Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

1,963 Hadith48 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1068

1068 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُونُسَ قثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَائِشَةَ قَالَ: أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ عُمَرَ بْنِ مُوسَى، عَنْ زَيْدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ: شَكَوْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَسَدَ النَّاسِ إِيَّايَ، فَقَالَ: " أَمَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ رَابِعَ أَرْبَعَةٍ: أَوَّلُ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ أَنَا وَأَنْتَ وَالْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ، وَأَزْوَاجُنَا عَنْ أَيْمَانِنَا، وَعَنْ شَمَائِلِنَا، وَذَرَارِيُّنَا خَلْفَ أَزْوَاجِنَا، وَشِيعَتُنَا مِنْ وَرَائِنَا ".

سیدناعلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے لوگوں کے بارے میں نبی کریم ﷺ سے شکایت کی کہ مجھ سے لوگ کیوں حسد کرتے ہیں؟ تو نبی کریم ﷺنے فرمایا: کیا میں خوشی نہیں ہوگی کہ چاروں میں سے چوتھے ہو،سب سے پہلے جنت میں میں، آپ ،حسن وحسین ہماری بیویاں دائیں بائیں ، اولا د بیویوں کے پیچھے اور ہمارا گروہ ہمارے پیچھے ہو گا۔ (1)

شَمَائِلِنَا، وَذَرَارِيُّنَا خَلْفَ أَزْوَاجِنَا، وَشِيعَتُنَا مِنْ وَرَائِنَا ← أَيْمَانِنَا، ← وأنت والحسنُ، والحسينُ، وأزواجنا ← (أَمَا تَرْضَى أَنْ تكون رابعَ أربعَة؟ أول من يدخلُ الجنةَ ← شَكَوْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ حَسَدَ النَّاسِ إِيَّايَ ← عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← زيد بن علي بن حسين ← عُمَرِ بْنِ مُوسَى ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَمْرٍو، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُونُسَ قثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَائِشَةَ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1068

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1069

1069 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُونُسَ قثنا الْمُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ، نا وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ خَطَبَ إِلَى عَلِيٍّ أُمَّ كُلْثُومٍ فَقَالَ: أَنْكِحْنِيهَا، فَقَالَ عَلِيٌّ: إِنِّي أَرْصُدُهَا لِابْنِ أَخِي جَعْفَرٍ، فَقَالَ عُمَرُ: أَنْكِحْنِيهَا، فَوَاللَّهِ مَا مِنَ النَّاسِ أَحَدٌ يَرْصُدُ مِنْ أَمْرِهَا مَا أَرْصُدُ، فَأَنْكَحَهُ عَلِيٌّ، فَأَتَى عُمَرُ الْمُهَاجِرِينَ فَقَالَ: أَلَا تُهَنِّئُونِي؟ فَقَالُوا: بِمَنْ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ؟ فَقَالَ: بِأُمِّ كُلْثُومٍ بِنْتِ عَلِيٍّ، وَابْنَةِ فَاطِمَةَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «كُلُّ نَسَبٍ وَسَبَبٍ يَنْقَطِعُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، إِلَّا مَا كَانَ مِنْ سَبَبِي وَنَسَبِي» ، فَأَحْبَبْتُ أَنْ يَكُونَ بَيْنِي وَبَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبَبٌ وَنَسَبٌ.

