Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

1,963 Hadith48 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ مَشَايِخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَحْمَدَ، وَمِنْ فَضَائِلِ أَبِي بَكْرٍ أَيْضًا · حديث 588

588 - حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ، نا الرَّمَادِيُّ قثنا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: مَا أَدْرَكْتُ أَبَوَيَّ قَطُّ إِلَّا وَهُمَا يَدِينَانِ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْتِينَا فِي كُلِّ يَوْمٍ طَرَفَيِ النَّهَارِ، فَأَتَانَا ذَاتَ يَوْمٍ فِي نَحْرَةِ الظَّهِيرَةِ فَقَالَ: «يَا أَبَا بَكْرٍ، هَلْ عَلَيْنَا مِنْ عَيْنٍ؟» فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّمَا أَنَا وَأُمُّ رُومَانَ وَعَائِشَةُ، قَالَ: «فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ أَذِنَ لِي بِالْهِجْرَةِ» ، قَالَ: فَالصُّحْبَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: «لَكَ الصُّحْبَةُ» ، قَالَ: فَإِنَّ عِنْدِي رَاحِلَتَيْنِ قَدْ أَعْدَدْتُهُمَا لِهَذَا الْيَوْمِ، فَخُذْ إِحْدَاهُمَا، فَقَالَ: «بِالثَّمَنِ يَا أَبَا بَكْرٍ» ، فَخَرَجَا جَمِيعًا. قَالَ سُفْيَانُ: وَلَمْ أَسْمَعْهُ مِنَ الزُّهْرِيِّ، حَدَّثُونَا عَنْهُ.

سیدہ عائشہ سے روایت ہے کہ میں نے ہمیشہ اپنے والدین کو نبی کریم ﷺ کا خدمت گزار پایا ، آ پ ﷺ ہر د ن صبح شام ہمارے پاس آیا کرتے تھے مگر ایک دن بھری دوپہر تشریف لا کر فرمانے لگے ہمارے اوپر کوئی جاسوس تو نہیں ہے ؟ سیدنا ابو بکر نے عرض کیا: یا رسول اللہ ﷺ میں آپ ﷺ عائشہ اور اسکی ماں ام رومان کے علاوہ کوئی بھی نہیں تو فرمایا اللہ عزوجل نے مجھے ہجرت کا حکم دے دیا ہے سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ مجھے بھی (اس سفر میں) ساتھ لے لیجئے میرے پاس دوسواریاں (اونٹیناں) ہیں جن کو میں نے اس دن کے لیے تیار رکھا ہے ان میں ایک آپ لے لیں پھر آپ ﷺ نے فرمایا ابو بکر !قیمتالوں گا پھر دونوں وہاں سے چل نکلے۔ امام سفیان بن عیینہ کہتے ہیں میں نے خود یہ روایت امام زہری سے نہیں سنی بلکہ ان کے حوالے سے ہمیں بیان کی گئی ہے ۔ (1)

عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← الرَّمَادِيُّ قثنا سُفْيَانُ، ← إِبْرَاهِيمَ،

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And among the virtues of Omar bin Al-Khattab from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik, on the authority of his sheikhs other than Abd Allah bin Ahmed, and from the hadith of Abu Bakr bin Malik. · Hadith 588

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ مَشَايِخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَحْمَدَ، وَمِنْ فَضَائِلِ أَبِي بَكْرٍ أَيْضًا · حديث 589

589 - حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ قثنا الرَّمَادِيُّ، نا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي مَرَضِهِ: «مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ» ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: فَكَرِهْتُ أَنْ يَتَشَاءَمَ النَّاسُ بِأَبِي، فَقُلْتُ لِحَفْصَةَ: قُولِي: إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ رَقِيقٌ، وَمَتَى مَا يَقُمْ مَقَامَكَ يَبْكِ، فَلَوْ أَمَرْتَ عُمَرَ، فَقَالَ: «مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ» ، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَأَعَادَتْ عَلَيْهِ، فَقَالَ: «إِنَّكُنَّ صَوَاحِبَاتُ يُوسُفَ، مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ، يَأْبَى اللَّهُ وَالْمُؤْمِنُونَ إِلَّا أَبَا بَكْرٍ» . قَالَ سُفْيَانُ: وَلَمْ أَسْمَعْهُ مِنَ الزُّهْرِيِّ، حَدَّثُونَا عَنْهُ.

