Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

1,963 Hadith48 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عُثْمَانَ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ سِوَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَحْمَدَ · حديث 828

828 - حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ قثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ قثنا حَمَّادٌ، وَهُوَ ابْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ قَالَ: سَمِعْتُ خُطَبَاءَ بِالشَّامِ فِي الْفِتْنَةِ، فَقَامَ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ: مُرَّةُ بْنُ كَعْبٍ، أَوِ ابْنُ كُعَيْبٍ، قَالَ: لَوْلَا حَدِيثٌ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ أَقُمْ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَذَكَرَ فِتْنَةً كَائِنَةً، فَمَرَّ رَجُلٌ مُتَقَنِّعٌ فَقَالَ: «هَذَا وَأَصْحَابُهُ يَوْمَئِذٍ عَلَى الْهُدَى» ، فَإِذَا عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ.

ابوالاشعث رحمۃاللہ علیہ سے روایت ہے کہ فتنے کے دور میں میں نے شامی خطبا کو سنا تو ایک آدمی کھڑا ہو ا جس کو مرہ بن کعب یا ابن کعیب کہا جاتاتھا اس نے کہا :اگر میں نے نبی کریم ﷺسے حدیث نہ سنی ہوتی تو میں نہ کھڑ ا ہوتا کہ رسول اللہ ﷺ نے فتنوں کا تذکرہ کیا تو وہاں سے ایک شخص خود کو ڈھانپے ہوئےگزررہاتھا(ان کا اشارہ کیا اور ) فرمایا :یہ اور اس کے ساتھی اس دن پر حق پر ہوں گے ۔پس وہ سیّد نا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ تھے ۔(2)

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of Othman, from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik on the authority of his sheikhs except for Abdullah bin Ahmad · Hadith 828

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عُثْمَانَ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ سِوَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَحْمَدَ · حديث 829

829 - حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ قثنا أَبُو هِلَالٍ قثنا قَتَادَةُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنْ مُرَّةَ الْبَهْزِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَهِيجُ عَلَى الْأَرْضِ فِتْنَةٌ كَصَيَاصِي الْبَقَرِ» ، فَمَرَّ رَجُلٌ مُتَقَنِّعٌ فَقَالَ: «هَذَا وَأَصْحَابُهُ يَوْمَئِذٍ عَلَى الْحَقِّ» ، فَقُمْتُ إِلَيْهِ فَأَخَذْتُ بِمَجَامِعِ ثَوْبِهِ فَقُلْتُ: هُوَ ذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «هُوَ ذَا» ، فَإِذَا هُوَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ.

مرہ بہزری سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :زمین پر فتنہ گائے کے سینگ کی طرح اُبھرے گا تو وہا ں قریب سے ایک شخص چادر اوڑ ھے گزر رہا تھا آپ ﷺ ان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا :یہ شخص اور اس کے ساتھی اس وقت ہدایت پرہوں گے ،میں ان کی طرف کھڑ ا ہو ،میں نے اس شخص کے کپڑے لیے اور عرض کیا :یا رسول اللہ ﷺ یہ شخص ؟فرمایا ہاں (جب میں نے اسے دیکھا تو ) وہ سیّدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ تھے۔(3)

مُرَّةَ الْبَهْزِيِّ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ قثنا أَبُو هِلَالٍ قثنا قَتَادَةُ، ← إِبْرَاهِيمَ،

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of Othman, from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik on the authority of his sheikhs except for Abdullah bin Ahmad · Hadith 829

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عُثْمَانَ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ سِوَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَحْمَدَ · حديث 830