محمد بن علی بن حسین رحمۃ اللہ علیہ ( ابو جعفر الباقر ) روایت کرتے ہیں کہ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدہ ام کلثوم بنت علی رضی اللہ عنہا کو پیغام نکاح بھیجا اور کہا: ان کا نکاح مجھ سے کیجیے، سیدناعلی رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے اسے اپنے بھائی جعفر کے بیٹے کے لیے رکھا ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: الله کی قسم! اس کا مجھ سے نکاح کرائیے ! کوئی آ دمی مجھ سے بڑھ کر ان کی دیکھ بھال نہیں کرے گا؟ تو سید ناعلی رضی اللہ عنہ نے ان سے نکاح کروادیا، چنانچہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ مہاجرین کے پاس آ کر فرمانے لگے: اے مہاجرین !تم مجھے مبارکباد کیوں نہیں دیتے۔ انہوں نے کہا: امیرالمومنین !کس بات کی؟ میں نے ام کلثوم بنت علی وبنت فاطمہ بنت رسول اللہ سے نکاح کیا ہے اور میں نے سنا ہے رسول اللہ ﷺ کا فرمارہے تھے :سواے میرے رشتے اورنسب کے ہر رشتہ اور نسب قیامت کے دن ختم ہوجائے گا، میں ( عمر ) نے بھی چاہا تھا کہ میرے اور رسول اللہ ﷺ کے درمیان کوئی رشتہ اورنسب ہو۔(2)

أَبِيهِ ← جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ← وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُونُسَ قثنا الْمُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ،

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1069

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1070

1070 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ قثنا بِشْرُ بْنُ مِهْرَانَ، نا شَرِيكٌ، عَنْ شَبِيبِ بْنِ غَرْقَدَةَ، عَنِ الْمُسْتَظِلِّ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ خَطَبَ إِلَى عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ أُمَّ كُلْثُومٍ، فَاعْتَلَّ عَلَيْهِ بِصِغَرِهَا، فَقَالَ: إِنِّي لَمْ أُرِدِ الْبَاهَ، وَلَكِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «كُلُّ سَبَبٍ وَنَسَبٍ مُنْقَطِعٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، مَا خَلَا سَبَبِي وَنَسَبِي، كُلُّ وَلَدِ أَبٍ فَإِنَّ عَصَبَتَهُمْ لِأَبِيهِمْ، مَا خَلَا وَلَدَ فَاطِمَةَ؛ فَإِنِّي أَنَا أَبُوهُمْ وَعَصَبَتُهُمْ» .

مستظل رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہےکہ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو سیدہ ام کلثوم بنت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ نکاح کے لیے پیغام بھیجا ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے چھوٹی ہونے کا عذر پیش کیا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں وظیفہ زوجیت کا متمنی نہیں ، بلکہ میں نے تو سنا ہے کہ رسول اللہ ﷺ فرما رہے تھے : میرے رشتے کے علاوہ قیامت کے دن تمام رشتے ٹوٹ جائیں گے اور ماسوائے اولاد فاطمہ کے ہر بیٹا باپ کا عصبہ ہوتا ہے کیونکہ اس کی اولاد میری عصبہ ہے ۔ (3)

المستظل ← شَبِيبُ بْنُ غَرْقَدَةَ ← شَرِيکٍ ← مُحَمَّدٌ قثنا بِشْرُ بْنُ مِهْرَانَ،

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1070

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1071

1071 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ قثنا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ قثنا فِطْرُ بْنُ خَلِيفَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ رَجَاءٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: كُنَّا نَمْشِي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَانْقَطَعَ شِسْعُ نَعْلِهِ، فَتَنَاوَلَهَا عَلِيٌّ يُصْلِحُهَا، ثُمَّ مَشَى فَقَالَ: «إِنَّ مِنْكُمْ لَمَنْ يُقَاتِلُ عَلَى تَأْوِيلِ الْقُرْآنِ، كَمَا قَاتَلْتُ عَلَى تَنْزِيلِهِ» ، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: فَخَرَجْتُ فَبَشَّرْتُهُ بِمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ يُكَبِّرْ بِهِ فَرَحًا، كَأَنَّهُ شَيْءٌ قَدْ سَمِعَهُ.

سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہےکہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ پیدل جا رہے تھے کہ راستے میں آپ ﷺ کے جوتوں کاتسمہ ٹوٹ گیا تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اسے گانٹھ دیا پھر آگے چل کر نبی کریم ﷺ نے فرمایا تم میں سے ایک شخص قرآن کی تاویل پر جہاد کرے گا جس طرح میں نے اس کے نازل ہونے پر جہاد کیا تھا ۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے خوشی سے جا کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو بشارت دی کہ جو رسول اللہ ﷺ نے ان کے بارے میں فرمایا تھا تو انہوں نے ذرا بھی اظہار خوشی نہ کیا تو مجھے لگا کہ یہ بات انہوں نے پہلے کبھی سن رکھی تھی ۔ (1)

أَبُو سَعِيدٍ: فَخَرَجْتُ فَبَشَّرْتُهُ بِمَا ← «إِنَّ مِنْكُمْ لَمَنْ يُقَاتِلُ عَلَى تَأْوِيلِ الْقُرْآنِ، كَمَا قَاتَلْتُ عَلَى تَنْزِيلِهِ» ← كُنَّا نَمْشِي مَعَ النَّبِيِّ فَانْقَطَعَ شِسْعُ نَعْلِهِ، فَتَنَاوَلَهَا عَلِيٌّ يُصْلِحُهَا، ثُمَّ مَشَى ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِيهِ ← اِسْمَاعِیْلَ بْنِ رَجَاءٍ، ← مُحَمَّدٌ قثنا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ قثنا فِطْرُ بْنُ خَلِيفَةَ،

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1071

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1072

1072 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ قثنا الْحَسَنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَنْصَارِيُّ قَالَ: نا عَمْرُو بْنُ جَمِيعٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ أَخِيهِ عِيسَى، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الصِّدِّيقُونَ ثَلَاثَةٌ: حَبِيبُ بْنُ مُرِّيٍّ النَّجَّارُ مُؤْمِنُ آلِ يَاسِينَ، وَخِرْتِيلُ مُؤْمِنُ آلِ فِرْعَوْنَ، وَعَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ الثَّالِثُ، وَهُوَ أَفْضَلُهُمْ "

ابو لیلیٰ رحمۃ اللہ علیہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : صدیقین تین لوگ ہیں : حبیب بن موسیٰ النجار مومن آل یاسین ، خرتیل مومن آل فرعون اور تیسرے علی ابن ابی طالب جو کہ ان سب سے بہتر ہیں ۔ (2)

أَبِيهِ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ← أَخِيهِ عِيسَى ← ابْنِ أَبِي لَيْلَی ← عَمْرُو بْنُ جُمَيْعٍ، ← مُحَمَّدٌ قثنا الْحَسَنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَنْصَارِيُّ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1072

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1073

1073 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ قثنا بُهْلُولُ بْنُ مُوَرِّقٍ السَّامِيُّ قثنا مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ الرَّبَذِيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَالَ لِي جِبْرِيلُ: يَا مُحَمَّدُ، قَلَبْتُ الْأَرْضَ مَشَارِقَهَا وَمَغَارِبَهَا، فَلَمْ أَجِدْ وَلَدَ أَبٍ خَيْرًا مِنْ بَنِي هَاشِمٍ ".

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے کہا : میں نے زمین کا مشرق اور مغرب دیکھا ہے مگر کسی باپ کے بیٹے کو بنو ہاشم سے بہتر نہیں پایا۔ (3)

عَائِشَةَ ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← الزُّهْرِيِّ، ← عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← مُحَمَّدٌ قثنا بُهْلُولُ بْنُ مُوَرِّقٍ السَّامِيُّ قثنا مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ الرَّبَذِيُّ،

