سیدناعلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے لوگوں کے بارے میں نبی کریم ﷺ سے شکایت کی کہ مجھ سے لوگ کیوں حسد کرتے ہیں؟ تو نبی کریم ﷺنے فرمایا: کیا میں خوشی نہیں ہوگی کہ چاروں میں سے چوتھے ہو،سب سے پہلے جنت میں میں، آپ ،حسن وحسین ہماری بیویاں دائیں بائیں ، اولا د بیویوں کے پیچھے اور ہمارا گروہ ہمارے پیچھے ہو گا۔ (1)
شَمَائِلِنَا، وَذَرَارِيُّنَا خَلْفَ أَزْوَاجِنَا، وَشِيعَتُنَا مِنْ وَرَائِنَا ← أَيْمَانِنَا، ← وأنت والحسنُ، والحسينُ، وأزواجنا ← (أَمَا تَرْضَى أَنْ تكون رابعَ أربعَة؟ أول من يدخلُ الجنةَ ← شَكَوْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ حَسَدَ النَّاسِ إِيَّايَ ← عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← زيد بن علي بن حسين ← عُمَرِ بْنِ مُوسَى ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَمْرٍو، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُونُسَ قثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَائِشَةَ
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1068
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1069
محمد بن علی بن حسین رحمۃ اللہ علیہ ( ابو جعفر الباقر ) روایت کرتے ہیں کہ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدہ ام کلثوم بنت علی رضی اللہ عنہا کو پیغام نکاح بھیجا اور کہا: ان کا نکاح مجھ سے کیجیے، سیدناعلی رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے اسے اپنے بھائی جعفر کے بیٹے کے لیے رکھا ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: الله کی قسم! اس کا مجھ سے نکاح کرائیے ! کوئی آ دمی مجھ سے بڑھ کر ان کی دیکھ بھال نہیں کرے گا؟ تو سید ناعلی رضی اللہ عنہ نے ان سے نکاح کروادیا، چنانچہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ مہاجرین کے پاس آ کر فرمانے لگے: اے مہاجرین !تم مجھے مبارکباد کیوں نہیں دیتے۔ انہوں نے کہا: امیرالمومنین !کس بات کی؟ میں نے ام کلثوم بنت علی وبنت فاطمہ بنت رسول اللہ سے نکاح کیا ہے اور میں نے سنا ہے رسول اللہ ﷺ کا فرمارہے تھے :سواے میرے رشتے اورنسب کے ہر رشتہ اور نسب قیامت کے دن ختم ہوجائے گا، میں ( عمر ) نے بھی چاہا تھا کہ میرے اور رسول اللہ ﷺ کے درمیان کوئی رشتہ اورنسب ہو۔(2)
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1069
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1070
مستظل رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہےکہ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو سیدہ ام کلثوم بنت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ نکاح کے لیے پیغام بھیجا ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے چھوٹی ہونے کا عذر پیش کیا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں وظیفہ زوجیت کا متمنی نہیں ، بلکہ میں نے تو سنا ہے کہ رسول اللہ ﷺ فرما رہے تھے : میرے رشتے کے علاوہ قیامت کے دن تمام رشتے ٹوٹ جائیں گے اور ماسوائے اولاد فاطمہ کے ہر بیٹا باپ کا عصبہ ہوتا ہے کیونکہ اس کی اولاد میری عصبہ ہے ۔ (3)
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1070
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1071
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہےکہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ پیدل جا رہے تھے کہ راستے میں آپ ﷺ کے جوتوں کاتسمہ ٹوٹ گیا تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اسے گانٹھ دیا پھر آگے چل کر نبی کریم ﷺ نے فرمایا تم میں سے ایک شخص قرآن کی تاویل پر جہاد کرے گا جس طرح میں نے اس کے نازل ہونے پر جہاد کیا تھا ۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے خوشی سے جا کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو بشارت دی کہ جو رسول اللہ ﷺ نے ان کے بارے میں فرمایا تھا تو انہوں نے ذرا بھی اظہار خوشی نہ کیا تو مجھے لگا کہ یہ بات انہوں نے پہلے کبھی سن رکھی تھی ۔ (1)
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1071
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1072
ابو لیلیٰ رحمۃ اللہ علیہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : صدیقین تین لوگ ہیں : حبیب بن موسیٰ النجار مومن آل یاسین ، خرتیل مومن آل فرعون اور تیسرے علی ابن ابی طالب جو کہ ان سب سے بہتر ہیں ۔ (2)
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1072
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1073
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے کہا : میں نے زمین کا مشرق اور مغرب دیکھا ہے مگر کسی باپ کے بیٹے کو بنو ہاشم سے بہتر نہیں پایا۔ (3)
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1073
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1074
