فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 792
792 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ قَالَ: أنا فَرَجُ بْنُ فَضَالَةَ، عَنْ مَرْوَانَ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ قَالَ: أَتَيْتُ عُثْمَانَ وَهُوَ مَحْصُورٌ أُسَلِّمُ عَلَيْهِ، فَقَالَ: مَرْحَبًا بِأَخِي، مَرْحَبًا بِأَخِي، مَا يَسُرُّنِي أَنَّكَ وَرَاءَكَ، أَلَا أُحَدِّثُكَ مَا رَأَيْتُ اللَّيْلَةَ فِي الْمَنَامِ؟ قُلْتُ: بَلَى، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذِهِ الْخَوْخَةِ، وَإِذَا خَوْخَةٌ فِي الْبَيْتِ، فَقَالَ: «حَصَرُوكَ؟» قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: «أَعْطَشُوكَ؟» قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: فَأَدْلَى لِي دَلْوًا مِنْ مَاءٍ، فَشَرِبْتُ مِنْهُ حَتَّى رَوِيتُ، فَإِنِّي لَأَجِدُ بَرْدَهُ بَيْنَ كَتِفَيَّ وَبَيْنَ ثَدْيَيَّ، قَالَ: «إِنْ شِئْتَ نُصِرْتَ عَلَيْهِمْ، وَإِنْ شِئْتَ أَفْطَرْتَ عِنْدَنَا» ، فَاخْتَرْتُ أَنْ أُفْطِرَ عِنْدَهُ، قَالَ: فَقُتِلَ فِي ذَلِكَ الْيَوْمِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ.
سیّدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں سیّد ا عثمان رضی اللہ عنہ سے ملنے آیا جب آپ اپنے دولت خانہ میں محصور تھے ، میں نے انہیں سلام کیا تو انہوں نے دومرتبہ کہا : میرے بھائی خوش آمدید ! مجھے آپ میرے پیچھے رہ جانا پسند نہیں ہے مگر مین ایک خواب سنانا چاہتا ہوں جو آج رات میں نے دیکھا ہے ، میں نے کہا : جی ہاں سن ؤ ، کہنے لگے : میں نے اس کھرڑکی سے رسول اللہ ﷺ کی زیارت کی ، دیکھا وہ گھر ہی کی ایک کھڑی تھی ، آپ ﷺ نے فرمایا : تجھے محصور کیا گیا ہے ؟ میں نے عرض کیا : جی ہاں ! پھر فرمایا : انہوں نے تمہیں پیا سا کر دیا ہے ؟ میں نےعرض کیا : جی ہاں ! پھر نبی کریم ﷺ نے مجھے پانی کا ایک ڈول دیا ، میں نے خوب سیر ہو کر پانی پیا ۔ جس کی ٹھنڈک میں اب بھی اپنے دوکندھوں کے درمیان اورہاتھوں میں محسوس کررہا ہوں ۔ پھر مجھے فرمایا : عثمان ! اگر تم چاہو تو ان کے مقابلے میں محصور کر دیئے جاؤ گے ۔ اگر چاہو تو ہمارے پاس افطار کرو ؟ میں نے نبی کریم ﷺ کے ساتھ افطار کرناپسند کیا ۔ راوی کہتے ہیں : اسی دن آپ رضی اللہ عنہ کو شہید کیا گیا ۔ (2)
عَبْدِ اللهِ بْنِ سَلاَمٍ ← مَرْوَانُ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ, ← فَرَجِ بْنِ فَضَالَةَ، ← أَبِي، قثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← عَبْدُ اللَّهِ
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The virtue of Othman bin Affan, may God be pleased with him · Hadith 792