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مرض وفات میں ارشاد فرمایا ابو بکر کو حکم دو کہ وہ لوگوں کونماز پڑھائیں سیدہ عائشہ صدیقہ فرماتی ہیں میں نے ناپسند کیا کہ لوگ میرے باپ کے بارے میں کسی قسم کی بد شگونی کریں ۔ سیدنا عائشہ صدیقہ فرماتی ہیں میں نے سیدہ حفصہ سے کہا کہ آ پ نبی کریم ﷺ سے عرض کریں کہ وہ تو بڑے رفیق القلب انسان ہیں ابو بکر آپ ﷺ کے مقام پر کیسے کھڑے ہو سکتے ہیں وہ آب دیدہ ہو جائیں گے اگر آپ پسند فرمائیں تو سیدنا عمر کو حکم دیں مگر نبی کریم ﷺ نے فرمایا ابو بکر کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں سیدہ عائشہ صدیقہ فرماتی ہیں میں اپنی بات دہراتی رہی تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا بلاشبہ تم میرے ساتھ صواحبات یوسف جیسا سلوک کرنا چاہتی ہو ابو بکر کو ھکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں اللہ اور مومنین اس بات کو ناپسند کرتے ہیں کہ ابو بکر کے علاوہ کوئی اور نماز پڑھائے۔ امام سفیان بن عیینہ کہتے ہیں میں نے خود یہ روایت امام زہری سے نہیں سنی بلکہ ان کے حوالے سے ہمیں بیان کر گئی ہے ۔ (2)

عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← إِبْرَاهِيمُ قثنا الرَّمَادِيُّ،

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And among the virtues of Omar bin Al-Khattab from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik, on the authority of his sheikhs other than Abd Allah bin Ahmed, and from the hadith of Abu Bakr bin Malik. · Hadith 589

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ مَشَايِخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَحْمَدَ، وَمِنْ فَضَائِلِ أَبِي بَكْرٍ أَيْضًا · حديث 590

590 - حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ قثنا الرَّمَادِيُّ قثنا سُفْيَانُ قَالَ: سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ، وَيَزْعُمُونَ أَنَّهُ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، رَأَيْتُ فِي النَّوْمِ كَأَنَّ ظُلَّةً تَنْطِفُ سَمْنًا وَعَسَلًا، وَرَأَيْتُ النَّاسَ يَتَكَفَّفُونَ مِنْهُ، فَالْمُسْتَقِلُّ وَالْمُسْتَكْثِرُ، وَرَأَيْتُ سَبَبًا وَاصِلًا إِلَى السَّمَاءِ أَخَذْتَ بِهِ فَعَلَوْتَ، ثُمَّ أَخَذَ بِهِ آخَرُ بَعْدَكَ فَعَلَا، ثُمَّ أَخَذَ بِهِ آخَرُ بَعْدَهُ فَعَلَا، ثُمَّ أَخَذَ بِهِ آخِذٌ بَعْدَهُ فَانْقَطَعَ، فَوُصِلَ لَهُ فَعَلَا، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، دَعْنِي أَعْبُرْهَا، قَالَ: أَمَّا الظُّلَّةُ فَهُوَ الْإِسْلَامُ، وَأَمَّا مَا تَنْطِفُ مِنَ السَّمْنِ وَالْعَسَلِ، فَهُوَ الْقُرْآنُ حَلَاوَتُهُ وَلِينُهُ، وَالنَّاسُ يَتَكَفَّفُونَ مِنْهُ فَالْمُسْتَقِلُّ وَالْمُسْتَكْثِرُ، وَأَمَّا السَّبَبُ الْوَاصِلُ إِلَى السَّمَاءِ فَهُوَ الَّذِي أَنْتَ عَلَيْهِ مِنَ الْحَقِّ أَخَذْتَ بِهِ فَعَلَوْتَ، ثُمَّ أَخَذَ بِهِ آخَرُ بَعْدَكَ فَعَلَا، ثُمَّ أَخَذَ بِهِ آخَرُ بَعْدَهُ فَعَلَا، ثُمَّ أَخَذَ بِهِ آخَرُ بَعْدَهُ فَانْقَطَعَ فَوُصِلَ لَهُ، فَقَالَ: أَصَبْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «أَصَبْتَ بَعْضًا، وَأَخْطَأْتَ بَعْضًا» ، قَالَ: أَقْسَمْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: «لَا تُقْسِمْ يَا أَبَا بَكْرٍ» .

