Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

1,963 Hadith48 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ بَقِيَّةُ قَوْلِهِ: «مُرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ» · حديث 131

131 - حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْقَرَاطِيسِيُّ قثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْأَحْمَسِيُّ قثنا أَسْبَاطٌ قثنا عَمْرُو بْنُ قَيْسٍ، عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ أَهْلَ عِلِّيِّينَ لَيَرَاهُمْ مَنْ أَسْفَلُ مِنْهُمْ، كَمَا تَرَوْنَ الْكَوْكَبَ الدُّرِّيَّ فِي أُفُقِ السَّمَاءِ، وَإِنَّ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ مِنْهُمْ وَأَنْعَمَا» .

سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جنت میں نیچے والے اہل علیین کو اس طرح دیکھیں گے جس طرح تم آسمان کے افق میں چمکدار ستاروں کو دیکھتے ہو اور ابو بکر و عمر ان ہی میں سے ہوں گے اور وہ کتنے اچھے ہیں (3)

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عَطِّيَةَ الْعَوْفِيِّ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The remainder of his saying: “Show a first-born father who prays to people.” · Hadith 131

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ بَقِيَّةُ قَوْلِهِ: «مُرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ» · حديث 132

132 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ الصُّوفِيُّ قثنا مُحْرِزُ بْنُ عَوْنٍ قثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ الْمَدَنِيُّ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنَا أَوَّلُ مَنْ تَنْشَقُّ عَنْهُ الْأَرْضُ، ثُمَّ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ، ثُمَّ أَهْلُ الْبَقِيعِ يُبْعَثُونَ مَعِي، ثُمَّ أَهْلُ مَكَّةَ، ثُمَّ أُحْشَرُ بَيْنَ الْحَرَمَيْنِ» .

سیدنا عبداللہ بن عمر سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا سب سے پہلے میں زمین (قبر) سے اٹھایا جاؤں گا پھر ابو بکر اور عمر پھر میرے ساتھ بقیع الغر قد والے اٹھائے جائیں گے پھر اہل مکہ پھر حرمین (مکہ اور مدینہ ) کے درمیان والے اٹھائے جائیں گے۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ← أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ ← عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The remainder of his saying: “Show a first-born father who prays to people.” · Hadith 132

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ بَقِيَّةُ قَوْلِهِ: «مُرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ» · حديث 133

133 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ قثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ سَنْدُولَا قثنا تَلِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي الْجَحَّافِ دَاوُدَ بْنِ أَبِي عَوْفٍ قَالَ: لَمَّا بُويِعَ أَبُو بَكْرٍ أَغْلَقَ بَابَهُ ثَلَاثًا، يَقُولُ: أَيُّهَا النَّاسُ، أَقِيلُونِي بَيْعَتَكُمْ، كُلُّ ذَلِكَ يَقُولُ لَهُ عَلِيٌّ: لَا نُقِيلُكَ وَلَا نَسْتَقِيلُكَ، قَدَّمَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَنْ ذَا يُؤَخِّرُكَ؟ .

داؤد بن ابی عوف ؑسے روایت ہے کہ جب سیدنا ابو بکر کے ہاتھ پر بیعت کی گئی تو انہوں نے تین دن تک (لوگوں کے لیے ) اپنے دروازوں کو بند رکھا اور ( روازنہ آکر) فرماتے رہے : اے لوگو! میں تم سے لی بیعت واپس دیتا ہوں اس پر ہر بار سیدنا علی المرتضیٰ انکو فرماتے ہرے : نہ ہم آپ سے بیعت واپس لیں گے اور نہ واپسی کا مطالبہ کریں گے رسول اکرم ﷺ نے آپ کو مقدم فرمایا ،پھر بلا کون آپ کو مؤخر کرے گا؟(1)

لما بويع أبو بكر أغلق بابه ثلاثا ← أَبِي الْجَحَّافِ دَاوُد بْنِ أَبِي عَوْفٍ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The remainder of his saying: “Show a first-born father who prays to people.” · Hadith 133

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ بَقِيَّةُ قَوْلِهِ: «مُرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ» · حديث 134

