Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

1,963 Hadith48 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1056

1056 - حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْفِرْيَابِيُّ، سَنَةَ تِسْعٍ وَتِسْعِينَ وَمِائَتَيْنِ، قثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ قثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَوْمَ خَيْبَرَ: «لَأَدْفَعَنَّ الرَّايَةَ غَدًا إِلَى رَجُلٍ يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ، يَفْتَحُ اللَّهَ عَلَيْهِ» ، فَقَالَ عُمَرُ: فَمَا أَحْبَبْتُ الْإِمَارَةَ إِلَّا يَوْمَئِذٍ، فَتَطَاوَلْتُ لَهَا، قَالَ: فَقَالَ لِعَلِيٍّ: «قُمْ» ، فَدَفَعَ اللِّوَاءَ إِلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: «اذْهَبْ وَلَا تَلْتَفِتْ لِلْعَزِيمَةِ» ، فَقَالَ عَلِيٌّ: عَلَامَ أُقَاتِلُ النَّاسَ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قَاتِلْهُمْ حَتَّى يَشْهَدُوا أَلَّا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَإِذَا قَالُوهَا فَقَدْ مَنَعُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا، وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ» .

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے خیبر کے دن فرمایا : کل میں جھنڈا اس شخص کو دوں گا جو اللہ اور اسکے رسول سے محبت کرتا ہے۔ اور اللہ اس کے ہاتھ پر فتح دے گا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں نے اس دن کے علاوہ کبھی امارت کی تمنا نہیں کی ، میں نے اس دن امید لگائے رکھی ، مگر رسو ل اللہ ﷺ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا : جاؤ! لڑو، ادھر ادھر عزیمت کے لیے التفات نہ کرنا ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ میں کس بنیاد پرجنگ کروں گا؟تو فرمایا اس وقت تک جنگ کرنا جب تک کہ وہ گواہی دے دیں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے ، جب وہ ایسا کریں تو پھر انہوں نےمجھ سے اپنی جانوں اور مالوں کو محفوظ کر لیا الا یہ کہ ان پر کسی کا حق ہو اور ان کے حساب اللہ کے ذمے ہے ۔ (1)

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← تِسْعِينَ وَمِائَتَيْنِ، قثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ قثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْفِرْيَابِيُّ، سَنَةَ تِسْعٍ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1056

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1057

1057 - حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ: نا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، نا أَبِي، نا الْأَشْعَثُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَنَا، وَعُثْمَانُ، وَطَلْحَةُ، وَالزُّبَيْرُ مِمَّنْ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: {وَنَزَعْنَا مَا فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍّ إِخْوَانًا عَلَى سُرُرٍ مُتَقَابِلِينَ} [الحجر: 47] .

ابو صالح رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں امید کرتا ہوں کہ میں عثمان ،طلحہ اور زبیر رضی اللہ عنہم (روز قیامت جنت میں ) ایسے ہوں گے کہ جس طرح اللہ عزوجل نے فرمایا ہے (ونز عنا مافی صدور ھم من غل اخوانا علی سرر متقابلین ) ترجمہ : اور ہم وہ ساری کدورت باہر کھینچ لیں گے جو ( دنیا میں ) ان کے سینوں میں (مغالطہ کے باعث ایک دوسرے سے )تھی، وہ (جنگ میں) بھائی بھائی بن کر آمنے سامنے تختوں پر بیٹھے ہوں گے۔ (2)

وَعُثْمَانُ، وَطَلْحَةُ، وَالزُّبَيْرُ مِمَّنْ ← إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ ← عَلِيٍّ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ← الْأَشْعَثِ ← أَبِي ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، ← جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1057

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1058

1058 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَاسِطِيُّ، نا عَبَّادُ بْنُ يَعْقُوبَ قَالَ: نا مُوسَى بْنُ عُمَيْرٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا مَعْشَرَ بَنِي هَاشِمٍ، وَالَّذِي بَعَثَنِي بِالْحَقِّ، لَوْ أَخَذْتُ بِحَلْقَةِ بَابِ الْجَنَّةِ مَا بَدَأْتُ إِلَّا بِكُمْ» .

سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اے خاندان بنو ہاشم ! اس ذات کی قسم ! جس نے مجھے حق کے ساتھ معبوث کیا ہے اگرمیں جنت کے دروازوں کی کنڈی پکڑوں تب بھی میں تمہارے علاوہ کسی اور سے شروع نہیں کروں گا۔ (3)

عَلِيٍّ، ← جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ← مُوسَى بْنِ عُمَيْرٍ ← عَبَّادُ بْنُ يَعْقُوبَ ← مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَاسِطِيُّ،

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1058

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1059

1059 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، نا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ قثنا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ أَبِي نَصْرٍ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ مُسَاوِرٍ الْحِمْيَرِيِّ، عَنْ أُمِّهِ قَالَتْ: دَخَلْتُ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ فَسَمِعْتُهَا تَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَلِيٍّ: «لَا يُبْغِضُكَ مُؤْمِنٌ، وَلَا يُحِبُّكَ مُنَافِقٌ» .

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: آپ سے محبت نہیں کرے گا مگر مومن اور بغض نہیں رکھے گا مگر منافق۔(4)

دَخَلْتُ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ فَسَمِعْتُهَا تَقُولُ: ← أُمِّهِ2، ← مساور الحميري ← أَبِي نَصْرٍ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ قثنا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1059

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1060

1060 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ قثنا أَبُو خَيْثَمَةَ، وَهُوَ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قثنا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ قثنا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ: أَخْبَرَنِي يَزِيدُ الرِّشْكُ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً، فَاسْتَعْمَلَ يَعْنِي عَلِيًّا، فَصَنَعَ شَيْئًا أَنْكَرُوهُ، فَتَعَاقَدُوا أَرْبَعَةٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَعْنِي شَكَاتَهُ، وَكَانُوا إِذَا قَدِمُوا مِنْ سَفَرٍ بَدَءُوا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمُوا عَلَيْهِ، وَنَظَرُوا إِلَيْهِ، ثُمَّ يَنْصَرِفُونَ إِلَى رِحَالِهِمْ، فَلَمَّا قَدِمَتِ السَّرِيَّةُ سَلَّمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ أَحَدُ الْأَرْبَعَةِ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَمْ تَرَ إِلَى عَلِيٍّ صَنَعَ كَذَا وَكَذَا؟ فَأَعْرَضَ عَنْهُ، ثُمَّ قَامَ آخَرُ مِنْهُمْ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَمْ تَرَ إِلَى عَلِيٍّ صَنَعَ كَذَا وَكَذَا؟ فَأَقْبَلَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْرَفُ الْغَضَبُ فِي وَجْهِهِ وَقَالَ: «مَا تُرِيدُونَ مِنْ عَلِيٍّ؟ عَلِيٌّ مِنِّي، وَأَنَا مِنْ عَلِيٍّ، وَعَلِيٌّ وَلِيُّ كُلِّ مُؤْمِنٍ بَعْدِي» .

سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک لشکر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی قیادت میں بھیجا ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کچھ ایسا کام کیا جس پر چار صحابہ کرام نے ان سے اختلاف کیا اور کہا اس کا تذکرہ رسول اللہ ﷺ سے ضرور کریں گے۔ جب سفر سے واپس آئے تو سب سے پہلے رسول اللہ ﷺ سے ملاقات ہوئی انہوں نے آپ ﷺ کو سلام عرض کیا اور آپﷺ کی طرف دیکھنے لگے پھر وہ اپنے گھروں کو چلے گئے جب باقی لشکر پہنچا تو انہوں نے بھی آکر رسول اللہ ﷺ کو سلام کیا تو ان چاروں میں سے ایک نے کھڑے ہو کر کہا : یا رسول اللہ ﷺ کیا آپ کو معلوم ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ایسے ایسے ایک کام کیا ہے ،آپ ﷺ نے اس سے منہ پھیر لیا پھر دوسرے ساتھی نے کھڑے ہو کر کہا : یا رسول اللہ ﷺ! کیا آپ کے علم میں ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فلاں فلاں کام کیاہے ؟ آپ ﷺ اسکی طرف متوجہ ہوئے ، رخ انور پر غصہ کے آثار نمایا ں تھے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا : تم علی کے بارے میں کیا ارادہ رکھتے ہو۔ بلاشبہ علی مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں اور وہ میرے بعد ہر مومن کا ولی (دوست ) ہے ۔ (1)

عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ← مُطَرِّفٍ ← يَزِيدُ الرِّشْكُ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1060

Hassan

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1061

1061 - حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، نا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، نا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ عَلَى حِرَاءٍ هُوَ وَأَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، وَعُثْمَانُ، وَعَلِيٌّ، وَطَلْحَةُ، وَالزُّبَيْرُ، فَتَحَرَّكَتِ الصَّخْرَةُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اهْدَئِي فَمَا عَلَيْكِ إِلَّا نَبِيٌّ، وَصِدِّيقٌ، وَشَهِيدٌ» .

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ حرا کے پہاڑ پر تھے آپ کے ساتھ اس وقت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ ،سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ ، سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ بھی تھے تو وہ حرکت کرنے لگا ، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : اے حرا ء ! ٹھہر جا ، تجھ پر صرف نبی ﷺ صدیق رضی اللہ عنہ اور شہید ہیں ۔ (2)

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ← جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1061

Hassan

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1062

1062 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَنْصُورٍ الْحَاسِبُ، سَنَةَ تِسْعٍ وَتِسْعِينَ وَمِائَتَيْنِ، قثنا أَبُو عِمْرَانَ الْوَرْكَانِيُّ قثنا الْمُعَافَى بْنُ عِمْرَانَ، عَنْ مُخْتَارٍ التَّمَّارِ، عَنْ أَبِي مَطَرٍ الْبَصْرِيِّ، أَنَّهُ شَهِدَ عَلِيًّا أَتَى أَصْحَابَ التَّمْرِ وَجَارِيَةٌ تَبْكِي عِنْدَ التَّمَّارِ فَقَالَ: «مَا شَأْنُكِ؟» قَالَتْ: بَاعَنِي تَمْرًا بِدِرْهَمٍ، فَرَدَّهُ مَوْلَايَ فَأَبَى أَنْ يَقْبَلَهُ، قَالَ: يَا صَاحِبَ التَّمْرِ، خُذْ تَمْرَكَ وَأَعْطِهَا دِرْهَمَهَا، فَإِنَّهَا خَادِمٌ وَلَيْسَ لَهَا أَمْرٌ، فَدَفَعَ عَلِيًّا، فَقَالَ لَهُ الْمُسْلِمُونَ: تَدْرِي مَنْ دَفَعْتَ؟ قَالَ: لَا، قَالُوا: أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، فَصَبَّ تَمْرَهَا وَأَعْطَاهَا دِرْهَمَهَا، قَالَ: أُحِبُّ أَنْ تَرْضَى عَنِّي، قَالَ: مَا أَرْضَانِي عَنْكَ إِذَا أَوْفَيْتَ النَّاسَ حُقُوقَهُمْ.

ابو مطر بصری رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ایک لڑکی کو کھجور فروش کے پاس روتے ہوئے دیکھا تو پوچھا کیوں رو رہی ہو؟ کہنے لگی : میں نے ایک درہم کی کھجوریں خریدیں تو میرے سردار نے کہا :واپس کرو ! اب یہ دوکاندار دوبارہ نہیں لے رہا ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا اے کھجور فروش ! کھجوریں واپس لے لو اور درہم واپس کر و یہ تو خادمہ ہے ، صاحب اختیار نہیں ہے ، یہ سن کر دوکاندار نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو دھکا دیا ، لوگوں نےکہا کیا تم جانتے ہو کہ تم نے کس کو دھکا دیا ہے ؟ اس نےکہا نہیں ! لوگوں نے کہا : یہ امیر المومنین ہیں ، تو اس نے کھجوریں واپس لے کر درہم واپس دے دیا اور کہا : امیر المومنین ! آب آپ مجھ سے راضی ہو جائیں تو فرمایا : میں تب راضی ہوں ، جب تم الوگوں کو ان کے حقوق پورے ادا کرو گے۔ (1)

أَبِي مَطَرٍ الْبَصْرِيِّ، ← مختار التمار ← تِسْعِينَ وَمِائَتَيْنِ، قثنا أَبُو عِمْرَانَ الْوَرْكَانِيُّ قثنا الْمُعَافَى بْنُ عِمْرَانَ، ← أبو بكر أحمد بن محمد بن منصور الحاسب