سیدنا عبداللہ بن عباس سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا اللہ کے رسول ﷺ میں نے خواب دیکھا ہے کہ آسمان کی طرف ایک سایہ ہے جس سے گھی اور شہد گر رہا ہے ۔ لوگوں نے اسے جمع کیا کسی نے زیادہ اور کسی نےکم پھرآسمان سے زمین کی طرف ایک رسی لٹکائی جسے پکڑ کر آپ ﷺ اوپر چڑھے ۔ آپ ﷺ کے بعد ایک اور شخص (یعنی سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ )چڑھ گئے اس کے بعد ایک اور شخص (یعنی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ) چڑھ گئے پھر ایک اور شخص (یعنی سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ) چڑھنے لگے تو رسی ٹوٹ گئی ، رسی جوڑی گئی اور وہ اوپر چڑ ھ گئے سیدنا ابوبکر نے عرض کیا رسول اللہ ﷺ ٹھہرئیے میں اسکی تعبیر کرتا ہوں: رہا سایہ تو اس سے مراد اسلام ہے گھی اور شہد قرآن ہے اور اس کی مٹھاس ہے لوگوں کے اسے زیادہ کم اکٹھا کرنے سے مراد یہ ہے کہ لوگ بھی اعمال کے لحاظ سے مختلف ہیں اور رہی رسی جو آسمان سے لٹک رہی ہے یہ وہ حق ہے جس پر آپ ہیں جسے تھام کر آپ اوپر چڑھ گئے پھر ایک تھامنے والے نے اسے پکڑا وہ بھی چڑھ گیا پھر ایک اور نے تھاما وہ بھی چڑھ گیا ۔ اس کےبعد ایک اور نے پکڑا تو وہ ٹوٹ گئی پھر جوڑی گئی ۔اس کےبعد سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ میں کسی قدر (خوا ب کی تعبیر ) صحیح بیان کر سکا ؟ آپ ﷺ نے فرمایا کچھ آپ نے صحیح بیان کی اور کچھ غلط ہو گئی سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ میں تو قسم کھا چکا ہوں آپ ﷺ نے فرمایا ابو بکر ! قسم مت کھاؤ۔(1)

جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ فَقَالَ: ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← الزُّهْرِيَّ، وَيَزْعُمُونَ أَنَّهُ ← إِبْرَاهِيمُ قثنا الرَّمَادِيُّ قثنا سُفْيَانُ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And among the virtues of Omar bin Al-Khattab from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik, on the authority of his sheikhs other than Abd Allah bin Ahmed, and from the hadith of Abu Bakr bin Malik. · Hadith 590

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ مَشَايِخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَحْمَدَ، وَمِنْ فَضَائِلِ أَبِي بَكْرٍ أَيْضًا · حديث 591