830 - حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ قثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ قثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ قثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ قَالَ: كُنَّا مَعَ عُثْمَانَ وَهُوَ مَحْصُورٌ فِي الدَّارِ، وَكَانَ فِي الدَّارِ مَدْخَلٌ كَانَ مَنْ دَخَلَهُ سَمِعَ كَلَامَ مَنْ عَلَى الْبَلَاطِ، فَدَخَلَهُ فَخَرَجَ إِلَيْنَا وَهُوَ مُتَغَيِّرٌ لَوْنُهُ قَالَ: إِنَّهُمْ لَيَتَوَعَّدُونِي بِالْقَتْلِ آنِفًا، فَقُلْنَا يَكْفِيَكَهُمُ اللَّهُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَ: وَبِمَ يَقْتُلُونِي؟ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَا يَحِلُّ دَمُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ إِلَّا بِإِحْدَى ثَلَاثٍ: رَجُلٌ كَفَرَ بَعْدَ إِسْلَامِهِ، أَوْ زَنَى بَعْدَ إِحْصَانِهِ، أَوْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ "، فَوَاللَّهِ مَا زَنَيْتُ فِي جَاهِلِيَّةٍ وَلَا إِسْلَامٍ قَطُّ، وَلَا أَحْبَبْتُ أَنَّ لِي بِدِينِي بَدَلًا مُنْذُ هَدَانِي اللَّهُ، وَلَا قَتَلْتُ نَفْسًا، فَبِمَ يَقْتُلُونِي؟

سید ناابوامامہ بن سہل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں سیّد نا عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا ،جب وہ محصور تھے ،ہم ایسی جگہ جاتے تھے جہان سے ہمیں لوگوں کی باتیں دیتی تھیں ،ایک دن سیّدنا عثمان رضی اللہ عنہ بھی کسی ضرورت کے لیے اس جگہ تشریف لائے ،جبکہ غم وگھبراہت سے آ پ کا چہرہ متغیر تھا ،فرمانے لگے :یہ لوگ اب مجھے قتل کرنے کی سازش تیار کررہے ہیں ہم نے کہا :امیر المومنین ! اللہ تعالیٰ آپ کا محافظ ہے ۔انہوں نے فرمایا :یہ لوگ مجھے کیوں قتل کرنا چاہتے ہیں؟ حالا نکہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ کسی مسلمان کا خون تین میں سے کسی ایک صورت میں ہی روا ہے :1۔ جو ایمان لانے کے بعد کفر اختیار کرے ۔ 2۔اگر کو ئی شادی شدہ ہونے کے بعد بد کاری کرے ۔3۔کوئی ان کے علاوہ کسی کو نا حق تقل کرے ۔چنانچہ اللہ کی قسم !نہ میں نے زمانہ جاہلیت میں زنا کیا اور نہ ہی کبھی اسلام میں،جب سے اللہ تعالیٰ نے مجھے ہدایت سے نواز ہے ،نہ میں کبھی آ ج تک اپنے دین کو تبدیل کرنے کی خواہش کی ہے ،نہ میں نے کسی نفس کو ( ناحق) قتل کیا ہے تو پھر یہ لوگ کیوں میرے قتل کے در پے ہیں۔(1)

أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ، ← إِبْرَاهِيمُ قثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ قثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ قثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ،

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of Othman, from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik on the authority of his sheikhs except for Abdullah bin Ahmad · Hadith 830

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عُثْمَانَ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ سِوَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَحْمَدَ · حديث 831

831 - حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ قثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ قَالَ: حَدَّثَنِي بَكَّارُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْخُزَاعِيُّ، عَنْ شَيْخٍ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ قَدْ لَقِيَ عَطَاءً قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحُرِّ الْأُمَوِيُّ قَالَ: لَمَّا مَاتَتِ ابْنَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الثَّانِيَةُ عِنْدَ عُثْمَانَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَلَا أَبُو أَيِّمٍ، أَلَا وَلِيُّ أَيِّمٍ يَنْكِحُ عُثْمَانَ، إِنِّي أَنْكَحْتُهُ ابْنَتَيَّ، وَلَوْ كَانَتْ عِنْدِي ثَالِثَةٌ لَأَنْكَحْتُهُ، وَمَا أَنْكَحْتُهُ إِحْدَى ابْنَتَيَّ إِلَّا بِوَحْيٍ مِنَ السَّمَاءِ» .

