Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

1,963 Hadith48 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ بَقِيَّةُ قَوْلِهِ: «مُرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ» · حديث 232

232 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ قثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُجَالِدٍ، عَنْ بَيَانٍ، عَنْ وَبَرَةَ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ: قَالَ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا مَعَهُ إِلَّا خَمْسَةُ أَعْبُدٍ وَامْرَأَتَانِ وَأَبُو بَكْرٍ.

سیدنا عمار بن یاسر سے روایت ہے کہ میں نے جب رسول اکرم ﷺ کو دیکھا ، اس وقت آپ ﷺ کی ساتھ پانچ غلام مسلمان تھے دو عورتیں اور ایک سیدنا ابو بکر ۔(3)

هَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ، ← وَبَرَةَ ← بَيَانٍ ← يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ قثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُجَالِدٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The remainder of his saying: “Show a first-born father who prays to people.” · Hadith 232

Hassan

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ بَقِيَّةُ قَوْلِهِ: «مُرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ» · حديث 233

233 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ قثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنْ جَابِرٍ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ امْرَأَةٍ مِنِ الْأَنْصَارِ صَنَعَتْ لَنَا طَعَامًا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَدْخُلُ عَلَيْكُمْ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ» ، فَدَخَلَ أَبُو بَكْرٍ، فَهَنَّيْنَاهُ، ثُمَّ قَالَ: «يَدْخُلُ عَلَيْكُمْ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ» ، فَدَخَلَ عُمَرُ، فَهَنَّيْنَاهُ، ثُمَّ قَالَ: «يَدْخُلُ عَلَيْكُمْ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ» ، فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُدْخِلُ رَأْسَهُ تَحْتَ الْوَدِيِّ وَيَقُولُ: «اللَّهُمَّ إِنْ شِئْتَ جَعَلْتَهُ عَلِيًّا» ، فَدَخَلَ عَلِيٌّ، فَهَنَّيْنَاهُ.

سیدنا جابر بن عبداللہ سے روایت ہےکہ ہم رسول اکرم ﷺ کے ساتھا یک انصاری عورت کے پاس آئے جس نے ہمارے لیے کھانا تیار کیا تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا ابھی تم پر جنت میں سے ایک آدمی حاضر ہونے والا ہے تو سیدنا ابو بکر صدیق تشریف لائے ۔ ہم نے انکو مبارک باد دی پھر آپ ﷺ نے فرمایا ابھی تم پر اہل جنت میں سے ایک آدمی نمودار ہوگا تو سیدنا عمر فاروق تشریف لائے، ہم نے ان کو مبارک بادی پھر فرمایا ابھی تم پر اہل جنت میں سے ایک آدمی نمودار ہوگا راوی کہتے ہیں کہ یں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا آپ کھجور کے درختوں کے نیچے اپنے سر مبارک کو ڈھانپ رہے تھے ساتھ یہ فرما رہے تھے اے اللہ ! کاش علی ہوتے پس سیدنا علی المرتضیٰ ہی تشریف لائے۔ (4)

جَابِرٍ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ← أَبِي، قثنا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ قثنا سُفْيَانُ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The remainder of his saying: “Show a first-born father who prays to people.” · Hadith 233

Hassan

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ بَقِيَّةُ قَوْلِهِ: «مُرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ» · حديث 234

