سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت کہ نبی کریم ﷺ کےپاس بیٹھا ہوا تھا ،اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی ہمارے ساتھ نہیں تھا اتنے میں آپ ﷺ نے سیدنا ابو بکر اور سید نا عمر رضی اللہ عنہ کو دیکھا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا علی ! یہ اولین و آخرین عمر رسیدہ جنتیوں کے سردار ہیں البتہ انبیا ورسل اس سے مستثنیٰ ہیں پھر فرمایا : علی ! ان دونوں کو خبر نہ دینا ۔ (1)
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And among the virtues of Omar bin Al-Khattab from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik, on the authority of his sheikhs other than Abd Allah bin Ahmed, and from the hadith of Abu Bakr bin Malik. · Hadith 708
سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ کی طرف تشریف لارہے تھے دونوں نے ایک دوسرے کا ہاتھ تھام رکھا تھا جب آپ ﷺ نے انکی طرف دیکھا تو فرمایا : علی! یہ اولین و آخرین عمر رسیدہ جنتیوں کے سردار ہیں البتہ انبیا و رسل اس سے مستثنیٰ ہیں پھر فرمایا: علی ! ان دونوں کو خبر نہ دینا ۔ (2)
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And among the virtues of Omar bin Al-Khattab from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik, on the authority of his sheikhs other than Abd Allah bin Ahmed, and from the hadith of Abu Bakr bin Malik. · Hadith 709
امام شبعی ؒ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے درمیان مواخات قائم کی تو سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے ہوئے تشریف لائے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو پسند کرتا ہے کہ انبیا اور رسل کے علاوہ تمام اہل جنت کے عمر رسیدہ اولین و آخرین لوگوں کے سردار کو دیکھے تو وہ ان دونوں آنے والوں کی طرف دیکھ لے ۔ (3)
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And among the virtues of Omar bin Al-Khattab from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik, on the authority of his sheikhs other than Abd Allah bin Ahmed, and from the hadith of Abu Bakr bin Malik. · Hadith 710
امام شبعی ؒ سے روایت ہے کہ سیدنا علی المرتضیٰ نے فرمایا: ہم یہ خیال کرتے تھے کہ سکینت سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے منہ سے جاری ہوتی ہے ۔ نیز ہم یہ بھی خیال کرتے تھے کہ شیطان ان سے ڈرتا ہے کہ انہیں کسی برائی کی طرف مائل کرنے سے ڈرتا ہے ۔(4)
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And among the virtues of Omar bin Al-Khattab from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik, on the authority of his sheikhs other than Abd Allah bin Ahmed, and from the hadith of Abu Bakr bin Malik. · Hadith 711
حکم بن ابی العاص ؒ سے روایت ہے کہ میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس تھا انکے پاس ایک آدمی آیا اس سے پوچھا تم کون ہو؟ اس نے کہا: میں اہل نجران سے ہوں پھر پوچھا : اس کے علاوہ کوئی آپ کا نسب ہو۔ کہا : نہیں ۔سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : کیوں نہیں ! یہاں تک کہ دونوں میں گرما گرمی ہوئی تو مجھے امیر المومنین پر غصہ آیا ، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں قسم سے کر پوچھتا ہوں کہ کیا کسی کو معلوم ہے کہ اس کا نسب اہل نجران کے علاوہ کسی اور طرف ہے تو ایک آدمی نے کہا : ہاں ! اس کی دادی یا اس کے باپ کی دادی اہل بجران میں سے نہیں تھی ۔ توسیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ٹھہر جاؤ ہم بھی کافی نسب جاننے والے ہیں اس بات کو انہوں نے تین بار دہرایا ۔ (1)
