فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عَلِيٍّ عَلَيْهِ السَّلَامُ · حديث 984
984 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، نا ابْنُ نُمَيْرٍ، نا الْأَعْمَشُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْيَمَنِ وَأَنَا شَابٌّ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، تَبْعَثُنِي إِلَى قَوْمٍ أَقْضِي بَيْنَهُمْ وَلَا عِلْمَ لِي بِالْقَضَاءِ؟ فَقَالَ: «ادْنُ» ، فَدَنَوْتُ، فَضَرَبَ يَدَهُ عَلَى صَدْرِي فَقَالَ: «اللَّهُمَّ اهْدِ قَلْبَهُ، وَثَبِّتْ لِسَانَهُ» ، قَالَ: فَمَا شَكَكْتُ فِي قَضَاءٍ بَيْنَ اثْنَيْنِ.
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ نے مجھے اہل یمن کی طرف (قاضی بنا کر ) بھیجا ، اس وقت میں ایک نوجوان آدمی تھا میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ آپ مجھے ایک قوم کی طرف فیصلہ کرنے والا بنا کر بھیج رہے ہیں حالانکہ مجھے فیصلہ کرنے کا علم نہیں ہے ۔آپ ﷺ نے فرمایا : قریب ہو جاؤ جب میں قریب ہوا تو اپنے ہاتھ مبارک کو میرے سینے پر رکھا اور فرمایا : اے اللہ اس کے دل کو ہدایت سے نواز دے اور اس کی زبان کو ثابت قدمی عطا فرما۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس کے بعد مجھے کبھی فیصلہ کرنے میں مشکل پیش نہیں آئی ۔ (2)
بَعَثَنِي رَسُولُ اللهِ إِلَى الْيَمَنِ وَأَنَا شَابٌّ فَقُلْتُ: ← عَلِيٍّ، ← أَبِي الْبَخْتَرِيِّ ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← الْاَعْمَشِ ← ابْنِ نُمَيْرٍ، ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › A merit upon me, peace be upon him · Hadith 984