234 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا أَبُو الْوَلِيدِ هِشَامٌ قثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ يَعْنِي ابْنَ عُمَيْرٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي الْمُعَلَّى، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ يَوْمًا فَقَالَ: «إِنَّ رَجُلًا خَيَّرَهُ رَبُّهُ عَزَّ وَجَلَّ بَيْنَ أَنْ يَعِيشَ فِي الدُّنْيَا مَا شَاءَ أَنْ يَعِيشَ فِيهَا، يَأْكُلُ مِنَ الدُّنْيَا مَا شَاءَ أَنْ يَأْكُلَ مِنْهَا، وَبَيْنَ لِقَاءِ رَبِّهِ، فَاخْتَارَ لِقَاءَ رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ» . قَالَ: فَبَكَى أَبُو بَكْرٍ، فَقَالَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَلَا تَعْجَبُونَ مِنْ هَذَا الشَّيْخِ؟ أَنْ ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ رَجُلًا صَالِحًا خَيَّرَهُ رَبُّهُ بَيْنَ الدُّنْيَا وَبَيْنَ لِقَاءِ رَبِّهِ فَاخْتَارَ لِقَاءَ رَبِّهِ، وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ أَعْلَمَهُمْ بِمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: بَلْ نَفْدِيكَ بِأَمْوَالِنَا وَأَبْنَائِنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا مِنَ النَّاسِ أَحَدٌ أَمَنَّ عَلَيْنَا فِي صُحْبَتِهِ وَذَاتِ يَدِهِ مِنِ ابْنِ أَبِي قُحَافَةَ، وَلَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِيلًا لَاتَّخَذْتُ ابْنَ أَبِي قُحَافَةَ، وَلَكِنْ وُدٌّ وَإِخَاءُ إِيمَانٍ، وَلَكِنْ وُدٌّ وَإِخَاءُ إِيمَانٍ - مَرَّتَيْنِ - وَإِنَّ صَاحِبَكُمْ خَلِيلُ اللَّهِ» . [ص:210]

سیدناابو معلیٰ سے روایت ہے کہ ایک دن نبی کریم ﷺ نے منبر پر تشریف فرما ہو کر خطبہ ارشاد فرمایا: بے شک اللہ نے اپنے کسی بند ے کو (دوباتوں میں ایک بات کا) اختیار دیاہے ۔ 1۔ وہ دنیا میں جتنا پسند کرے زندہ رہے اس میں کھائے جو پسند کرے۔ 2۔وہ اللہ سے ملاقات کرے اور بے شک بندے نے (ان دو باتوں میں سے )اللہ کی ملاقات کو اختیار کر لیا ہے ۔ یہ سن کر سیدنا ابو بکر رو پڑے ،صحابہ کرام نے کہا : یہ بوڑھے شخص کیوں رو پڑے؟ رسول اللہ ﷺ نے عام لوگوں میں سے ایک نیک آدمی کا ذکر فرمایا ہے جس کو اللہ نے دنیا اور آخرت دونوں میں سے کسی ایک کا اختیا ردیا ہے ۔ راوی کہتے ہیں سیدنا ابو بکر صدیق رسول اللہ ﷺ کی بات کو سب سے زیادہ جانتنے والے تھے اس لیے انہو نے عرح کیاَ میرے ماں باپ آپﷺ پر قربان ہوں ،بلکہ ہم سب اپنے والدین اور جانو ں کو آپ ﷺ پر نچھاور کردیں گے تو رسول اللہ ﷺ نے اسی وقت فرمایا :لوگوں میں سے ہم پر رفاقت اور مال کے لحاظ سے کوئی ابی قھافہ سے زیادہ حق دار نہیں ہے اگر میں لوگوں میں سے کسی کو اپنا خلیل بناتا تو ابن ابی قحافہ کو بناتا لیکن میری ان سے ایمانی محبت و اخوت ہے لیکن میر ی ان سے ایمانی محبت و اخوت ہے ۔ یہ آپ ﷺ نے دو مرتبہ فرمایا لیکن تمہار ے صاحب نے اپنے اللہ کو اپنا خلیل بنا لیا ہے۔(1)

أَبِيهِ ← ابْنِ أَبِي الْمُعَلَّى، ← عبد الملك يعني ابن عمير ← أَبِي، قثنا أَبُو الْوَلِيدِ هِشَامٌ قثنا أَبُو عَوَانَةَ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The remainder of his saying: “Show a first-born father who prays to people.” · Hadith 234

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ بَقِيَّةُ قَوْلِهِ: «مُرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ» · حديث 235

235 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قال: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ قثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي الْمُعَلَّى، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ نَحْوَهُ

ابو معلیٰ نے نبی کریم ﷺ سے اسی طرح بیان کیا (2)

النَّبِيِّ مِثْلَهُ نَحْوَهُ ← أَبِيهِ ← ابْنِ أَبِي الْمُعَلَّى، ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ قثنا أَبُو عَوَانَةَ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The remainder of his saying: “Show a first-born father who prays to people.” · Hadith 235

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ بَقِيَّةُ قَوْلِهِ: «مُرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ» · حديث 236

