Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

1,963 Hadith48 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ بَقِيَّةُ قَوْلِهِ: «مُرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ» · حديث 95

95 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي عَوْنٍ الْمَدِينِيُّ قَالَ: سَمِعْتُ إِبْرَاهِيمَ بْنَ شِكْلَةَ بْنِ الْمَهْدِيِّ يَقُولُ: تَدْرُونَ لِمَ خَصَصْتُ وَلَدَ أَبِي بَكْرٍ مِنْ ثُلُثَيَّ؟ لِأَنَّهُ لَمْ يُعْرَفْ أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا وَقَدْ خَلَّفَ لِعِيَالِهِ شَيْئًا غَيْرَ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ، فَإِنَّهُ آثَرَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ بِمَالِهِ كُلِّهِ، فَأَحْبَبْتُ أَنْ أُكَافِيءَ وَلَدَ أَبِي بَكْرٍ مِنْ مَالِي دُونَ مَنْ هُوَ أَقْرَبُ إِلَيَّ رَحِمًا.

ابراہیم بن شکلہ بن مہدی فرماتے ہیں کیا تم جانتے ہو کہ یں نے اپنے مال سے ثلث کیوں سیدنا ابوبکر کے بیٹے کے لیے خاص کیا ہے ؟ اس لیے کہ سیدنا ابو بکر کے علاوہ نبی کریم ﷺ کے تمام اصحاب نےاپے اہل و عیال کے لیے کچھ نہ کچھ چھوڑا ہے اور انہوں نے اپنا مال اللہ تعالیٰ اور اسکے رسول ﷺ پر قربان کر دیا ہے ۔لہذا میں پسند کرتا ہوں کہ اپنے مال س آل ابوبکر کی مکافات کروں نہ کہ اپنے قریبی رشتہ داروں کی ۔(3)

إِبْرَاهِيمَ بْنَ شِكْلَةَ بْنِ الْمَهْدِيِّ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي عَوْنٍ الْمَدِينِيُّ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The remainder of his saying: “Show a first-born father who prays to people.” · Hadith 95

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ بَقِيَّةُ قَوْلِهِ: «مُرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ» · حديث 96

96 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ قثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْمَاجِشُونُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ: مِنْ فَضْلِ أَبِي بَكْرٍ أَنَّهُ لَمْ يَشُكَّ فِي اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ سَاعَةً قَطُّ.

امام زہری نے فرمایا سیدنا ابوبکر کے فضائل میں سے یہ بھی ہے کہ انہوں نے کبھی لمحہ بھر بھی اللہ رب العزت کی ذات میں شک نہیں کیا ۔(4)

ابْنِ شِهَابٍ، ← سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ قثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْمَاجِشُونُ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The remainder of his saying: “Show a first-born father who prays to people.” · Hadith 96

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ بَقِيَّةُ قَوْلِهِ: «مُرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ» · حديث 97

97 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قثنا أَبُو زَيْدٍ النُّمَيْرِيُّ عُمَرُ بْنُ شَبَّةَ قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، وَهُوَ أَبُو غَسَّانَ الْمَدَنِيُّ، قثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عِمْرَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ: كَانَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ أَبْيَضَ لَطِيفًا جَعْدًا، كَأَنَّمَا خَرَجَ مِنْ صَدَعِ حَجَرٍ، مُشْرِفَ الْوَرِكَيْنِ، لَا يَثْبُتُ إِزَارُهُ عَلَى وَرِكَيْهِ.

امام ابن شہاب زہری فرماتے ہیں سیدنا ابو بکر صدیق سفید رنگت ،ہلکے جسم اور گھنگھریالے بالوں والے تھے ،گویا کہ وہ ایک پتھر سے نکلے ہیں، ان کے پہلو اُبھرے ہوئے تھے جسکی وجہ سے انکا تہبند پہلو اور پیٹ پر ٹھہرتا نہیں تھا ۔(1)

ابْنِ شِهَابٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعْدٍ ← أَبِيهِ ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، وَهُوَ أَبُو غَسَّانَ الْمَدَنِيُّ، قثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عِمْرَانَ، ← عَبْدُ اللَّهِ قثنا أَبُو زَيْدٍ النُّمَيْرِيُّ عُمَرُ بْنُ شَبَّةَ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The remainder of his saying: “Show a first-born father who prays to people.” · Hadith 97

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ بَقِيَّةُ قَوْلِهِ: «مُرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ» · حديث 98

98 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ جَابِرٍ، يَنْزِلُ طَاقَاتِ الْغِطْرِيفِ، قثنا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ قثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ، يَعْنِي: ابْنَ صَالِحِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، وَعِكْرِمَةَ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: {وَصَالِحُ الْمُؤْمِنِينَ} [التحريم: 4] ، قَالَ: أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ.

