو وہ اپنی قمیص کو گھسیت ہے تھے ، صحابہ کرام نے تعیبر پوچھی تو فرمایا : دین ۔(3)۔ میں جنت میں داخل ہوا ، وہاں میں نے ایک خوبصورت محل یا گھر دیکھا ۔میں نے پوچھا یہ کس کا ہے ؟ بتایا گیا: یہ ایک قریشی کا ہے میں نے امید کی کہ شاید میرا ہو پھر کسی نے کہا :یہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا ہے ۔ میں نے اس محل میں داخل ہونا چاہا ، اے ابو حفص! مگر تیری غیرت مجھے یاد آگئی ۔ یہ سن کر سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ رونے لگے اور عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ کیا میں آپ ﷺ پر غیرت کروں گا۔ (4)۔ میں نے خواب دیکھا کہ میں ڈول کے ساتھ کنویں سے پانی نکال رہا ہوں ابن ابی قحافہ ابو بکر نے ایک یا دو ڈول پانی نکالا ان میں سستی اور کمزوری تھی ۔ اللہ انکی بخشش فرمائے ، پھر عمر نے پانی نکالا تو ڈول ان کے ہاتھ میں بڑا ہو گیا ۔ پس انہو ں نے سب کو سیراب کیا اور اونٹوں کے لیے باڑ کو قائم کیا ۔ میں نے لوگوں میں کسی قوی شخص کو عمر کی مثل کام کرتے نہیں دیکھا۔(1)

هَذِهِ الْأَرْبَعَةَ أَحَادِيثَ، حَفِظْتُهَا كَمَا تَسْمَعُ وَلَمْ أَحْفَظْ إِسْنَادَهَا، ← الزُّهْرِيِّ، ← عَبْدُ اللَّهِ قثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ الْمَكِّيُّ قثنا سُفْيَانُ

Hadith 363

Hassan

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 364

364 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ الْمَكِّيُّ قثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَدِّثُ قَالَ: «بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ رَأَيْتُنِي أُتِيتُ بِقَدَحٍ، فَشَرِبْتُ مِنْهُ حَتَّى إِنِّي لَأَرَى الرِّيَّ يَجْرِي فِي أَظْفَارِي، ثُمَّ أَعْطَيْتُ فَضْلِي عُمَرَ» ، قَالُوا: مَا أَوَّلْتَ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «الْعِلْمُ» ، قُلْتُ لِلزُّهْرِيِّ: أَبَلَغَكَ مَا كَانَ فِي الْإِنَاءِ؟ قَالَ: نَعَمْ، لَبَنٌ. قَالَ: أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الصَّنْعَانِيُّ مُقِيمٌ بِمَكَّةَ.

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں بیان کیا کہ خواب میں مجھے دودھ کا پیالہ دیا گیا میں نے اس سے پیا اور اس قدر سیراب ہوا یہاں تک کہ میرے ناخنوں سے دود بہتا ہوا محسوس ہونے لگا پھر میں نے بچا ہو دودھ عمر کو دیا ۔ صحابہ کرام نے اسکی تعبیر پوچھی تو آپ ﷺ نے فرمایا علم میں نے امام زہری ؑ سے پوچھا آپ کی معلومات کے مطابق اس برتن میں کیا تھا ؟ انہوں نے فرمایا : اس میں دودھ ہی تھا۔

أَبِيهِ ← سَالِمٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ اللَّهِ قثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ الْمَكِّيُّ قثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ،

Hadith 364

Hassan

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 365

365 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ الْمَكِّيُّ قثنا أَبُو ضَمْرَةَ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ «بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ أُتِيتُ بِقَدَحِ لَبَنٍ، فَشَرِبْتُ حَتَّى إِنِّي لَأَرَى الرِّيَّ يَخْرُجُ مِنْ أَظْفَارِي، ثُمَّ أَعْطَيْتُ فَضْلِي عُمَرَ» ، قَالُوا: مَا أَوَّلْتَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «الْعِلْمُ» .