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1073

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1074

1074 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُونُسَ قَالَ: نا مُصْعَبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزُّبَيْرِيُّ قَالَ: أنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُمِّهِ سَلْمَى قَالَتِ: اشْتَكَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَرَّضْتُهَا، فَأَصْبَحَتْ يَوْمًا كَأَمْثَلِ مَا كَانَتْ، فَخَرَجَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، فَقَالَتْ فَاطِمَةُ: يَا أُمَّتَاهُ، اسْكُبِي لِي مَاءً غُسْلًا، فَسَكَبْتُ لَهَا، فَقَامَتْ فَاغْتَسَلَتْ كَأَحْسَنِ مَا كَانَتْ تَغْتَسِلُ، ثُمَّ قَالَتْ: هَاتِي ثِيَابِي الْجُدُدَ، فَأَعْطَيْتُهَا، فَلَبِسَتْهَا ثُمَّ جَاءَتْ إِلَى الْبَيْتِ الَّذِي كَانَتْ فِيهِ فَقَالَتْ: قَدِّمِي الْفِرَاشَ إِلَى وَسَطِ الْبَيْتِ، فَقَدَّمْتُهُ فَاضْطَجَعَتْ وَاسْتَقْبَلَتِ الْقِبْلَةَ فَقَالَتْ: يَا أُمَّتَاهُ، إِنِّي مَقْبُوضَةٌ الْآنَ، وَإِنِّي قَدِ اغْتَسَلْتُ، فَلَا يَكْشِفْنِي أَحَدٌ، وَقُبِضَتْ، فَجَاءَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ: لَا وَاللَّهِ لَا يَكْشِفُهَا أَحَدٌ، ثُمَّ حَمَلَهَا بِغُسْلِهَا ذَلِكَ فَدَفَنَهَا.

سلمیٰ نامی عورت سے روایت ہے کہ سیدہ فاطمہ بنت رسول ﷺ بیمار ہوئیں میں تیمارداری کے لیے ان کے پاس رہی ۔ ایک صبح ان کی حالت قدرے بہتر تھی ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کسی کام سے باہر گئے تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : میرے غسل کرنے کے لیے پانی لائیں میں پانی لائی ۔ میرے رائے کے مطابق آپ رضی اللہ عنہانے اچھی طرح غسل کیا ، پھر کہا :مجھے نئے کپڑے لا دو ، میں نے لا دیے تو انہیں پہن کر اپنے گھر ( کے صحن ) کی طرف آئیں جس میں رہ رہیں تھی تو مجھے گھر کے (صحن کے ) درمیان میں بستر بچھانے کو کہا: میں نے بچھا دیا تو آپ رضی اللہ عنہ قبلہ رخ ہو کر لیٹ گئیں ، پھر وہ کہنے لگیں ،اے اماں! میری وفات کا وقت آپہنچا ہے ۔ اس لیے میں نے غسل بھی کر لیا ہے آئندہ کسی شخص کو مجھے عریاں کرنے کی اجازت مت دینا تو اسی وقت فوت ہو گئیں ۔ جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ آئے تو انکو میں نے ساری بات بتا دی تو انہوں نے کہا : اللہ کی قسم ! فاطمہ نے ٹھیک کہا ہے ۔ اس کو عریاں کیے بغیر دفنا یا جائے گا وہ غسل کافی ہو گا جو انہوں نے خود کیا ہے ۔ (1)

أمه سلمى ← أَبِيهِ ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ← مُصْعَبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزُّبَيْرِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُونُسَ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1074

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1075

1075 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُونُسَ، نا حُسَيْنُ بْنُ حَسَنٍ الْأَشْقَرُ قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ قَابُوسِ بْنِ أَبِي ظَبْيَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَأْسِ مَرْحَبٍ لَعَنَهُ اللَّهُ.

سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں اس (یہودی سردار) مرحب کا سر لے کر نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تھا اللہ اس پر لعنت کرے۔ (2)

أَتَيْتُ النَّبِيَّ بِرَأْسِ مَرْحَبٍ لَعَنَهُ اللَّهُ. ← عَلِيٍّ، ← جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← ابْنِ قَابُوسَ بْنِ أَبِي ظَبْيَانَ، ← حسين بن حسن الأشقر ← مُحَمَّدُ بْنُ يُونُسَ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1075