عکرمہ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ کے اس فرمان (وصالح المومنین ) اور نیک ایمان دار سے مراد سیدنا ابو بکر اور سیدنا عمر ہیں (2)

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The remainder of his saying: “Show a first-born father who prays to people.” · Hadith 98

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ بَقِيَّةُ قَوْلِهِ: «مُرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ» · حديث 99

99 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو كَامِلٍ فُضَيْلُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ قَالَ نا رَوْحُ بْنُ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ قثنا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنِ الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ قَالَ: سَمِعْتُ كَلَامَ عُمَرَ وَخُطْبَتَهُ، وَكَلَامَ عُثْمَانَ وَخُطْبَتَهُ، وَكَلَامَ عَلِيٍّ وَخُطْبَتَهُ، فَمَا كَانَ مِنْهُمْ مِنْ أَحَدٍ أَعْلَمَ بِمَا يَخْرُجُ مِنْ رَأْسِهِ، وَلَا بِمَوَاضِعِ الْكَلَامِ، مِنْ عَائِشَةَ، وَكَذَلِكَ كَانَ أَبُوهَا.

سیدنا احنف بن قیس سے روایت ہے کہ میں نے سیدنا عمر کی گفتگو اور خطبہ ،سیدنا عثمان کی گفتگو اور خطبہ اور سیدنا علی کی گفتگو اور انکا خطبہ سنا ہے ۔ پس ان میں سے کوئی بھی اپنے علم و معلومات کے اعتبار سے سیدہ عائشہ اور انکے والد گرامی سے بڑا عالم نہیں تھا (3)

الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ، ← الْحَسَنِ، ← رَوْحُ بْنُ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ قثنا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ، ← أَبُو كَامِلٍ فُضَيْلُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The remainder of his saying: “Show a first-born father who prays to people.” · Hadith 99

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ بَقِيَّةُ قَوْلِهِ: «مُرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ» · حديث 100

100 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ، يَعْنِي: ابْنَ بَرِّيٍّ، قثنا عِيسَى بْنُ يُونُسَ قثنا زَكَرِيَّا، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ هَانِئِ بْنِ هَانِئِ، عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: كَانَ أَبُو بَكْرٍ يُخَافِتُ بِصَوْتِهِ إِذَا قَرَأَ، وَكَانَ عُمَرُ يَجْهَرُ بِقِرَاءَتِهِ، وَكَانَ عَمَّارٌ إِذَا قَرَأَ يَأْخُذُ مِنْ هَذِهِ السُّورَةِ وَهَذِهِ، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لِأَبِي بَكْرٍ: «لِمَ تُخَافِتُ؟» قَالَ: إِنِّي لَأُسْمِعُ مَنْ أُنَاجِي، وَقَالَ لِعُمَرَ: «لِمَ تَجْهَرُ بِقِرَاءَتِكَ؟» قَالَ: أَقْرَعُ الشَّيْطَانَ، وَأُوقِظُ الْوَسْنَانَ، وَقَالَ لِعَمَّارٍ: «وَلِمَ تَأْخُذُ مِنْ هَذِهِ السُّورَةِ وَهَذِهِ؟» قَالَ: أَتَسْمَعُنِي أَخْلِطُ بِهِ مَا لَيْسَ مِنْهُ؟ قَالَ: «لَا» ، قَالَ: فَكُلُّهُ طَيِّبٌ.

سیدنا علی المرتضیٰ سے روایت ہے کہ سیدنا ابوبکر آہستہ آہستہ سے قرات کرتے تھے اور سیدنا عمر فاروق بلند آواز سے قرآت کرتے تھے اور سیدنا عمار بغیر ترتیب کے سورتوں کی تلاوت کیا کرتے تھے انکا ذکر نبی کریمﷺ کے پاس کیا گیا تو آپ ﷺ نے سیدنا ابو بکر کو فرمایا اے ابو بکر آپ آہستہ آواز سے قرات کیوں کرتے ہیں ؟ عرض کیا میں جس سے سرگوشی کرتا ہوں اسے سناتا ہوں اور سید نا عمر سے دریافت فرمایا :آپ بلند آواز سے کیوں پڑھتے ہیں ۔عرض کیا میں شیطان کو بھگاتا ہوں اور سوئے ہوئےلوگوں کو جگاتا ہوں اور سیدنا عمار سے دریافت فرمایا تم بغیر ترتیب کے سورتوں کی قرآت کیوں کرتے ہوئے عرض کیا کیا آپ نے مجھے کبھی قرآن کے ساتھ غیر قرآن کو خلط ملط کرتے سنا ہے ؟فرمایا نہیں تو پھر آپ ﷺ نے فرمایا یہ تمام طریقے درست ہیں (4)