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And among the virtues of Omar bin Al-Khattab from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik, on the authority of his sheikhs other than Abd Allah bin Ahmed, and from the hadith of Abu Bakr bin Malik. · Hadith 712
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو بلا کر پوچھا : بلال ! تو مجھ سے جنت میں داخل ہونے سے سبقت کیسے لے گیا کیونکہ جب میں ٹھنڈک والی جنت میں داخل ہوا تو میں نے اپنے آگے کھٹکھٹا ہٹ کو سنا پھر میں جنت میں سونے کے ایک محلہ کے پاس آیا میں نے پوچھا : یہ کس کا ہے ؟ تو انہوں (فرشتوں) نے کہا : یہ امت محمدیہ کے ایک شخص کا ہے ۔ میں نے کہا میں محمد ﷺ ہوں یہ محل کس کا ہے ؟ تو انہوں نے کہا اہل عرب میں سے ایک آدمی کا ہے تو میں نے کہا میں عربی ہوں ، یہ محل کس کا ہے ؟ انہوں نے کہا : اہل قریش میں سے ایک آدمی کا ہے میں نے کہا: میں قریشی ہوں تو یہ محل کس کا ہے ؟انہوں نے کہا : عمر بن خطاب (رضی اللہ عنہ) کا ۔ (2)
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And among the virtues of Omar bin Al-Khattab from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik, on the authority of his sheikhs other than Abd Allah bin Ahmed, and from the hadith of Abu Bakr bin Malik. · Hadith 713
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مجھ سے وعدہ کیا ہے کہ وہ میری امت میں سے چار لاکھ آدمیوں کو جنت میں داخل کرے گا۔ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ اور اضافہ کریں ۔ آپ ﷺ نے اضافہ کرتے ہوئے دونوں ہاتھوں کو ملایا ۔سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے دوبارہ عرض کیا : یارسول اللہ ﷺ!اور بھی اضافہ کریں ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : ابو بکر ! بہت ہے سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا عمر ! تم چھوڑو اللہ تعالیٰ ہم سب کو جنت داخل کرے گا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا اللہ اگر چائے گا تو پوری مخلوق کو ایک ہی مٹھی میں جنت میں داخل کر دے گا۔ نبی کریم ﷺ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی تصدیق فرمائی ۔(1)
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And among the virtues of Omar bin Al-Khattab from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik, on the authority of his sheikhs other than Abd Allah bin Ahmed, and from the hadith of Abu Bakr bin Malik. · Hadith 714
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہےکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں جنت میں داخل ہوا وہاں سونے کا گھر دیکھا میں نے پوچھا یہ کس کا ہے تو انہوں نے کہا : یہ کسی قریشی نوجوان کا ہے ۔ مجھے خیال آیا کہ شاید وہ میں ہوں تو فرشتوں نے کہا : یہ عمر بن خطاب کا ہے ۔ (2)
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And among the virtues of Omar bin Al-Khattab from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik, on the authority of his sheikhs other than Abd Allah bin Ahmed, and from the hadith of Abu Bakr bin Malik. · Hadith 715
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میری امت پر سب سے زیادہ رحم کرنے والا ابو بکر ہے اور سب سے سخت دین کے معاملے میں عمر ہے ۔ (3)
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And among the virtues of Omar bin Al-Khattab from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik, on the authority of his sheikhs other than Abd Allah bin Ahmed, and from the hadith of Abu Bakr bin Malik. · Hadith 716