عبداللہ بن حراموی رحمۃاللہ علیہ سے روایت ہے کہ جب نبی کریم ﷺکی دوسری بیٹی جو سیّد نا عثمان کے نکاح میں تھیں وہ فوت ہوگئیں تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :کیا غیر شادی شدہ عورت کاباپ یا سر پرست عثمان کو رشتہ نہیں دے گا ،بلاشبہ میں نے اپنی دو صاحبزادیوں کو ان کے نکاح میں دیا ،اگر میرے پاس تیسری بیٹی بھی ہوتی تو میں عثمان کے ساتھ اس کا نکا ح کردیتا اوران میں سے کسی ایک کو نکاح میں نے نہیں کیا مگر یہ کہ مجھ پرآسمان سے وحی کی گئی تھی (کہ میں عثمان کے تھ اپنی بیٹیوں کو نکاح یکے بعد دیگرے کردوں)(2)

لَمَّا مَاتَتِ ابْنَةُ النَّبِيِّ الثَّانِيَةُ عِنْدَ عُثْمَانَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحُرِّ الْأُمَوِيُّ ← شَيْخٍ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ قَدْ لَقِيَ عَطَاءً ← بَكَّارُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْخُزَاعِيُّ، ← إِبْرَاهِيمُ قثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of Othman, from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik on the authority of his sheikhs except for Abdullah bin Ahmad · Hadith 831

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عُثْمَانَ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ سِوَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَحْمَدَ · حديث 832

832 - حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ قثنا سُلَيْمَانُ الشَّاذَكُونِيُّ قثنا عَبْدُ الْحَمِيدِ الْحِمَّانِيُّ قثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو لِفَرْدٍ إِلَّا لِعُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، فَإِنِّي رَأَيْتُهُ يَعْنِي يَدْعُو حَتَّى رَأَيْتُ ضَبْعَيْهِ.

سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے سوائے سیّد نا عثمان کے کسی شخص کے لئے خاص طور پر دعا نہیں مانگی میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا تھا ان کے لئے خصوصی دُعا مانگ رہے تھے جبکہ زیادہ ہاتھ اُٹھانے کی وجہ سے آپ ﷺ کےبغل کی سفیدی بھی نظر آ رہی تھی ۔(3)

عَائِشَةَ ← ابْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of Othman, from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik on the authority of his sheikhs except for Abdullah bin Ahmad · Hadith 832

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عُثْمَانَ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ سِوَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَحْمَدَ · حديث 833

833 - حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ خَلَفٍ الدُّورِيُّ قَالَ: نا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى الْمَدَائِنِيُّ قثنا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنِي الْمُغِيرَةُ، عَنْ مَطَرٍ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ قَالَ: بَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا مَعَ أَصْحَابِهِ، إِذْ ذَكَرَ فِتْنَةً فَقَرَّبَهَا، فَجَاءَ رَجُلٌ مُتَقَنِّعٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَذَا يَوْمَئِذٍ وَمَنْ تَبِعَهُ عَلَى الْهُدَى» ، قَالَ: فَلَحِقْتُهُ فَأَخَذْتُ بِضَبْعَيْهِ فَمَيَّلْتُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: هَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «هَذَا» ، فَنَظَرْتُ فَإِذَا هُوَ عُثْمَانُ.

سیّد نا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺکی خدمت میں آپ کے ہمراہ بیٹھےہوئے تھے ،اچانک آپ ﷺ نے جلدی آنے والے فتنے کا تذکرہ کیا تو وہاں سے ایک شخص چادر اوڑھے ہوئے گزررہاتھا ،آپ ﷺ نے ان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا :یہ اور اس کے ساتھی اس وقت حق پر ہوں گے ،میں تیزی سے ان کے پاس گیا ،ان کی کلائی پکڑکر عرض کیا :یارسول اللہ ﷺ!یہ ہے وہ شخص ؟یہی ،سودہ سیّد نا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ تھے ۔(1)

فَلَحِقْتُهُ فَأَخَذْتُ بِضَبْعَيْهِ فَمَيَّلْتُهُ إِلَى النَّبِيِّ فَقُلْتُ: هَذَا ← رَسُولُ اللَّهِ «هَذَا يَوْمَئِذٍ وَمَنْ تَبِعَهُ عَلَى الْهُدَى» ← فِتْنَةً فَقَرَّبَهَا، فَجَاءَ رَجُلٌ مُتَقَنِّعٌ، ← بَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ جَالِسًا مَعَ أَصْحَابِهِ، إِذْ ← کَعْبِ بْنِ عُجْرَۃَ ← ابْنِ سِيرِينَ، ← مَطَرٍ، ← الْمُغِيرَةِ، ← زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى الْمَدَائِنِيُّ قثنا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ ← الْهَيْثَمُ بْنُ خَلَفٍ الدُّورِيُّ،