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1062

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1063

1063 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ قثنا الْوَرْكَانِيُّ قثنا الْمُعَافَى بْنُ عِمْرَانَ، عَنْ يُونُسَ بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو الْوَضَّاحِ الشَّيْبَانِيُّ قَالَ: حَدَّثَنِي رَجُلٌ قَالَ: رَأَيْتُ عَلِيًّا مَرَّ بِجَارِيَةٍ تَبْتَاعُ مِنْ لَحَّامٍ، فَقَالَتْ: زِدْنِي، فَالْتَفَتَ إِلَيْهِ عَلِيٌّ فَقَالَ: زِدْهَا، وَيْحَكَ؛ فَإِنَّهُ أَعْظَمُ لِبَرَكَةِ الْبَيْعِ.

ایک شخص سے روایت ہے کہ میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ قصاب سے کہہ رہے تھے جب اس سے ایک لونڈی نے گوشت خریدا اور کچھ اضافہ کرنے کا مطالبہ کیا تو فرمایا: اسے زیادہ دو اس سے خرید وفروخت میں برکت آتی ہے ۔(2)

زِدْهَا، وَيْحَكَ؛ فَإِنَّهُ أَعْظَمُ لِبَرَكَةِ الْبَيْعِ. ← زِدْنِي، فَالْتَفَتَ إِلَيْهِ عَلِيٌّ ← رَأَيْتُ عَلِيًّا مَرَّ بِجَارِيَةٍ تَبْتَاعُ مِنْ لَحَّامٍ، ← رَجُلٌ: ← أَبُو الْوَضَّاحِ الشَّيْبَانِيُّ ← يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ قثنا الْوَرْكَانِيُّ قثنا الْمُعَافَى بْنُ عِمْرَانَ،

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1063

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1064

1064 - حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَيُّوبَ الْمُخَرِّمِيُّ إِمْلَاءً مِنْ كِتَابِهِ، نا صَالِحُ بْنُ مَالِكٍ، نا عَبْدُ الْغَفُورِ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو هَاشِمٍ الرُّمَّانِيُّ، عَنْ زَاذَانَ قَالَ: رَأَيْتُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ يُمْسِكُ الشُّسُوعَ بِيَدِهِ، يَمُرُّ فِي الْأَسْوَاقِ فَيُنَاوِلُ الرَّجُلَ الشِّسْعَ، وَيُرْشِدُ الضَّالَّ، وَيُعِينُ الْحَمَّالَ عَلَى الْحَمُولَةِ، وَهُوَ يَقْرَأُ هَذِهِ الْآيَةَ {تِلْكَ الدَّارُ الْآخِرَةُ نَجْعَلُهَا لِلَّذِينَ لَا يُرِيدُونَ عُلُوًّا فِي الْأَرْضِ وَلَا فَسَادًا وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ} [القصص: 83] ، ثُمَّ يَقُولُ: هَذِهِ الْآيَةُ أُنْزِلَتْ فِي الْوُلَاةِ وَذَوِي الْقُدْرَةِ مِنَ النَّاسِ.

زاذان رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ ہاتھ میں جوتے کا تسمہ لیے بازار میں گھوم رہے تھے جس کا تسمہ ہوتا ، اسے دے دیتے ، کسی گمشدہ آدمی کو راستہ دکھا دیتے تھے کس کا بوجھ اٹھا کر سواری میں لادتے تھے ، ساتھ یہ آیت تلاوت کرتے تھے (تلک الدار الآخر ۃ نجعلھا للذین لا یریدون علوا فی الارض ولا فساد ا والعاقبۃ للمتقین) اور مزید یہ بھی کہتے تھے : یہ آیت باد شاہوں اور صاحب طاقت لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ (3)

زَاذَانَ ← أَبُو هَاشِمٍ الرُّمَّانِيُّ، ← عَبْدِ الْغَفُورِ، ← صالح بن مالك ← أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَيُّوبَ الْمُخَرِّمِيُّ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1064

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1065

1065 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُونُسَ الْقُرَشِيُّ قثنا الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ أَبُو عَاصِمٍ النَّبِيلُ الشَّيْبَانِيُّ، وَأَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ، وَأَبُو عَلِيٍّ الْحَنَفِيُّ، قَالُوا: نا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَزْهَرَ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ لِلْقُرَشِيِّ مِثْلَ قُوَّةِ رَجُلَيْنِ» ، يَعْنِي مِنْ غَيْرِهِ. قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: يُرِيدُ بِذَلِكَ نُبْلَ الرَّأْيِ.