134 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ قثنا أَبُو خَيْثَمَةَ قثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ قثنا أَبِي قَالَ: سَمِعْتُ يَعْلَى بْنَ حَكِيمٍ يُحَدِّثُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ مِنْ مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ عَاصِبًا رَأْسَهُ بِخِرْقَةٍ، فَجَلَسَ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: «إِنَّهُ لَيْسَ أَحَدٌ أَمَنَّ عَلَيَّ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ مِنِ ابْنِ أَبِي قُحَافَةَ، وَلَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا مِنَ النَّاسِ خَلِيلًا لَاتَّخَذْتُ أَبَا بَكْرٍ، وَلَكِنْ خَلَّةُ الْإِسْلَامِ أَفْضَلُ، سُدُّوا عَنِّي كُلَّ خَوْخَةٍ فِي الْمَسْجِدِ غَيْرَ خَوْخَةِ أَبِي بَكْرٍ» .

سیدنا عبد اللہ بن عباس سے روایت ہےکہ رسول اللہ ﷺ اپنے مرض وفات میں (حجرہ مبارک ) سے باہر تشریف لائے اور اپنا سر مبارک کپڑے سے لپیٹا ہوا تھا پس آپ ﷺ منبر پر جلوہ افروز ہوئے ۔ اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا بیان کی اور فرمایا اپنی جان ومال (قربان کرنے ) کرنے اعتبار سے ابن ابو قحافہ سے بڑھ کر مجھ پر زیادہ احسان کرنے والا کوئی نہیں اور اگر میں لوگوں میں سے کسی کو اپنا خلیل بناتا تو ابو بکر کو بناتا لیکن اسلامی دوستی افضل ہے ۔ ابو بکر صدیق کی کھڑکی کے علاوہ اس مسجد کی طرف کھلنے والی تمام کھڑکیوں کو بند کردو۔(2)

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← يَعْلَى بْنَ حَكِيمٍ ← أَحْمَدُ قثنا أَبُو خَيْثَمَةَ قثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ قثنا أَبِي

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The remainder of his saying: “Show a first-born father who prays to people.” · Hadith 134

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ بَقِيَّةُ قَوْلِهِ: «مُرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ» · حديث 135

135 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ قثنا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ الْوَاسِطِيُّ قثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سُفْيَانَ الْوَاسِطِيُّ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: رَآنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْشِي أَمَامَ أَبِي بَكْرٍ فَقَالَ: «يَا أَبَا الدَّرْدَاءِ، أَتَمْشِي أَمَامَ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْكَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ؟ مَا طَلَعَتِ الشَّمْسُ، وَلَا غَرَبَتْ، عَلَى أَحَدٍ بَعْدَ النَّبِيِّينَ وَالْمُرْسَلِينَ أَفْضَلَ مِنْ أَبِي بَكْرٍ» .

سید نا ابو درداء سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے مجھے دیکھا کہ میں سیدنا ابو بکر کے آگے آگے چل رہا ہوں تو آپ ﷺ نے مجھے فرمایا تم اس شخصیت کے آگے کیوں چل رہے ہو۔ جو تم سے دنیا اور آخرت میں بہت بہتر ہے اور ہر اس شخص سے بہتر ہے جس پر سورج طلوع اور غروب ہوتا ہے مگر انبیا اور رسل ابو بکر سے افضل ہیں ۔(3)

رآني رسول الله أمشي أمام أبي بكر ← أَبِي الدَّرْدَاءِ، ← عَطَاءٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← أَحْمَدُ قثنا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ الْوَاسِطِيُّ قثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سُفْيَانَ الْوَاسِطِيُّ،

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The remainder of his saying: “Show a first-born father who prays to people.” · Hadith 135

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ بَقِيَّةُ قَوْلِهِ: «مُرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ» · حديث 136

136 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ قُدَامَةَ الْبَلْخِيُّ، سَنَةَ تِسْعٍ وَتِسْعِينَ وَمِائَتَيْنِ، قثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ قثنا الْفُرَاتُ بْنُ خَالِدٍ، وَسُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ جَامِعِ بْنِ أَبِي رَاشِدٍ، عَنْ مُنْذِرٍ الثَّوْرِيِّ، عَنْ مُحَمَّدٍ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ وَهُوَ ابْنُ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ: قُلْتُ: يَا أَبَتِ مَنْ خَيْرُ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: أَبُو بَكْرٍ، قُلْتُ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: عُمَرُ، قَالَ: فَخَشِيتُ أَنْ أَقُولَ: ثُمَّ مَنْ؟ فَيَقُولُ عُثْمَانُ، فَقُلْتُ: أَنْتَ يَا أَبَتِ؟ فَقَالَ: أَبُوكَ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ

محمد بن حنفیہ سے روایت ہے کہ میں نے اپنے والد سیدنا علی سے پوچھا کہ رسول اللہ ﷺ کے بعد اس امت کا بہترین شخص کون ہے ؟ انہوں نے بتایا کہ سیدنا ابو بکر میں نے پوچھا پھر کون ؟ سیدنا عمر مجھے اس کا اندیشہ ہوا کہ اب اگر میں نے پوچھا : اس کے بعد کون ؟ تو فرما دیں گے کہ سیدنا عثمان اس لیے میں نے خود ہی کہا اس کے بعد تو آپ ہی ہیں ؟ تمہارا باپ تو مسلمانوں میں سے ایک عام انسان ہے ۔(1)

مُحَمَّدٍ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ وَهُوَ ابْنُ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، ← مُنْذِرٍ الثَّوْرِيِّ، ← جَامِعُ بْنُ أَبِي رَاشِدٍ ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← تِسْعِينَ وَمِائَتَيْنِ، قثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ قثنا الْفُرَاتُ بْنُ خَالِدٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ قُدَامَةَ الْبَلْخِيُّ،

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The remainder of his saying: “Show a first-born father who prays to people.” · Hadith 136

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ بَقِيَّةُ قَوْلِهِ: «مُرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ» · حديث 137

137 - حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفِرْيَابِيُّ قثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُصَفَّى الْحِمْصِيُّ قثنا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: رَآنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَمْشِي أَمَامَ أَبِي بَكْرٍ فَقَالَ: «لِمَ تَمْشِي أَمَامَ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْكَ؟ إِنَّ أَبَا بَكْرٍ خَيْرُ مَنْ طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ، أَوْ غَرَبَتْ» .

سیدنا ابو دردا رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے مجھے دیکھا کہ میں سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کے آگے آگے چل رہا ہوں تو فرمایا : تو اپنے سے بہتر شخصیت کے آگے کیوں چل رہا ہے؟ بلاشبہ ابو بکر ہر شخص سے افضل ہیں جس پر سورج طلوع یا غروب ہوتا ہے ۔(2)

أَمْشِي أَمَامَ أَبِي بَكْرٍ ← رَآنِي النَّبِيُّ ← أَبِي الدَّرْدَاءِ، ← عَطَاءٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ،

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The remainder of his saying: “Show a first-born father who prays to people.” · Hadith 137

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ بَقِيَّةُ قَوْلِهِ: «مُرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ» · حديث 138

138 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَاسِبُ، سَنَةَ تِسْعٍ وَتِسْعِينَ وَمِائَتَيْنِ، قثنا أَبُو عِمْرَانَ الْوَرْكَانِيُّ قثنا الْمُعَافَى بْنُ عِمْرَانَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدٍ قثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ: مَرَّ أَبُو بَكْرٍ عَلَى أَبِي جَهْلٍ وَهُوَ يُعَذِّبُ بِلَالًا، وَهُوَ يَقُولُ لَهُ: ارْتَدَّ، وَبِلَالٌ يَقُولُ: لَا أَحَدَ إِلَّا إِيَّاهُ، فَقَالَ أَبُو جَهْلٍ لِأَبِي بَكْرٍ: أَلَا تَشْتَرِي مِنِّي أَخَاكَ؟ قَالَ: بِكَمْ؟ قَالَ: بِكَذَا وَكَذَا، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: إِذَا قُلْتُ: نَعَمْ، فَقَدْ جَازَ لِي؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: قَدْ أَخَذْتُهُ، ثُمَّ قَالَ لِبِلَالٍ: اذْهَبْ فَإِنَّكَ لِمَنْ أَسْلَمْتَ لَهُ، فَبَلَغَ أَبَا بَكْرٍ أَنَّ بِلَالًا يَقُولُ: وَاللَّهِ لَا أُؤَذِّنُ لِأَحَدٍ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: مَا كَانَ لِبِلَالٍ أَنْ يَقُولَ ذَاكَ. فَجَاءَ أَبَا بَكْرٍ فَقَالَ: إِنْ كُنْتَ أَعْتَقْتَنِي لَأَكُونَ مَعَكَ لَزِمْتُكَ، وَإِنْ كُنْتَ أَعْتَقْتَنِي لِلَّهِ فَخَلِّنِي وَمَنْ أَعْتَقْتَنِي لَهُ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: بَلْ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ.

