Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

1,963 Hadith48 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ بَقِيَّةُ قَوْلِهِ: «مُرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ» · حديث 256

256 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، حَدَّثَنِي أَبِي، نا وَكِيعٌ، نا شُعْبَةُ، عَنِ الْحُرِّ بْنِ الصَّيَّاحِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَخْنَسِ قَالَ: خَطَبَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ فَنَالَ مِنْ فُلَانٍ، فَقَامَ سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «النَّبِيُّ فِي الْجَنَّةِ، وَأَبُو بَكْرٍ فِي الْجَنَّةِ، وَعُمَرُ فِي الْجَنَّةِ، وَعُثْمَانُ فِي الْجَنَّةِ، وَعَلِيٌّ فِي الْجَنَّةِ، وَطَلْحَةُ فِي الْجَنَّةِ، وَالزُّبَيْرُ فِي الْجَنَّةِ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ فِي الْجَنَّةِ، وَسَعْدٌ فِي الْجَنَّةِ» ، وَلَوْ شِئْتُ أَنْ أُسَمِّيَ الْعَاشِرَ.

عبد الرحمن بن اخنس ؑ سے روایت ہےکہ سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں خطبہ دیا کہ فلاں فلاں سے شکوہ کرتا ہے تو سیدنا سعیدبن زید نے کھڑے ہو کر بیان کیا کہ میں نے سنا رسول اللہ ﷺ فرما رہے تھے : نبی (کریم ﷺ) جنت میں ،ابو بکر جنت میں ، عمر میں جنت، علی جنت میں ، طلحہ جنت میں ،زبیرجنت میں، عبد الرحمن بن عوف جنت میں ،سعد جنت میں اور اگر میں چاہوں تو دسویں آدمی کا نام بھی بتا سکتا ہوں ۔ (2)

رَسُولِ اللَّهِ ← خَطَبَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ فَنَالَ مِنْ فُلَانٍ، فَقَامَ سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الأَخْنَسِ ← الْحُرِّ بْنِ الصَّيَّاحِ ← شُعْبَةُ، ← وَكِيعٌ، ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The remainder of his saying: “Show a first-born father who prays to people.” · Hadith 256

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ بَقِيَّةُ قَوْلِهِ: «مُرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ» · حديث 257

257 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، وَحَجَّاجٌ، قَالَا: نا شُعْبَةُ، عَنِ الْحُرِّ بْنِ الصَّيَّاحِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَخْنَسِ، أَنَّ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ خَطَبَ فَنَالَ مِنْ فُلَانٍ، قَالَ: فَقَامَ سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ وَقَالَ: أَشْهَدُ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «رَسُولُ اللَّهِ فِي الْجَنَّةِ، وَأَبُو بَكْرٍ فِي الْجَنَّةِ، وَعُمَرُ فِي الْجَنَّةِ، وَعُثْمَانُ فِي الْجَنَّةِ، وَعَلِيٌّ فِي الْجَنَّةِ، وَطَلْحَةُ فِي الْجَنَّةِ، وَالزُّبَيْرُ فِي الْجَنَّةِ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ فِي الْجَنَّةِ، وَسَعْدٌ فِي الْجَنَّةِ» ، وَلَوْ شِئْتُ أَنْ أُسَمِّيَ الْعَاشِرَ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ.

عبد الرحمن بن اخنس ؑ سے روایت ہےکہ سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں خطبہ دیا کہ فلاں فلاں سے شکوہ کرتا ہے تو سیدنا سعیدبن زید نے کھڑے ہو کر بیان کیا کہ میں نے سنا رسول اللہ ﷺ فرما رہے تھے : نبی (کریم ﷺ) جنت میں ،ابو بکر جنت میں ، عمر میں جنت، علی جنت میں ، طلحہ جنت میں ،زبیرجنت میں، عبد الرحمن بن عوف جنت میں ،سعد جنت میں اور اگر میں چاہوں تو دسویں آدمی کا نام بھی بتا سکتا ہوں ۔پھر آگے اسی کی مثل روایت کو بیان کیا ہے ۔ (3)

مِثْلَہُ ← أَشْهَدُ أَنِّي ← فَقَامَ سَعِيدُ بْنُ زيد ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَخْنَسِ، أَنَّ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ خَطَبَ فَنَالَ مِنْ فُلَانٍ، ← الْحُرِّ بْنِ الصَّيَّاحِ ← شُعْبَةُ، ← أَبِي، قثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، وَحَجَّاجٌ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The remainder of his saying: “Show a first-born father who prays to people.” · Hadith 257

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ بَقِيَّةُ قَوْلِهِ: «مُرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ» · حديث 258

258 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبَانَ بْنِ صَالِحِ بْنِ نُمَيْرٍ الْقُرَشِيُّ قثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُحَارِبِيُّ قثنا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ أَبِي خَالِدٍ الدَّالَانِيِّ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو خَالِدٍ مَوْلَى آلِ جَعْدَةَ بْنِ هُبَيْرَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَتَانِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَأَخَذَ بِيَدِي، فَأَرَانِي بَابَ الْجَنَّةِ الَّذِي تَدْخُلُ مِنْهُ أُمَّتِي» ، فَقَالَ: أَبُو بَكْرٍ: وَدِدْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنِّي كُنْتُ مَعَكَ حَتَّى أَنْظُرَ إِلَيْهِ، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَمَا إِنَّكَ يَا أَبَا بَكْرٍ أَوَّلُ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي» .