عَلِيٍّ، ← هَانِئِ بْنِ هَانِئٍ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← أَبِي، قثنا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ، يَعْنِي: ابْنَ بَرِّيٍّ، قثنا عِيسَى بْنُ يُونُسَ قثنا زَكَرِيَّا، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The remainder of his saying: “Show a first-born father who prays to people.” · Hadith 100

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ بَقِيَّةُ قَوْلِهِ: «مُرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ» · حديث 101

101 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقُرَشِيُّ قثنا عَلِيُّ بْنُ هَاشِمِ بْنِ الْبَرِيدِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي الْجَحَّافِ قَالَ: لَمَّا بُويِعَ أَبُو بَكْرٍ، فَبَايَعَهُ عَلِيٌّ وَأَصْحَابُهُ، قَامَ ثَلَاثًا يَسْتَقْبِلُ النَّاسَ يَقُولُ: أَيُّهَا النَّاسُ، قَدْ أَقَلْتُكُمْ بَيْعَتَكُمْ، هَلْ مِنْ كَارِهٍ؟ قَالَ: فَيَقُومُ عَلِيٌّ فِي أَوَائِلِ النَّاسِ فَيَقُولُ: وَاللَّهِ لَا نُقِيلُكَ، وَلَا نَسْتَقِيلُكَ أَبَدًا، قَدَّمَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُصَلِّي بِالنَّاسِ، فَمَنْ ذَا يُؤَخِّرُكَ؟

ابو حجاب ؑ سے روایت ہے کہ جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیعت کی گئی سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور انکے ساتھیوں نے بھی بیعت کر لی ۔ سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ تین دفعہ باہر آکر لوگوں سے فرمانے لگے: لوگو! میں تمہاری بیعت تمہیں واپس لوٹا تا ہوں ، کیا کوئی اس کو پسند کرتاہے؟ لوگوں میں سے سب سے پہلے سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے کر فرمانے لگے اللہ کی نہ ہم بیعت واپس لیں گے اور نہ کبھی واپس کا مطالبہ کریں گے۔ رسول اللہ ﷺ نے لوگوں کی امامت کے لیے آپ کو مقدم کیا تو بھلا کون آپ کو پیچھے کر سکتا ہے ۔(1)

لَمَّا بُويِعَ أَبُو بَكْرٍ، فَبَايَعَهُ عَلِيٌّ وَأَصْحَابُهُ، قَامَ ثَلَاثًا يَسْتَقْبِلُ النَّاسَ ← أَبِي الْجَحَّافِ ← أَبِيهِ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقُرَشِيُّ قثنا عَلِيُّ بْنُ هَاشِمِ بْنِ الْبَرِيدِ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The remainder of his saying: “Show a first-born father who prays to people.” · Hadith 101

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ بَقِيَّةُ قَوْلِهِ: «مُرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ» · حديث 102

102 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا تَلِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ قثنا أَبُو الْجَحَّافِ قَالَ: لَمَّا بُويِعَ أَبُو بَكْرٍ أَغْلَقَ بَابَهُ دُونَ النَّاسِ ثَلَاثًا، كُلَّ يَوْمٍ يَقُولُ: قَدْ أَقَلْتُكُمْ بَيْعَتَكُمْ فَبَايِعُوا مَنْ شِئْتُمْ، قَالَ: كُلُّ ذَلِكَ يَقُومُ عَلِيٌّ، يَعْنِي: ابْنَ أَبِي طَالِبٍ، فَيَقُولُ: لَا نُقِيلُكَ وَلَا نَسْتَقِيلُكَ، قَدَّمَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَنْ يُؤَخِّرُكَ؟

ابو جحاف ؑ سے روایت ہے کہ جب سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کی بیعت کی گئی تو انہوں نے تین دن تک لوگوں کے لیے اپنے گھر کا دروازہ بند رکھا اور تین دن لگاتار آکر فرماتے رہے : میں تم سے لی جانے والی بیعت تمہیں واپس لوٹا تا ہوں ،تم جس کی چاہو بیعت کر لو ،اس بات پر سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ ہر دن انہیں کہتے رہے نہ ہم بیعت واپس لیتے ہیں اور نہ واپسی کا مطالبہ کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے آپکو مقدم کیا تو بھلا کون آپ کو مؤخر کرے گا۔(2)