سیدنا جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابو بکر کا ابو جہل کے پاس گزر ہوا وہ سیدنا بلال کو سزا دے رہا تھا اور انکو کہہ رہا تھا کہ تو مرتد ہو گیا ہے ( نعوذ باللہ) سیدنا بلال فرما رہے تھے نہیں کوئی الہ وہ اکیلی ہی ذات ، ابو جہل نے سیدنا ابو بکر کو کہا : کیا تم مجھ سے اپنے بھائی کو خریدے گا؟ فر مانے لگے: کتنے کا ؟ اس نے کہا اتنے کا (یعنی قیمت بتائی میں اس کی بیان کردہ قیمت کا ذکر نہیں کیا گیا ) سیدنا ابو بکر نے فرمایا اگر میں اس پر ہاں کر دوں تو سیدنا بلال میرے ہو جائیں گے۔ اس نے کہا ہاں سیدنا ابو بکر نے سیدنا بلال کو خرید کر فرمایا : اب میں تجھے صرف اس ذات کا غلام بناتا ہوں جس کے لیے تو مسلمان ہو اہے ( آپ ﷺ کی وفات کے بعد) سیدنا ابو بکر کو یہ خبر ملی کہ سیدنا بلال کہہ رہے ہیں کہ میں اب رسول اللہ ﷺ کے بعد کبھی کسی کے لیے اذان نہیں کہوں گا۔ سیدنا ابو بکر صدیق فرمانے لگے اس موقع پر سیدنا بلال کا یہ کہنا مناسب نہیں تھا تو سیدنا ابو بکر تشریف لاے تو سیدنا بلال کہنے لگے اگر آپ نے مجھے اپنی ذات کے لیے آزاد کروایا تھا تو آپ کا غلام ہوں اور اگر آپ نے مجھے اللہ تعالیٰ کےلیے آزاد کیا تو مجھے میرے حال پر چھوڑ دیجیے میں اسی کے لیے ہوں جس کے لیے آپ نے مجھے آزاد کیا تھا تو سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا بلکہ میں نے تو آپ کو اللہ ہی کے لیے آزاد کیا تھا ۔(3)

إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدٍ قثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ، ← تِسْعِينَ وَمِائَتَيْنِ، قثنا أَبُو عِمْرَانَ الْوَرْكَانِيُّ قثنا الْمُعَافَى بْنُ عِمْرَانَ، ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَاسِبُ،

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The remainder of his saying: “Show a first-born father who prays to people.” · Hadith 138

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ بَقِيَّةُ قَوْلِهِ: «مُرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ» · حديث 139

139 - حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الطَّيِّبِ الْبَلْخِيُّ قثنا جَعْفَرُ بْنُ حُمَيْدٍ الْقُرَشِيُّ قثنا يُونُسُ بْنُ أَبِي يَعْفُورَ، عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيًّا يَهْتِفُ عَلَى أَعْوَادِكُمْ هَذِهِ يَقُولُ: أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: أَبُو بَكْرٍ، وَالثَّانِي عُمَرُ، وَلَوْ شِئْتُ لَسَمَّيْتُ الثَّالِثَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ أَجْمَعِينَ.

سید نا ابو جحیفہ سے روایت ہے کہ سیدنا علی اپنے منبر پر ارشاد فرما رہے تھے کیا تم کو نبی کریم ﷺ کے بعد اس امت کے سب سے افضل آدمی کے متعلق خبر نہ دوں؟ تو فرمانے لگے ابو بکر صدیق پھر سیدنا عمر اور اگر میں چاہتا تو تیسرے آدمی کا نام بھی لے سکتا ہوں اللہ ان تمام کے ساتھ راضی ہو۔(1)

الثَّانِي عُمَرُ، وَلَوْ شِئْتُ لَسَمَّيْتُ الثَّالِثَ، أَجْمَعِينَ. ← أَبُو بَکْرٍ ← أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ نَبِيِّ اللَّهِ ← عَلِيًّا يَهْتِفُ عَلَى أَعْوَادِكُمْ هَذِهِ ← أَبِيهِ ← عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ،

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The remainder of his saying: “Show a first-born father who prays to people.” · Hadith 139

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ بَقِيَّةُ قَوْلِهِ: «مُرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ» · حديث 140

140 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ الْوَارِثِ قثنا زَائِدَةُ قثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: مَرِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «مُرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ» ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ رَقِيقٌ، فَقَالَ: «مُرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ، فَإِنَّكُنَّ صُوَيْحِبَاتُ يُوسُفَ» ، فَأَمَّ أَبُو بَكْرٍ النَّاسَ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَيٌّ.

