فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ بَقِيَّةُ قَوْلِهِ: «مُرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ» · حديث 208
208 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: أنا مَعْمَرٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ قَالَ: كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَسِبْتُهُ قَالَ: فِي حَائِطٍ - فَجَاءَ رَجُلٌ فَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اذْهَبْ فَائْذَنْ لَهُ، وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ» ، قَالَ: فَذَهَبْتُ، فَإِذَا هُوَ أَبُو بَكْرٍ، فَقُلْتُ: ادْخُلْ وَأَبْشِرْ بِالْجَنَّةِ، فَمَا زَالَ يَحْمَدُ اللَّهَ حَتَّى جَلَسَ، ثُمَّ جَاءَ آخَرُ، فَقَالَ: «ائْذَنْ لَهُ، وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ» ، فَانْطَلَقْتُ، فَإِذَا هُوَ عُمَرُ، فَقُلْتُ: ادْخُلْ وَأَبْشِرْ بِالْجَنَّةِ، فَمَا زَالَ يَحْمَدُ اللَّهَ حَتَّى جَلَسَ، ثُمَّ جَاءَ آخَرُ فَسَلَّمَ، فَقَالَ: «اذْهَبْ فَائْذَنْ لَهُ، وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ عَلَى بَلْوَى شَدِيدَةٍ» ، قَالَ: فَانْطَلَقْتُ، فَإِذَا هُوَ عُثْمَانُ، فَقُلْتُ: ادْخُلْ وَأَبْشِرْ بِالْجَنَّةِ عَلَى بَلْوَى شَدِيدَةٍ، فَجَعَلَ يَقُولُ: اللَّهُمَّ صَبْرًا حَتَّى جَلَسَ. [ص:193]
سیدنا ابو موسیٰ اشعری سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ تھا ایک آدمی نے آکر سلام کیا آپ ﷺ نے فرمایا جاؤ ان کو اجازت دو اور جنت کی بشارت سناؤ ۔ میں گیا دیکھا تو وہ سیدنا ابو بکر تھے وہ اللہ تعالیٰ کی مسلسل حمد و ثنا کرتے رہے حتی کہ بیٹھ گئے پھر دوسرا شخص آیا اس نے اسلام کیا آپ ﷺ نے فرمایا جاؤ اجازت دو اور جنت کی بشارت دو ۔ میں گیا دیکھا تو وہ سیدنا عمر تھے وہ بھی اللہ کی مسلسل حمد و ثنا کرتے رہے حتی کہ بیٹھ گئے ۔ پھر ایک اور شخص آیا اور سلام کیا آپ ﷺ نے فرمایا جاؤ اجازت دو اور انکو شدید پریشانیوں کی بدولت جنت کی خوشخبری سناؤ میں گیا تو دیکھا تو وہ سیدنا عثمان ذوالنورین تھے میں نے انہیں پیش آمدہ مصائب کے سہنے پر جنت کی خوشخبری سنائی ۔ آپ ﷺ فرمانے لگے اے اللہ اسے صبر عطا کرآپ یہ دعا کرتے رہے حتیٰ کہ آپ ﷺ بیٹھ گئے (2)
أَبِي مُوسَی الأَشْعَرِيِّ ← أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ← قَتَادَةَ ← مَعْمَرٌ، ← أَبِي، قثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ← عَبْدُ اللَّهِ
Hadith 208