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of Othman, from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik on the authority of his sheikhs except for Abdullah bin Ahmad · Hadith 833

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عُثْمَانَ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ سِوَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَحْمَدَ · حديث 834

834 - حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ قَالَ: نا الْخَلِيلُ بْنُ عَمْرٍو الْبَغَوِيُّ قَالَ: نا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْحَرَّانِيُّ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ الْمُطَّلِبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى رُقَيَّةَ ابْنَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ امْرَأَةِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ وَفِي يَدِهَا مُشْطٌ، فَقَالَتْ: خَرَجَ مِنْ عِنْدِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آنِفًا رَجَّلْتُ رَأْسَهُ، فَقَالَ: «كَيْفَ تَجِدِينَ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ؟» قُلْتُ: كَخَيْرِ الرِّجَالِ، قَالَ: «أَكْرِمِيهِ؛ فَإِنَّهُ مِنْ أَشْبَهِ أَصْحَابِي بِي خُلُقًا» .

سیّدنا ابوہریرہ سے روایت ہے کہ میں سیّد نا عثمان کی زوجہ محترمہ اور نبی کریم ﷺ کی بیٹی سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا ان کو کنگھی کی ہے ۔انہوں نے مجھ سے فرمایا :تم نے ابوعبداللہ!(عثمان)کو کیساپایا ہے؟میں نے کہا :وہ بہتریں انسان ہیں تو فرمایا :ان کی خوب عزت کر،وہ میرے صحابہ میں سے اخلاق کے لحاظ سے مجھ جیسے ہیں۔(2)

«كَيْفَ تَجِدِينَ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ؟» قُلْتُ: كَخَيْرِ الرِّجَالِ، ← خَرَجَ مِنْ عِنْدِي رَسُولُ اللهِ آنِفًا رَجَّلْتُ رَأْسَهُ ← دَخَلْتُ عَلَى رُقَيَّةَ ابْنَةِ رَسُولِ اللَّهِ امْرَأَةِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ وَفِي يَدِهَا مُشْطٌ، ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْمُطَّلِبِ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، ← أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْحَرَّانِيُّ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ، ← الْخَلِيلُ بْنُ عَمْرٍو الْبَغَوِيُّ، ← الْهَيْثَمُ،

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of Othman, from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik on the authority of his sheikhs except for Abdullah bin Ahmad · Hadith 834

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عُثْمَانَ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ سِوَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَحْمَدَ · حديث 835

835 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ الصُّوفِيُّ قثنا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، هُوَ الْوَاسِطِيُّ، قثنا خَالِدٌ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ الْعَدَوِيِّ قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ: هَلْ عَهِدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَحَدٍ مِنْ أَصْحَابِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ؟ فَقَالَتْ: مَعَاذَ اللَّهِ، غَيْرَ أَنِّي سَأُحَدِّثُكَ، ثُمَّ أَقْبَلَتْ عَلَى حَفْصَةَ فَقَالَتْ: يَا حَفْصَةُ، نَشَدْتُكِ اللَّهَ أَنْ تُكَذِّبِينِي بِحَقٍّ أَوْ تُصَدِّقِينِي بِبَاطِلٍ، قَالَتْ: أَفْعَلُ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: هَلْ تَعْلَمِينَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُغْمِيَ عَلَيْهِ، فَقُلْتُ: أُفْرِغُ؟ قُلْتِ: لَا أَدْرِي، فَأَفَاقَ فَقَالَ: «افْتَحُوا عَنْهُ» ، فَقُلْتُ: أَبِي؟ فَسَكَتَ، فَقُلْتِ أَنْتِ: أَبِي؟ فَسَكَتَ، فَأُغْمِيَ عَلَيْهِ ثَلَاثًا، أَقُولُ لَهُ مِثْلَ ذَلِكَ، فَقُلْتِ: أَتَعْلَمِينَ أَنَّ عَلَى الْبَابِ لَرَجُلًا مَا هُوَ بِأَبِي وَلَا بِأَبِيكِ، فَانْظُرِي مَنْ هُوَ؟ فَإِذَا هُوَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ، فَدَخَلَ فَقَالَ: «ادْنُهْ» ثَلَاثًا، حَتَّى اتَّكَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ فَجَعَلَهَا مِنْ وَرَاءِ عُنُقِهِ ثُمَّ سَارَّهُ، فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ: «فَهِمْتَ؟» قَالَ: سَمِعَتْ أُذُنَايَ وَوَعَى قَلْبِي، حَتَّى فَعَلَ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ حَفْصَةُ: نَعَمْ.