سیدنا ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا میرے پاس جبریل آئے اور میرا ہاتھ پکڑا تو میں نےجنت کا دروازہ دیکھا جس میں میری امت داخل ہو گی۔ تو سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ﷺ!میری خواہش ہے کہ میں بھی آپ کے ہمراہ ہوتا تاکہ میں اس کو دیکھ سکتا تو آپ ﷺ نے فرمایا : ابوبکر توہی ایسا (شخص) ہے جو میری امت میں سب سے پہلے جنت میں داخل ہو گا۔ (1)

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The remainder of his saying: “Show a first-born father who prays to people.” · Hadith 258

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ بَقِيَّةُ قَوْلِهِ: «مُرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ» · حديث 259

259 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ: نا يَعْمَرُ، وَهُوَ ابْنُ بِشْرٍ، قثنا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ قَالَ: أنا إِسْحَاقُ بْنُ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ قَالَ: حَدَّثَنِي عِيسَى بْنُ طَلْحَةَ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: أَخْبَرَنِي أَبِي قَالَ: كُنْتُ فِي أَوَّلِ مَنْ فَاءَ يَوْمَ أُحُدٍ، فَرَأَيْتُ رَجُلًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَاتِلُ دُونَهُ.

سیدنا عائشہ سے روایت ہے کہ میرے باپ نے مجھے بیان کیا کہ غزوہ احد کے دن میں ان اولین میں سے تھا جنہوں نے اپنا وعدہ سچ کر دکھایا۔ میں نے ایک شخص کو دیکھا جو رسول اللہ ﷺ کے ساتھ آپ ﷺ کی حفاظت میں لڑ رہا تھا ۔(2)

أَبِي ← عَائِشَةَ ← عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ ← إِسْحَاقُ بْنُ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ، ← يَعْمَرُ، وَهُوَ ابْنُ بِشْرٍ، قثنا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The remainder of his saying: “Show a first-born father who prays to people.” · Hadith 259

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ بَقِيَّةُ قَوْلِهِ: «مُرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ» · حديث 260

260 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، نا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيًّا يَقُولُ: خَيْرُ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ نَبِيِّهَا أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ، وَلَوْ شِئْتُ لَحَدَّثْتُكُمْ بِالثَّالِثِ.

سیدنا ابو جحیفہ سے روایت ہے کہ میں نے سنا ،سیدنا علی المرتضیٰ فرما رہے تھے اس امت میں نبی کریم ﷺ کے بعد سب سے بہتر شخص سیدنا ابو بکر صدیق اور سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہم ہیں اور اگر میں چاہوں تو تیسرے شخص کا نام بھی بتا سکتا ہوں ۔(3)

خَيْرُ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ نَبِيِّهَا أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَلَوْ شِئْتُ لَحَدَّثْتُكُمْ بِالثَّالِثِ ← عَلِيًّا ← أَبِي جُحَيْفَةَ ← الشَّعْبِيِّ، ← ابْنِ أَبِي خَالِدٍ، ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The remainder of his saying: “Show a first-born father who prays to people.” · Hadith 260

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ بَقِيَّةُ قَوْلِهِ: «مُرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ» · حديث 88

88 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قثنا مُصْعَبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُصْعَبٍ الزُّبَيْرِيُّ قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، يَعْنِي: ابْنَ أَنَسٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ لِلنَّاسِ» ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَبَا بَكْرٍ إِذَا قَامَ فِي مَقَامِكَ لَمْ يُسْمِعْ، قَالَ: «مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ لِلنَّاسِ» ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ لِحَفْصَةَ: قُولِي لَهُ: إِنَّ أَبَا بَكْرٍ إِذَا قَامَ لَمْ يُسْمِعِ النَّاسَ مِنَ الْبُكَاءِ، فَمُرْ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فَلْيُصَلِّ لِلنَّاسِ، فَفَعَلَتْ حَفْصَةُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَهْ، إِنَّكُنَّ لَأَنْتُنَّ صَوَاحِبَاتُ يُوسُفَ، مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ لِلنَّاسِ» ، فَقَالَتْ حَفْصَةُ: مَا كُنْتُ لِأُصِيبَ مِنْكِ خَيْرًا.