سائب بن یزید ؒ سے روایت ہے کہ کچھ لوگ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آکر کہنے لگے امیر المومنین ! ہمیں ایک آدمی ملا ہے جو لوگوں سے قرآن کے متعلق طرح طرح کے سوالا ت کرتا ہے ۔ (جس کا نام صبیغ) سیدنا عمر نے فرمایا اے اللہ اسکو مجھ سے ملا دے پس ایک دن سیدنا عمر رضی اللہ عنہ مجلس میں بیٹھے لوگوں کے ساتھ کھانا کھا رہےتھے۔ وہ شخص آیا اس پر کپڑے اور پگڑی تھی جب فارغ ہوئے تو اس نے پوچھا : اے امیر المومنین !( والذاریات ذروافالحاملات و قرا) کی تفسیر بیان کیجئے ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا تم وہی شخص ہو ؟ یہ کہہ کر اپنا بازو اور اوپر کیا اور اس کو مسلسل مارتے رہے یہاں تک کہ اس کی پگڑی گر پڑی پھر فرمایا : اس کو اپنے وطن بھیجو وہاں جا کر یہ خطبہ دے گا اور یہ بھی کہےلگا : صبیغ نے علم حاصل تو کیا تھا مگر غلط طریقے سے پس ایسا ہی ہوا وہ اپنی قوم میں ذلیل ہو کر ہلاک ہوا ۔ حالانکہ اس سے پہلے وہ اپنی قوم کا سردار تھا ۔(4)
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And among the virtues of Omar bin Al-Khattab from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik, on the authority of his sheikhs other than Abd Allah bin Ahmed, and from the hadith of Abu Bakr bin Malik. · Hadith 717
محمد بن اسحاق ؒ نے کچھ مسلمان آدمیوں سے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا نسب بیان کیا ہے ، جو غزوہ بدر میں شریک تھے کہ انکا نسب یوں ہے : عمر بن خطاب بن نفیل بن عبد العزیٰ بن عبداللہ بن قرط بن ریاح بن قرط بن رزاح بن عدی بن کعب بن لوی۔ مگر ابراہیم حربی ؒ کہتے ہیں ابن اسحاق کو وہم ہوا ہے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا نسب ایسے نہیں ہے بلکہ انکا نسب یوں ہے عمر بن خطاب بن عبداللہ بن ریاح سے عبد اللہ بن قرط بن رزاح۔ (1)
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And among the virtues of Omar bin Al-Khattab from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik, on the authority of his sheikhs other than Abd Allah bin Ahmed, and from the hadith of Abu Bakr bin Malik. · Hadith 718
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 719
ابن حوالہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اس وقت آپ ﷺ درخت کے سائے تلے تشریف فرما تھے اور کاتب سے کچھ لکھوا رہے تھے ، مجھے فرمایا: ابن حوالہ ! کیا تیرے لیے بھی کچھ لکھوا دوں ؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ کس ضمن میں ؟ آپ ﷺ نے مجھ سے منہ پھیرا اور ہمہ تن کاتب سے لکھوانے میں مشغول ہو گئے آپ ﷺ نے فرمایا: ابن حوالہ ! کیا تیرے لیے بھی کچھ لکھوا دوں ؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ! کس ضمن میں ؟ اسی دوران اچانک میری نظر پڑی کہ کتابت میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ مشغور تھے میں نے کہا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے علاوہ اور کچھ بھی نہیں لکھتے تو آپ ﷺ نے فرمایا ابن حوالہ ! کیا تیرے لیے بھی کچھ لکھوا دوں ؟ میں نے کہا جی ہاں ! لکھوا دیں تو فرمایا ابن حوالہ ! ان فتنو ں کے ظہور کے وقت کیا کرو گے؟ جو زمین کے مختلف اطراف سے گائے کے سینگ کی طرح رونما ہوں گے۔ میں نے عرض کیا میں نہیں جانتا کہ اللہ اور اسکے رسول ﷺ میرے لیے کیا تجویز فرماتے ہیں ؟ تو پھر فرمایا : اس فتنے سے کیا کرو گے جو پہلے سے بھی برا ہوگا؟ میں نے کہا جو اللہ اور اسکا رسول ﷺ میرے لیے تجویز کریں گے تو فرمایا تم اس وقت اس شخص کی پیروی کرو وہ آدمی اس وقت ہماری طرف پیٹھ کیے بیٹھا تھا میں ان کے پیچھے دوڑ ا اور ان کو کندھے سے پکڑ کر رسول اللہ ﷺ کے سامنے لایا ۔ میں نے عرض کیا ۔ کیا وہ یہ شخص ہیں ؟ اسماعیل نے ایک مرتبہ یہ الفاظ بیان کیے آپ ﷺ نے فرمایا ہاں ! میں نے جب انکو دیکھا تو وہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ تھے۔ (1)