فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 804
804 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا يَحْيَى هُوَ ابْنُ سَعِيدٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ قال: نا قَيْسٌ هُوَ ابْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي سَهْلَةَ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ادْعُوا لِي بَعْضَ أَصْحَابِي» ، قُلْتُ: أَبُو بَكْرٍ؟ قَالَ: «لَا» ، قُلْتُ: عُمَرُ؟ قَالَ: «لَا» ، قُلْتُ: ابْنُ عَمِّكَ عَلِيٌّ؟ قَالَ: «لَا» ، قَالَتْ: قُلْتُ: عُثْمَانُ؟ قَالَ: «نَعَمْ» ، فَلَمَّا جَاءَ قَالَ: «تَنَحَّيْ» ، فَجَعَلَ يُسَارُّهُ وَلَوْنُ عُثْمَانَ يَتَغَيَّرُ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ الدَّارِ وَحُصِرَ قُلْنَا: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، أَلَا تُقَاتِلُ؟ قَالَ: لَا، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَهِدَ إِلَيَّ عَهْدًا، وَإِنِّي صَابِرٌ نَفْسِي عَلَيْهِ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :میرے فلاں صحا بی کو بلاؤ میں نے عرض کیا :سید نا ابو بکر رضی اللہ عنہاکو؟تو فرمایا :پس جب سید نا عثمان رضی اللہ عنہا آئے تو آپ کے چچا زاد سید نا علی رضی اللہ عنہا کو؟فرمایا :نہیں !میں نے کہا :سید نا عثمان کو ؟تو فرمایا : ہاں ! پس جب سید نا عثمان رضی اللہ عنہا آئے تو ان سے تنہائی میں بات کی تو سید نا عثمان رضی اللہ عنہ کا رنگ بدل گیا ، جب ان کی محصور یت کا دن آیا تو ہم نے کہا : امیر المومنین !ان سے جنگ کیو ں نہیں کرتے ؟انہوں نے فرمایا نہیں !مجھ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وعدہ لیا تھا کہ میں صبر کا مظاہرہ کروں گا ۔(1)
عَائِشَةَ ← أبي سهلة ← قَيْسٌ هُوَ ابْنُ أَبِي حَازِمٍ، ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ ← أَبِي، قثنا يَحْيَى هُوَ ابْنُ سَعِيدٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The virtue of Othman bin Affan, may God be pleased with him · Hadith 804