236 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى بْنِ صَبِيحٍ زَحْمَوَيْهِ بِوَاسِطَ قثنا شُعَيْبُ بْنُ صَفْوَانَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي الْمُعَلَّى، عَنْ أَبِي الْمُعَلَّى قَالَ: صَعِدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمِنْبَرَ مِنْبَرَ الْمَدِينَةِ فَقَالَ: «إِنَّ رِجْلَيَّ عَلَى تُرْعَةٍ مِنْ تُرَعِ الْحَوْضِ» ، قَالَ: وَأَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَحْتَ الْمِنْبَرِ مُتَوَافِرُونَ، وَأَبُو بَكْرٍ مُتَقَنِّعٌ فِي الْقَوْمِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ عَبْدًا مِنْ عَبِيدِ اللَّهِ خَيَّرَهُ رَبُّهُ بَيْنَ أَنْ يَعِيشَ فِي الدُّنْيَا مَا شَاءَ أَنْ يَعِيشَ فِيهَا، وَأَنْ يَأْكُلَ مِنَ الدُّنْيَا مَا شَاءَ أَنْ يَأْكُلَ مِنْهَا، وَبَيْنَ لِقَاءِ رَبِّهِ» ، فَلَمْ يَفْطِنْ أَحَدٌ مِنَ الْقَوْمِ لِمَا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرَ أَبِي بَكْرٍ، فَانْتَحَبَ بَاكِيًا، فَقَالَ الْقَوْمُ: انْظُرُوا إِلَى هَذَا الشَّيْخِ مَا يُبْكِيهِ؟ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ قَالَ: «إِنَّ عَبْدًا مِنْ عَبِيدِ اللَّهِ خَيَّرَهُ رَبُّهُ بَيْنَ أَنْ يَعِيشَ فِي الدُّنْيَا مَا شَاءَ أَنْ يَعِيشَ فِيهَا، وَأَنْ يَأْكُلَ مِنَ الدُّنْيَا مَا شَاءَ أَنْ يَأْكُلَ مِنْهَا، وَبَيْنَ لِقَاءِ رَبِّهِ، فَاخْتَارَ الْعَبْدُ لِقَاءَ رَبِّهِ» ، فَمَا يُبْكِي هَذَا الشَّيْخَ؟ فَلَمَّا سَمِعَ مَقَالَتَهُمْ رَفَعَ رَأْسَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: بَلْ نَفْدِيكَ بِآبَائِنَا وَأَمْوَالِنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ أَمَنَّ فِي صُحْبَتِهِ، وَلَا فِي ذَاتِ يَدِهِ، مِنِ ابْنِ أَبِي قُحَافَةَ، وَلَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِيلًا لَاتَّخَذْتُ ابْنَ أَبِي قُحَافَةَ، وَلَكِنْ وُدٌّ وَإِخَاءٌ وَإِيمَانٌ، وَإِنَّ صَاحِبَكُمْ خَلِيلُ اللَّهِ» .

سیدنا ابو معلیٰ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ منبر پر جلوہ افروز ہوئے اور فرمایا : بے شک میرے پاؤں حوض کوثر کے کنارے پر ہیں اس وقت صحابہ کرام منبر کے پاس بہ کثرت جمع تھے ابو بکر کپڑا اوڑھے بیٹھے تھے نبی کریم ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک بند ے کو اختیار دیا ہے کہ وہ دنیا میں رہنا پسند کرے ، اس میں اپی چاہت کی زندگی بسر کرے اور جو جی میں آئے کھائے یا اللہ کی ملاقات کو پسند کرلے۔ جب نبی کریم ﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی تو ماسوائے سید ابو بکر کے صحابہ کرام میں سے کسی کو یہ بات سمجھ نہیں آئی تو وہ رونے لگ گئے ،لوگوں نے کہا یہ بوڑھے شخص کیوں رو رہے ہیں حالانکہ رسول اکرم ﷺ نے اتنی بات فرمائی ہے کہ اللہ تعالی نے اپنے ایک بند ے کو دنیا پسند کرنے اور اللہ کی ملاقات پسند کرنے میں ایک کو اخٹیار کرنے کی اجازت دی ہے پس اس بندے نے اللہ کی ملاقات پسند کی ہے ۔البتہ یہ بوڑھے شخص کیوں رو رہے ہیں َ؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی یہ بات سن کر انہوں نے اپنے سر بارک کو اٹھایا اور فرمایا یا رسول اللہ ﷺ ہماریں اولادیں اور مال آپ ﷺ پر قربان ہو۔تو رسول اللہ ﷺ نے اسی وقت فرمایا لوگوں میں سے ہم پر صحبت اور مال کے لحاظ سے کوئی ابن ابی قحآفہ سے زیادہ حق دار نہیں ہے اگر میں لوگوں میں سے کسی کو اپنا خلیل بناتا تو ابن ابی قحافہ کو بناتا لکین میری ان سے ایمانی محبت و اخؤت ہے لیکن میں ان سے ایمانی محبت اخؤت ہے ۔ لیکن تمہار ے صاحب نے اپنے اللہ کو اپنا خلیل بنا لیا ہے۔(1)