591 - حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ قثنا الرَّمَادِيُّ قثنا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ السَّبَّاقِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ: قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَكُنِ الْقُرْآنُ جُمِعَ، إِنَّمَا كَانَ فِي الْعُسُبِ، وَالْكَرَانِيفِ، وَجَرَائِدِ النَّخْلِ، وَالسَّعَفِ، فَلَمَّا قُتِلَ سَالِمٌ يَوْمَ الْيَمَامَةِ - قَالَ سُفْيَانُ: وَهُوَ أَحَدُ الْأَرْبَعَةِ الَّذِينَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خُذُوا الْقُرْآنَ مِنْهُمْ» - جَاءَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ إِلَى أَبِي بَكْرٍ فَقَالَ: إِنَّ الْقَتْلَ قَدِ اسْتَحَرَّ بِأَهْلِ الْقُرْآنِ، وَقَدْ قُتِلَ سَالِمٌ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ، وَأَخَافُ أَنْ لَا يَلْقَى الْمُسْلِمُونَ زَحْفًا آخَرَ إِلَّا اسْتَحَرَّ الْقَتْلُ فِيهِمْ، فَاجْمَعِ الْقُرْآنَ فِي شَيْءٍ، فَإِنِّي أَخَافُ أَنْ يَذْهَبَ، قَالَ: فَكَيْفَ تَأْمُرُنِي أَنْ أَفْعَلَ شَيْئًا لَمْ يَفْعَلْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: فَلَمْ يَزَلْ بِهِ حَتَّى شَرَحَ اللَّهُ صَدْرَ أَبِي بَكْرٍ لِلَّذِي شَرَحَ صَدْرَ عُمَرَ، قَالَ: فَأَرْسِلْ إِلَى زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ فَادْعُهُ حَتَّى يَكُونَ مَعَنَا؛ فَإِنَّهُ كَانَ شَابًّا حَدَثًا ثَقِفًا يَكْتُبُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْوَحْيَ فَادْعُهُ، حَتَّى يَكُونَ مَعَنَا زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ، فَأَرْسَلَا إِلَيَّ فَدَعَوَانِي، فَجِئْتُ إِلَيْهِمَا، فَقَالَا: إِنَّا نُرِيدُ أَنْ نَجْمَعَ الْقُرْآنَ فِي شَيْءٍ، تَكُونُ مَعَنَا، فَإِنَّكَ كُنْتَ تَكْتُبُ الْوَحْيَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكُنْتَ حَدَثًا ثَقِفًا، فَقُلْتُ لَهُمَا: وَكَيْفَ تَفْعَلَانِ شَيْئًا لَمْ يَفْعَلْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: قُلْتُ ذَاكَ لِهَذَا، قَالَ: فَلَمْ يَزَالَا بِي حَتَّى شَرَحَ اللَّهُ صَدْرِي لِلَّذِي شَرَحَ لَهُ صُدُورَهُمَا، قَالَ: فَتَتَبَّعْنَاهُ فَكَتَبْنَاهُ. قَالَ سُفْيَانُ: وَلَمْ أَسْمَعْهُ مِنَ الزُّهْرِيِّ، إِنَّمَا حَدَّثُونَا عَنْهُ، قَالَ: وَأَهْلُ الْمَدِينَةِ يُسَمُّونَ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ كَاتِبَ الْوَحْيِ

سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ فوت ہو ئے ، اس وقت ابھی قرآن کو بہ صورت کتاب یکجا نہیں لکھا گیا تھا جو کچھ بھی لکھا تھا وہ کھجور کی شاخ ، ٹہنیوں ، اور سفید پتھروں پر لکھا گیا تھا۔ جب سیدنا عالم رضی اللہ عنہ کو جنگ یمامہ میں شہید کیا گیا اما م سفیان بن عیینہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں سیدنا سالم رضی اللہ عنہ ان چار آدمیوں کے پاس آکر کہا یقینا اہل قرآن پر جنگ زور پکڑ گئی اور سیدنا سالم مولی ابی حذیفہ رضی اللہ عنہ بھی شہید ہو گئے ہیں مجھے خدشہ ہے کہ اگر مسلمان میدان میں اتریں گے تو شہادتیں زیادہ ہو سکتی ہیں ۔ پس مجھے ضیاع قرآن کا خدشہ ہے سیدنا ابو بکر نے انکاراَ کہا آپ مجھے اس کام کا حکم کیوں دیتے ہو جو نبی کریم ﷺ نے نہیں کیا؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اسی کشمکش میں تھے کہ اللہ نے ان کا سینہ کھول دیا جس چیز کے لیے اللہ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا سینہ کھولا تھا تو انہوں نے سیدنا زید رضی اللہ عنہ کو بلانے کے لیے ایک آدمی کو بھیجا تاکہ وہ بھی ہمارے ساتھ شامل ہو جائیں کیونکہ وہ عقلمند نوجوان اور کاتب وحی بھی ہیں انہیں بلائیں وہ بھی ہمارا ساتھ دیں۔ سیدنا زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں انہوں نےمجھے بلایا میں ان کے پاس آیا انہوں نے مجھے کہا: ہم قرآن کو جمع کرنا چاہتے ہیں آپ بھی ہمارا ساتھ دیں ، کیونکہ آپ نبی کریم ﷺ کے لیے وحی لکھا کرتے تھے اور عقل مند نوجوان ہو، میں نے ان سے کہا : اپ دونوں وہ کام کیوں کرتے ہوجو نبی کریم ﷺ نے نہیں کیا سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا میں نے بھی عمر سے یہ کہا تھا سیدنا زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں وہ مسلسل کہتے رہے یہاں تک کہ اللہ نے میرا سینہ کھول دیا جس کے لیے ان دونوں کا سینہ کھولا تھا پس ہم نے جستجو اور تلاش کر کے پورا قرآن کتابی صورت میں یکجا کر دیا ۔ امام سفیان بن عیینہ رحمۃُ اللہ علیہ کہتے ہیں : میں نے خؤد یہ روایت امام زہری رحمۃ اللہ علیہ سے نہیں سنی ، بلکہ ان کے حوالے سے ہمیں بیان کی گئی ہے مزید کہتے ہیں اہل مدینہ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کو کاتب وحی کہتےتھے ۔ (1)

زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، ← عُبَيْدِ بْنِ السَّبَّاقِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← إِبْرَاهِيمُ قثنا الرَّمَادِيُّ قثنا سُفْيَانُ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And among the virtues of Omar bin Al-Khattab from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik, on the authority of his sheikhs other than Abd Allah bin Ahmed, and from the hadith of Abu Bakr bin Malik. · Hadith 591

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ مَشَايِخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَحْمَدَ، وَمِنْ فَضَائِلِ أَبِي بَكْرٍ أَيْضًا · حديث 592

592 - حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ قثنا أَبُو عُمَرَ الْحَوْضِيُّ حَفْصُ بْنُ عُمَرَ قَالَ: نا سَلَّامٌ الطَّوِيلُ، عَنْ زَيْدٍ الْعَمِّيِّ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يَمُوتُ نَبِيُّ حَتَّى يَؤُمَّهُ رَجُلٌ مِنْ أُمَّتِهِ» .

سیدنا عبد اللہ بن عمر سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا اس وقت تک کوئی نبی فوت نہیں ہوتا ، جب تک انکی موجودگی میں ان کا اُمت امامت نہ کر لے۔ (2)

لا يموت نبي حتى يؤمه رجل من أمته ← النَّبِيِّ ← ابْنِ عُمَرَ ← مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ← زَيْدٍ الْعَمِّيِّ ← سَلَّامُ الطَّوِيلُ، ← إِبْرَاهِيمُ قثنا أَبُو عُمَرَ الْحَوْضِيُّ حَفْصُ بْنُ عُمَرَ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And among the virtues of Omar bin Al-Khattab from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik, on the authority of his sheikhs other than Abd Allah bin Ahmed, and from the hadith of Abu Bakr bin Malik. · Hadith 592

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ مَشَايِخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَحْمَدَ، وَمِنْ فَضَائِلِ أَبِي بَكْرٍ أَيْضًا · حديث 593

593 - حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ قثنا عِمْرَانُ بْنُ مَيْسَرَةَ قثنا الْمُحَارِبِيُّ، عَنْ عَبْدِ السَّلَامِ بْنِ حَرْبٍ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو خَالِدٍ الدَّالَانِيُّ، عَنْ أَبِي يَحْيَى مَوْلَى آلِ جَعْدَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَخَذَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ بِيَدِي فَأَرَانِي بَابَ الْجَنَّةِ الَّذِي تَدْخُلُ مِنْهُ أُمَّتِي» ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَدِدْتُ أَنِّي كُنْتُ مَعَكَ حَتَّى أَرَاهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَمَا إِنَّكَ أَوَّلُ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي» .

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : جبریل ؑ نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے جنت کا وہ دروازہ دکھلایا جس میں میری امت داخل ہو گی ۔ سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ﷺ کاش میں بھی آپ ﷺ کے ساتھ ہوتا تاکہ اس کو دیکھ سکتا تو آپ ﷺ نے فرمایا ابو بکر تو ہی ایسا شخص ہے جو میری امت میں سب سے پہلے جنت میں داخل ہو گا۔ (3)

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي يَحْيَى، مَوْلَى آلِ جَعْدَةَ، ← أبو خالد الدالاني ← عَبْدُ السَّلامِ بْنُ حَرْبٍ ← إِبْرَاهِيمُ قثنا عِمْرَانُ بْنُ مَيْسَرَةَ قثنا الْمُحَارِبِيُّ،

