Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

1,963 Hadith48 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ بَقِيَّةُ قَوْلِهِ: «مُرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ» · حديث 208

208 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: أنا مَعْمَرٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ قَالَ: كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَسِبْتُهُ قَالَ: فِي حَائِطٍ - فَجَاءَ رَجُلٌ فَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اذْهَبْ فَائْذَنْ لَهُ، وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ» ، قَالَ: فَذَهَبْتُ، فَإِذَا هُوَ أَبُو بَكْرٍ، فَقُلْتُ: ادْخُلْ وَأَبْشِرْ بِالْجَنَّةِ، فَمَا زَالَ يَحْمَدُ اللَّهَ حَتَّى جَلَسَ، ثُمَّ جَاءَ آخَرُ، فَقَالَ: «ائْذَنْ لَهُ، وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ» ، فَانْطَلَقْتُ، فَإِذَا هُوَ عُمَرُ، فَقُلْتُ: ادْخُلْ وَأَبْشِرْ بِالْجَنَّةِ، فَمَا زَالَ يَحْمَدُ اللَّهَ حَتَّى جَلَسَ، ثُمَّ جَاءَ آخَرُ فَسَلَّمَ، فَقَالَ: «اذْهَبْ فَائْذَنْ لَهُ، وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ عَلَى بَلْوَى شَدِيدَةٍ» ، قَالَ: فَانْطَلَقْتُ، فَإِذَا هُوَ عُثْمَانُ، فَقُلْتُ: ادْخُلْ وَأَبْشِرْ بِالْجَنَّةِ عَلَى بَلْوَى شَدِيدَةٍ، فَجَعَلَ يَقُولُ: اللَّهُمَّ صَبْرًا حَتَّى جَلَسَ. [ص:193]

سیدنا ابو موسیٰ اشعری سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ تھا ایک آدمی نے آکر سلام کیا آپ ﷺ نے فرمایا جاؤ ان کو اجازت دو اور جنت کی بشارت سناؤ ۔ میں گیا دیکھا تو وہ سیدنا ابو بکر تھے وہ اللہ تعالیٰ کی مسلسل حمد و ثنا کرتے رہے حتی کہ بیٹھ گئے پھر دوسرا شخص آیا اس نے اسلام کیا آپ ﷺ نے فرمایا جاؤ اجازت دو اور جنت کی بشارت دو ۔ میں گیا دیکھا تو وہ سیدنا عمر تھے وہ بھی اللہ کی مسلسل حمد و ثنا کرتے رہے حتی کہ بیٹھ گئے ۔ پھر ایک اور شخص آیا اور سلام کیا آپ ﷺ نے فرمایا جاؤ اجازت دو اور انکو شدید پریشانیوں کی بدولت جنت کی خوشخبری سناؤ میں گیا تو دیکھا تو وہ سیدنا عثمان ذوالنورین تھے میں نے انہیں پیش آمدہ مصائب کے سہنے پر جنت کی خوشخبری سنائی ۔ آپ ﷺ فرمانے لگے اے اللہ اسے صبر عطا کرآپ یہ دعا کرتے رہے حتیٰ کہ آپ ﷺ بیٹھ گئے (2)

أَبِي مُوسَی الأَشْعَرِيِّ ← أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ← قَتَادَةَ ← مَعْمَرٌ، ← أَبِي، قثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ← عَبْدُ اللَّهِ

Hadith 208

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ بَقِيَّةُ قَوْلِهِ: «مُرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ» · حديث 209

209 - قثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ غِيَاثٍ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، أَنَّهُ كَانَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَائِطٍ، وَبِيَدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُودٌ يَضْرِبُ بِهِ بَيْنَ الْمَاءِ وَالطِّينِ، فَجَاءَ رَجُلٌ فَاسْتَفْتَحَ، فَقَالَ: «افْتَحْ لَهُ، وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ» ، قَالَ: فَإِذَا هُوَ أَبُو بَكْرٍ، قَالَ: فَفَتَحْتُ لَهُ وَبَشَّرْتُهُ بِالْجَنَّةِ، ثُمَّ جَاءَ رَجُلٌ يَسْتَفْتِحُ، فَقَالَ: «افْتَحْ لَهُ، وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ» ، فَإِذَا هُوَ عُمَرُ، فَفَتَحْتُ لَهُ وَبَشَّرْتُهُ بِالْجَنَّةِ. فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.