وَأَصْحَابُ النَّبِيِّ تَحْتَ الْمِنْبَرِ مُتَوَافِرُونَ، وَأَبُو بَكْرٍ مُتَقَنِّعٌ فِي الْقَوْمِ، ← «إِنَّ رِجْلَيَّ عَلَى تُرْعَةٍ مِنْ تُرَعِ الْحَوْضِ» ← صَعِدَ النَّبِيُّ الْمِنْبَرَ مِنْبَرَ الْمَدِينَةِ ← أَبِي الْمُعَلَّى ← ابْنِ أَبِي الْمُعَلَّى، ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى بْنِ صَبِيحٍ زَحْمَوَيْهِ بِوَاسِطَ قثنا شُعَيْبُ بْنُ صَفْوَانَ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The remainder of his saying: “Show a first-born father who prays to people.” · Hadith 236

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ بَقِيَّةُ قَوْلِهِ: «مُرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ» · حديث 237

237 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي بَشَّارُ بْنُ مُوسَى الْخَفَّافُ قثنا عُبَيْدُ اللَّهِ، يَعْنِي: ابْنَ عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ بَعْضِ وَلَدِ أَبِي الْمُعَلَّى، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَهُوَ عِنْدَ مِنْبَرِهِ: «إِنَّ قَدَمَيَّ عَلَى تُرْعَةٍ مِنْ تُرَعِ الْجَنَّةِ» ، ثُمَّ قَالَ: «إِنَّ عَبْدًا مِنْ عِبَادِ اللَّهِ أَطَاعَ رَبَّهُ، وَأَحْسَنَ عِبَادَتَهُ، حَتَّى قَبَضَهُ اللَّهُ إِلَيْهِ» ، فَبَكَى أَبُو بَكْرٍ حَتَّى نَشَجَ، وَقَالَ: نَفْدِيكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ بِأَنْفُسِنَا وَآبَائِنَا، قَالَ: فَعَجِبْنَا وَقُلْنَا: يَذْكُرُ النَّبِيُّ رَجُلًا وَتَقُولُ أَنْتَ مَا تَقُولُ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّ أَمَنَّ النَّاسَ عِنْدَنَا فِي صُحْبَتِهِ وَذَاتِ يَدِهِ ابْنُ أَبِي قُحَافَةَ، وَلَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا أَحَدًا خَلِيلًا لَاتَّخَذْتُ أَبَا بَكْرٍ خَلِيلًا، وَلَكِنْ وُدٌّ وَإِخَاءُ إِيمَانٍ، وَإِنَّ صَاحِبَكُمْ خَلِيلُ اللَّهِ» يَعْنِي نَفْسَهُ.

سیدنا ابومعلیٰ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ منبر پر جلوہ افروز ہوئے اورفرمایا : بے شک میرے پاؤں جنت کے دروازؤں میں ہے ایک دروازے میں ہیں ۔پھر فرمایا اللہ تعالیٰ کے ایک بندے نے اپنے رب کی اطاعت کی اور اچھی عبادت کی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اسے اپنے پاس بلانے والے ہیں تو سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ آب دیدہ ہو گئے یہاں تک آپ کی آواز بلند ہو گئی اور عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ہماری جانیں اور ماں باپ آپ ﷺپر قربان ہوں ۔راوی کہتے ہیں ہم صحابہ کرام کو تعجب ہوا کہ نبی کریم ﷺ ایک عام آدمی کا تذکرہ فرما رہے ہیں ، ابو بکر آپ کچھ اور ہی با ت کر رہے ہیں ؟ تو رسول اللہ ﷺ نے اسی وقت فرمایا : اے لوگو! پاک باز لوگوں میں ہم پر رفاقت ار مال کے لحاظ سے کوئی ابن ابی قحافہ سے زیادہ حق دار نہیں ہے اگر میں کسی کو اپنا خلیل بناتا تو ابن ابی قحافہ کو بناتا لکین میری ان سے ایمانی محبت و اخوت ہے۔ یکن میں ان سے ایمانی محبت اخؤت ہے ۔ لیکن تمہار ے صاحب نے اپنے اللہ کو اپنا خلیل بنا لیا ہے۔(2)