كُلُّ ذَلِكَ يَقُومُ عَلِيٌّ، يَعْنِي: ابْنَ أَبِي طَالِبٍ، ← قَدْ أَقَلْتُكُمْ بَيْعَتَكُمْ فَبَايِعُوا مَنْ شِئْتُمْ، ← لَمَّا بُويِعَ أَبُو بَكْرٍ أَغْلَقَ بَابَهُ دُونَ النَّاسِ ثَلَاثًا، كُلَّ يَوْمٍ ← أَبِي، قثنا تَلِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ قثنا أَبُو الْجَحَّافِ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The remainder of his saying: “Show a first-born father who prays to people.” · Hadith 102

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ بَقِيَّةُ قَوْلِهِ: «مُرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ» · حديث 103

103 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قثنا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ الرَّازِيُّ قَالَ نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَغْرَاءَ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ: مَنْ أَوَّلُ مَنْ أَسْلَمَ؟ فَقَالَ: أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ، ثُمَّ قَالَ: أَمَا سَمِعْتَ قَوْلَ حَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ: [البحر البسيط] إِذَا تَذَكَّرْتَ شَجْوًا مِنْ أَخِي ثِقَةٍ ... فَاذْكُرْ أَخَاكَ أَبَا بَكْرٍ بِمَا فَعَلَا خَيْرَ الْبَرِيَّةِ أَتْقَاهَا وَأَعْدَلَهَا ... بَعْدَ النَّبِيِّ وَأَوْفَاهَا بِمَا حَمَلَا الثَّانِي التَّالِي الْمَحْمُودُ مَشْهَدُهُ ... وَأَوَّلُ النَّاسِ مِنْهُمْ صَدَّقَ الرُّسُلَا؟ "

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے سوال کیا گیا کہ کس نے سب سے پہلے اسلام قبول کیا تو فرمایا : سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے پھر فرمایا کیا تم نے سیدنا حسان بن ثابت کا یہ شعر نہیں سنا : جب تو اپنے معتبر بھائیوں کی گریہ وزارہ کو یاد کرے تو اپنے بھائی ابوبکر کو ان کے کارناموں سمیت یاد کرنا تقویٰ اور عدالت میں وہ نبی کریمﷺ کے بعد مخلوق میں سب سے بہتر تھے اپنے عہدوں کی پاسداری کرنے والے تھے ، وہ نبی کریم ﷺ کے بعد دوسرے شخص تھے جن کی سب سے زیادہ تعریف کی جاتی تھی اور وہ لوگوں میں سب سے پہلے رسولوں کی تصدیق کرنے والے تھے ۔(3)

إِمَّا ← أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ ثُمَّ ← سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ: مَنْ أَوَّلُ مَنْ أَسْلَمَ؟ ← الشَّعْبِيِّ، ← مجالد ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَغْرَاءَ، ← عَبْدُ اللَّهِ قثنا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ الرَّازِيُّ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The remainder of his saying: “Show a first-born father who prays to people.” · Hadith 103

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ بَقِيَّةُ قَوْلِهِ: «مُرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ» · حديث 104

104 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ قَالَ: قَالَ عُمَرُ: لَوَدِدْتُ أَنِّي مِنَ الْجَنَّةِ حَيْثُ أَرَى أَبَا بَكْرٍ.

سیدنا عمر فاروق نے فرمایا اگر میں جنت میں کسی مقام کی خواہش کروں تو اس مقام کی (خواہش) کروں گا جہاں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو دیکھ سکوں ۔(1)

عُمَرُ: لَوَدِدْتُ أَنِّي مِنَ الْجَنَّةِ حَيْثُ أَرَى أَبَا بَكْرٍ. ← الْحَسَنِ، ← يُونُسَ ← أَبِي، قثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The remainder of his saying: “Show a first-born father who prays to people.” · Hadith 104

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ بَقِيَّةُ قَوْلِهِ: «مُرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ» · حديث 105

105 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا تَلِيدٌ، عَنْ أَبِي الْجَحَّافِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا بَعَثَ اللَّهُ نَبِيًّا إِلَّا كَانَ لَهُ وَزِيرَانِ مِنْ أَهْلِ السَّمَاءِ، وَوَزِيرَانِ مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ، فَوَزِيرَايَ مِنْ أَهْلِ السَّمَاءِ جِبْرِيلُ وَمِيكَائِيلُ، وَوَزِيرَايَ مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ» . [ص:135]

ابو حجاف ؑ سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا : اللہ نے جتنے نبی معبوث فرمائے ہیں ہر نبی کے دو آسمان والوں اور دو زمین والوں سے وزیر تھے ۔ چنانچہ آسمان والوں سے میرے دووز یر جبریل ؑ اور مکائیل ؑ ہیں اور زمین والوں سے میرے دو وزیر ابو بکر اور عمر ہیں۔(2)