سیدنا جبیربن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ایک قریشی انسان میں دو آدمیوں کے برابر قوت و طاقت ہوتی ہے ۔ امام ابن شہاب زہری رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ قوت سے مراد دانشمندی ہے ۔ (1)

جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، ← عبد الرحمن بن أزهر ← طَلْحَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ← أَبُو عَلِيٍّ الْحَنَفِيُّ، ← أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُونُسَ الْقُرَشِيُّ قثنا الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ أَبُو عَاصِمٍ النَّبِيلُ الشَّيْبَانِيُّ،

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1065

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1066

1066 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُونُسَ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي قثنا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ الْمَسْمُولِ الْمَخْزُومِيُّ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو، عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْطَبٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَقَالَ: " يَا أَيُّهَا النَّاسُ، قَدِّمُوا قُرَيْشًا وَلَا تَقَدَّمُوهَا، وَتَعَلَّمُوا مِنْهَا وَلَا تُعَلِّمُوهَا، قُوَّةُ رَجُلٍ مِنْ قُرَيْشٍ تَعْدِلُ قُوَّةَ رَجُلَيْنِ مِنْ غَيْرِهِمْ، وَأَمَانَةُ رَجُلٍ مِنْ قُرَيْشٍ تَعْدِلُ أَمَانَةَ رَجُلَيْنِ مِنْ غَيْرِهِمْ، يَا أَيُّهَا النَّاسُ، أُوصِيكُمْ بِحُبِّ ذِي أَقْرَبِيهَا: أَخِي وَابْنِ عَمِّي عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ؛ فَإِنَّهُ لَا يُحِبُّهُ إِلَّا مُؤْمِنٌ، وَلَا يُبْغِضُهُ إِلَّا مُنَافِقٌ، مَنْ أَحَبَّهُ فَقَدْ أَحَبَّنِي، وَمَنْ أَبْغَضَهُ فَقَدْ أَبْغَضَنِي، وَمَنْ أَبْغَضَنِي عَذَّبَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ".

عبداللہ بن حنطب رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نےجمعہ کے دن خطبہ میں ارشاد فرمایا ! اے لوگوں قریش سے آگے مت ہونا بلکہ ان کو آگے کرو اور قریش سے سیکھو ان کو مت سکھاؤ۔ ایک قریشی شخص کی قوت دو آدمیوں کے برابر ہے اور ایک قریشی کی امانت دو آدمیوں کی امانت کے برابر ہے لوگو ! میں تمہیں وصیت کرتا ہوں کہ میرے چچا زاد بھائی علی بن ابی طالب کے ساتھ محبت کرو۔ کیونکہ ان سے محبت مومن کرتا ہے اور بغض منافق رکھتا ہے ۔ جس نے ان سے محبت کی تو اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے ان سے بغض رکھا اس نے مجھ سے بغض رکھا اور جس نے بغض رکھا اور جس نے مجھ سے بغض رکھا تو اللہ عزوجل اس کو عذاب دے گا۔ (2)

خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ← أَبِيهِ ← الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ حَنْطَبِ ← عَمْرُو بْنُ اَبِیْ عَمْرِو ← عَبْد الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي رَوَّادٍ ← أَبِي قثنا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ الْمَسْمُولِ الْمَخْزُومِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُونُسَ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1066