سیّد نا ابوبکر عدوہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا:کیا رسول اللہ نے وفات سے پہلے کسی صحابی سے کو ئی وعدد لیا تھا ؟سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا :معازاللہ !ہاں مگر میں تجھے بتاؤں گی،پھر وہ سیّد حفصہ سے کہنے لگی :حفصہ !تجھے اللہ کی قسم ! اگرمیں جھوٹ بولوں تو تم حق بات بیان کرنا اور با طل میں میری تا ئید نہ کرنا تو سیّدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے کہا : کیا حضور ﷺ ہوش میں آئے ہیں ؟ تم نے کہا :مجھے نہیں پتہ ،چونچہ جب آپﷺ ہوش میں آئے تو فرمایا :دروازہ کھولو !میں نے کہا :میرے باپ (سیّد نا ابو بکر رضی اللہ عنہ کے لیے)؟تو آپ ﷺ خاموش رہے تو تم نے کہا :میرے والد (سیّد نا عمر رضی اللہ عنہ کے لیے ) ؟تو آپ ﷺ چپ رہے ،اسی دوران آپ ﷺ پر غشی طاری ہو گئی، میں آپ ﷺ سے یہی بات کہہ رہی تھی کہ تم نے کہا : کیا تم جانتی ہو کہ دروازے پر کوئی بند ہ آیا ہے جو نہ میرا باپ ہے اور نہ تیر ے والد دیکھو کون ہے ؟جب دیکھا تو وہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ تھے پس وہ داخل ہوئے نبی کریم نے انہیں تین مرتبہ قریب آنے کا کہا ، یہاں تک کہ آپ ہاتھ کے ساتھ ٹیک لگاتے ہوئے اسے ان کی گردن کے پیچھے لے گئے پھر ان کے ساتھ سرگوشی فرمایئ جب فارغ ہوئے تو فرمایا : کیا سمجھ گئے ہو ؟ تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا : جی ہاں ! میرے کانوں نے سن لیا اور میرے دل نے محفوظ کر لیا یہاں تک کہ یہ باتیں تین مرتبہ د ہرائیں ، اس کے بعد نبی کریم ﷺ دنیا سے رخصٹ ہو گئے تو سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہ نے بطور تصدیق کہا : ہاں !(1)

أَبِي بَكْرٍ الْعَدَوِيِّ ← الْجُرَيْرِيِّ،

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of Othman, from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik on the authority of his sheikhs except for Abdullah bin Ahmad · Hadith 835

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عُثْمَانَ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ سِوَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَحْمَدَ · حديث 836