سیدنا ابو موسیٰ سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ تھا ۔ نبی کریم ﷺ کے دست مبارک میں ایک لکڑی تھی جس کے ساتھ آپ ﷺ گدلے پانی کو ہلا رہے تھے ایک آدمی آیا اور اس نے دستک دی آپ ﷺ نے فرمایا جاؤ ان کو اجازت دو اور جنت کی بشارت دو میں گیا دیکھا تو وہ سیدنا ابو بکر تھے میں نے ان کو جنت کی بشارت دی پھر دوسرا شخص آیا اس نے دستک دی آپ ﷺ نے فرمایا جاؤ اجازت دو اور جنت کی بشارت دو میں گیا دیکھا تو وہ سیدنا عمر تھے ۔ میں نے انکو جنت کی بشارت دی پھر اسی طرح آگے حدیث کو بیان کیا۔ (3)

اَبِیْ مُوْسیٰ ← عُثْمَانَ بْنِ غِيَاثٍ أَبِي عُثْمَانَ، ← قثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ،

Hadith 209

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ بَقِيَّةُ قَوْلِهِ: «مُرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ» · حديث 210

210 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى بْنِ صَبِيحٍ زَحْمَوَيْهِ قثنا سِنَانٌ، يَعْنِي: ابْنَ هَارُونَ الْبُرْجُمِيُّ، عَنْ مُبَارَكِ بْنِ فَضَالَةَ، عَنِ الْحَسَنِ قَالَ: وَاللَّهِ لَنَزَلَتْ خِلَافَةُ أَبِي بَكْرٍ مِنَ السَّمَاءِ.

حسن بصری نے فرمایا اللہ کی قسم ! سیدنا ابوبکر کی خلافت آسمان سے نازل ہوئی ہے (یعنی وحی کی بنیاد پر ہے )۔(1)

وَاللَّهِ لَنَزَلَتْ خِلَافَةُ أَبِي بَكْرٍ مِنَ السَّمَاءِ. ← الْحَسَنِ، ← مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ، ← زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى بْنِ صَبِيحٍ زَحْمَوَيْهِ قثنا سِنَانٌ، يَعْنِي: ابْنَ هَارُونَ الْبُرْجُمِيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Hadith 210

Hassan

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ بَقِيَّةُ قَوْلِهِ: «مُرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ» · حديث 211

211 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا الْهُذَيْلُ بْنُ مَيْمُونٍ الْجُعْفِيُّ كُوفِيٌّ، كَانَ يَجْلِسُ فِي مَسْجِدِ الْمَدِينَةِ يَعْنِي مَدِينَةَ أَبِي جَعْفَرٍ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ: هَذَا شَيْخٌ قَدِيمٌ كُوفِيٌّ، عَنْ مُطَّرِحِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زَحْرٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " دَخَلْتُ الْجَنَّةَ فَسَمِعْتُ خَشْفَةً بَيْنَ يَدَيَّ، فَقُلْتُ: مَا هَذَا؟ قَالَ: بِلَالٌ، فَمَضَيْتُ فَإِذَا أَكْثَرُ أَهْلِ الْجَنَّةِ فُقَرَاءُ الْمُهَاجِرِينَ، وَذَرَارِيُّ الْمُسْلِمِينَ "، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، قَالَ: «ثُمَّ خَرَجْنَا مِنْ أَحَدِ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ الثَّمَانِيَةِ، فَلَمَّا كُنْتُ عِنْدَ الْبَابِ أُتِيتُ بِكِفَّةٍ فَوُضِعْتُ فِيهَا وَوُضِعَتْ أُمَّتِي فِي كِفَّةٍ، فَرَجَحْتُ بِهَا، ثُمَّ أُتِيَ بِأَبِي بَكْرٍ، فَوُضِعَ فِي كِفَّةٍ وَجِيءَ بِجَمِيعِ أُمَّتِي فَوُضِعَتْ فِي كِفَّةٍ، فَرَجَحَ أَبُو بَكْرٍ، ثُمَّ أُتِيَ بِعُمَرَ، فَوُضِعَ فِي كِفَّةٍ وَجِيءَ بِجَمِيعِ أُمَّتِي فَوُضِعُوا، فَرَجَحَ عُمَرُ، وَعُرِضَتْ عَلَيَّ أُمَّتِي رَجُلًا رَجُلًا» .