أَبِيهِ ← بَعْضِ وَلَدِ أَبِي الْمُعَلَّى، ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← بَشَّارُ بْنُ مُوسَى الْخَفَّافُ قثنا عُبَيْدُ اللَّهِ، يَعْنِي: ابْنَ عَمْرٍو، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The remainder of his saying: “Show a first-born father who prays to people.” · Hadith 237

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ بَقِيَّةُ قَوْلِهِ: «مُرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ» · حديث 238

238 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: نا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ قثنا الْأَشْجَعِيُّ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو غَسَّانَ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَفْصٍ قَالَ: إِنْ أَرَدْتُمْ أَنْ تَذْكُرُوا الْمُطَيَّبِينَ، فَاذْكُرُوا أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ، وَفِعَالَهُمَا.

سیدنا ابوبکر بن حفص ؑ نے فرمایا : اگر تم برگزیدہ ہستیوں کاتذکرہ کرنا چاہتے ہو تو سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو اور ان کے افعال (کارناوں ) کو یادکرو(1)

إِنْ أَرَدْتُمْ أَنْ تَذْكُرُوا الْمُطَيَّبِينَ، فَاذْكُرُوا أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ، وَفِعَالَهُمَا. ← أَبِي بَكْرِ بْنِ حَفْصٍ ← أبو غسان، ← يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ قثنا الْأَشْجَعِيُّ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The remainder of his saying: “Show a first-born father who prays to people.” · Hadith 238

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ بَقِيَّةُ قَوْلِهِ: «مُرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ» · حديث 239

239 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُخَرِّمِيُّ قثنا أَبُو دَاوُدَ قثنا الْحَكَمُ بْنُ عَطِيَّةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، يَعْنِي: ابْنَ مَالِكٍ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْرُجُ وَالْمُهَاجِرُونَ وَالْأَنْصَارُ جُلُوسٌ، مَا فِيهِمْ أَحَدٌ يَرْفَعُ رَأْسَهُ مِنْ حَبْوَتِهِ إِلَّا أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ، فَإِنَّهُ يَبْتَسِمُ إِلَيْهِمَا وَيَبْتَسِمَانِ إِلَيْهِ ". قَالَ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُخَرِّمِيُّ: وَكَانَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ مُعْجَبًا بِالْحَكَمِ بْنِ عَطِيَّةَ.

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کیرم ﷺ جب بھی مہاجرین اور انصار کی مجالس کی طرف تشریف لاتے تو سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے علاوہ کوئی بھی آپ ﷺ کی طرف اپنے جھکے ہوئے سر کو (کمال ادب اور رعب کی وجہ سے ) نہیں اُٹھاتا تھا کیونکہ نبی کریم ﷺ ان کی طرف دیکھ پر مسکراتے ار اسی طرح یہ دونوں بھی آپ ﷺ کی طرف دیکھ کر سکرا دیتے ، ابو جعفر کہتے ہیں : محمد بن عبداللہ مخرمی اور عبدالرحمن بن مہدی دونوں حکم بن عطیہ کو اچھا سمجھتے تھے (2)

أَنَسٍ يَعْنِي ابْنَ مَالِکٍ ← ثَابِتٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُخَرِّمِيُّ قثنا أَبُو دَاوُدَ قثنا الْحَكَمُ بْنُ عَطِيَّةَ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The remainder of his saying: “Show a first-born father who prays to people.” · Hadith 239

Hassan

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ بَقِيَّةُ قَوْلِهِ: «مُرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ» · حديث 240

