فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1881
1881 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى أَبِي، أَبُو يَحْيَى إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ الرَّازِيُّ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سِنَانٍ يَذْكُرُ عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ أَنَّ أَبَا أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيَّ أَتَى مُعَاوِيَةَ فَشَكَى إِلَيْهِ أَنَّ عَلَيْهِ دَيْنًا، فَلَمْ يَرَ مِنْهُ مَا يُحِبُّ، وَرَأَى أَمْرًا كَرِهَهُ، فَقَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ بَعْدِي أَثَرَةً» قَالَ: فَأَيُّ شَيْءٍ أَمَرَكُمْ بِهِ؟ قَالَ: قَالَ: «اصْبِرُوا» قَالَ: فَقَالَ: وَاللَّهِ لَا أَسْأَلُكَ شَيْئًا أَبَدًا، وَقَدِمَ الْبَصْرَةَ فَنَزَلَ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ وَقَرْعَ لَهُ بَيْتَهُ الَّذِي كَانَ فِيهِ، وَقَالَ: لَأَصْنَعَنَّ مَا صَنَعْتُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ: كَمْ عَلَيْكَ مِنَ الدَّيْنِ؟ قَالَ: عِشْرُونَ أَلْفًا، فَأَعْطَاهُ أَرْبَعِينَ أَلْفًا وَعِشْرِينَ مَمْلُوكًا، وَقَالَ: لَكَ مَا فِي الْبَيْتِ كُلُّهُ.
حبیب بن ابی ثابت رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پا س آئے اور بطور شکایت کہا مجھ پر قرض ہے راوی کا بیان ہےکہ آپ رضی اللہ عنہ نے (سیدنا معاویہ) کی طرف سے پسند یدہ سلوک نہ دیکھا بلکہ وہی کا م دیکھا جس کو وہ ناپسند کرتے تھے اور کہا میں (سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ) نے سنا ہے کہ رسول اللہ ﷺ فرما رہے تھے : یقینا تم میرے بعد قرابت داری پاؤ گے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اس وقت آپ ﷺ نے آپ رضی اللہ عنہ کو کیا حکم دیا تھا تو ابو ایوب رضی اللہ عنہ نے فرمایا :آپ ﷺ نے اس وقت ہمیں صبر کا حکم دیا تھا پھر فرمایا : اللہ کی قسم ! میں کبھی آپ سے کسی چیز کا سوال نہیں کروں گا ، یہ کہہ کر وہ بصرہ لوٹ آئے ، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس بطور مہمان ٹھہرے ، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے ان کےلیے اپنا گھر خالی کر دیا اور فرمایا: میں آپ کے ساتھ وہ سلوک کروں گا جوآپ نے (ہجرت کے موقع پر ) رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کیا تھا ، پھر پوچھا : آپ رضی اللہ عنہ پر کتنا قرض ہے ؟ تو انہوں نے فرمایا : بیس ہزار (درہم یا دینار) تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے ان کو چالیس ہزار اور بیس غلام دے کر فرمایا : اس کے علاوہ جو کچھ اس گھر میں ہے ( وہ بھی آپ رضی اللہ عنہ کا ہے )۔(1)
حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ← أَبَا سِنَانٍ يَذْكُرُ ← عَلَى أَبِي، أَبُو يَحْيَى إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ الرَّازِيُّ ← عَبْدُ اللَّهِ
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with him · Hadith 1881