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And among the virtues of Omar bin Al-Khattab from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik, on the authority of his sheikhs other than Abd Allah bin Ahmed, and from the hadith of Abu Bakr bin Malik. · Hadith 593

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ مَشَايِخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَحْمَدَ، وَمِنْ فَضَائِلِ أَبِي بَكْرٍ أَيْضًا · حديث 594

594 - حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ قثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ قثنا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ قثنا حُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ امْرَأَةً سَوْدَاءَ نَذَرَتْ إِنِ اللَّهُ رَدَّ رَسُولَهُ مِنْ غَزْوَةٍ غَزَاهَا أَنْ تَضْرِبَ عِنْدَهُ بِالدُّفِّ، فَرَجَعَ وَقَدْ أَفَاءَ اللَّهُ عَلَيْهِ، فَأَخْبَرَتْهُ، فَقَالَ: «اضْرِبِي» ، فَدَخَلَ أَبُو بَكْرٍ وَهِيَ تَضْرِبُ، ثُمَّ دَخَلَ عُثْمَانُ وَهِيَ تَضْرِبُ، ثُمَّ دَخَلَ عُمَرُ، فَلَمَّا سَمِعَتْ حَسَّهُ أَلْقَتِ الدُّفَّ وَجَلَسَتْ مُنْقَمِعَةً، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنَا هَا هُنَا وَأَبُو بَكْرٍ وَعُثْمَانُ، إِنِّي لَأَحْسَبُ الشَّيْطَانَ يَفْرَقُ مِنْكَ يَا عُمَرُ» .

سیدنا عبداللہ بن بریدہ رضی اللہ عنہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کسی غزوے سے واپس لوٹے کہ ایک سیاہ فام لونڈی آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کرنے لگی : یا رسول اللہ ﷺ میں نے نذر مانی تھی اگر اللہ تعالیٰ آپ کو باسلامت لوٹا دے تو میں آپ ﷺ کے پاس دف بجاؤں گی اور اللہ رب العزت نے میری بات پوری کر دی ہے آپ ﷺ نے فرمایا تو دف بجاؤ اتنے میں سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ آئے اور بجاتی رہی اور لوگ آئے تب بھی وہ بجاتی رہی پھر سیدنا عثمان آئے تب بھی وہ بجاتی رہی مگر جب سیدنا عمر آئے اور اس نے انکی آوازکو سنا تو اپنی دف رکھ دی اور چپ کر کے بیٹھ گئی تب آپ ﷺ نے فرمایا: میں بھی یہاں تھا ابو بکر اور عثمان بھی تھے۔ عمر!ً مجھے یقین ہے کہ شیطان تم سے ڈرتا ہے ۔ (1)

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And among the virtues of Omar bin Al-Khattab from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik, on the authority of his sheikhs other than Abd Allah bin Ahmed, and from the hadith of Abu Bakr bin Malik. · Hadith 594

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ مَشَايِخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَحْمَدَ، وَمِنْ فَضَائِلِ أَبِي بَكْرٍ أَيْضًا · حديث 595

595 - حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ، نا مُسَدَّدٌ قثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا نَفَعَنِي مَالٌ قَطُّ مَا نَفَعَنِي مَالُ أَبِي بَكْرٍ» ، فَبَكَى أَبُو بَكْرٍ وَقَالَ: مَا أَنَا وَمَالِي يَا رَسُولَ اللَّهِ إِلَّا لَكَ.

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : مجھے کسی کے مال نے اتنا فائدہ نہیں دیا جتنا فائدہ ابو بکر صدیق کے ما ل نے دیا ہے ۔سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ رو پڑے۔ اور عرض کیا : یار سول اللہ ﷺ میں اور میرا مال بھی تو آپ ﷺ ہی کے لیے ہیں(2)

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← مُسَدَّدٌ قثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ← إِبْرَاهِيمَ،

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And among the virtues of Omar bin Al-Khattab from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik, on the authority of his sheikhs other than Abd Allah bin Ahmed, and from the hadith of Abu Bakr bin Malik. · Hadith 595

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ مَشَايِخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَحْمَدَ، وَمِنْ فَضَائِلِ أَبِي بَكْرٍ أَيْضًا · حديث 596

596 - حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ قثنا مُسَدَّدٌ، نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ أَهْلَ الدَّرَجَاتِ الْعُلَى لَيَرَاهُمْ مَنْ أَسْفَلَ مِنْهُمْ كَمَا يَرَى أَحَدُكُمُ الْكَوْكَبَ الدُّرِّيَّ فِي أُفُقِ السَّمَاءِ، وَإِنَّ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ مِنْهُمْ، وَأَنْعَمَا» .

سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بلاشبہ نیچے والے اہل علیین کو اس طرح دیکھیں گے جس طرح تم آسمان کے افق میں چمکدار ستارے کو دیکھتے ہو اور ابو بکر و عمر ان ہی میں سے ہوں گے اور وہ کتنے انعام یافتہ ہوں گے۔ (3)

اَبِیْ سَعِیْدٍ ← عَطِيَّةَ، ← الْاَعْمَشِ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ، ← إِبْرَاهِيمُ قثنا مُسَدَّدٌ،

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And among the virtues of Omar bin Al-Khattab from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik, on the authority of his sheikhs other than Abd Allah bin Ahmed, and from the hadith of Abu Bakr bin Malik. · Hadith 596

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ مَشَايِخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَحْمَدَ، وَمِنْ فَضَائِلِ أَبِي بَكْرٍ أَيْضًا · حديث 597

597 - حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَرِيكٍ الْكُوفِيُّ قثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ، نا مُعَلَّى بْنُ هِلَالٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ رَجُلٍ سَقَطَ مِنْ كِتَابِ ابْنِ مَالِكٍ اسْمُهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يُبْغِضُ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ مُؤْمِنٌ، وَلَا يُحِبُّهُمَا مُنَافِقٌ» .

ابو سفیان ایک ایسے آدمی سے روایت بیان کرتے ہیں جن کا نام ابن مالک کی کتاب سے محو ہو گیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ابو بکر و عمر سے کوئی مومن بعض اور کوئی منافق محبت نہیں رکھ سکتا ۔ (4)

رَجُلٍ سَقَطَ مِنْ كِتَابِ ابْنِ مَالِكٍ اسْمُهُ ← أَبِي سُفْيَانَ ← الْاَعْمَشِ ← مُعَلَّى بْنُ هِلَالٍ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And among the virtues of Omar bin Al-Khattab from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik, on the authority of his sheikhs other than Abd Allah bin Ahmed, and from the hadith of Abu Bakr bin Malik. · Hadith 597

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ مَشَايِخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَحْمَدَ، وَمِنْ فَضَائِلِ أَبِي بَكْرٍ أَيْضًا · حديث 598

598 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمُخَرِّمِيُّ قَالَ: نا مُحَمَّدُ بْنُ بَشِيرٍ قثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا حُصَيْنٍ يَقُولُ: وَاللَّهِ مَا وُلِدَ لِآدَمَ بَعْدَ النَّبِيِّينَ وَالْمُرْسَلِينَ أَفْضَلُ مِنْ أَبِي بَكْرٍ.

ابو بکر بن عیاش رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہےکہ میں نے سنا ابو حصین کہہ رہے تھے سیدنا آدم کی اولاد میں انبیا و رسل کے بعد سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ افضل ہیں ۔ (1)

وَاللَّهِ مَا وُلِدَ لِآدَمَ بَعْدَ النَّبِيِّينَ وَالْمُرْسَلِينَ أَفْضَلُ مِنْ أَبِي بَكْرٍ. ← أَبَا حَصِينٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشِيرٍ قثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمُخَرِّمِيُّ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And among the virtues of Omar bin Al-Khattab from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik, on the authority of his sheikhs other than Abd Allah bin Ahmed, and from the hadith of Abu Bakr bin Malik. · Hadith 598

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ مَشَايِخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَحْمَدَ، وَمِنْ فَضَائِلِ أَبِي بَكْرٍ أَيْضًا · حديث 599

599 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ قثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ أَبُو إِسْحَاقَ الطَّائِيُّ قَالَ: نا خَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي خَالِدٍ يَقُولُ: نَظَرَتْ عَائِشَةُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا سَيِّدَ الْعَرَبِ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنَا سَيِّدُ وَلَدِ آدَمَ وَلَا فَخْرَ، وَأَبُوكِ سَيِّدُ كُهُولِ الْعَرَبِ، وَعَلِيٌّ سَيِّدُ شَبَابِ الْعَرَبِ» .

