Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

1,963 Hadith48 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 325

325 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو صَالِحٍ الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى قَالَ نا سَعِيدُ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ هِشَامِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: كَانَ سَيْفُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ الَّذِي شَهِدَ بَدْرًا فِيهِ سَبَائِكُ مِنْ ذَهَبٍ.

سیدنا عبداللہ بن عمرسے روایت ہے کہ میدان بدر میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی تلوار پگھلے ہوئے سونے کی مثل تھی ۔(2)

كَانَ سَيْفُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ الَّذِي شَهِدَ بَدْرًا فِيهِ سَبَائِكُ مِنْ ذَهَبٍ. ← ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، ← سعيد بن مسلمة بن هشام بن عبد الملك، ← أَبُو صَالِحٍ الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى ← عَبْدُ اللَّهِ

Hadith 325

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 326

326 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو دَاوُدَ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ قثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ قثنا ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: اسْتَأْذَنَ عُمَرُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَهُ جَوَارٍ قَدْ عَلَتْ أَصْوَاتُهُنَّ عَلَى صَوْتِهِ، فَأَذِنَ لَهُ، وَبَادَرْنَ فَذَهَبْنَ، فَدَخَلَ عُمَرُ وَرَسُولُ اللَّهِ يَضْحَكُ، فَقَالَ: أَضْحَكَ اللَّهُ سِنَّكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي، قَالَ: «عَجِبْتُ لِجَوَارٍ كُنَّ عِنْدِي فَلَمَّا سَمِعْنَ حَسَّكَ بَادَرْنَ فَذَهَبْنَ» ، فَأَقْبَلَ عَلَيْهِنَّ فَقَالَ: أَيْ عَدُوَّاتِ أَنْفُسِهِنَّ، وَاللَّهِ لَرَسُولُ اللَّهِ كُنْتُنَّ أَحَقَّ أَنْ تَهَبْنَ مِنِّي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «دَعْهُنَّ دَعْهُنَّ عَنْكَ يَا عُمَرُ، فَوَاللَّهِ إِنْ لَقِيَكَ الشَّيْطَانُ بِفَجٍّ قَطُّ إِلَّا أَخَذَ فَجًّا غَيْرَ فَجِّكَ» .

سیدنا سعید بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم ﷺ سے اجازت مانگی اس وقت آپ کے پاس کچھ لڑکیاں تھیں جن کی آوازیں آپ ﷺ کی آواز سےا نوچی تھیں ، جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو اندر آنے کی اجازت ملی تو یہ سن کر وہ تمام پردے میں چلی گئیں۔ جب سیدنا عمر تشریف لائے تو آ پﷺ مسکرا رہے تھے ۔ سیدنا عمر فاروق نے عرض کیا یا رسول اللہﷺ اللہ آپ کو ہنستار کھے آپ پر میرے ماں باپ قربان ہوں ( اس قدر تبسم کا کیا سبب ہے ) آپ ﷺ نے فرمایا : مجھے ان لڑکویں سے تعجب ہے جو میر پاس جمع تھیں ۔آپ کا سن کر وہ پردہ مین چلی گیئں ۔ سیدنا عمر نے ان لڑکیوں کو فرمایا : اپنی جان کی دشمنو! مجھ سے زیادہ ڈرنے کا حق تو آپ ﷺ کا ہے ! آپ ﷺ نے فرمایا : اے عمر ! انکو چھوڑ دو ۔اللہ کی قسم ! یقینا شیطان آپ کو دیکھ کر اپنا راستہ بدل دیتا ہے۔ (3)

أَبِيهِ ← مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ ← عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ قثنا ابْنُ شِهَابٍ، ← أَبُو دَاوُدَ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ قثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Hadith 326