سیدنا ابو امامہ باہلی سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جنت میں داخل ہوا تو میں نے جوتوں کی آہٹ سنی۔ میں نے سیدنا جبرئیل سے کہا یہ کیا ہے ؟ انہوں نے فرمایا یہ سیدنا بلال کی آٹھوں دروازوں میں کسی ایک سے نکلنے لگے ۔ جب میں دروازے پر پہنچا تو ایک پلڑے میں اور باقی تمام امت کو دوسرے پلڑے میں رکھا گیا تو ابو بکر ان سے بھاری رہے پھر عمر کو لایا گیا وہ بھی تمام امت پر بھاری ہوئے پھر میرے سامنے میری امت کے تمام افراد کو ایک ایک کر کے پیش کیا گیا ۔ (2)

عَبْدُ اللَّهِ

Hadith 211

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ بَقِيَّةُ قَوْلِهِ: «مُرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ» · حديث 212

212 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ قثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سُلَيْمَانَ أَبُو إِسْمَاعِيلَ الْمُؤَدِّبُ قَالَ: سَمِعْتُ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيَّ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ أَهْلَ الدَّرَجَاتِ الْعُلَى وَأَهْلَ عِلِّيِّينَ، لَيَرَاهُمْ مَنْ تَحْتَهُمْ كَمَا تَرَوْنَ الْكَوْكَبَ الدُّرِّيَّ فِي أُفُقِ السَّمَاءِ، وَإِنَّ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ مِنْهُمْ، وَأَنْعَمَا» .

سیدنا ابو سعید خدری سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بلند درجات اور مقام علیین والے نچلے درجات والے جنتیوں کو اس طرح دیکھیں گے جس طرح آسمان کے کناروں پر روشن ستارے کو دیکھا جاتا ہے یقیناَ ابو بکر اور عمر ان لوگوں میں سے ہیں اور وہ دونوں بہت اچھے ہیں ۔ (3)

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عَطِّيَةَ الْعَوْفِيِّ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ قثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سُلَيْمَانَ أَبُو إِسْمَاعِيلَ الْمُؤَدِّبُ ← عَبْدُ اللَّهِ

Hadith 212

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ بَقِيَّةُ قَوْلِهِ: «مُرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ» · حديث 213

213 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ قثنا أَبُو أُوَيْسٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُوَيْسٍ، قَالَ: سَمِعْتُ مِنْهُ فِي خِلَافَةِ الْمَهْدِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: أَخْبَرَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ كَانَ يُحَدِّثُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ أَنْفَقَ زَوْجَيْنِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ نُودِيَ فِي الْجَنَّةِ: يَا عَبْدَ اللَّهِ، هَذَا خَيْرٌ فَتَعَالَ، فَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصَّلَاةِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الصَّلَاةِ، وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الْجِهَادِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الْجِهَادِ، وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصَّدَقَةِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الصَّدَقَةِ، وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصِّيَامِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الصِّيَامِ الرَّيَّانِ "، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي، مَا عَلَى الَّذِي يُدْعَى مِنْ تِلْكَ الْأَبْوَابِ مِنْ ضَرُورَةٍ، فَهَلْ يُدْعَى أَحَدٌ مِنْ تِلْكَ الْأَبْوَابِ كُلِّهَا؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نَعَمْ، وَأَرْجُو أَنْ تَكُونَ مِنْهُمْ» .

سیدنا ابوہریرہ سے روایت ہےکہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جس نے اپنے مال سے اللہ تعالیٰ کی راہ میں جوڑا جوڑا خرچ کیا تو اس کو دربان جنت آواز دے گا ۔ اے اللہ کے بندے ! یہ بہتر ہے اس طرف آؤ نمازی کو باب الصلوۃ سے آواز دی جائے گی اور مجاہد کو باب الجہاد سے پکارا جائے گا۔ اور صدقہ خیرات کرنے والے کو باب الصدقہ سے بلایا جائے گا اور روزے دار کو بابت الریان سے صدا لگائی جائے گی سیدنا ابو بکر صدیق نے عرض کیا میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں کیا کوئی ایسا شخص بھی ہو گا جس کو ا ن تمام دروازوں سے آوازدی جائے گی تو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا میں امیدرکھتا ہوں کہ آپ انہیں میں سے ہوں گے۔(1)

حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ كَانَ ← الزُّهْرِيِّ، ← مِنْهُ فِي خِلَافَةِ الْمَهْدِيِّ ← مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ قثنا أَبُو أُوَيْسٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُوَيْسٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Hadith 213

Hassan

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ بَقِيَّةُ قَوْلِهِ: «مُرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ» · حديث 214

214 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قثنا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ قثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَنْ أَحَبُّ النَّاسِ إِلَيْكَ؟ قَالَ: «عَائِشَةُ» ، قَالَ: مِنَ الرِّجَالِ؟ قَالَ: «أَبُو بَكْرٍ» ، ثُمَّ قَالَ: «أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ» .

