فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 361
361 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ الْمَكِّيُّ قثنا سُفْيَانُ قَالَ: سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ، عَنْ بَعْضِ آلِ أَبِي رَبِيعَةَ، وَكَانَتْ أُمُّ كُلْثُومِ ابْنَةُ أَبِي بَكْرٍ عِنْدَهُمْ، قَالَ: وَذَكَرَ الْمُحَصَّبَ فَقَالَ: [البحر الطويل] جَزَى اللَّهُ خَيْرًا مِنْ أَمِيرٍ وَبَارَكَتْ ... يَدُ اللَّهِ فِي ذَاكَ الْأَدِيمِ الْمُمَزَّقِ فَمَنْ يَسْعَ أَوْ يَرْكَبْ جَنَاحَيْ نَعَامَةٍ ... لَيُدْرِكَ مَا قَدَّمْتَ بِالْأَمْسِ يُسْبَقِ قَضَيْتَ أُمُورًا ثُمَّ غَادَرْتَ بَعْدَهَا ... بَوَائِجَ فِي أَكْمَامِهَا لَمْ تُفَتَّقِ قَالَتْ عَائِشَةُ: فَنَحَلُوهُ الشَّمَّاخَ بْنَ ضِرَارٍ فَسَأَلُوهُ، فَقَالَ: مَا قُلْتُهُ
آل ربیعہ کے کسی آدمی کے پاس سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کی بیٹی سیدہ ام کلثوم رضی اللہ عنہا بیٹھی ہوئی تھیں۔ جب محصب کا تذکرہ ہوا تو وہ (آل ربیعہ کا آدمی ) کہنے لگا اللہ تعالیٰ اس خلیفہ کو خیراور برکت عطا کرے جس کے ساتھ پھٹے ہوئے چمڑوں میں اللہ تعالیٰ کا ہاتھ (مدد ) ہے۔ جو شخص گذشتہ کاموں کو پانے کےلیے شتر مرغ کے پروں پر سوار ہوتا تھا تو وہ سبقت لے جاتا تھا ۔ (اے خلیفہ) تم ان تمام کاموں کو پایہ تکمیل تک پہنچا کر وہاں سے نکل گئے اور ابھی ران کی رگ بھی نہیں پھٹی تھی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں لوگوں نے ان اشعار کی نسبت شماخ بن ضرار کی طرف کی ہے لیکن جب اس سے دریافت کیا گیا تو انہوں نے فرمایا : میں نے یہ بات نہیں کہی۔ (3)
كَانَتْ أُمُّ كُلْثُومِ ابْنَةُ أَبِي بَكْرٍ عِنْدَهُمْ، ← بَعْضِ آلِ أَبِي رَبِيعَةَ، ← الزُّهْرِيِّ، ← عَبْدُ اللَّهِ قثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ الْمَكِّيُّ قثنا سُفْيَانُ
Hadith 361