سیدنا ابو بردہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ بیمارتھے تو فرمایا میرا ابو بکر کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں ،سیدہ عائشہ صدیقہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ بلاشبہ ابوبکر نرم دل آدمی ہیں تو فرمایا ابو بکر کو میرا حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں بلا شبہ تم صواحبات یوسف کی طرح ہو ۔ تو سیدنا ابو بکر صدیق نے (لوگوں کو) کو امامت کروائی اور رسول ا للہ ﷺ اس وقت حیات تھے ۔(2)

عَائِشَةَ ← «مُرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي ← مَرَضِ رَسُوْلِ اللہِ ← أَبِيهِ ← أَبِي بُرْدَةَ، ← أَبِي، قثنا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ الْوَارِثِ قثنا زَائِدَةُ قثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The remainder of his saying: “Show a first-born father who prays to people.” · Hadith 140

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ بَقِيَّةُ قَوْلِهِ: «مُرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ» · حديث 141

141 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ الْوَاسِطِيُّ قثنا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ الْيَمَامِيُّ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ زَيْدِ بْنِ حَسَنٍ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَقْبَلَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ، فَقَالَ: «يَا عَلِيُّ، هَذَانِ سَيِّدَا كُهُولِ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَشَبَابُهَا بَعْدَ النَّبِيِّينَ وَالْمُرْسَلِينَ» .

سیدنا علی المرتضیٰ سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھا ہوا تھا اتنے میں سیدنا ابو بکر اور سیدنا عمر تشریف لائے تو آپ ﷺ نے فرمایا اے علی یہ دونوں اہل جنت کے اولین و آخرین بوڑھوں اور نوجوانوں کے سردار ہیں ۔ لیکن انبیاو رسل اس سے مستثنیٰ ہیں ۔ (3)

كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ فَأَقْبَلَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ ← عَلِيٍّ، ← أَبِيهِ ← أَبِي ← الْحَسَنِ بْنِ زَيْدِ بْنِ حَسَنٍ ← وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ الْوَاسِطِيُّ قثنا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ الْيَمَامِيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The remainder of his saying: “Show a first-born father who prays to people.” · Hadith 141

Hassan

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ بَقِيَّةُ قَوْلِهِ: «مُرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ» · حديث 142

142 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، قثنا وَكِيعٌ قثنا مِسْعَرٌ، وَسُفْيَانُ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ الْوَالِبِيِّ، عَنْ أَسْمَاءَ بْنِ الْحَكَمِ الْفَزَارِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ: كُنْتُ إِذَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا نَفَعَنِي اللَّهُ بِمَا شَاءَ مِنْهُ، فَإِذَا حَدَّثَنِي بِهِ غَيْرِي اسْتَحْلَفْتُهُ، فَإِذَا حَلَفَ لِي صَدَّقْتُهُ، وَإِنَّ أَبَا بَكْرٍ حَدَّثَنِي، وَصَدَقَ أَبُو بَكْرٍ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَا مِنْ رَجُلٍ يُذْنِبُ ذَنْبًا، فَيَتَوَضَّأُ فَيُحْسِنُ الْوُضُوءَ، ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ، فَيَسْتَغْفِرُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ، إِلَّا غُفِرَ لَهُ» .

سیدنا علی سے روایت ہے کہ جب بھی میں نے رسول اکرم ﷺ سے حدیث سنی تو اللہ نے جتنا چایا مجھے نفع دیا لیکن جب بھی مجھے کسی دوسرے (شخص) نے حدیث بیان کی تو میں نے اس سے تصدیق کے لیے حلف لیا اور بلا شبہ سیدنا ابو بکر نے مجھے حدیث بیان کی تو سیدنا ابو بکر نے بالکل سچ فرمایا (یعنی ان سے میں نے حلف نہیں لیا اور انہوں نے مجھے بیان کیا )کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جو بھی گناہ کرتا ہے تو پھر اچھی طرح وضو کرتا ہے پھر دو رکعت نما زپڑھتا ہے اور اللہ سے بخشش طلب کرتا ہے تو اللہ اس کے گناہ بخش دیتا ہے ۔