سیدنا عمر بن العاص سےروایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ لوگوں میں سے ایک آپ کو سب سے زیادہ محبوب کون ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا عائشہ پھر پوچھا مردوں میں سے کون ہیں ؟َ فرمایا ابوبکر پھر پوچھا اس کے بعد ؟ فرمایا ابو عبیدہ بن جراح۔(2)

عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، ← سَعِیْدٍ الْجُرَیْرِیِّ، ← عَبْدُ اللَّهِ قثنا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ قثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ،

Hadith 214

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ بَقِيَّةُ قَوْلِهِ: «مُرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ» · حديث 215

215 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ قثنا عَنْبَسَةُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ الْقُرَشِيُّ قثنا سَعِيدٌ الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ الْعُقَيْلِيِّ قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ أَحَبَّ إِلَيْهِ؟ فَقَالَتْ: أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ، قَالَ: قُلْتُ لَهَا: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَتْ: ثُمَّ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ.

عبداللہ بن شقیق عقیلی سے روایت ہے کہ میں نے سیدہ عائشہ سے پوچھا کہ رسول اللہ ﷺ کو سب سے زیادہ محبوب کون صحابی تھا ؟فرمایا : انکے بعد سیدنا عمر بن خطاب (3)

ثُمَّ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ← قُلْتُ لَهَا: ثُمَّ مَنْ؟ ← أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ ← سَأَلْتُ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ أَيُّ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ كَانَ أَحَبَّ إِلَيْهِ؟ ← عَبْدِ اللہِ بْنِ شَقِیْقٍ الْعُقَیْلِیِّ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ قثنا عَنْبَسَةُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ الْقُرَشِيُّ قثنا سَعِيدٌ الْجُرَيْرِيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Hadith 215

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ بَقِيَّةُ قَوْلِهِ: «مُرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ» · حديث 216

216 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو مَعْمَرٍ قثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ: حَدَّثَنِي مُصْعَبُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَشَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُتُورًا، أَوْ فَتَحَ بَابًا، فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ، فَرَأَى النَّاسَ خَلْفَ أَبِي بَكْرٍ يُصَلُّونَ، فَسُرَّ بِذَلِكَ وَقَالَ: «الْحَمْدُ لِلَّهِ أَنَّهُ لَمْ يَمُتْ نَبِيٌّ حَتَّى يَؤُمَّهُ رَجُلٌ مِنْ أُمَّتِهِ» . ثُمَّ يَقُولُ: «أَيُّهَا النَّاسُ، مَنْ أُصِيبَ بِمُصِيبَةٍ مِنْكُمْ مِنْ بَعْدِي فَلْيَتَعَزَّ عَنْ مُصِيبَتِهِ بِي، فَإِنَّهُ لَيْسَ أَحَدٌ يُصَابُ مِنْ أُمَّتِي بَعْدِي بِمِثْلِ مُصِيبَتِهِ بِي صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» .

سید عائشہ سے روایت ہے کہ جب رسول اکرم ﷺ بیمار تھے جس بیماری میں آپ ﷺ اس دنیا سے رخصت ہوئے ۔ آپ ﷺ کے سامنے سے (حجرے کا) پردہ ہٹایا گیا یا دروازہ کھولا گیا تو آپ ﷺ نے لوگوں کو دیکھا کہ وہ سیدنا ابو بکر کے پیچھے نماز پڑھ رہے ہیں یہ دیکھ کر بہت مسرور ہوئے اور فرمایا الحمد اللہ ! اس وقت تک کوئی نبی جہان فانی سے رخصت نہیں ہوا جب تک انکی امت میں سے ایک شخص کو انکا امام نہیں بنا دیا ۔ پھر فرمایا اے لوگوں اگر کسی کو مصیبت آتی ہے تو وہ مجھے دیکھ کر تسلی کر ےکیونکہ میرے بعد میری امت میں سے کسی کو مجھ سے بڑھ کر مصیبت اور تکلیف کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔(1)

عَائِشَةَ ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُصْعَبِ بْنِ مُحَمَّدٍ، ← أَبُو مَعْمَرٍ قثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ ← عَبْدُ اللَّهِ

Hadith 216

Hassan

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ بَقِيَّةُ قَوْلِهِ: «مُرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ» · حديث 217