240 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَا: نا بَكْرُ بْنُ عِيسَى قَالَ: نا شُعْبَةُ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: صَلَّى أَبُو بَكْرٍ بِالنَّاسِ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّفِّ

سید ہ عائشی نے فرمایا سیدنا ابو بکر نے لوگوں کو نماز پڑھائی حالانکہ رسول اللہﷺ صف میں موجود تھے ۔(3)

صَلَّى أَبُو بَكْرٍ بِالنَّاسِ وَرَسُولُ اللَّهِ فِي الصَّفِّ ← عَائِشَةَ ← مَسْرُوقٍ ← أَبِي وَائِلٍ ← نُعَیْمِ بْنِ اَبِیْ ھِنْدَ، ← شُعْبَةُ، ← بكر بن عيسى ← أَبِي، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The remainder of his saying: “Show a first-born father who prays to people.” · Hadith 240

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ بَقِيَّةُ قَوْلِهِ: «مُرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ» · حديث 241

241 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، وَوَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي هَاشِمٍ الْقَاسِمِ بْنِ كَثِيرٍ، عَنْ قَيْسٍ الْخَارِفِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيًّا يَقُولُ: سَبَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَصَلَّى أَبُو بَكْرٍ، وَثَلَّثَ عُمَرُ، ثُمَّ خَبَطَتْنَا أَوْ أَصَابَتْنَا فِتْنَةٌ فَمَا شَاءَ اللَّهُ، أَوْ أَصَابَتْنَا فِتْنَةٌ يَعْفُو اللَّهُ عَمَّنْ يَشَاءُ

قیس خارفی ؑ سے روایت ہے کہ میں نے سنا ، سیدنا علی فرما رہے تھے : رسول اللہ ﷺ اول ہیں ،دوسرے سیدنا ابو بکر اور تیسرے سیدنا عمر ہیں ان کے بعد ہمیں فتنوں نے گھیر لیا اب اللہ ہی ہے جسے چاہے معاف کر دے ۔(4)

عَلِيًّا ← قَيْسٌ الْخَارِفِيُّ، ← أَبِي هَاشِمٍ الْقَاسِمِ بْنِ كَثِيرٍ، ← سُفْيَانَ، ← أَبِي، قثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، وَوَكِيعٌ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The remainder of his saying: “Show a first-born father who prays to people.” · Hadith 241

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ بَقِيَّةُ قَوْلِهِ: «مُرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ» · حديث 242

242 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، نا شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ أَبُو بَدْرٍ قَالَ: ذَكَرَ خَلَفُ بْنُ حَوْشَبٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ، عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: سَبَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَصَلَّى أَبُو بَكْرٍ، وَثَلَّثَ عُمَرُ، ثُمَّ خَبَطَتْنَا فِتْنَةٌ، أَوْ أَصَابَتْنَا فِتْنَةٌ، يَعْفُو اللَّهُ عَمَّنْ يَشَاءُ.

عبد خیر ؑ سے روایت ہے کہ میں نے سنا سیدنا علی فرما رہے تھے رسول اللہ ﷺ اول ہیں دوسرے سیدنا ابو بکر اور تیسرے نمبر پر عمر ہیں ان کے بعد ہمیں فتنوں نے گھیر لیا اب اللہ ہی جسے چاہے معاف کر دے ۔(1)

عَلِيٍّ، ← عبد خير ← أَبِي إِسْحَاقَ ← خَلَفِ بْنِ حَوْشَبٍ ← شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ أَبُو بَدْرٍ ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The remainder of his saying: “Show a first-born father who prays to people.” · Hadith 242

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ بَقِيَّةُ قَوْلِهِ: «مُرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ» · حديث 243

243 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا أَبُو نُعَيْمٍ قثنا شَرِيكٌ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سُفْيَانَ قَالَ: خَطَبَ رَجُلٌ يَوْمَ الْبَصْرَةِ حِينَ ظَهَرَ عَلِيٌّ، فَقَالَ عَلِيٌّ: هَذَا الْخَطِيبُ الشَّحْشَحُ: سَبَقَ رَسُولُ اللَّهِ، وَصَلَّى أَبُو بَكْرٍ، وَثَلَّثَ عُمَرُ، ثُمَّ خَبَطَتْنَا بَعْدَهُمْ فِتْنَةٌ يَصْنَعُ اللَّهُ فِيهَا مَا يَشَاءُ.