سلمیٰ نامی عورت سے روایت ہے کہ سیدہ فاطمہ بنت رسول ﷺ بیمار ہوئیں میں تیمارداری کے لیے ان کے پاس رہی ۔ ایک صبح ان کی حالت قدرے بہتر تھی ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کسی کام سے باہر گئے تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : میرے غسل کرنے کے لیے پانی لائیں میں پانی لائی ۔ میرے رائے کے مطابق آپ رضی اللہ عنہانے اچھی طرح غسل کیا ، پھر کہا :مجھے نئے کپڑے لا دو ، میں نے لا دیے تو انہیں پہن کر اپنے گھر ( کے صحن ) کی طرف آئیں جس میں رہ رہیں تھی تو مجھے گھر کے (صحن کے ) درمیان میں بستر بچھانے کو کہا: میں نے بچھا دیا تو آپ رضی اللہ عنہ قبلہ رخ ہو کر لیٹ گئیں ، پھر وہ کہنے لگیں ،اے اماں! میری وفات کا وقت آپہنچا ہے ۔ اس لیے میں نے غسل بھی کر لیا ہے آئندہ کسی شخص کو مجھے عریاں کرنے کی اجازت مت دینا تو اسی وقت فوت ہو گئیں ۔ جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ آئے تو انکو میں نے ساری بات بتا دی تو انہوں نے کہا : اللہ کی قسم ! فاطمہ نے ٹھیک کہا ہے ۔ اس کو عریاں کیے بغیر دفنا یا جائے گا وہ غسل کافی ہو گا جو انہوں نے خود کیا ہے ۔ (1)
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1074
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1075
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں اس (یہودی سردار) مرحب کا سر لے کر نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تھا اللہ اس پر لعنت کرے۔ (2)
أَتَيْتُ النَّبِيَّ بِرَأْسِ مَرْحَبٍ لَعَنَهُ اللَّهُ. ← عَلِيٍّ، ← جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← ابْنِ قَابُوسَ بْنِ أَبِي ظَبْيَانَ، ← حسين بن حسن الأشقر ← مُحَمَّدُ بْنُ يُونُسَ
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1075
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1076
ابو نجیح رحمۃ اللہ علیہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ ان کو اس شخص نے بیان کیا ہے جس نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو کوفہ کے منبر پر یہ فرماتے ہوئے سنا : جب میں نے رسول اللہ ﷺ کو (سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے لیے)پیغام نکاح بھیجنے کا ارادہ کیا ، میں نے عرض کیا میرے پاس کچھ بھی نہیں ہے پھر میں نے آپ کو صلہ رحمی کی یاد دلاکر پیغام نکاح بھیجا تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا : تمہارے پاس کیا ہے میں نے عرض کیا : کچھ نہیں ! فرمایا : وہ حطمیہ زرہ کہاں ہے جو میں نے آپ کو فلاں دن دی تھی ؟میں نے عرض کیا : میرے پاس ہے تو فرمایا : اے لاؤ میں لایا تو آپ نے میرا نکاح کر دیا جب ان سے میری رخصتی ہوئی تو فرمایا : میرے آنے تک اس سے کوئی بات نہ کرنا جب آپ نے اجازت طلب کی اس وقت ہم چادر یاکمبل میں تھے ہم نبی کریم ﷺ کو دیکھ کر اٹھنے لگے آپ ﷺ نے فرمایا اپنی جگہ پر رہو ۔ آپ ﷺ آکر ہمارے پاس بیٹھ گئے اور پانی منگوا کر اس میں کچھ پڑھ کر ہم پر چھڑکا اور برکت کی دعا فرمائی ، میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ! آپ کو مجھ سے زیادہ پیار ہے یا فاطمہ سے ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا فاطمہ سے زیادہ پیار ہے مگر تم سے اس سے زیادہ معزز ہو۔(3)
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1076
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1077
شد ابو عمار رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ مجھ سےسیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ کہنے لگے : میں نے ایک دفعہ سیدہ فاطمہ سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں پوچھا کہ وہ کہاں ہیں تو وہ کہنے لگی: وہ نبی کریم ﷺ کو لینے گئے ہیں ۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ ایک ساتھ اکٹھے تشریف لائے تو میں بھی ان سے مل کر گھر میں داخل ہواآ پ کے بائیں طرف سیدنا علی رضی اللہ عنہ دائیں طرف سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا اور حسن و حسین رضی اللہ عنہم کو اپنے سامنے بیٹھایا پھر سب کو ایک چادر میں اپنے ساتھ لپٹیا اور یہ آیت تلاوت کی ( انما یدید اللہ لیذھب عنکم الرجس اھل البیت) پھر فرمایا : اے اللہ یہ میرے اہل بیت ہیں اور میرے اہل بیت زیادہ حقدار ہیں ۔سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں نے گھر کے ایک کونے سے کہا : یار سول اللہ ﷺ میں بھی آپ ﷺ کے اہل سے ہوں تو آپ ﷺ نے فرمایا تم بھی میرے اہل سے ہو ۔ سیدنا واثلہ رضی اللہ عنہ کہتےہیں : میرا سب سے زیادہ قابل امیدعمل یہی ہے ۔ (1)
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1077
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1078
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1078
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1079
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرما رہے تھے کیا تم اس بات پر خوش نہیں ہو کہ تمہاری میرے ساتھ نسبت وہی ہے جو سیدنا ہارون علیہ السلام کی موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ تھی مگر میرے بعد نبی نہیں ہے ۔ سعید بن مسیب رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں میں نے یہ چاہا کہ اس روایت کو میں خود سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مل کر سنو تو میں نے ان سےملاقات کی اور جو روایت مجھے عامر نے بیان کی تھی وہ ان سے ذکر کی تو انہوں نے اپنی دونوں انگلیاں اپنے کانوں میں لیں پھر فرمایا : ( یہ دونوں کان ) خاموش (بہرے) ہو جائیں اگر میں نے اس روایت کو نبی کریم ﷺ سے نہ سنا ہو۔ (3)
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1079