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 327

327 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ قَالَ: أنا عَبْدُ اللَّهِ، يَعْنِي: ابْنَ الْمُبَارَكِ قَالَ: أنا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ: وُضِعَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ عَلَى سَرِيرِهِ فَتَكَنَّفَهُ النَّاسُ يَدْعُونَ وَيُصَلُّونَ قَبْلَ أَنْ يُرْفَعَ، وَأَنَا فِيهِمْ، فَلَمْ يَرُعْنِي إِلَّا رَجُلٌ قَدْ أَخَذَ بِمَنْكِبِي مِنْ وَرَائِي، فَالْتَفَتُّ فَإِذَا هُوَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، فَتَرَحَّمَ عَلَى عُمَرَ فَقَالَ: مَا خَلَّفْتُ أَحَدًا أَحَبَّ إِلَيَّ أَنْ أَلْقَى اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ بِمِثْلِ عَمَلِهِ مِنْكَ، وَايْمُ اللَّهِ إِنْ كُنْتُ لَأَظُنُّ لَيَجْعَلَنَّكَ اللَّهُ مَعَ صَاحِبَيْكَ، وَذَلِكَ أَنِّي كُنْتُ أُكْثِرُ أَنْ أَسْمَعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «فَذَهَبْتُ أَنَا وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ، وَدَخَلْتُ أَنَا وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ، وَخَرَجْتُ أَنَا وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ» ، فَإِنْ كُنْتُ لَأَظُنُّ لَيَجْعَلَنَّكَ اللَّهُ مَعَهُمَا.

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ س روایت ہے کہ جب سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو بغرض تکفین و تجہیز چار پائی پر رھا گیا تو لوگوں نے ان کے لیے دعائے خیر کی اور انکی نماز جنارہ ادا کی ، ابھی جنازہ اٹھایا نہیں گیا تھا ،میں وہاں ہی تھا اسی حالت میں ایک شخص نے میر ے پیچھے سے اپنی کہنی میرے کندھے پر رکھی ۔جب میں نے دیکھا تو وہ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ تھے ، انہوں نے بھی دعائے خیر کی اور (سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے )فرمایا : بے شک آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے بعد کسی شخص کو بھی چھوڑا کہ جسے دیکھ کر مجھے یہ تمنا ہوتی کہ اس کے عمل جیسا عمل لے کر میں اپنے رب سے لاقات کروںاور اللہ کی قسم ! مجھے اُمید ہے اللہ آپ کو آپ کے دونوں ساتھیوں (نبی کریم ﷺ اور ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ ) سے ملائے گا ، اس لیے کہ میں رسول اللہ ﷺ سے اکثر سنا کرتا تھا آپ فرماتے تھے : میں ابو بکر اور عمر گئے ۔ میں ، ابو بکر اور عمر داخل ہوئے ، میں ، ابو بکر اور عمر نکلے (یعنی نبی کریم ﷺ اپنے اہم کام می اپنا رفیق سیدنا ابو بکر اور سیدنا عمر کو بناتے ) اس لیے میرا یہ گمان ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو ان دونوں کے ساتھ ملائے گا۔ (1)

ابْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ -يَعْنِي ابْن الْمُبَارَكِ- ← أَبِي، قثنا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ← عَبْدُ اللَّهِ

Hadith 327

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 328

328 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْعَتَكِيُّ الزَّهْرَانِيُّ قَالَ نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فَذَكَرَ هَذَا الْحَدِيثَ.

سیدنا عبداللہ بن عباس سے یہی روایت ایک دوسری سند سے بھی منقول ہے۔ (2)

ابْنِ عَبَّاسٍ، فَذَكَرَ هَذَا الْحَدِيثَ. ← ابْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، ← عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَکِ ← أَبُو الرَّبِيعِ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْعَتَكِيُّ الزَّهْرَانِيُّ ← عَبْدُ اللَّهِ

Hadith 328

Hassan

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 329

329 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقُرَشِيُّ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ قثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ قثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: رَحِمَ اللَّهُ عُمَرَ، إِنَّهُ لَمَّا طُعِنَ تِلْكَ الطَّعْنَةَ رَأَى غُلَامًا قَدْ أَسْبَلَ إِزَارَهُ، فَقَالَ: يَا غُلَامُ، خُذْ مِنْ شَعْرِكَ، وَارْفَعْ إِزَارَكَ، فَإِنَّهُ أَبْقَى لِثَوْبِكَ، وَأَتْقَى لِرَبِّكَ عَزَّ وَجَلَّ.