النَّبِيِّ ← وَصَدَقَ أَبُو بَكْرٍ أَنَّهُ ← بِهِ غَيْرِي اسْتَحْلَفْتُهُ، فَإِذَا حَلَفَ لِي صَدَّقْتُهُ، وَإِنَّ أَبَا بَكْرٍ ← مِنْ رَسُولِ اللهِ حَدِيثًا نَفَعَنِي اللَّهُ بِمَا شَاءَ مِنْهُ فَإِذَا ← كُنْتُُ إذَا ← عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← أَسْمَاءَ بْنِ الْحَكَمِ الْفَزَارِيِّ ← عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ الْوَالِبِيِّ ← عُثْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ← أَبِي، قثنا وَكِيعٌ قثنا مِسْعَرٌ، وَسُفْيَانُ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The remainder of his saying: “Show a first-born father who prays to people.” · Hadith 142

Hassan

chevron_left Previous
1…1112131415
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door2. He was asked about the virtues of Abu, the first-born of al-Siddiq, the mercy and pleasure of God be upon him3. He was asked about the words of Ali ibn Abi Talib and others: The best of this nation after its prophet Abu Bakr and Omar4. His saying, may God’s prayers and peace be upon him: “If I had taken people as a friend, I would not have taken a virgin father as a friend5. He, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Pass a virgin father, let him pray to the people.”6. The remainder of his saying: “Show a first-born father who prays to people.”7. It was not narrated that Abu Bakr was the first to become Muslim8. It was not narrated that a virgin father came to ask permission, so the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Permit him, and give him good tidings of paradise.”9. The Virtue of the Commander of the Believers, Omar Ibn Al-Khattab, may God be pleased with him10. The Islam of Umar ibn Al-Khattab, may God be pleased with him11. And among the virtues of Omar bin Al-Khattab from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik, on the authority of his sheikhs other than Abd Allah bin Ahmed, and from the hadith of Abu Bakr bin Malik.12. The virtue of Othman bin Affan, may God be pleased with him13. And from the merits of Othman, from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik on the authority of his sheikhs except for Abdullah bin Ahmad14. The news of the Prince of the Believers, Ali bin Abi Talib, and his asceticism, may God be pleased with him15. His mother's name and genealogy16. A merit upon me, peace be upon him17. And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah18. The Virtue of Abd al-Rahman ibn Awf, may God be pleased with him19. The Virtue of Az-Zubayr Bin Awwam, may God be pleased with him
20. Fadil Abi Ubaidah Ibn Al Jarrah, may God be pleased with him
21. Fadil Talha Bin Ubaid Allah, may God be pleased with him
22. Fadil Saad bin Abi Waqas, may God be pleased with him
23. Fadil Fatima, the daughter of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him
24. The virtues of good, and the good, may God be pleased with them.
25. The Virtues of Ansar, may God be pleased with them
26. The virtue of Khalid bin Al-Walid, may God have mercy on him
27. Fadil Saad bin Muadh, may God have mercy on him
28. Fadil Haritha Ibn Nu'man, may God be pleased with him
29. Fadil Suhaib, may God be pleased with him
30. The virtues of the Arabs
31. The virtue of Usama bin Zaid, may God be pleased with him
32. Fadil Abdullah bin Masoud, may God be pleased with him
33. Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with them
34. Virtues of Khadija and others
35. Fadil Ammar ibn Yasser, may God be pleased with him
36. Virtues 0 People of Yemen
37. Virtues of the family of the Mother of the Believers, may God be pleased with her, and other things among the people of Yemen
38. The virtues of the Banu Ghafar, and Islam and others
39. Fadil Jaafar ibn Abi Talib, may God be pleased with him
40. Fadil Jarir bin Abdullah, may God be pleased with him
41. Fadil Abdullah Bin Omar, may God be pleased with them
42. The virtues of a people of the Levant
43. The Virtue of the Companions of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him
44. The virtue of Amr ibn al-Aas, may God be pleased with him
45. The Virtues of Mu`awiyah Bin Abi Sufyan, may God be pleased with them
46. The virtues of Abu al-Fadl al-Abbas ibn Abd al-Muttalib, the uncle of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him
47. Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with him