217 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو مَعْمَرٍ إِسْمَاعِيلُ قثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ أَبِي عَوْنٍ، وَعُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قُبِضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَارْتَدَّتِ الْعَرَبُ، فَنَزَلَ بِأَبِي مَا لَوْ نَزَلَ بِالْجِبَالِ الرَّاسِيَّاتِ لَهَاضَهَا، ارْتَدَّتِ الْعَرَبُ وَاشْرَأَبَّ النِّفَاقُ بِالْمَدِينَةِ، فَوَاللَّهِ مَا اخْتَلَفَ النَّاسُ فِي نُقْطَةٍ إِلَّا طَارَ أَبِي بِحَظِّهَا وَعَنَائِهَا.

سید ہ عائشہ سے روایت ہے کہ جب نبی کریم ﷺ وفات پا گئے تو کچھ قبائل عرب مرتد ہو گے میر ے والد پر وہ آزمائش آن پڑتی اگر مضبوط پہاڑوں پر آتی تو وہ بھی ریزہ ریزہ ہو جاتے کیونکہ عرب مرتد ہو گئے مدینہ میں نفاق تیزی سے پھیل گیا اللہ کی قسم مدینہ میں لوگوں نےجب بھی کسی بات پر اختلاف کیاتو میرے والد پوری طاقت اور اہتمام کے ساتھ وہاں جا کر اس میں حائل ہو تے ۔(2)

عَائِشَةَ ← الْقَاسِمِ، ← عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ أَبِي عَوْنٍ، وَعُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، ← أَبُو مَعْمَرٍ إِسْمَاعِيلُ قثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Hadith 217

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ بَقِيَّةُ قَوْلِهِ: «مُرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ» · حديث 218

218 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدَةَ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَدْ ضَرَبُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّةً حَتَّى غُشِيَ عَلَيْهِ، فَقَامَ أَبُو بَكْرٍ فَجَعَلَ يُنَادِي: وَيْلَكُمْ {أَتَقْتُلُونَ رَجُلًا أَنْ يَقُولُ رَبِّيَ اللَّهُ} [غافر: 28] ؟ قَالُوا: مَنْ هَذَا؟ قَالُوا: هَذَا ابْنُ أَبِي قُحَافَةَ.

سیدنا انس سے روایت ہے کہ ایک دفعہ کفار نے نبی کریم ﷺ پر اس قدر زدوکوب کیا کہ آپ ﷺ بے ہوش ہو گئے ۔ اتنے میں سیدنا ابو بکر کھڑے ہوئے اور آواز لگائی تم ہلاک ہو جاؤ کیا تم اس شخص کو قتل کرنا چاہتے ہو جو کہتا ہے میرا رب اللہ ہے ۔ لوگوں نے کہا : یہ کون ہیں ؟ کہا گیا : یہ ابن ابی قحافہ (ابو بکر ) ہیں ۔(3)

أَنَسٍ، ← أَبِي سُفْيَانَ ← الْاَعْمَشِ ← أَبِي ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدَةَ ← عَبْدُ اللَّهِ

Hadith 218

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ بَقِيَّةُ قَوْلِهِ: «مُرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ» · حديث 219

219 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ قَالَ: نا أَبُو مَعْشَرٍ الْبَرَاءُ يُوسُفُ بْنُ يَزِيدَ قثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبَانَ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَمْعَةَ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ يَوْمًا، وَهُوَ مَعَ أَصْحَابِهِ: «رَأَى اللَّيْلَةَ رَجُلٌ صَالِحٌ» ، فَقَالَ أَصْحَابُهُ: قُلْنَا فِي أَنْفُسِنَا: هَذَا رَسُولُ اللَّهِ، قَالَ: «رَأَيْتُ دَلْوًا هَبَطَ مِنَ السَّمَاءِ فَشَرِبَ مِنْهُ رَسُولُ اللَّهِ عَشْرَ جُرَعٍ، ثُمَّ نَاوَلَهُ أَبَا بَكْرٍ، فَشَرِبَ مِنْهُ جُرْعَتَيْنِ وَنِصْفٍ، ثُمَّ نَاوَلَهُ عُمَرَ فَشَرِبَ مِنْهُ عَشْرَ جُرَعٍ وَنِصْفٍ، ثُمَّ نَاوَلَهُ عُثْمَانَ فَشَرِبَ مِنْهُ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ جُرْعَةً وَنِصْفَ جُرْعَةٍ، ثُمَّ رُفِعَ الدَّلْوُ إِلَى السَّمَاءِ» .