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ پر رحم کرے جب ان کو نیزہ مارا گیا انہوں نے ایک لڑکے سے فرمایا : جس کی شلوار تخنوں سے نیچے لٹک رہی تھی ، اے لڑکے ! اپنے بالوں کو کم کرو اور شلوار کو اوپر کرو، بے شک اس میں کپڑوں کی صفائی بھی ہے اور اللہ کی خؤشنودی بھی ۔(3)

رَحِمَ اللَّهُ عُمَرَ، ← عَبْدُ اللَّهِ ← الْأَسْوَدِ، ← إِبْرَاهِيمَ، ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقُرَشِيُّ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ قثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ قثنا شُعْبَةُ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Hadith 329

Hassan

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 330

330 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ قثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ خِرَاشٍ، عَنِ الْعَوَّامِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: لَمَّا أَسْلَمَ عُمَرُ نَزَلَ جِبْرِيلُ فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، لَقَدِ اسْتَبْشَرَ أَهْلُ السَّمَاءِ بِإِسْلَامِ عُمَرَ

سیدنا عبداللہ بن عباس سے روایت ہے کہ جب سینا عمر اسلام لائے تو سیدنا جبرائیل ؑ نے آپ ﷺ سے کہا : اے محمد (ﷺ)! آسمان والے سدینا عمر رضی اللہ عنہ کے اسلام لانے سے خؤش ہیں ۔(4)

يَا مُحَمَّدُ، لَقَدِ اسْتَبْشَرَ أَهْلُ السَّمَاءِ بِإِسْلَامِ عُمَرَ ← ابْنِ عَبَّاسٍ: لَمَّا أَسْلَمَ عُمَرُ نَزَلَ جِبْرِيلُ ← مُجَاهِدٍ ← الْعَوَّامِ بْنِ حَوْشَبٍ ← عَبْدُ اللَّهِ قثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ قثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ خِرَاشٍ،

Hadith 330

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 331

331 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقُرَشِيُّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ قثنا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ قَرْمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَسَنِ، أَنَّهُ سُئِلَ عَنِ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ، فَقَالَ: نِعْمَ الْحَجِيجُ لَكُمْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فِي الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ.

سیلمان بن قرم سے روایت ہے کہ جب عبداللہ بن حسن ؑ سے موزوں پر مسح کرنے کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا : موزوں پر مسح کرنے کے اس مسئلہ میں تمہارے لیے بہترین نمونہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ہیں ۔ (5)

الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَسَنِ، أَنَّهُ سُئِلَ ← سُلَيْمَانُ بْنُ قَرْمٍ ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقُرَشِيُّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ قثنا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Hadith 331

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 332

332 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ أَبُو عَمْرٍو الْعَنْبَرِيُّ قثنا الْمُعْتَمِرُ قَالَ: قَالَ أَبِي: وَقَالَ أَبُو عُثْمَانَ: إِنَّمَا كَانَ عُمَرُ مِيزَانًا، لَا يَقُولُ كَذَا وَلَا يَقُولُ كَذَا.

ابو عثمان ؑ سے فرمایا : سیدنا عمر فارو ق رضی اللہ عنہ ترازو کی مثل تھے جو ادھر ادھر کی باتیں نہیں کرتے تھے (یعنی صاف گوتھے )۔(1)

-كَذَا ← كَذَا وَلَا ← أَبِي: وَقَالَ أَبُو عُثْمَانَ: إِنَّمَا كَانَ عُمَرُ مِيزَانًا، لَا ← عَبْدُ اللَّهِ قثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ أَبُو عَمْرٍو الْعَنْبَرِيُّ قثنا الْمُعْتَمِرُ

Hadith 332

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 333

333 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ قثنا خَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هَاشِمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، فِي قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: {وَصَالِحُ الْمُؤْمِنِينَ} [التحريم: 4] ، قَالَ: نَزَلَتْ فِي عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ.

امام سعید بن جبیر ؑ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ کا فرمان (و صالح المومنین ) سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے بارے میں نازل ہوا ہے ۔ (2)

نَزَلَتْ فِي عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، فِي قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: {وَصَالِحُ الْمُؤْمِنِينَ} [التحريم: ← أَبَا هَاشِمٍ ← يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ قثنا خَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ ← عَبْدُ اللَّهِ