836 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ قثنا مُصْعَبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزُّبَيْرِيُّ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ أَبِي حَبِيبَةَ، وَهُوَ جَدُّ مُوسَى أَبُو أُمِّهِ، قَالَ: بَعَثَنِي الزُّبَيْرُ إِلَى عُثْمَانَ، وَهُوَ مَحْصُورٌ، فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ فِي يَوْمٍ صَائِفٍ، وَهُوَ عَلَى فُرُشِ ذِي ظَهْرٍ، وَعِنْدَهُ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، وَأَبُو هُرَيْرَةَ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ، وَبَيْنَ يَدَيْهِ مَرَاكِنُ مَاءٍ مَمْلُوءَةٌ، وَرِيَاطٌ مُطْرَحَةٌ، فَقُلْتُ: بَعَثَنِي إِلَيْكَ الزُّبَيْرُ وَهُوَ يُقْرِئُكَ السَّلَامَ وَيَقُولُ: إِنِّي عَلَى طَاعَتِكَ لَمْ أُبَدِّلْ وَلَمْ أَنْكُثْ، فَإِنْ شِئْتَ دَخَلْتُ الدَّارَ مَعَكَ، فَكُنْتُ رَجُلًا مِنَ الْقَوْمِ، وَإِنْ شِئْتَ أَقَمْتُ، وَإِنَّ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ وَعَدُونِي أَنْ يُصْبِحُوا عَلَى بَابِي، ثُمَّ يَمْضُوا لِمَا آمُرُهُمْ بِهِ، فَلَمَّا سَمِعَ الرِّسَالَةَ قَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ، الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي عَصَمَ أَخِي، أَقْرِئْهُ السَّلَامَ وَقُلْ لَهُ أَنْ يَدْخُلَ الدَّارَ لَا يَكُونُ إِلَّا رَجُلًا مِنَ الْقَوْمِ، فَمَكَانُكَ أَحَبُّ إِلَيَّ، وَعَسَى أَنْ يَدْفَعَ اللَّهُ بِكَ عَنِّي، فَلَمَّا سَمِعَ الرِّسَالَةَ أَبُو هُرَيْرَةَ قَامَ فَقَالَ: أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِمَا سَمِعَتْ أُذُنَايَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالُوا: بَلَى يَا أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ: أَشْهَدُ لَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «تَكُونُ بَعْدِي فِتَنٌ وَأُمُورٌ وَأَحْدَاثٌ» ، قُلْنَا: فَأَيْنَ الْمَنْجَا مِنْهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «إِلَى الْأَمِينِ وَحِزْبِهِ» وَأَشَارَ إِلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، فَقَامَ النَّاسُ فَقَالُوا: قَدْ أَمْكَتْنَا الْبَصَائِرُ، فَائْذَنْ لَنَا فِي الْجِهَادِ، فَقَالَ عُثْمَانُ: عَزَمْتُ عَلَى مَنْ كَانَتْ لِي عَلَيْهِ طَاعَةٌ أَلَّا يُقَاتِلَ، قَالَ: فَبَادَرَ الَّذِينَ قَتَلُوا عُثْمَانَ مِيعَادَ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ، فَقَتَلُوهُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ.

سیّدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میرے نا نا کہتے تھے سیّد نا زبیر رضی اللہ عنہ نے مجھے محا صر ے کے دنوں میں سیّد نا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس پیغام دے کر پھیجا،تو میں سیّد نا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس گرمیوں کے ایام میں گیا ،وہ اپنے بستر پر تھے ،ان کے پاس سیّد نا ابوہریرۃ ،سیّد نا عبداللہ بن عمر ،سیّد نا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ بیٹھے ہوئے تھے سیّد نا عثمان رضی اللہ عنہ کے سامنے بڑے برتن میں پانی تھا ،ایک رسی پڑی ہوئی تھی ،میں نے کہا :مجھے سیّد نا زبیر رضی اللہ عنہ نے آپ کی طرف بھیجا ہے ،وہ آ پ کو سلام دے رہے تھے،نیز پیغام دیا ہے کہ میں آپ کی اطاعت پر ہوں ،نہ میں بولا ہوں اور نہ میں نےبد عہدی کی ہے ، اگر آ پ چاہیں تو میں آ پ کے ساتھ گھر میں ایک آدمی کی صورت میں رہوں گا ،آپ چاہیں تو میں کھڑا رہوں گا ،بنی عمر و بن عوف نے میرے ساتھ وعدد کیا ہے کہ وہ کل میرے دروازے پر آہیں گے اور میں ان کو جوحکم دوں گا وہ کریں گے ،جب سیّدنا عثمان رضی اللہ ُعنہ نے یہ پیغام سنا تو فرمایا :اللہ اکبر ! تعریف اللہ کی ہے کس نے میرے بھائی کو بچا لیا ہے ،انہیں میرا سلام دینا اور ان سے کہنا :وہ میرے گھر میں صرف قوم کے ایک فرد کی حیثیت سے آہیں گے ،آپ کی موجودگی مجھے پسند ہے ،شاہد آپ کی وجہ سے اللہ میری آزمائش کو ٹال دے ،جب سیّد نا ابو ہریرہ رضی اللہ ُعنہ نے یہ پیغام سنا تو کھڑے ہو کر کہنے لگے :میں آپ کو وہ حدیث نہ سناؤں جسے میرے کانو ں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے ،لوگوں نے کہا :جی سنا یئے !تو کہنے لگے :میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ ﷺسے سنا ہے ،آپﷺفرمارہے تھے :میرے بعد طرح طرح کے فتنے ہوں گے ،ہم نے عرض کی :یارسول اللہ ﷺ!پھر ان سے کیسے بچاجائے گا ؟توفرمایا :تم امین اور کی جماعت کے ساتھ رہو ۔آپ ﷺکا اشارہ سیّد نا عثمان بن عفان رضی اللہ ُعنہ کی طرف تھا ،یہ سن کرلوگ ہوئے اور کہنے لگے :اب حقائق سے پردہ اُٹھ چکا ہے اس لئے ان لوگوں کے ساتھ ہمیں جہاد کرنے کا حکم دیں توسیّد نا عثمان رضی اللہ ُعنہ نے فرمایا :میں اپنے اطاعت گزاروں کو لڑنے کا حکم نہیں دیتا ،پھر قاتلین سیّد نا عثمان رضی اللہ ُعنہ نے بنی عمر وبن عوف کے وقت مقررہ سے عہد شکنی کی اور سیّد نا عثمان رضی اللہ ُعنہ کو شہیدکردیا ۔(1)

