فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1929
1929 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُخَرِّمِيُّ قثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْوَزِيرِ قثنا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنِ الْوَرْدِ، عَنْ عَطَاءٍ قَالَ: «مَا رَأَيْتُ مَجْلِسًا أَكْرَمَ مِنْ مَجْلِسِ ابْنِ عَبَّاسٍ كَانُوا يَجِيئُونَ أَصْحَابُ الْقُرْآنِ فَيَسْأَلُونَهُ، ثُمَّ يَجِيءُ أَهْلُ الْعِلْمِ فَيَسْأَلُونَهُ، ثُمَّ يَجِيءُ أَصْحَابُ الشِّعْرِ فَيَسْأَلُونَهُ» .
امام عطاء رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا : میں نے سیدنا عبداللہ عباس رضی اللہ عنہ کو مجلس سے بڑھ کر کسی کی مجلس کو معزز نہیں دیکھا، اصحاب القرآن (تفسیر کے طالب علم ) ان کے پاس آکر سوال کرتے، اہل علم (دیگر فقہی سوال کرنے والے) ان کے پاس آکر سوال پوچھتے ، شاعران کے پاس آکر سوال کرنے ۔ ( اور سب کا مقصد وہاں پورا ہوتا یعنی جس کو کسی بھی علم میں کوئی مسئلہ درپیش ہوتا تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اس مسئلے کا حل بیان کرتے )(1)
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with him · Hadith 1929