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے سنا رسول اللہ ﷺ فرما رہے تھے : مجھے خوا ب میں دودھ کا پیالہ دیا گیا میں نے اس سے خوب پیا یہاں تک کہ دودھ میرے ناخنوں سے بہتا ہوا محسوس ہوا پھر میں نے بچا ہو ا عمر کو دیا صحابہ کرام نے پوچھا یا رسول اللہ ﷺ اس کی تعبیر کیا ہے ؟ تو فرمایا علم (3)

حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← الزُّهْرِيِّ، ← يُونُسَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ الْمَكِّيُّ قثنا أَبُو ضَمْرَةَ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Hadith 365

Hassan

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 366

366 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ الْمَكِّيُّ قثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ رَأَيْتُ النَّاسَ يُعْرَضُونَ عَلَيَّ وَعَلَيْهِمُ الْقُمُصُ، مِنْهَا مَا يَبْلُغُ الثَّدْيَ، وَمِنْهَا مَا يَبْلُغُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ، وَعُرِضَ عَلَيَّ عُمَرُ وَعَلَيْهِ قَمِيصٌ يَجُرُّهُ» ، قَالُوا: فَمَا أَوَّلْتَ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «الدِّينُ» .

سیدنا ابوامامہ بن سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ بعض صحابہ کرام سے روایت کرتےہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا میں سو رہا تھا کہ میری امت میرے سامنے پیش کی گئی میں نے دیکھا کہ بعض کی قمیص چھاتی تک ، بعد کی اس سے کچھ زیادہ نیچے ہے اور پھر میرے سامنے عمر کو لایا گیا انکی قمیص اتنی لمبی تھی کہ وہ اسے کھینچ رہے تھے ۔ لوگوں نے تعبیر پوچھی تو آپ ﷺ نے فرمایا : دین (1)

بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ← أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ اللَّهِ قثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ الْمَكِّيُّ قثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ،

Hadith 366

Hassan

chevron_left Previous
123456
Next chevron_right

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
All Chapters
1. Book
    1. Door2. He was asked about the virtues of Abu, the first-born of al-Siddiq, the mercy and pleasure of God be upon him3. He was asked about the words of Ali ibn Abi Talib and others: The best of this nation after its prophet Abu Bakr and Omar4. His saying, may God’s prayers and peace be upon him: “If I had taken people as a friend, I would not have taken a virgin father as a friend5. He, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Pass a virgin father, let him pray to the people.”6. The remainder of his saying: “Show a first-born father who prays to people.”7. It was not narrated that Abu Bakr was the first to become Muslim8. It was not narrated that a virgin father came to ask permission, so the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Permit him, and give him good tidings of paradise.”9. The Virtue of the Commander of the Believers, Omar Ibn Al-Khattab, may God be pleased with him10. The Islam of Umar ibn Al-Khattab, may God be pleased with him11. And among the virtues of Omar bin Al-Khattab from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik, on the authority of his sheikhs other than Abd Allah bin Ahmed, and from the hadith of Abu Bakr bin Malik.12. The virtue of Othman bin Affan, may God be pleased with him13. And from the merits of Othman, from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik on the authority of his sheikhs except for Abdullah bin Ahmad14. The news of the Prince of the Believers, Ali bin Abi Talib, and his asceticism, may God be pleased with him15. His mother's name and genealogy16. A merit upon me, peace be upon him17. And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah18. The Virtue of Abd al-Rahman ibn Awf, may God be pleased with him19. The Virtue of Az-Zubayr Bin Awwam, may God be pleased with him20. Fadil Abi Ubaidah Ibn Al Jarrah, may God be pleased with him21. Fadil Talha Bin Ubaid Allah, may God be pleased with him22. Fadil Saad bin Abi Waqas, may God be pleased with him23. Fadil Fatima, the daughter of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him24. The virtues of good, and the good, may God be pleased with them.25. The Virtues of Ansar, may God be pleased with them26. The virtue of Khalid bin Al-Walid, may God have mercy on him27. Fadil Saad bin Muadh, may God have mercy on him28. Fadil Haritha Ibn Nu'man, may God be pleased with him29. Fadil Suhaib, may God be pleased with him30. The virtues of the Arabs31. The virtue of Usama bin Zaid, may God be pleased with him32. Fadil Abdullah bin Masoud, may God be pleased with him33. Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with them34. Virtues of Khadija and others35. Fadil Ammar ibn Yasser, may God be pleased with him36. Virtues 0 People of Yemen37. Virtues of the family of the Mother of the Believers, may God be pleased with her, and other things among the people of Yemen38. The virtues of the Banu Ghafar, and Islam and others39. Fadil Jaafar ibn Abi Talib, may God be pleased with him40. Fadil Jarir bin Abdullah, may God be pleased with him41. Fadil Abdullah Bin Omar, may God be pleased with them42. The virtues of a people of the Levant43. The Virtue of the Companions of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him44. The virtue of Amr ibn al-Aas, may God be pleased with him45. The Virtues of Mu`awiyah Bin Abi Sufyan, may God be pleased with them46. The virtues of Abu al-Fadl al-Abbas ibn Abd al-Muttalib, the uncle of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him47. Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with him