عمرو بن سفیان ؑ سے روایت ہے کہ جب سیدنا علی کو غلبہ حاصل ہوا تو بصرہ میں ایک شخص نے خطبہ دیا ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا یہ ایک خوش بیان خطیب ہے مگر رسول اللہ ﷺ اول تھے دوسرے سیدنا ابوبکر صدیق تیسرے سیدنا عمر تھے پھر انکے بعد ہمیں فتنوں نے گھیر لیا ہے اب اللہ ہی جانتا ہے کہ کیا کچھ ہونے والا ہے ۔(2)

خَطَبَ رَجُلٌ يَوْمَ الْبَصْرَةِ حِينَ ظَهَرَ عَلِيٌّ ← عَمْرُو بْنُ سُفْيَانَ، ← الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، ← أَبِي، قثنا أَبُو نُعَيْمٍ قثنا شَرِيكٌ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The remainder of his saying: “Show a first-born father who prays to people.” · Hadith 243

Daif

chevron_left Previous
1…567…15
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door2. He was asked about the virtues of Abu, the first-born of al-Siddiq, the mercy and pleasure of God be upon him3. He was asked about the words of Ali ibn Abi Talib and others: The best of this nation after its prophet Abu Bakr and Omar4. His saying, may God’s prayers and peace be upon him: “If I had taken people as a friend, I would not have taken a virgin father as a friend5. He, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Pass a virgin father, let him pray to the people.”6. The remainder of his saying: “Show a first-born father who prays to people.”7. It was not narrated that Abu Bakr was the first to become Muslim8. It was not narrated that a virgin father came to ask permission, so the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Permit him, and give him good tidings of paradise.”9. The Virtue of the Commander of the Believers, Omar Ibn Al-Khattab, may God be pleased with him10. The Islam of Umar ibn Al-Khattab, may God be pleased with him11. And among the virtues of Omar bin Al-Khattab from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik, on the authority of his sheikhs other than Abd Allah bin Ahmed, and from the hadith of Abu Bakr bin Malik.12. The virtue of Othman bin Affan, may God be pleased with him13. And from the merits of Othman, from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik on the authority of his sheikhs except for Abdullah bin Ahmad14. The news of the Prince of the Believers, Ali bin Abi Talib, and his asceticism, may God be pleased with him15. His mother's name and genealogy16. A merit upon me, peace be upon him17. And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah18. The Virtue of Abd al-Rahman ibn Awf, may God be pleased with him19. The Virtue of Az-Zubayr Bin Awwam, may God be pleased with him20. Fadil Abi Ubaidah Ibn Al Jarrah, may God be pleased with him21. Fadil Talha Bin Ubaid Allah, may God be pleased with him22. Fadil Saad bin Abi Waqas, may God be pleased with him23. Fadil Fatima, the daughter of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him24. The virtues of good, and the good, may God be pleased with them.25. The Virtues of Ansar, may God be pleased with them26. The virtue of Khalid bin Al-Walid, may God have mercy on him27. Fadil Saad bin Muadh, may God have mercy on him28. Fadil Haritha Ibn Nu'man, may God be pleased with him29. Fadil Suhaib, may God be pleased with him30. The virtues of the Arabs31. The virtue of Usama bin Zaid, may God be pleased with him32. Fadil Abdullah bin Masoud, may God be pleased with him33. Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with them34. Virtues of Khadija and others35. Fadil Ammar ibn Yasser, may God be pleased with him36. Virtues 0 People of Yemen37. Virtues of the family of the Mother of the Believers, may God be pleased with her, and other things among the people of Yemen38. The virtues of the Banu Ghafar, and Islam and others39. Fadil Jaafar ibn Abi Talib, may God be pleased with him40. Fadil Jarir bin Abdullah, may God be pleased with him41. Fadil Abdullah Bin Omar, may God be pleased with them42. The virtues of a people of the Levant43. The Virtue of the Companions of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him44. The virtue of Amr ibn al-Aas, may God be pleased with him45. The Virtues of Mu`awiyah Bin Abi Sufyan, may God be pleased with them46. The virtues of Abu al-Fadl al-Abbas ibn Abd al-Muttalib, the uncle of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him47. Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with him