فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1917
1917 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ: قثنا أَبُو مَعْمَرٍ قثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ، عَنْ ثَوْرُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: بَعَثَ الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ عَبْدَ اللَّهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَاجَةٍ فَوَجَدَ مَعَهُ رَجُلًا فَرَجَعَ، وَلَمْ يُكَلِّمْهُ، فَقَالَ: «رَأَيْتَهُ؟» قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: «ذَاكَ جِبْرِيلُ» قَالَ: «أَمَا إِنَّ ابْنَكَ لَنْ يَمُوتَ حَتَّى يَذْهَبَ بَصَرُهُ وَيُؤْتَى عِلْمًا» .
سیدنا عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ ﷺ کے پاس اپنے کسی کام بھیجا تو آپ ﷺ کے پاس کوئی آدمی تھا تو وہ آپ ﷺ سے کوئی بات کیے بغیر واپس آگئے( جب آپ ﷺ کو اس بات کا علم ہوا ) تو آپ ﷺ نے فرمایا : کیا تم نے اس آدمی کو دیکھا تھا تو عرض کیا :ہاں ! آپ ﷺ نے فرمایا : وہ جبرائیل تھے پھر مجھے (سیدنا عباس رضی اللہ عنہ سے) فرمایا : آپ کا بیٹا عبداللہ اس وقت تک نہیں فوت ہو گا جب تک وہ نابینا نہ ہو اور اسکو علم نہ دیا جائے گا۔ (4)
أَبِيهِ ← عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ← مُوسَى بْنِ مَيْسَرَةَ، ← ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ: قثنا أَبُو مَعْمَرٍ قثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ،
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with him · Hadith 1917