أَبِي الْجَحَّافِ ← أَبِي، قثنا تَلِيدٌ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The remainder of his saying: “Show a first-born father who prays to people.” · Hadith 105

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ بَقِيَّةُ قَوْلِهِ: «مُرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ» · حديث 106

106 - قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ: ذَاكَرْتُ أَبِي رَحِمَهُ اللَّهُ بِحَدِيثِ أَبِي سَعِيدٍ الْأَشَجِّ مِنْ حَدِيثِ تَلِيدٍ، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: هُوَ مُرْسَلٌ عَنْ تَلِيدٍ، عَنْ أَبِي الْجَحَّافِ فَقَطْ.

ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے اسی کے مثل روایت ہے جو کہ تلید اور ابو حجاف کے واسطے سے ہے اور وہ مرسل ہے (3)

أَبِي الْجَحَّافِ فَقَطْ. ← تَلِيدٍ، ← هُوَ مُرْسَلٌ ← اَبِیْ سَعِیْدٍ ← عَطِيَّةَ، ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ: ذَاكَرْتُ أَبِي بِحَدِيثِ أَبِي سَعِيدٍ الْأَشَجِّ مِنْ حَدِيثِ تَلِيدٍ،

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The remainder of his saying: “Show a first-born father who prays to people.” · Hadith 106

Daif

chevron_left Previous
1…8910…15
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door2. He was asked about the virtues of Abu, the first-born of al-Siddiq, the mercy and pleasure of God be upon him3. He was asked about the words of Ali ibn Abi Talib and others: The best of this nation after its prophet Abu Bakr and Omar4. His saying, may God’s prayers and peace be upon him: “If I had taken people as a friend, I would not have taken a virgin father as a friend5. He, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Pass a virgin father, let him pray to the people.”6. The remainder of his saying: “Show a first-born father who prays to people.”7. It was not narrated that Abu Bakr was the first to become Muslim8. It was not narrated that a virgin father came to ask permission, so the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Permit him, and give him good tidings of paradise.”9. The Virtue of the Commander of the Believers, Omar Ibn Al-Khattab, may God be pleased with him10. The Islam of Umar ibn Al-Khattab, may God be pleased with him11. And among the virtues of Omar bin Al-Khattab from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik, on the authority of his sheikhs other than Abd Allah bin Ahmed, and from the hadith of Abu Bakr bin Malik.12. The virtue of Othman bin Affan, may God be pleased with him13. And from the merits of Othman, from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik on the authority of his sheikhs except for Abdullah bin Ahmad14. The news of the Prince of the Believers, Ali bin Abi Talib, and his asceticism, may God be pleased with him15. His mother's name and genealogy16. A merit upon me, peace be upon him17. And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah18. The Virtue of Abd al-Rahman ibn Awf, may God be pleased with him19. The Virtue of Az-Zubayr Bin Awwam, may God be pleased with him20. Fadil Abi Ubaidah Ibn Al Jarrah, may God be pleased with him21. Fadil Talha Bin Ubaid Allah, may God be pleased with him22. Fadil Saad bin Abi Waqas, may God be pleased with him23. Fadil Fatima, the daughter of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him24. The virtues of good, and the good, may God be pleased with them.25. The Virtues of Ansar, may God be pleased with them26. The virtue of Khalid bin Al-Walid, may God have mercy on him27. Fadil Saad bin Muadh, may God have mercy on him28. Fadil Haritha Ibn Nu'man, may God be pleased with him29. Fadil Suhaib, may God be pleased with him30. The virtues of the Arabs31. The virtue of Usama bin Zaid, may God be pleased with him32. Fadil Abdullah bin Masoud, may God be pleased with him33. Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with them34. Virtues of Khadija and others35. Fadil Ammar ibn Yasser, may God be pleased with him36. Virtues 0 People of Yemen37. Virtues of the family of the Mother of the Believers, may God be pleased with her, and other things among the people of Yemen38. The virtues of the Banu Ghafar, and Islam and others39. Fadil Jaafar ibn Abi Talib, may God be pleased with him40. Fadil Jarir bin Abdullah, may God be pleased with him41. Fadil Abdullah Bin Omar, may God be pleased with them42. The virtues of a people of the Levant43. The Virtue of the Companions of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him44. The virtue of Amr ibn al-Aas, may God be pleased with him45. The Virtues of Mu`awiyah Bin Abi Sufyan, may God be pleased with them46. The virtues of Abu al-Fadl al-Abbas ibn Abd al-Muttalib, the uncle of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him47. Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with him