فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ بَقِيَّةُ قَوْلِهِ: «مُرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ» · حديث 95
95 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي عَوْنٍ الْمَدِينِيُّ قَالَ: سَمِعْتُ إِبْرَاهِيمَ بْنَ شِكْلَةَ بْنِ الْمَهْدِيِّ يَقُولُ: تَدْرُونَ لِمَ خَصَصْتُ وَلَدَ أَبِي بَكْرٍ مِنْ ثُلُثَيَّ؟ لِأَنَّهُ لَمْ يُعْرَفْ أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا وَقَدْ خَلَّفَ لِعِيَالِهِ شَيْئًا غَيْرَ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ، فَإِنَّهُ آثَرَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ بِمَالِهِ كُلِّهِ، فَأَحْبَبْتُ أَنْ أُكَافِيءَ وَلَدَ أَبِي بَكْرٍ مِنْ مَالِي دُونَ مَنْ هُوَ أَقْرَبُ إِلَيَّ رَحِمًا.
ابراہیم بن شکلہ بن مہدی فرماتے ہیں کیا تم جانتے ہو کہ یں نے اپنے مال سے ثلث کیوں سیدنا ابوبکر کے بیٹے کے لیے خاص کیا ہے ؟ اس لیے کہ سیدنا ابو بکر کے علاوہ نبی کریم ﷺ کے تمام اصحاب نےاپے اہل و عیال کے لیے کچھ نہ کچھ چھوڑا ہے اور انہوں نے اپنا مال اللہ تعالیٰ اور اسکے رسول ﷺ پر قربان کر دیا ہے ۔لہذا میں پسند کرتا ہوں کہ اپنے مال س آل ابوبکر کی مکافات کروں نہ کہ اپنے قریبی رشتہ داروں کی ۔(3)
إِبْرَاهِيمَ بْنَ شِكْلَةَ بْنِ الْمَهْدِيِّ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي عَوْنٍ الْمَدِينِيُّ ← عَبْدُ اللَّهِ
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The remainder of his saying: “Show a first-born father who prays to people.” · Hadith 95