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1076

1076 - حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَصْرِيُّ، نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ قثنا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: أَخْبَرَنِي مَنْ سَمِعَ عَلِيًّا عَلَى مِنْبَرِ الْكُوفَةِ يَقُولُ: لَمَّا أَرَدْتُ أَنْ أَخْطُبَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرْتُ أَنْ لَا شَيْءَ لِي، ثُمَّ ذَكَرْتُ عَائِدَتَهُ وَصِلَتَهُ فَخَطَبْتُهَا، فَقَالَ: «وَهَلْ عِنْدَكَ شَيْءٌ؟» قُلْتُ: لَا، قَالَ: «فَأَيْنَ دِرْعُكَ الْحُطَمِيَّةُ الَّتِي كُنْتُ أَعْطَيْتُكَ يَوْمَ كَذَا وَكَذَا؟» قُلْتُ: هِيَ عِنْدِي، قَالَ: «فَأْتِ بِهَا» ، قَالَ: فَأَتَيْتُهُ بِهَا فَأَنْكَحَنِيهَا، فَلَمَّا أَنْ دَخَلَتْ عَلَيَّ قَالَ: «لَا تُحْدِثَنَّ شَيْئًا حَتَّى آتِيَكُمَا» ، فَاسْتَأْذَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْنَا كِسَاءٌ أَوْ قَطِيفَةٌ فَتَحَشْحَشْنَا، فَقَالَ: «مَكَانَكُمَا، عَلَى حَالِكُمَا» ، فَدَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَلَسَ عِنْدَ رُءُوسِنَا فَدَعَا بِإِنَاءٍ فِيهِ مَاءٌ، فَأُتِيَ بِهِ، فَدَعَا فِيهِ بِالْبَرَكَةِ، ثُمَّ رَشَّهُ عَلَيْنَا، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنَا أَحَبُّ إِلَيْكَ أَمْ هِيَ؟ قَالَ: «هِيَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْكَ، وَأَنْتَ أَعَزَّ عَلَيَّ مِنْهَا» .

ابو نجیح رحمۃ اللہ علیہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ ان کو اس شخص نے بیان کیا ہے جس نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو کوفہ کے منبر پر یہ فرماتے ہوئے سنا : جب میں نے رسول اللہ ﷺ کو (سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے لیے)پیغام نکاح بھیجنے کا ارادہ کیا ، میں نے عرض کیا میرے پاس کچھ بھی نہیں ہے پھر میں نے آپ کو صلہ رحمی کی یاد دلاکر پیغام نکاح بھیجا تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا : تمہارے پاس کیا ہے میں نے عرض کیا : کچھ نہیں ! فرمایا : وہ حطمیہ زرہ کہاں ہے جو میں نے آپ کو فلاں دن دی تھی ؟میں نے عرض کیا : میرے پاس ہے تو فرمایا : اے لاؤ میں لایا تو آپ نے میرا نکاح کر دیا جب ان سے میری رخصتی ہوئی تو فرمایا : میرے آنے تک اس سے کوئی بات نہ کرنا جب آپ نے اجازت طلب کی اس وقت ہم چادر یاکمبل میں تھے ہم نبی کریم ﷺ کو دیکھ کر اٹھنے لگے آپ ﷺ نے فرمایا اپنی جگہ پر رہو ۔ آپ ﷺ آکر ہمارے پاس بیٹھ گئے اور پانی منگوا کر اس میں کچھ پڑھ کر ہم پر چھڑکا اور برکت کی دعا فرمائی ، میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ! آپ کو مجھ سے زیادہ پیار ہے یا فاطمہ سے ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا فاطمہ سے زیادہ پیار ہے مگر تم سے اس سے زیادہ معزز ہو۔(3)

لَمَّا أَرَدْتُ ← عليا على منبر الكوفة ← مَنْ ← أَبِيهِ ← ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ قثنا سُفْيَانُ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَصْرِيُّ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1076