أَبِي حَبِيبَةَ، وَهُوَ جَدُّ مُوسَى أَبُو أُمِّهِ، ← مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، ← أَبِي ← أَحْمَدُ قثنا مُصْعَبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزُّبَيْرِيُّ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of Othman, from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik on the authority of his sheikhs except for Abdullah bin Ahmad · Hadith 836

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عُثْمَانَ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ سِوَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَحْمَدَ · حديث 837

837 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ قثنا الْحَسَنُ بْنُ حَمَّادٍ الْكُوفِيُّ قثنا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْوَاسِطِيُّ، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ عِمْرَانَ الْحَنَفِيِّ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَوْحَى إِلَيَّ أَنْ أُزَوِّجَ كَرِيمَتَيَّ عُثْمَانَ» .

سیّد نا عبداللہ بن عباس رضی اللہ ُعنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا تھا کہ میں اپنی دختر نیک اختر کا نکاح عثمان سے کراؤں(2)

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَطَاءٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عُمَيْرُ بْنُ عِمْرَانَ الْحَنَفِيُّ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of Othman, from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik on the authority of his sheikhs except for Abdullah bin Ahmad · Hadith 837

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عُثْمَانَ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ سِوَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَحْمَدَ · حديث 838

838 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ قثنا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، نا عَبَّادٌ الْمُهَلَّبِيُّ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَرْحَمُ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ نَبِيِّهَا أَبُو بَكْرٍ» ، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَقَالَ فِي آخِرِهِ: «وَإِنَّ أَشَدَّ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ نَبِيِّهَا حَيَاءً عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ» .

سیدّنا ابو اُمامہ رضی اللہ ُعنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا :نبی کے بعد اس پر سب سے زیادہ رحم کرنے والے ابوبکر ہیں ۔پھر باقی حدیث بیان کرنے کے بعد آخرمیں فرمایا :اور اس امت میں نبی کے بعد سب سے زیادہ حیا کرنے والے عثمان بن عفان ہیں(3)

اَبِیْ اُمَامَۃَ، ← الْقَاسِمِ، ← جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ ← عَبَّادٌ الْمُهَلَّبِيُّ، ← أَحْمَدُ قثنا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ،

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of Othman, from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik on the authority of his sheikhs except for Abdullah bin Ahmad · Hadith 838

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عُثْمَانَ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ سِوَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَحْمَدَ · حديث 839

839 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَاسِطِيُّ قثنا أَبُو عُمَيْرِ بْنُ النَّحَّاسِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ سَمَاعَةَ، وَعِيسَى بْنُ يُونُسَ الرَّمْلِيُّ، قَالُوا: نا ضَمْرَةُ بْنُ رَبِيعَةَ قثنا ابْنُ شَوْذَبٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ كَثِيرٍ مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: جَاءَ عُثْمَانُ، يَعْنِي ابْنَ عَفَّانَ، بِدَنَانِيرَ فَصَبَّهَا فِي حِجْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَلِّبُهَا بِيَدِهِ وَيَقُولُ: «مَا عَلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ مَا عَمِلَ بَعْدَ هَذَا» .

