فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1953
1953 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ هَانِئٍ قثنا أَصْبَغُ بْنُ الْفَرَجِ قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ وَهْبٍ قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ أَنْعُمَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَاشِدٍ الدِّمَشْقِيِّ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَلِيٍّ، أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ عَنْ أَبِيهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُمْ حَجُّوا أَوِ اعْتَمَرُوا مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ وَمَعَهُ كَعْبُ الْأَحْبَارِ فَأَصَابَهُمْ فِي سَفَرٍ مَطَرٌ وَرَعْدٌ وَبَرْدٌ، فَتَفَرَّقَ النَّاسُ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَكُنْتُ مَعَ كَعْبٍ فَقَالَ لِي كَعْبٌ:، " إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ أَحَدٍ يَقُولُ: سُبْحَانَ مَنْ سَبَّحَ الرَّعْدُ بِحَمْدِهِ، وَالْمَلَائِكَةُ مِنْ خَشْيَتِهِ، ثَلَاثَ مِرَارٍ حِينَ يَرَى سَحَابًا يَتَخَوَّفُ مِنْهُ إِلَّا وَقَاهُ اللَّهُ شَرَّ ذَلِكَ السَّحَابَ فَقُلْنَا ذَلِكَ فَعُوفِينَا لَيْلَتَنَا، ثُمَّ أَصْبَحَ النَّاسُ وَقَدْ أَصَابَهُمْ مِنْ ذَلِكَ، وَأَصَابَ يَوْمَئِذٍ عُمَرُ عَلَى أَنْفِهِ أَصَابَتْهُ بَرَدَةٌ، فَلَمَّا رَآنَا قَالَ: أَيْنَ كُنْتُمَا؟ فَوَاللَّهِ مَا أُرَاكُمَا إِلَّا قَدْ سَلِمْتُمَا، لَقَدْ كُنْتُمَا فِي كُنٍّ، فَقَالَ: ابْنُ عَبَّاسٍ فَأَخْبَرْتُهُ قَوْلَ كَعْبٍ فَقَالَ عُمَرُ فَهَلَّا أَخْبَرْتُمَانِي بِذَلِكَ ".
علی بن عبداللہ بن عباس رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ میرے والد (سیدنا عبداللہ بن عباس) اور کعب الاحبار نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ حج اور عمرہ کیا ۔ واپسی پر ان کو راستے میں شدید بارش کا سامنا کرنا پڑا ۔ جس کی گرج اور چمک بھی بہت تیز تھی تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ کعب الاحبار کے ساتھ تھا ،کعب نے مجھ سے کہا : یہاں کوئی ایسا شخص نہیں ہے جو یہ دعا تین مرتبہ پڑھے (سبحآن من سبح الرعد بحمدہ والملائکۃ من خشیہ) پاک ہے وہ جس کی رعد ( فرشتے کا نام ) اور باقی فرشتے ڈر کی وجہ سے پاکی بیان کرتے ہیں۔ جب کوئی خوفناک بادل دیکھے تو اللہ تعالیٰ اسے بادل کے نقصان سے بچا لیتا ہے ۔ ہم نے اس وظیفہ کو پڑھا تو عافیت سے رات گزری ، جب کہ لوگوں نے اس حال میں صبح کی کہ ان کو تکلیف پہنچی تھی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی ناک کواولے لگے جب انہوں نے ہمیں دیکھا تو دریافت کیا: میں دیکھ رہاہوں کہ تم صحیح سالم ہو تم رات کہاں تھے ، شاید تم دونوں کسی غار یا محفوظ پناہ گاہ میں تھے ؟ تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے وہ دعا بتائی جو کعب نے مجھے سکھائی تھی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : تم نےمجھے کیوں نہیں بتائی تھی ۔1)
سليمان بن علي ← مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ الدِّمَشْقِيُّ ← ابْنُ أَنْعَمَ، ← ابْنُ وَهْبٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ هَانِئٍ قثنا أَصْبَغُ بْنُ الْفَرَجِ ← عَبْدُ اللَّهِ
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with him · Hadith 1953