Hadith 333

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 334

334 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا عَفَّانُ قثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ سَرِيعٍ قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي قَدْ حَمِدْتُ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ بِمَحَامِدَ وَمِدَحٍ وَإِيَّاكَ، قَالَ: «هَاتِ مَا حَمِدْتَ بِهِ رَبَّكَ عَزَّ وَجَلَّ» ، قَالَ: فَجَعَلْتُ أُنْشِدُهُ، قَالَ: فَجَاءَ رَجُلٌ أَدْلَمُ فَاسْتَأْذَنَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أُسْ أُسْ» ، قَالَ: فَتَكَلَّمَ سَاعَةً ثُمَّ خَرَجَ، قَالَ: فَجَعَلْتُ أُنْشِدُهُ، قَالَ: ثُمَّ جَاءَ فَاسْتَأْذَنَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أُسْ أُسْ» ، فَفَعَلَ ذَلِكَ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَنْ هَذَا الَّذِي اسْتَنْصَتَّنِي لَهُ؟ قَالَ: «هَذَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، هَذَا رَجُلٌ لَا يُحِبُّ الْبَاطِلَ» .

سیدنا اسود بن سریح رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ! میں نے اللہ تعالیٰ کی اچھی حمد و ثنا بیان کی ہے اور آپ کی بھی تعریف کی ہے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا : سناؤ تم نے کیا کچھ کہا ہے؟ پھر میں نے سنانا شروع کر دیا ، ایک سیاہ فام شخص اجازت لینے آیا ، آپ ﷺ نے مجھے فرمایا : خاموش ہو جاؤ اس شخص سے کچھ دیر تک باتیں کیں ، پھر وہ چلا گیا ، پھر میں نے اپنی بات سنانا شروع کی تو پھر اس شخص نے اجازت مانگی ۔ آپ ﷺ نے مجھے فرمایا : خاموش ہو جاؤ ،میں پھر خاموش ہو گیا ۔ کچھ دیر تک وہ باتیں کرتے رہے ، ایسا دو یا تین بار ہوا تو پھر میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ یہ کون ہے ؟ جسکی وجہ سے آپ ﷺ نے مجھے خاموشی کا حکم دیا تو آپ ﷺ نے فرمایا : یہ عمر بن خطاب ہیں جو باطل چیزوں کو پسند نہیں کرتے ۔ (3)

أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ فَقُلْتُ: ← الأَسْوَدِ بْنِ سَرِيعٍ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَکْرَةَ ← عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ← أَبِي، قثنا عَفَّانُ قثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Hadith 334

Hassan

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 335

335 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا حَسَنُ بْنُ مُوسَى قثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، أَنَّ الْأَسْوَدَ بْنَ سَرِيعٍ قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي قَدْ حَمِدْتُ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ بِمَحَامِدَ وَمِدَحٍ وَإِيَّاكَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، فَجَاءَ رَجُلٌ فَاسْتَأْذَنَ أَدْلَمُ، طُوَالٌ، أَصْلَعُ، أَعْسَرُ يَسَرٌ، قَالَ: فَاسْتَنْصَتَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَوَصَفَ لَنَا أَبُو سَلَمَةَ، يَعْنِي حَمَّادًا، كَيْفَ اسْتَنْصَتَهُ قَالَ: كَمَا يُصْنَعُ بِالْهِرِّ، فَدَخَلَ فَتَكَلَّمَ سَاعَةً، ثُمَّ خَرَجَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَنْ هَذَا الَّذِي تَسْتَنْصِتُنِي لَهُ؟ فَقَالَ: «هَذَا رَجُلٌ لَا يُحِبُّ الْبَاطِلَ، هَذَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ» .

سیدن اسود بن سریع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ ایک دن نبی کیرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ میں نے اللہ کی اچھی حمد و ثناء بیان کی ہے اور آپ کی بھی ۔اتنے میں ایک شخص آیا جو گندمی رنگ اور دراز قدوقامت والا تھا جس کے سر میں بال نہ تھے اور دونوں ہاتھوں سے کام کرنے والے (محنت کش ) تھے تو آپ نے مجھے خاموش کروا دیا ۔ سیدنا ابو سلمہ رضی اللہ عنہ یعنی حماد کہتے ہیں : آپ نے مجھے ایسے خاموش کروایاجس طرح بلی کو خاموش کروایا جات اہ ے۔ وہ شخص اندر آیا ، کچھ دیر تک گفتگو کی پھر وہ چلا گیا میں نے پوچھا یا رسول اللہ یہ کون تھا ؟ جس کی وجہ سے آپ نے مجھے خاموش کروا دیا تو فرمایا : یہ عمر بن الخطاب ہیں جو کہ باطل کو پسند نہیں کرتے ۔ (1)

أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ فَقُلْتُ: ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ أَنَّ الْأَسْوَدَ بْنَ سَرِيعٍ ← عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ← أَبِي، قثنا حَسَنُ بْنُ مُوسَى قثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Hadith 335

Hassan

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 336

336 - قثنا رَوْحٌ قثنا حَمَّادٌ، يَعْنِي: ابْنَ سَلَمَةَ قَالَ: أنا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ سَرِيعٍ قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.

یہ حدیث سیدنا اسود بن سریع رجی اللہ عنہ سے ایک دوسری سند کے ساتھ بھی مروری ہے ۔ (2)

أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ← الأَسْوَدِ بْنِ سَرِيعٍ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَکْرَةَ ← عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ← قثنا رَوْحٌ قثنا حَمَّادٌ، يَعْنِي: ابْنَ سَلَمَةَ

Hadith 336

Hassan

chevron_left Previous
123456
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door2. He was asked about the virtues of Abu, the first-born of al-Siddiq, the mercy and pleasure of God be upon him3. He was asked about the words of Ali ibn Abi Talib and others: The best of this nation after its prophet Abu Bakr and Omar4. His saying, may God’s prayers and peace be upon him: “If I had taken people as a friend, I would not have taken a virgin father as a friend5. He, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Pass a virgin father, let him pray to the people.”6. The remainder of his saying: “Show a first-born father who prays to people.”7. It was not narrated that Abu Bakr was the first to become Muslim8. It was not narrated that a virgin father came to ask permission, so the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Permit him, and give him good tidings of paradise.”9. The Virtue of the Commander of the Believers, Omar Ibn Al-Khattab, may God be pleased with him10. The Islam of Umar ibn Al-Khattab, may God be pleased with him11. And among the virtues of Omar bin Al-Khattab from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik, on the authority of his sheikhs other than Abd Allah bin Ahmed, and from the hadith of Abu Bakr bin Malik.12. The virtue of Othman bin Affan, may God be pleased with him13. And from the merits of Othman, from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik on the authority of his sheikhs except for Abdullah bin Ahmad14. The news of the Prince of the Believers, Ali bin Abi Talib, and his asceticism, may God be pleased with him15. His mother's name and genealogy16. A merit upon me, peace be upon him17. And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah18. The Virtue of Abd al-Rahman ibn Awf, may God be pleased with him19. The Virtue of Az-Zubayr Bin Awwam, may God be pleased with him20. Fadil Abi Ubaidah Ibn Al Jarrah, may God be pleased with him21. Fadil Talha Bin Ubaid Allah, may God be pleased with him22. Fadil Saad bin Abi Waqas, may God be pleased with him23. Fadil Fatima, the daughter of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him24. The virtues of good, and the good, may God be pleased with them.25. The Virtues of Ansar, may God be pleased with them26. The virtue of Khalid bin Al-Walid, may God have mercy on him27. Fadil Saad bin Muadh, may God have mercy on him28. Fadil Haritha Ibn Nu'man, may God be pleased with him29. Fadil Suhaib, may God be pleased with him30. The virtues of the Arabs31. The virtue of Usama bin Zaid, may God be pleased with him32. Fadil Abdullah bin Masoud, may God be pleased with him33. Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with them34. Virtues of Khadija and others35. Fadil Ammar ibn Yasser, may God be pleased with him36. Virtues 0 People of Yemen37. Virtues of the family of the Mother of the Believers, may God be pleased with her, and other things among the people of Yemen38. The virtues of the Banu Ghafar, and Islam and others39. Fadil Jaafar ibn Abi Talib, may God be pleased with him40. Fadil Jarir bin Abdullah, may God be pleased with him41. Fadil Abdullah Bin Omar, may God be pleased with them42. The virtues of a people of the Levant43. The Virtue of the Companions of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him44. The virtue of Amr ibn al-Aas, may God be pleased with him45. The Virtues of Mu`awiyah Bin Abi Sufyan, may God be pleased with them46. The virtues of Abu al-Fadl al-Abbas ibn Abd al-Muttalib, the uncle of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him47. Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with him