سیّد ناعبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ ُعنہ سے روایت ہے (کہ جیش عسرہ کی تیاری کے موقع پر جب نبی کریم ﷺنے آپﷺ ان کو اپنے سامنے رکھ کر مبارک ہاتھوں سے الٹ پلٹ کرتے ہوئے فرما رہے تھے :آج کے بعد عثمان بن عفان اگر کوئی عمل نہ کرے تو کچھ نقصان نہ ہوگا۔(4)

عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ ← كَثِيرٍ مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ، ← عَبْدُ اللهِ بْنُ الْقَاسِمِ ← ضَمْرَةُ بْنُ رَبِيعَةَ قثنا ابْنُ شَوْذَبٍ، ← عِيسَى بْنُ يُونُسَ الرَّمْلِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ سَمَاعَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَاسِطِيُّ قثنا أَبُو عُمَيْرِ بْنُ النَّحَّاسِ،

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of Othman, from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik on the authority of his sheikhs except for Abdullah bin Ahmad · Hadith 839

Hassan

chevron_left Previous
1…747576…164
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door2. He was asked about the virtues of Abu, the first-born of al-Siddiq, the mercy and pleasure of God be upon him3. He was asked about the words of Ali ibn Abi Talib and others: The best of this nation after its prophet Abu Bakr and Omar4. His saying, may God’s prayers and peace be upon him: “If I had taken people as a friend, I would not have taken a virgin father as a friend5. He, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Pass a virgin father, let him pray to the people.”6. The remainder of his saying: “Show a first-born father who prays to people.”7. It was not narrated that Abu Bakr was the first to become Muslim8. It was not narrated that a virgin father came to ask permission, so the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Permit him, and give him good tidings of paradise.”9. The Virtue of the Commander of the Believers, Omar Ibn Al-Khattab, may God be pleased with him10. The Islam of Umar ibn Al-Khattab, may God be pleased with him11. And among the virtues of Omar bin Al-Khattab from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik, on the authority of his sheikhs other than Abd Allah bin Ahmed, and from the hadith of Abu Bakr bin Malik.12. The virtue of Othman bin Affan, may God be pleased with him13. And from the merits of Othman, from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik on the authority of his sheikhs except for Abdullah bin Ahmad14. The news of the Prince of the Believers, Ali bin Abi Talib, and his asceticism, may God be pleased with him15. His mother's name and genealogy16. A merit upon me, peace be upon him17. And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah18. The Virtue of Abd al-Rahman ibn Awf, may God be pleased with him19. The Virtue of Az-Zubayr Bin Awwam, may God be pleased with him20. Fadil Abi Ubaidah Ibn Al Jarrah, may God be pleased with him21. Fadil Talha Bin Ubaid Allah, may God be pleased with him22. Fadil Saad bin Abi Waqas, may God be pleased with him23. Fadil Fatima, the daughter of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him24. The virtues of good, and the good, may God be pleased with them.25. The Virtues of Ansar, may God be pleased with them26. The virtue of Khalid bin Al-Walid, may God have mercy on him27. Fadil Saad bin Muadh, may God have mercy on him28. Fadil Haritha Ibn Nu'man, may God be pleased with him29. Fadil Suhaib, may God be pleased with him30. The virtues of the Arabs31. The virtue of Usama bin Zaid, may God be pleased with him32. Fadil Abdullah bin Masoud, may God be pleased with him33. Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with them34. Virtues of Khadija and others35. Fadil Ammar ibn Yasser, may God be pleased with him36. Virtues 0 People of Yemen37. Virtues of the family of the Mother of the Believers, may God be pleased with her, and other things among the people of Yemen38. The virtues of the Banu Ghafar, and Islam and others39. Fadil Jaafar ibn Abi Talib, may God be pleased with him40. Fadil Jarir bin Abdullah, may God be pleased with him41. Fadil Abdullah Bin Omar, may God be pleased with them42. The virtues of a people of the Levant43. The Virtue of the Companions of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him44. The virtue of Amr ibn al-Aas, may God be pleased with him45. The Virtues of Mu`awiyah Bin Abi Sufyan, may God be pleased with them46. The virtues of Abu al-Fadl al-Abbas ibn Abd al-Muttalib, the uncle of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him47. Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with him