فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ مَا رُوِيَ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ جَاءَ لِيَسْتَأْذِنَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ائْذَنْ لَهُ، وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ» · حديث 297
297 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قثنا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ الْكَوْسَجُ، مِنْ أَهْلِ مَرْوَ، قَالَ: أنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُبَارَكِ الصُّورِيُّ قَالَ: نا صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ، نا زَيْدُ بْنُ وَاقِدٍ، عَنْ بُسْرِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ أَقْبَلَ أَبُو بَكْرٍ آخِذًا بِطَرَفِ ثَوْبِهِ حَتَّى أَبْدَى عَنْ رُكْبَتِهِ، فَلَمَّا رَآهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَمَّا صَاحِبُكُمْ فَقَدْ غَامَرَ» ، وَأَقْبَلَ حَتَّى سَلَّمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهُ كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَ عُمَرَ شَيْءٌ، فَأَسْرَعْتُ إِلَيْهِ، ثُمَّ إِنِّي نَدِمْتُ عَلَى مَا كَانَ مِنِّي إِلَيْهِ، فَسَأَلْتُهُ أَنْ يَغْفِرَ لِي، فَأَبَى عَلَيَّ، فَتَبِعْتُهُ الْبَقِيعَ كُلَّهُ، حَتَّى تَحَرَّزَ بِدَارِهِ مِنِّي، وَأَقْبَلَتُ إِلَيْكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَغْفِرُ اللَّهُ لَكَ يَا أَبَا بَكْرٍ» ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ إِنَّ عُمَرَ نَدِمَ حِينَ سَأَلَهُ أَبُو بَكْرٍ أَنْ يَغْفِرَ لَهُ فَأَبَى عَلَيْهِ، ثُمَّ خَرَجَ مِنْ مَنْزِلِهِ حَتَّى أَتَى مَنْزِلَ أَبِي بَكْرٍ فَسَأَلَ: هَلْ ثَمَّ أَبُو بَكْرٍ؟ فَقَالُوا: لَا، فَعَلِمَ أَنَّهُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ، فَأَقْبَلَ عُمَرُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى سَلَّمَ عَلَيْهِ، فَجَعَلَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَمَعَّرُ حَتَّى أَشْفَقَ أَبُو بَكْرٍ أَنْ يَكُونَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ إِلَى عُمَرَ مَا يَكْرَهُ، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ أَبُو بَكْرٍ جَثَا عَلَى رُكْبَتَيْهِ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنَا وَاللَّهِ كُنْتُ أَظْلَمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّ اللَّهَ بَعَثَنِي إِلَيْكُمْ فَقُلْتُمْ: كَذَبْتَ، وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: صَدَقْتَ، وَوَاسَانِي بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ، فَهَلْ أَنْتُمْ تَارِكُو لِي صَاحِبِي " ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، قَالَ: فَمَا أُوذِيَ بَعْدَهَا.
سیدنا ابو الدرداء سے روایت ہے کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے پاس تھے ۔ اتنے میں ابو بکر اپنے کپڑوں کے کونوں کو سمیٹتے ہوئے تشریف لائے یہاں تک کہ ان کے گھٹنے نظر آگئے جب رسول اللہ ﷺ نے انہیں دیکھا تو فرمایا : یہ تمہارا ساتھی ہے انہوں نے آکر سلام کیا اور عرض کرنےلگے یا رسول اللہ ﷺ میرے اور سیدنا عمر کے درمیان کچھ اختلاف ہوا ہے لیکن میں پریشان ہوں اور میں نے سیدنا عمر سے معافی مانگی مگر انہوں نے انکار کر دیا۔ میں ان کے پیچھے پورا بقیع پھرتا رہا مگر وہ مجھ سے اپنے گھر میں چھپ گئے اب میں آپ ﷺ کے پاس آیا ہوں ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے ابو بکر یقینا اللہ نے آپ کو معاف کیا ہے یہ تین دفعہ فرمایا ۔ لیکن دوسری طرف سیدنا عمر بھی پریشان ہوئے کہ ان سے سیدنا ابو بکر معافی طلب کی تھی مگر اس کے باوجود میں نے انکار کیا ۔ چنانچہ سیدنا عمر اپنے گھر سے نکل کر سیدنا ابو بکر کے گھر چلے گئے اور پوچھا : یہاں ابو بکر ہیں ؟ آواز آئی ، نہیں ! تو انکو یقین ہو گیا کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس گئے ہوں گے تو سیدنا عمر دوڑتے ہوئے وہاں پہنچے سلام کیا تو رسول اللہ ﷺ کا رنگ بدل گیا تو سیدنا ابوبکر گھبرا گئے کہ کہیں رسول اللہ ﷺ سیدنا عمر کو ان کی وجہ سے سختی سے نہ پیش آئیں ۔ یہ منظر دیکھ کر سیدنا ابو بکر دو زانوں ہو کر بیٹھ گئے اور عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ اللہ کی قسم ! میں نے ہی ظلم کیا تھا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے لوگو! جب میں رسول بنا تو تم نے مجھے جھٹلایا مگر ابو بکر نے میری تصدیق کی اور میرے ساتھ مالی و جسمانی تعاون کیا اب کیا تم میرے رفیق کو نظر انداز کرتے ہو؟ تین مرتبہ ایسا فرمایا ۔راوی کہتے ہیں کہ اس کے بعد سیدنا ابو بکر کو کسی نے تکلیف نہیں پہنچائی ۔ (1)
أَبِي الدَّرْدَاءِ، ← أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، ← بُسْرُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، ← زَيْدُ بْنُ وَاقِدٍ ← صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُبَارَكِ الصُّورِيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ قثنا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ الْكَوْسَجُ، مِنْ أَهْلِ مَرْوَ،
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › It was not narrated that a virgin father came to ask permission, so the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Permit him, and give him good tidings of paradise.” · Hadith 297