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ابوبکر کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں ۔سیدہ عائشہ صدیقہ فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ ﷺ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ جب آپ ﷺ کے مقام پر کھڑے ہوں گے تو کثرت گریہ و زاری کی وجہ سے لوگوں کو(قرات) نہیں سنا سکیں گے تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ابو بکر کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں سیدہ عائشہ صدیقہ فرماتی ہیں میں نے سیدہ حفصہ سے کہا کہ آ پ نبی کریم ﷺ سے عرض کریں کہ ابو بکر جب آپ ﷺ کے مقام پر کھڑے ہوں گے تو وہ کثرت گریہ وزاری کی وجہ سے (قرآت ) نہیں سنا سکیں گے آپ ﷺ سیدنا عمر کو حکم دیں کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں چنانچہ سیدہ حفصہ نے ایسا ہی کیا تو نبی کریم ﷺنے ارشاد فرمایا رک جاؤ ! بلا شبہ تو میرے ستاھ صواحب یوسف کی طرح کرنا چاہتی ہو ۔ ابوبکر کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں تو سیدہ حفصہ نے (سید ہ عائشہ صدیقہ سے) کہا : میں آپ سے خیر نہیں پاؤ ں گی ۔ (1)

عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← مَالِکٌ يَعْنِي ابْنَ أَنَسٍ ← عَبْدُ اللَّهِ قثنا مُصْعَبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُصْعَبٍ الزُّبَيْرِيُّ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The remainder of his saying: “Show a first-born father who prays to people.” · Hadith 88

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ بَقِيَّةُ قَوْلِهِ: «مُرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ» · حديث 89

89 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ نا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَيُّوبَ أَبُو جَعْفَرٍ [ص:119] قثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ قَالَ: حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: كَانَ وَرَقَةُ بْنُ نَوْفَلٍ يَمُرُّ بِبِلَالٍ وَهُوَ يُعَذَّبُ، وَهُوَ يَقُولُ: أَحَدٌ، أَحَدٌ، فَيَقُولُ: أَحَدٌ أَحَدٌ اللَّهُ يَا بِلَالُ، ثُمَّ يُقْبِلُ وَرَقَةُ عَلَى أُمَيَّةَ بْنِ خَلَفٍ وَمَنْ يَصْنَعُ ذَلِكَ بِبِلَالٍ مِنْ بَنِي جُمَحَ، فَيَقُولُ: أَحْلِفُ بِاللَّهِ إِنْ قَتَلْتُمُوهُ عَلَى هَذَا لَاتَّخَذْتُهُ حَنَانًا، حَتَّى مَرَّ بِهِ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ بْنُ أَبِي قُحَافَةَ يَوْمًا، وَهُمْ يَصْنَعُونَ بِهِ ذَلِكَ، وَكَانَتْ دَارُ أَبِي بَكْرٍ فِي بَنِي جُمَحَ، فَقَالَ لِأُمَيَّةَ: أَلَا تَتَّقِي اللَّهَ فِي هَذَا الْمِسْكِينِ، حَتَّى مَتَى؟ قَالَ: أَنْتَ أَفْسَدْتَهُ فَأَنْقِذْهُ مِمَّا تَرَى، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَفْعَلُ، عِنْدِي غُلَامٌ أَسْوَدُ أَجْلَدُ مِنْهُ وَأَقْوَى عَلَى دِينِكَ، أُعْطِيكَهُ بِهِ، قَالَ: قَدْ قَبِلْتُ، قَالَ: هُوَ لَكَ. فَأَعْطَاهُ أَبُو بَكْرٍ غُلَامَهُ ذَلِكَ، وَأَخَذَ بِلَالًا فَأَعْتَقَهُ، ثُمَّ أَعْتَقَ مَعَهُ عَلَى الْإِسْلَامِ قَبْلَ أَنْ يُهَاجِرَ مِنْ مَكَّةَ سِتَّ رِقَابٍ - بِلَالٌ سَابِعُهُمْ - عَامِرَ بْنَ فُهَيْرَةَ، شَهِدَ بَدْرًا وَأُحُدًا وَقُتِلَ يَوْمَ بِئْرِ مَعُونَةَ شَهِيدًا، وَأُمَّ عُبَيْسٍ، وَزِنَّيْرَةَ، فَأُصِيبَ بَصَرُهَا حِينَ أَعْتَقَهَا، فَقَالَتْ قُرَيْشٌ: مَا [ص:120] أَذْهَبْ بَصَرَهَا إِلَّا اللَّاتُ وَالْعُزَّى، فَقَالَتْ: حُرِقُوا، وَبَيْتِ اللَّهِ مَا يَضُرُّ اللَّاتُ وَالْعُزَّى وَمَا يَنْفَعَانِ، فَرَدَّ اللَّهُ إِلَيْهَا بَصَرَهَا، وَأَعْتَقَ النَّهْدِيَّةَ وَابْنَتَهَا، وَكَانَتَا لِامْرَأَةٍ مِنْ بَنِي عَبْدِ الدَّارِ، فَمَرَّ بِهِمَا وَقَدْ بَعَثَتْهُمَا سَيِّدَتُهُمَا تَطْحَنَانِ لَهَا، وَهِيَ تَقُولُ: وَاللَّهِ لَا أَعْتِقُكُمَا أَبَدًا، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: حِلًّا يَا أُمَّ فُلَانٍ، قَالَتْ: حِلًّا، أَنْتَ أَفْسَدْتَهُمَا فَأَعْتِقْهُمَا، قَالَ: فَبِكَمْ هُمَا؟ قَالَتْ: بِكَذَا وَكَذَا، قَالَ: قَدْ أَخَذْتُهُمَا وَهُمَا حُرَّتَانِ، أَرْجِعَا إِلَيْهَا طَحِينَهَا، قَالَتَا: أَوَنَفْرُغَ مِنْهُ يَا أَبَا بَكْرٍ، ثُمَّ نَرُدُّهُ عَلَيْهَا؟ قَالَ: أَوَذَاكَ إِنْ شِئْتُمَا. وَمَرَّ أَبُو بَكْرٍ بِجَارِيَةِ بَنِي مُؤَمَّلٍ، حَيٍّ مِنْ بَنِي عَدِيِّ بْنِ كَعْبٍ، وَكَانَتْ مُسْلِمَةً وَعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يُعَذِّبُهَا لَتَتْرُكَ الْإِسْلَامَ، وَهُوَ يَوْمَئِذٍ مُشْرِكٌ، وَهُوَ يَضْرِبُهَا حَتَّى إِذَا مَلَّ قَالَ: إِنِّي أَعْتَذِرُ إِلَيْكِ، إِنِّي لَمْ أَتْرُكْكِ إِلَّا مَلَالَةً، فَعَلَ اللَّهُ بِكِ، فَتَقُولُ كَذَلِكَ فَعَلَ اللَّهُ بِكَ، فَابْتَاعَهَا أَبُو بَكْرٍ فَأَعْتَقَهَا، فَقَالَ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ، وَهُوَ يَذْكُرُ بِلَالًا وَأَصْحَابَهُ وَمَا كَانُوا فِيهِ مِنَ الْبَلَاءِ، وَإِعْتَاقَ أَبِي بَكْرٍ إِيَّاهُمْ، وَكَانَ اسْمُ أَبِي بَكْرٍ عَتِيقًا: [البحر الطويل] جَزَى اللَّهُ خَيْرًا عَنْ بِلَالٍ وَصَحْبِهِ ... عَتِيقًا وَأَخْزَى فَاكِهًا وَأَبَا جَهْلِ عَشِيَّةَ هُمَا فِي بِلَالٍ بِسَوْءَةٍ ... وَلَمْ يَحْذَرَا مَا يَحْذَرُ الْمَرْءُ ذُو الْعَقْلِ بِتَوْحِيدِهِ رَبَّ الْأَنَامِ وَقَوْلِهِ ... شَهِدْتُ بِأَنَّ اللَّهَ رَبِّي عَلَى مَهْلِ فَإِنْ يَقْتُلُونِي يَقْتُلُونِي وَلَمْ أَكُنْ ... لِأُشْرِكَ بِالرَّحْمَنِ مِنْ خِيفَةِ الْقَتْلِ فَيَا رَبَّ إِبْرَاهِيمَ وَالْعَبْدِ يُونُسَ ... وَمُوسَى وَعِيسَى نَجِّنِي ثُمَّ لَا تُمْلِ لِمَنْ ظَلَّ يَهْوَى الْغَيَّ مِنْ آلِ غَالِبٍ ... عَلَى غَيْرِ بِرٍّ كَانَ مِنْهُ وَلَا عَدْلِ