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1077

1077 - حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، نا سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ قثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، نا الْأَوْزَاعِيُّ قَالَ: حَدَّثَنِي شَدَّادٌ أَبُو عَمَّارٍ، عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ أَنَّهُ حَدَّثَهُ قَالَ: طَلَبْتُ عَلِيًّا فِي مَنْزِلِهِ فَقَالَتْ فَاطِمَةُ: ذَهَبَ يَأْتِي بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَجَاءَا جَمِيعًا فَدَخَلَا، وَدَخَلْتُ مَعَهُمَا، فَأَجْلَسَ عَلِيًّا عَنْ يَسَارِهِ، وَفَاطِمَةَ عَنْ يَمِينِهِ، وَالْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ بَيْنَ يَدَيْهِ، ثُمَّ الْتَفَعَ عَلَيْهِمْ بِثَوْبِهِ قَالَ: " {إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا} [الأحزاب: 33] ، اللَّهُمَّ هَؤُلَاءِ أَهْلِي، اللَّهُمَّ أَهْلِي أَحَقُّ "، قَالَ وَاثِلَةُ: فَقُلْتُ مِنْ نَاحِيَةِ الْبَيْتِ: وَأَنَا مِنْ أَهْلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «وَأَنْتَ مِنْ أَهْلِي» ، قَالَ وَاثِلَةُ: فَذَلِكَ أَرْجَا مَا أَرْجُو مِنْ عَمَلِي.

شد ابو عمار رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ مجھ سےسیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ کہنے لگے : میں نے ایک دفعہ سیدہ فاطمہ سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں پوچھا کہ وہ کہاں ہیں تو وہ کہنے لگی: وہ نبی کریم ﷺ کو لینے گئے ہیں ۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ ایک ساتھ اکٹھے تشریف لائے تو میں بھی ان سے مل کر گھر میں داخل ہواآ پ کے بائیں طرف سیدنا علی رضی اللہ عنہ دائیں طرف سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا اور حسن و حسین رضی اللہ عنہم کو اپنے سامنے بیٹھایا پھر سب کو ایک چادر میں اپنے ساتھ لپٹیا اور یہ آیت تلاوت کی ( انما یدید اللہ لیذھب عنکم الرجس اھل البیت) پھر فرمایا : اے اللہ یہ میرے اہل بیت ہیں اور میرے اہل بیت زیادہ حقدار ہیں ۔سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں نے گھر کے ایک کونے سے کہا : یار سول اللہ ﷺ میں بھی آپ ﷺ کے اہل سے ہوں تو آپ ﷺ نے فرمایا تم بھی میرے اہل سے ہو ۔ سیدنا واثلہ رضی اللہ عنہ کہتےہیں : میرا سب سے زیادہ قابل امیدعمل یہی ہے ۔ (1)

وَاثِلَةَ بْنَ الْأَسْقَعِ، ← شَدَّادٌ أَبُو عَمَّارٍ ← الْاَوْزَاعِیُّ ← سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ قثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللهِ،

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1077

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1078

1078 - حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قثنا سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ قَالَ: نا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، نا قَنَانُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، سَمِعْتُ مُصْعَبَ بْنَ سَعْدٍ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ آذَى عَلِيًّا فَقَدْ آذَانِي» .

مصعب بن سعد رحمۃ اللہ علیہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس نے علی کو تکلیف پہنچائی گویا اس نے مجھےہی تکلیف پہنچائی ۔ (2)

أَبِيهِ ← مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، ← قِنَانُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ← مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قثنا سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1078

Hassan

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1079

1079 - حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ، نا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، نا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْمَاجِشُونُ، نا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ سَعْدٍ، سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لِعَلِيٍّ: «أَمَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ، مِنْ مُوسَى، إِلَّا أَنَّهُ لَيْسَ بَعْدِي نَبِيٌّ؟» قَالَ سَعِيدٌ: فَأَحْبَبْتُ أَنْ أُشَافِهَ بِذَلِكَ سَعْدًا، فَلَقِيتُهُ فَذَكَرْتُ لَهُ مَا ذَكَرَنِي عَامِرٌ، قَالَ: فَوَضَعَ أُصْبُعَيْهِ فِي أُذُنَيْهِ ثُمَّ قَالَ: اسْتَكَّتَا إِنْ لَمْ أَكُنْ سَمِعْتُهُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرما رہے تھے کیا تم اس بات پر خوش نہیں ہو کہ تمہاری میرے ساتھ نسبت وہی ہے جو سیدنا ہارون علیہ السلام کی موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ تھی مگر میرے بعد نبی نہیں ہے ۔ سعید بن مسیب رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں میں نے یہ چاہا کہ اس روایت کو میں خود سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مل کر سنو تو میں نے ان سےملاقات کی اور جو روایت مجھے عامر نے بیان کی تھی وہ ان سے ذکر کی تو انہوں نے اپنی دونوں انگلیاں اپنے کانوں میں لیں پھر فرمایا : ( یہ دونوں کان ) خاموش (بہرے) ہو جائیں اگر میں نے اس روایت کو نبی کریم ﷺ سے نہ سنا ہو۔ (3)

