فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 337
337 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا وَكِيعٌ قثنا هَارُونُ الثَّقَفِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدٍ، يَعْنِي: ابْنَ عُمَيْرٍ، قَالَ: بَيْنَا عُمَرُ يَقْسِمُ مَالًا إِذْ رَفَعَ رَأْسَهُ فَإِذَا رَجُلٌ فِي وَجْهِهِ ضَرْبَةٌ قَالَ: مَا هَذَا؟ قَالَ: أَصَابَنِي فِي غَزَاةِ كَذَا وَكَذَا، قَالَ: فَأَمَرَ لَهُ بِأَلْفِ دِرْهَمٍ، ثُمَّ مَكَثَ سَاعَةً ثُمَّ أَمَرَ لَهُ بِأَلْفٍ أُخْرَى حَتَّى أَمَرَ لَهُ بِأَرْبَعَةِ آلَافِ دِرْهَمٍ، فَقَالُوا: اسْتَحِي، فَخَرَجَ، فَقَالَ: لَوْ مَكَثَ لَأَعْطَيْتُهُ مَا بَقِيَ مِنَ الْمَالِ دِرْهَمٌ، رَجُلٌ ضُرِبَ فِي وَجْهِهِ ضَرْبَةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ حَفَرَتْ وَجْهَهُ.
عبداللہ بن عمیر ؑ سے روایت ہے کہ ایک دفعہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ہمارے درمیان مال تقسیم کر رہے تھے انہوں نے جب سر آٹھایا تو ایک آدمی کو دیکھا جس کے چہرے پر نشانات تھے اس سے دریافت کیا : یہ کیا ہے ؟ اس نے کہا یہ اللہ کی راہ میں فلاں جہاد کے دوران مجھے زخم آنے کانشان ہے ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کو ہزار درہم عطا کیے تھوڑی دیر کے بعد اسے مزید ایک ہزار درہم دینے کا حکم دیا ۔ یہا ں تک کہ چار ہزار درہم اسے دے دیے ۔ لوگوں نے اسے کہا : کچھ خیال کرو، تب وہ شخص وہاں سے چلا گیا تو سیدنا عمررضی اللہ عنہ نے فرمایا : اگر یہ ٹھہرتا میں اسے جتنا مال بچتا ،سارا دے دیتا۔ وہ شخص جس کو اللہ کی راہ میں زخم آئے ہوں یہاں تک کہ اس کے چہرے میں زخم کے نشانات بھی ہوں ؟(3)
بَيْنَا عُمَرُ يَقْسِمُ مَالًا ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدٍ يَعْنِي ابْنَ عُمَيْرٍ، ← أَبِي، قثنا وَكِيعٌ قثنا هَارُونُ الثَّقَفِيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ
Hadith 337