عروہ بن زبیر ؑ سے روایت ہے کہ ورقہ بن نوفل سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے اور انہیں مارا جا رہا تھا ۔ وہ احد احد (اللہ ایک ہے اللہ ایک ہے ) کہہ رہے تھے ورقہ بن نوفل کہنے گے اے بلال رضی اللہ عنہ اللہ ایک ہے ، اللہ ایک ہے پھر ورقہ بن نوفل امیہ بن خلف کے پاس آکر کہنے لگے: بلال جمحی کے ساتھ تو ایسا سلوک کیوں کر رہا ہے؟ مزید کہنے لگے : اللہ کی قسم ! اگر ان کو قتل کر دیا گیا تو میں ان پر گریہ وزاری کروں گا حتیٰ کہ ایک دن سیدنا ابوبکر بن ابی قحافہ کے ان کے پاس سے گزر ہوا او رناکو مارا جارہا تھا او رسیدنا ابو بکر صدیق کا گھر بنو جمح میں تھا امیہ بن خلف کو کہنے لگے: کیا تو اس مسکین کے معاملے میں اللہ سے ڈرتا نہیں اور آخر تو جب تک ایسا کرتا رہے گا۔یہاں تک کہ امیہ کہنے لگا : تو نے اسے بگاڑا ہے جس مصیبت میں تو اسے دیکھ رہا اس سے (اگر چاہتا ہے تو) بچالے ، سیدنا ابو بکر صدیق فرمانے گے میرے پاس سیاہ فام ایک غلام ہے جو تیرے عقیدے پر سختی سے کار بند ہے اس کے عوض تجھے دوں گا ، امیہ نے کہا مجھے قبول ہے سیدنا ابو بکر صدیق نے فرمایا تو وہ غلام تیرا ہوا تو سیدنا ابو بکر صدیق نے وہ غلام اس کو دے دیا اور سیدنا بلال کو اسے لے کر آزاد کر دیا پھر اسی طرح انہوں نے اپنے قبول اسلام کے ساتھ مکہ سے ہجرت کرنے سے پہلے چھے غلام آزاد کیے جن میں ساتویں سیدنا بلال تھے (ان کے علاوہ وہ جو غلام انہوں نے آزاد کیے وہ یہ ہیں) سیدنا عامر بن فہیرہ جو غزوہ بدر اور غزوہ احد میں شریک ہوئے ۔معرکہ بر معونہ کے دن شہید ہوئے اور ام عبیس اور سیدنا نیرہ انکو جب آزاد کروایا تو انکی بصارت ختم ہو چکی تھی تو قریش نے کہا: انکی بصارت صرف لات و عزیٰ لے گئے ہیں۔ سیدنا زنیر ہ نے کہ تم جل جاؤ اور رب کبعہ کی قسم ! لات و عزیٰ دونوں کوئی نفع و نقصان نہیں دے سکتے ہیں اس ر اللہ تعالیٰ نے انکی بصارت لوٹا دی اور اس طر ح سیدہ نہدیہ اور انکی بیٹی کو آزاد کروایا جو بنو عبدالدار کی ایک عورت باندیاں تھیں ،سیدنا ابوبکر کا گزار ان دو عوتوں کے پاس سے ہوا انکی مالکہ نے دانے پیسنے کے لیے بھیجا تھا ،وہ کہتی تھی : اللہ کی قسم توڑوں؟ تو نے ہی انکو بگاڑا ہے ،اب انہیں آزاد بھی کرواؤ ،سیدنا ابوبکر صدیق نے فرمایا دونوں کی کیا قیمت ہے ؟ کہنے لگی : اتنی قیمت ہے ، سیدنا ابوبکر نے کہا میں نے ان دونوں کو خرید کر آزاد کیا، ان دونوں سے کہا اب تم جاؤ جو دانے ابھی تک پسے نہیں وہ اس کے حوالے کر دو انہوں نے کہا اے ابوبکر ہم اس سے فارغ ہو کر اس کے سپرد کرتی ہیں ،سیدنا ابو بکر نے کہا : جیسے تمہاری مرضی اسی طرح سیدنا ابو بکر صڈیق کا گزار مومل بن حیی جس کا تعلق بنو عدی قبیلہ سے تھا کی لونڈی کے پاس سے ہوا ،جو مسلمان تھیں ، عمر بن خطاب انہیں اسلام چھوڑ وانے کے لیے سزا دے رہے تھے وہ اس وقت مشرک تھے جب انہیں مارتے مارتے تھک جاتے تو کہتے : معذرت میں نے تجھے صرف تھکاوٹ کی وجہ سے چھوڑا ہے ۔ اللہ تیرے بار ےمیں فیصلہ کرے وہ لونڈی بھی آگے سے کہتی : اللہ تیرے بارے میں فیصلہ کرے چنانچہ سیدنا ابوبکر صدیق نے انکو خرید کر آزاد کر دیا ، سیدنا عمار بن یاسر ،سیدنا بلال اور انکے دیگر ساتھیوں کو جنہیں تکالیف پہنچتی تھیں سیدنا ابوبکر نے خرید کر آزاد کیا تھا سیدنا ابوبکر کا لقب اس وجہ سے عتیق پڑ گیا سیدنا عمار بن یاسر ان باتوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہتے :اللہ تعالیٰ سیدنا ابوبکر صدیق کو سیدنا بلال اور ان ساتھیوں کے ساتھ حسن سلوک پر جزائے خیر دے اور اللہ تعالٰ فا کہہ اور ابو جہل دونوں کو رسوا کر ے۔ پھر یہ اشعار پڑھتے : جس رات وہ دونوں سیدنا بلال سے برا سلوک کر رہے تھے انہیں کسی ایسی چیز کا کوئی اندیشہ نہیں تھا جس سے کوئی عقل مند آدمی ڈر جاتا ہے ،سیدنا بلال رب العالمین کی توحید کا ڈنکا بجاتے ہوئے کہتے : میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ مجھے مہلت دے گا اگر یہ مجھے قتل کریں گے تو اس حال میں قتل کریں گے کہ میں موت کے خوف سے رحمن کے ساتھ شرک کرنے والا نہیں ہوں گا ۔اے ابراہیم ،یونس، موسیٰ اور عیسی کے رب ! مجھے اس آزمائش سے نجات دے پھر اسے مہلت نہ دے جو آل غالب میں سے باوجود گناہ و ظلم کے گمراہی کا طالب ہے ۔ (1)