ابو خالد سے روایت ہےکہ سیدہ عائشہ نے ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ کی طرف دیکھ کر کہا : اے عرب کے سردار ! تو آپ ﷺ نے فرمایا: میں تمام اولاد ادم کا سردار ہوں اور ابو بکر عرب کے عمر رسیدہ لوگوں کا سردار ہے ۔ اور علی عرب کے نوجوانوں کا سردار ہے ۔(2)

لَهَا رَسُولُ اللَّهِ ← يَا سَيِّدَ الْعَرَبِ ← نَظَرَتْ عَائِشَةُ إِلَى النَّبِيِّ ← ابْنِ أَبِي خَالِدٍ، ← خَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ قثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ أَبُو إِسْحَاقَ الطَّائِيُّ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And among the virtues of Omar bin Al-Khattab from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik, on the authority of his sheikhs other than Abd Allah bin Ahmed, and from the hadith of Abu Bakr bin Malik. · Hadith 599

Daif

chevron_left Previous
1…545556…164
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door2. He was asked about the virtues of Abu, the first-born of al-Siddiq, the mercy and pleasure of God be upon him3. He was asked about the words of Ali ibn Abi Talib and others: The best of this nation after its prophet Abu Bakr and Omar4. His saying, may God’s prayers and peace be upon him: “If I had taken people as a friend, I would not have taken a virgin father as a friend5. He, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Pass a virgin father, let him pray to the people.”6. The remainder of his saying: “Show a first-born father who prays to people.”7. It was not narrated that Abu Bakr was the first to become Muslim8. It was not narrated that a virgin father came to ask permission, so the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Permit him, and give him good tidings of paradise.”9. The Virtue of the Commander of the Believers, Omar Ibn Al-Khattab, may God be pleased with him10. The Islam of Umar ibn Al-Khattab, may God be pleased with him11. And among the virtues of Omar bin Al-Khattab from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik, on the authority of his sheikhs other than Abd Allah bin Ahmed, and from the hadith of Abu Bakr bin Malik.12. The virtue of Othman bin Affan, may God be pleased with him13. And from the merits of Othman, from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik on the authority of his sheikhs except for Abdullah bin Ahmad14. The news of the Prince of the Believers, Ali bin Abi Talib, and his asceticism, may God be pleased with him15. His mother's name and genealogy16. A merit upon me, peace be upon him17. And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah18. The Virtue of Abd al-Rahman ibn Awf, may God be pleased with him19. The Virtue of Az-Zubayr Bin Awwam, may God be pleased with him20. Fadil Abi Ubaidah Ibn Al Jarrah, may God be pleased with him21. Fadil Talha Bin Ubaid Allah, may God be pleased with him22. Fadil Saad bin Abi Waqas, may God be pleased with him23. Fadil Fatima, the daughter of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him24. The virtues of good, and the good, may God be pleased with them.25. The Virtues of Ansar, may God be pleased with them26. The virtue of Khalid bin Al-Walid, may God have mercy on him27. Fadil Saad bin Muadh, may God have mercy on him28. Fadil Haritha Ibn Nu'man, may God be pleased with him29. Fadil Suhaib, may God be pleased with him30. The virtues of the Arabs31. The virtue of Usama bin Zaid, may God be pleased with him32. Fadil Abdullah bin Masoud, may God be pleased with him33. Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with them34. Virtues of Khadija and others35. Fadil Ammar ibn Yasser, may God be pleased with him36. Virtues 0 People of Yemen37. Virtues of the family of the Mother of the Believers, may God be pleased with her, and other things among the people of Yemen38. The virtues of the Banu Ghafar, and Islam and others39. Fadil Jaafar ibn Abi Talib, may God be pleased with him40. Fadil Jarir bin Abdullah, may God be pleased with him41. Fadil Abdullah Bin Omar, may God be pleased with them42. The virtues of a people of the Levant43. The Virtue of the Companions of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him44. The virtue of Amr ibn al-Aas, may God be pleased with him45. The Virtues of Mu`awiyah Bin Abi Sufyan, may God be pleased with them46. The virtues of Abu al-Fadl al-Abbas ibn Abd al-Muttalib, the uncle of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him47. Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with him