لِعَلِيٍّ: «أَمَا تَرْضَى ← أَبِيهِ سَعْدٍ ← عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← یُوْسُفُ بْنُ یَعْقُوْبَ الْمَاجِشُوْنُ، ← مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← إِبْرَاهِيمَ،

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1079

Sahih

chevron_left Previous
1…949596…164
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door2. He was asked about the virtues of Abu, the first-born of al-Siddiq, the mercy and pleasure of God be upon him3. He was asked about the words of Ali ibn Abi Talib and others: The best of this nation after its prophet Abu Bakr and Omar4. His saying, may God’s prayers and peace be upon him: “If I had taken people as a friend, I would not have taken a virgin father as a friend5. He, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Pass a virgin father, let him pray to the people.”6. The remainder of his saying: “Show a first-born father who prays to people.”7. It was not narrated that Abu Bakr was the first to become Muslim8. It was not narrated that a virgin father came to ask permission, so the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Permit him, and give him good tidings of paradise.”9. The Virtue of the Commander of the Believers, Omar Ibn Al-Khattab, may God be pleased with him10. The Islam of Umar ibn Al-Khattab, may God be pleased with him11. And among the virtues of Omar bin Al-Khattab from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik, on the authority of his sheikhs other than Abd Allah bin Ahmed, and from the hadith of Abu Bakr bin Malik.12. The virtue of Othman bin Affan, may God be pleased with him13. And from the merits of Othman, from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik on the authority of his sheikhs except for Abdullah bin Ahmad14. The news of the Prince of the Believers, Ali bin Abi Talib, and his asceticism, may God be pleased with him15. His mother's name and genealogy16. A merit upon me, peace be upon him17. And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah18. The Virtue of Abd al-Rahman ibn Awf, may God be pleased with him19. The Virtue of Az-Zubayr Bin Awwam, may God be pleased with him
20. Fadil Abi Ubaidah Ibn Al Jarrah, may God be pleased with him
21. Fadil Talha Bin Ubaid Allah, may God be pleased with him
22. Fadil Saad bin Abi Waqas, may God be pleased with him
23. Fadil Fatima, the daughter of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him
24. The virtues of good, and the good, may God be pleased with them.
25. The Virtues of Ansar, may God be pleased with them
26. The virtue of Khalid bin Al-Walid, may God have mercy on him
27. Fadil Saad bin Muadh, may God have mercy on him
28. Fadil Haritha Ibn Nu'man, may God be pleased with him
29. Fadil Suhaib, may God be pleased with him
30. The virtues of the Arabs
31. The virtue of Usama bin Zaid, may God be pleased with him
32. Fadil Abdullah bin Masoud, may God be pleased with him
33. Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with them
34. Virtues of Khadija and others
35. Fadil Ammar ibn Yasser, may God be pleased with him
36. Virtues 0 People of Yemen
37. Virtues of the family of the Mother of the Believers, may God be pleased with her, and other things among the people of Yemen
38. The virtues of the Banu Ghafar, and Islam and others
39. Fadil Jaafar ibn Abi Talib, may God be pleased with him
40. Fadil Jarir bin Abdullah, may God be pleased with him
41. Fadil Abdullah Bin Omar, may God be pleased with them
42. The virtues of a people of the Levant
43. The Virtue of the Companions of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him
44. The virtue of Amr ibn al-Aas, may God be pleased with him
45. The Virtues of Mu`awiyah Bin Abi Sufyan, may God be pleased with them
46. The virtues of Abu al-Fadl al-Abbas ibn Abd al-Muttalib, the uncle of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him
47. Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with him