أَبِيهِ ← هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَيُّوبَ أَبُو جَعْفَرٍ قثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The remainder of his saying: “Show a first-born father who prays to people.” · Hadith 89

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ بَقِيَّةُ قَوْلِهِ: «مُرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ» · حديث 90

90 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ النَّاجِيُّ قثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ قَالَ: نا صَدَقَةُ بْنُ الْمُثَنَّى النَّخَعِيُّ قَالَ: حَدَّثَنِي جَدِّي رِيَاحُ بْنُ الْحَارِثِ قَالَ: كُنَّا [ص:121] فِي الْمَسْجِدِ مَعَ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ فِي أُنَاسٍ كَثِيرٍ، فَجَاءَ سَعِيدُ بْنُ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ، فَأَوْسَعَ لَهُ الْمُغِيرَةُ وَقَالَ: هَا هُنَا، فَجَلَسَ مَعَهُ عَلَى السَّرِيرِ، فَجَاءَ شَابٌّ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ يُقَالُ لَهُ: قَيْسُ بْنُ عَلْقَمَةَ، فَاسْتَقْبَلَ الْمُغِيرَةَ فَسَبَّ وَسَبَّ، فَقَالَ سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ: لِمَنْ يَسُبُّ هَذَا؟ فَقَالَ الْمُغِيرَةُ: يَسُبُّ عَلِيًّا، فَقَالَ: وَيْحَكَ يَا مُغِيرَةُ، أَلَا أَرَى أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسَبُّونَ عِنْدَكَ، ثُمَّ لَا تُغَيِّرُ، لَنْ أَقُولَ عَلَيْهِ مَا لَمْ يَقُلْ فَيَسْأَلَنِي عَنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، سَمِعْتُهُ يَقُولُ: إِنَّ كَذِبًا عَلَيَّ لَيْسَ كَكَذِبٍ عَلَى أَحَدٍ، مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ، أَبُو بَكْرٍ فِي الْجَنَّةِ، وَعُمَرُ فِي الْجَنَّةِ، وَعَلِيٌّ فِي الْجَنَّةِ، وَعُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ فِي الْجَنَّةِ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ، وَسَعْدُ بْنُ مَالِكٍ فِي الْجَنَّةِ، وَالزُّبَيْرُ فِي الْجَنَّةِ، وَطَلْحَةُ فِي الْجَنَّةِ، وَتَاسِعُ الْمُسْلِمِينَ لَوْ شِئْتُ أَنْ أُسَمِّيَهُ لَسَمَّيْتُهُ، قَالَ: فَضَجَّ النَّاسُ وَقَالُوا: يَا صَاحِبَ رَسُولِ اللَّهِ، أَخْبِرْنَا مَنْ تَاسِعُ الْمُسْلِمِينَ؟ وَنَاشَدُوهُ، فَقَالَ: لَوْلَا أَنَّكُمْ نَاشَدْتُمُونِي مَا أَخْبَرْتُكُمْ، أَنَا تَاسِعُ الْمُؤْمِنِينَ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُتِمُّ الْعَاشِرَ، ثُمَّ قَالَ: وَاللَّهِ لَمَوْقِفُ رَجُلٍ أَوْ مَشْهَدُ رَجُلٍ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْبَرُّ فِيهِ وَجْهُهُ أَفْضَلُ مِنْ عِبَادَةِ أَحَدِكُمْ عُمْرَهُ.

رباح بن حارث سے روایت ہے کہ ہم مسجد میں کثیر لوگوں کےساتھ سیدنا مغیرہ بن شعبہ کے ساتھ تھے تو سیدنا سعید بن زید بن عمروبن نفیل تشری لائے تو سیدنا مغیرہ بن شعبہ نے انکے بیٹھنے کے لیے جگہ بنا کر کہا ادھر آئیے وہ انکے ساتھ چار پائی پر بیٹھ گئے اسی دوران اہل کوفہ سے ایک نوجوان آیا جس کو قیس بن علقمہ کہا جاتا تھا وہ سیدنا مغیرہ بن شعبہ کے سامنے آکر بُرا بھلا کہنے لگا تو سعید بن زید نے پوچھا یہ کس کو نشانہ ہدف بنا رہا ہے؟سیدنا مغیرہ بن شعبہ نے کہا سیدنا علی کو : سیدنا سعید بن زید نے کہا : مغیرہ آپ کا برا ہوکیا آپ کی موجودگی میں اصحاب محمد ﷺ کو بُرا بھلا کہا جا رہا ہے اور آپ روکتے نہیں ہیں، میں وہ بات نہیں کہو گا جو آپ ﷺ نے نہیں ارشاد فرمائی جس کے بارے میں مجھ سے روز قیامت سوال کیا جائے گامیں نے آپ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مجھ پر جھوٹ باندھنا کسی عام شخص پر جھوٹ باندھنے کی ماند نہیں ہے جو بھی مجھ پر جھوٹ باندھتا ہے تو وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا ے تو آپ ﷺ نے رمایا ابوبکر جنت میں ،عمر جنت میں ،علی جنت میں ، عثمان بن عفان جنت میں ، عبد الرحمن بن عوف جنت میں ، سعد بن مالک جنت میں ، زبیر جنت میں ،طلحہ جنت میں اور نواں مسلمان بھی جنت میں اگر میں چاہوں تو اس کا نام بھی بتا سکتا ہوں ۔ تو راوی کہتے ہیں کہ لوگوں نے اس پر شور کیا اور کہا اے رسول اللہ ﷺ کو شامل کر کے دس پورے ہو جاتے ہیں پھر انہوں نے فرمایا اللہ کی قسم اگر کوئی آدمی رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کسی ایسے مقام پر حاضر ہوا جس میں اس کا چہرہ غبار آلود ہوا تو اس کا وہ عمل تم میں سے ہر ایک کی زندگی بھر کی عبادت سے افضل ہے۔(1)