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1067

1067 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُونُسَ قثنا حَمَّادُ بْنُ عِيسَى الْجُهَنِيُّ قثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ: «سَلَامٌ عَلَيْكَ أَبَا الرَّيْحَانَتَيْنِ مِنَ الدُّنْيَا، فَعَنْ قَلِيلٍ يَذْهَبُ رُكْنَاكَ وَاللَّهُ خَلِيفَتِي عَلَيْكَ» ، فَلَمَّا قُبِضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ عَلِيٌّ: هَذَا أَحَدُ الرُّكْنَيْنِ الَّذِي قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا مَاتَتْ فَاطِمَةُ قَالَ: هُوَ الرُّكْنُ الْآخَرُ الَّذِي قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہےکہ رسول اللہ ﷺ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا : السلام علیکم اے ابو ریحانتین ! ( یعنی دو پھولوں سیدنا حسن اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہم کے باپ ) بہت کم مدت میں تیرے دونوں رکن ختم ہوں گے اور اللہ تمہارا محافظ ہو جب آپ ﷺ فوت ہوئے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا : یہ پہلا رکن تھا اور جب سیدہ فاطمۃ رضی اللہ عنہا فوت ہوئیں تو فرمانے لگے : یہ دوسرا رکن تھیں جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا ۔ (3)

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الأَنْصَارِيِّ ← أَبِيهِ ← مُحَمَّدُ بْنُ يُونُسَ قثنا حَمَّادُ بْنُ عِيسَى الْجُهَنِيُّ قثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ،

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1067

Daif

chevron_left Previous
1…939495…164
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door2. He was asked about the virtues of Abu, the first-born of al-Siddiq, the mercy and pleasure of God be upon him3. He was asked about the words of Ali ibn Abi Talib and others: The best of this nation after its prophet Abu Bakr and Omar4. His saying, may God’s prayers and peace be upon him: “If I had taken people as a friend, I would not have taken a virgin father as a friend5. He, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Pass a virgin father, let him pray to the people.”6. The remainder of his saying: “Show a first-born father who prays to people.”7. It was not narrated that Abu Bakr was the first to become Muslim8. It was not narrated that a virgin father came to ask permission, so the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Permit him, and give him good tidings of paradise.”9. The Virtue of the Commander of the Believers, Omar Ibn Al-Khattab, may God be pleased with him10. The Islam of Umar ibn Al-Khattab, may God be pleased with him11. And among the virtues of Omar bin Al-Khattab from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik, on the authority of his sheikhs other than Abd Allah bin Ahmed, and from the hadith of Abu Bakr bin Malik.12. The virtue of Othman bin Affan, may God be pleased with him13. And from the merits of Othman, from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik on the authority of his sheikhs except for Abdullah bin Ahmad14. The news of the Prince of the Believers, Ali bin Abi Talib, and his asceticism, may God be pleased with him15. His mother's name and genealogy16. A merit upon me, peace be upon him17. And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah18. The Virtue of Abd al-Rahman ibn Awf, may God be pleased with him19. The Virtue of Az-Zubayr Bin Awwam, may God be pleased with him20. Fadil Abi Ubaidah Ibn Al Jarrah, may God be pleased with him21. Fadil Talha Bin Ubaid Allah, may God be pleased with him22. Fadil Saad bin Abi Waqas, may God be pleased with him23. Fadil Fatima, the daughter of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him24. The virtues of good, and the good, may God be pleased with them.25. The Virtues of Ansar, may God be pleased with them26. The virtue of Khalid bin Al-Walid, may God have mercy on him27. Fadil Saad bin Muadh, may God have mercy on him28. Fadil Haritha Ibn Nu'man, may God be pleased with him29. Fadil Suhaib, may God be pleased with him30. The virtues of the Arabs31. The virtue of Usama bin Zaid, may God be pleased with him32. Fadil Abdullah bin Masoud, may God be pleased with him33. Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with them34. Virtues of Khadija and others35. Fadil Ammar ibn Yasser, may God be pleased with him36. Virtues 0 People of Yemen37. Virtues of the family of the Mother of the Believers, may God be pleased with her, and other things among the people of Yemen38. The virtues of the Banu Ghafar, and Islam and others39. Fadil Jaafar ibn Abi Talib, may God be pleased with him40. Fadil Jarir bin Abdullah, may God be pleased with him41. Fadil Abdullah Bin Omar, may God be pleased with them42. The virtues of a people of the Levant43. The Virtue of the Companions of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him44. The virtue of Amr ibn al-Aas, may God be pleased with him45. The Virtues of Mu`awiyah Bin Abi Sufyan, may God be pleased with them46. The virtues of Abu al-Fadl al-Abbas ibn Abd al-Muttalib, the uncle of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him47. Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with him