سیدہ ام سلمہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے ایک دن اپنے اصحاب کے درمیان فرمایا میں نے رات کو ایک نیک شخص کو دیکھا تو صحابہ کرام نے خیال کیا یہ تو رسول اللہ ﷺ ہی ہو سکتے ہیں پھر آپ ﷺ نے فرمایا میں نے دیکھا آسمان سے ایک ڈول اتارا جس سے میں نے دست گھونٹ پانی پی لیا ۔ پھر ابو بکر کو دیا گیا انہوں نے اڑھائی گونٹ پیا پھر عمر فاروق کو دیا گیا انہوں نے دس گھونٹ سے کچھ زائد پیا پھر عثمان کو دیا گیا تو انہوں نے بارہ گھونٹ اور کچھ زیادہ پیا پھر اس ڈول کو آسمان کی طرف اُٹھا یا لیا گیا ۔ (4)

أُمِّ سَلَمَةَ ← أُمِّهِ2، ← أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَمْعَةَ، ← أَبُو مَعْشَرٍ الْبَرَاءُ يُوسُفُ بْنُ يَزِيدَ قثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبَانَ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Hadith 219

Daif

chevron_left Previous
12345…164
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door2. He was asked about the virtues of Abu, the first-born of al-Siddiq, the mercy and pleasure of God be upon him3. He was asked about the words of Ali ibn Abi Talib and others: The best of this nation after its prophet Abu Bakr and Omar4. His saying, may God’s prayers and peace be upon him: “If I had taken people as a friend, I would not have taken a virgin father as a friend5. He, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Pass a virgin father, let him pray to the people.”6. The remainder of his saying: “Show a first-born father who prays to people.”7. It was not narrated that Abu Bakr was the first to become Muslim8. It was not narrated that a virgin father came to ask permission, so the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Permit him, and give him good tidings of paradise.”9. The Virtue of the Commander of the Believers, Omar Ibn Al-Khattab, may God be pleased with him10. The Islam of Umar ibn Al-Khattab, may God be pleased with him11. And among the virtues of Omar bin Al-Khattab from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik, on the authority of his sheikhs other than Abd Allah bin Ahmed, and from the hadith of Abu Bakr bin Malik.12. The virtue of Othman bin Affan, may God be pleased with him13. And from the merits of Othman, from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik on the authority of his sheikhs except for Abdullah bin Ahmad14. The news of the Prince of the Believers, Ali bin Abi Talib, and his asceticism, may God be pleased with him15. His mother's name and genealogy16. A merit upon me, peace be upon him17. And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah18. The Virtue of Abd al-Rahman ibn Awf, may God be pleased with him19. The Virtue of Az-Zubayr Bin Awwam, may God be pleased with him
20. Fadil Abi Ubaidah Ibn Al Jarrah, may God be pleased with him
21. Fadil Talha Bin Ubaid Allah, may God be pleased with him
22. Fadil Saad bin Abi Waqas, may God be pleased with him
23. Fadil Fatima, the daughter of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him
24. The virtues of good, and the good, may God be pleased with them.
25. The Virtues of Ansar, may God be pleased with them
26. The virtue of Khalid bin Al-Walid, may God have mercy on him
27. Fadil Saad bin Muadh, may God have mercy on him
28. Fadil Haritha Ibn Nu'man, may God be pleased with him
29. Fadil Suhaib, may God be pleased with him
30. The virtues of the Arabs
31. The virtue of Usama bin Zaid, may God be pleased with him
32. Fadil Abdullah bin Masoud, may God be pleased with him
33. Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with them
34. Virtues of Khadija and others
35. Fadil Ammar ibn Yasser, may God be pleased with him
36. Virtues 0 People of Yemen
37. Virtues of the family of the Mother of the Believers, may God be pleased with her, and other things among the people of Yemen
38. The virtues of the Banu Ghafar, and Islam and others
39. Fadil Jaafar ibn Abi Talib, may God be pleased with him
40. Fadil Jarir bin Abdullah, may God be pleased with him
41. Fadil Abdullah Bin Omar, may God be pleased with them
42. The virtues of a people of the Levant
43. The Virtue of the Companions of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him
44. The virtue of Amr ibn al-Aas, may God be pleased with him
45. The Virtues of Mu`awiyah Bin Abi Sufyan, may God be pleased with them
46. The virtues of Abu al-Fadl al-Abbas ibn Abd al-Muttalib, the uncle of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him
47. Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with him