جَدِّي رِيَاحَ بْنَ الْحَارِثِ ← صدقة بن المثنى النخعي ← عَبْدُ اللَّهِ قثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ النَّاجِيُّ قثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The remainder of his saying: “Show a first-born father who prays to people.” · Hadith 90

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ بَقِيَّةُ قَوْلِهِ: «مُرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ» · حديث 91

91 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قثنا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ قثنا صَدَقَةُ بْنُ الْمُثَنَّى قَالَ: سَمِعْتُ جَدِّي رِيَاحَ بْنَ الْحَارِثِ يَذْكُرُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ يَقُولُ: لَمَشْهَدٌ شَهِدَهُ الرَّجُلُ مِنْهُمْ يَوْمًا وَاحِدًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اغْبَرَّ فِيهِ وَجْهُهُ أَفْضَلُ مِنْ عَمَلِ أَحَدِكُمْ وَلَوْ عُمِّرَ عُمُرَ نُوحٍ.

سیدنا سعید بن زید فرماتے ہیں کہ صحابہ کرام کا نبی کریم ﷺ کے ساتھ ایک دن اللہ کی راہ میں نکلنا اور اس میں ان کا چہرہ غبار آلود ہوجانا یہ تم میں سے ہر ایک کی زندگی بھر کی (عبادت) سے افضل ہے خواہ کسی کو سیدنا نوح کی جتنی عمر ہی کیوں نہ دے دی جائے (2)

سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ ← جَدِّي رِيَاحُ بْنُ الْحَارِثِ يَذْكُرُ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قثنا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ قثنا صَدَقَةُ بْنُ الْمُثَنَّى ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The remainder of his saying: “Show a first-born father who prays to people.” · Hadith 91

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ بَقِيَّةُ قَوْلِهِ: «مُرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ» · حديث 92

92 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا ابْنُ الْمَاجِشُونَ يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ - قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: قَالَ أَبِي: وَالْمَاجِشُونُ هُوَ يَعْقُوبُ - عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَبَيْنَا رَجُلٌ يَمْشِي فِي حُلَّةٍ قَدْ أَعْجَبَتْهُ هَيْئَتُهُ خَسَفَ اللَّهُ بِهِ الْأَرْضَ، فَهُوَ يَتَجَلْجَلُ فِيهَا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، وَشَهِدَ عَلَى ذَلِكَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ» . وَلَيْسَ ثَمَّ أَبُو بَكْرٍ، وَلَا عُمَرُ.

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا ایک آدمی حلہ پہنے ہوئے جا رہا تھا اسے اپنی ایسی حآلت بڑی اچھی لگی اللہ تعالیٰ نے اس کو اس کے ساتھ ہی زمین میں دھنسا دیا اور وہ قیامت کے دن تک مسلسل زمین میں دھنستا چلا جا رہا ہے ۔اور اس بات پر ابوبکر اور عمر گواہ ہیں حالانکہ اس محفل میں سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر موجود نہیں تھے ۔ (3)

أَبِيهِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ← أَبِي: وَالْمَاجِشُونُ هُوَ يَعْقُوبُ ← عَبْدُ اللَّهِ ← أَبِي، قثنا ابْنُ الْمَاجِشُونَ يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The remainder of his saying: “Show a first-born father who prays to people.” · Hadith 92

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ بَقِيَّةُ قَوْلِهِ: «مُرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ» · حديث 93

93 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بِالْكُوفَةِ سَنَةَ ثَلَاثِينَ وَمِائَتَيْنِ قثنا الْمُحَارِبِيُّ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ زُبَيْدٍ الْيَامِيِّ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَمَّنْ حَدَّثَهُ، عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ أَقْبَلَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ، فَلَمَّا نَظَرَ إِلَيْهِمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «يَا عَلِيُّ، هَذَانِ سَيِّدَا كُهُولِ أَهْلِ الْجَنَّةِ مِنَ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ إِلَّا النَّبِيِّينَ وَالْمُرْسَلِينَ» ، ثُمَّ قَالَ: «يَا عَلِيُّ، لَا تُخْبِرْهُمَا» . [ص:125]

سیدنا علی المرتضیٰ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر تشریف لائے جب آپ ﷺ نے انکی طرف دیکھا تو رسول اللہ نے فرمایا اے علی یہ اہل جنت کے اولین و آخرین کے عمر رسیدہ لوگوں کے سردار ہیں البتہ انبیاء اور رسل اس سے مستثنیٰ ہیں پھر فرمایا اے علی ان دونوں کو خبر نہ دینا (1)

كُنْتُ جَالِسًا مَعَ النَّبِيِّ ← عَلِيٍّ، ← الشعبي، عمن ← زُبَيْدٌ الْيَامِيُّ ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ ← مِائَتَيْنِ قثنا الْمُحَارِبِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بِالْكُوفَةِ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The remainder of his saying: “Show a first-born father who prays to people.” · Hadith 93

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ بَقِيَّةُ قَوْلِهِ: «مُرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ» · حديث 94

94 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبَانَ قثنا الْمُحَارِبِيُّ، عَنْ أَبِي جَنَابٍ، عَنْ زُبَيْدٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ نُفَيْعٍ، أَوِ ابْنِ نُفَيْعٍ، عَنْ عَلِيٍّ، مِثْلَ ذَلِكَ.

سیدنا علی المرتضیٰ سے اسی کے مثل روایت مروی ہے۔(2)

عَلِيٍّ مِثْلَ ذَلِكَ. ← نُفَيْعٍ، أَوِ ابْنِ نُفَيْعٍ، ← عَامِرٍ، ← زُبَيْدٍ، ← أَبِي جَنَابٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبَانَ قثنا الْمُحَارِبِيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The remainder of his saying: “Show a first-born father who prays to people.” · Hadith 94

Daif

chevron_left Previous
1…789…15
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door2. He was asked about the virtues of Abu, the first-born of al-Siddiq, the mercy and pleasure of God be upon him3. He was asked about the words of Ali ibn Abi Talib and others: The best of this nation after its prophet Abu Bakr and Omar4. His saying, may God’s prayers and peace be upon him: “If I had taken people as a friend, I would not have taken a virgin father as a friend5. He, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Pass a virgin father, let him pray to the people.”6. The remainder of his saying: “Show a first-born father who prays to people.”7. It was not narrated that Abu Bakr was the first to become Muslim8. It was not narrated that a virgin father came to ask permission, so the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Permit him, and give him good tidings of paradise.”9. The Virtue of the Commander of the Believers, Omar Ibn Al-Khattab, may God be pleased with him10. The Islam of Umar ibn Al-Khattab, may God be pleased with him11. And among the virtues of Omar bin Al-Khattab from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik, on the authority of his sheikhs other than Abd Allah bin Ahmed, and from the hadith of Abu Bakr bin Malik.12. The virtue of Othman bin Affan, may God be pleased with him13. And from the merits of Othman, from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik on the authority of his sheikhs except for Abdullah bin Ahmad14. The news of the Prince of the Believers, Ali bin Abi Talib, and his asceticism, may God be pleased with him15. His mother's name and genealogy16. A merit upon me, peace be upon him17. And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah18. The Virtue of Abd al-Rahman ibn Awf, may God be pleased with him19. The Virtue of Az-Zubayr Bin Awwam, may God be pleased with him
20. Fadil Abi Ubaidah Ibn Al Jarrah, may God be pleased with him
21. Fadil Talha Bin Ubaid Allah, may God be pleased with him
22. Fadil Saad bin Abi Waqas, may God be pleased with him
23. Fadil Fatima, the daughter of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him
24. The virtues of good, and the good, may God be pleased with them.
25. The Virtues of Ansar, may God be pleased with them
26. The virtue of Khalid bin Al-Walid, may God have mercy on him
27. Fadil Saad bin Muadh, may God have mercy on him
28. Fadil Haritha Ibn Nu'man, may God be pleased with him
29. Fadil Suhaib, may God be pleased with him
30. The virtues of the Arabs
31. The virtue of Usama bin Zaid, may God be pleased with him
32. Fadil Abdullah bin Masoud, may God be pleased with him
33. Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with them
34. Virtues of Khadija and others
35. Fadil Ammar ibn Yasser, may God be pleased with him
36. Virtues 0 People of Yemen
37. Virtues of the family of the Mother of the Believers, may God be pleased with her, and other things among the people of Yemen
38. The virtues of the Banu Ghafar, and Islam and others
39. Fadil Jaafar ibn Abi Talib, may God be pleased with him
40. Fadil Jarir bin Abdullah, may God be pleased with him
41. Fadil Abdullah Bin Omar, may God be pleased with them
42. The virtues of a people of the Levant
43. The Virtue of the Companions of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him
44. The virtue of Amr ibn al-Aas, may God be pleased with him
45. The Virtues of Mu`awiyah Bin Abi Sufyan, may God be pleased with them
46. The virtues of Abu al-Fadl al-Abbas ibn Abd al-Muttalib, the uncle of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him
47. Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with him